ٱلَّذِينَ جَعَلُوا۟ ٱلْقُرْءَانَ عِضِينَ
یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا
Explained together with ayah 87
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi
Ayahs 91–99 of 99
ٱلَّذِينَ جَعَلُوا۟ ٱلْقُرْءَانَ عِضِينَ
یعنی قرآن کو (کچھ ماننے اور کچھ نہ ماننے سے) ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا
Explained together with ayah 87
فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ
تمہارے پروردگار کی قسم ہم ان سے ضرور پرسش کریں گے
Explained together with ayah 87
عَمَّا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
ان کاموں کی جو وہ کرتے رہے
Explained together with ayah 87
فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ ٱلْمُشْرِكِينَ
پس جو حکم تم کو (خدا کی طرف سے) ملا ہے وہ (لوگوں کو) سنا دو اور مشرکوں کا (ذرا) خیال نہ کرو
تبلیغ و ارشاد میں تدریج بقدر استطاعت :- فَاصْدَعْ بِمَا تُؤ ْمَرُ ۔ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) اجمعین چھپ چھپ کر عبادت اور تلاوت کرتے تھے اور تبیلغ و ارشاد کا سلسلہ بھی خفیہ ہے ایک ایک دو دو فرد کے ساتھ جاری تھا کیونکہ اظہار و اعلان میں کفار کی ایذاء رسانی کا خطرہ تھا اس آیت میں حق تعالیٰ نے استہزاء کرنے والے اور ایذاء دینے والے کفار کی ایذا سے محفوظ رکھنے کی خود ذمہ داری لے لی اس لئے اس وقت بےفکری کے ساتھ اعلان و اظہار کے ذریعہ تلاوت و عبادت اور تبلیغ و دعوت کا سلسلہ شروع ہوا۔
إِنَّا كَفَيْنَٰكَ ٱلْمُسْتَهْزِءِينَ
ہم تمہیں ان لوگوں (کے شر) سے بچانے کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں
(آیت) اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان کے لیڈر پانچ آدمی تھے عاص بن وائل، اسود بن المطلب، اسود بن عبدی، غوث ولید بن مغیرہ، حارث بن الطلاطلۃ یہ پانچوں معجزانہ طور پر ایک ہی وقت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے اشارے سے ہلاک کردیئے گئے اس واقعہ سے تبلیغ و دعوت کے معاملہ میں یہ حاصل ہوا کہ اگر انسان کسی ایسے مقام یا ایسے حال میں مبتلا ہوجائے کہ وہاں حق بات کو علی الاعلان کہنے سے ان لوگوں کو تو کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع نہ ہو اور اپنے آپ کو نقصان و تکلیف اندیشہ ہو تو ایسی حالت میں یہ کام خفیہ طور پر کرنا بھی درست اور جائز ہے البتہ جب اظہار و اعلان کی قدرت ہوجائے تو پھر اعلان میں کوتاہی نہ کی جائے۔
ٱلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
جو خدا کے ساتھ معبود قرار دیتے ہیں۔ سو عنقریب ان کو (ان باتوں کا انجام) معلوم ہوجائے گا
Explained together with ayah 95
وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ
اور ہم جانتے ہیں کہ ان باتوں سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے
دشمنوں کی ایذاء سے تنگدلی کا علاج :- وَلَقَدْ نَعْلَمُ الی فَسَبِّحْ ۔ سے معلوم ہوا کہ جب انسان کو دشمنوں کی باتوں سے رنج پہنچے اور دل تنگی پیش آئے تو اس کا روحانی علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبح و عبادت میں مشغول ہوجائے اللہ تعالیٰ خود اس کی تکلیف کو دور فرما دیں گیے۔- سورة حجر تمام شد :
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ
تو تم اپنے پروردگار کی تسبیح کہتے اور (اس کی) خوبیاں بیان کرتے رہو اور سجدہ کرنے والوں میں داخل رہو
Explained together with ayah 97
وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ
اور اپنے پروردگار کی عبادت کئے جاؤ یہاں تک کہ تمہاری موت (کا وقت) آجائے
Explained together with ayah 97
Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.