وَءَاتَيْنَٰهُمْ ءَايَٰتِنَا فَكَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ
ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے
Explained together with ayah 78
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi
Ayahs 81–90 of 99
وَءَاتَيْنَٰهُمْ ءَايَٰتِنَا فَكَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ
ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں اور وہ ان سے منہ پھرتے رہے
Explained together with ayah 78
وَكَانُوا۟ يَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ
اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطمینان) سے رہیں گے
Explained together with ayah 78
فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ
تو چیخ نے ان کو صبح ہوتے ہوتے آپکڑا
Explained together with ayah 78
فَمَآ أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
اور جو کام وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آئے
Explained together with ayah 78
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَءَاتِيَةٌۭ ۖ فَٱصْفَحِ ٱلصَّفْحَ ٱلْجَمِيلَ
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو (مخلوقات) ان میں ہے اس کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور قیامت تو ضرور آکر رہے گی تو تم (ان لوگوں سے) اچھی طرح سے درگزر کرو
Explained together with ayah 78
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلْخَلَّٰقُ ٱلْعَلِيمُ
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار (سب کچھ) پیدا کرنے والا (اور) جاننے والا ہے
Explained together with ayah 78
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَٰكَ سَبْعًۭا مِّنَ ٱلْمَثَانِى وَٱلْقُرْءَانَ ٱلْعَظِيمَ
اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے
خلاصہ تفسیر :- اور (آپ ان کے معاملہ کو نہ دیکھئے کہ موجب غم ہوتا ہے ہمارا معاملہ اپنے ساتھ دیکھئے کہ ہماری طرف سے آپ کے ساتھ کس قدر لطف و عنایت ہے چنانچہ) ہم نے آپ کو (ایک بڑی بھاری نعمت یعنی) سات آیتیں دیں جو (نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں اور وہ (بوجہ جامع مضامین عظیمہ ہونے کے اس قابل ہے کہ اس کے دینے کو یوں کہا جاوے کہ) قرآن عظیم دیا (مراد اس سے سورة فاتحہ ہے جس کی عظمت کی وجہ سے اس کا نام ام القرآن بھی ہے پس اس نعمت اور منعم کی طرف نگاہ رکھئے کہ آپ کا قلب مسرور و مطمئن ہو ان لوگوں کے عناد و خلاف کی طرف التفات نہ کیجئے اور) آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی اس چیز کو نہ دیکھئے (نہ بلحاظ افسوس نہ بلحاظ ناراضگی) جو کہ ہم نے مختلف قسم کے کافروں کو (مثلا یہود و نصاری مجوس اور مشرکین کو) برتنے کے لئے دے رکھی ہے (اور بہت جلد ان سے جدا ہوجائے گی) اور ان (کی حالت کفر) پر (کچھ) غم نہ کیجئے (بلحاظ ناراضگی نظر کرنے سے یہ مراد ہے کہ چونکہ وہ دشمن خدا ہیں اس لئے بوجہ بغض فی اللہ غصہ آئے کہ ایسی نعمتیں ان کے پاس نہ ہوتیں اس کے جواب کی طرف متعنا میں اشارہ ہے کہ یہ کوئی بڑی بھاری دولت نہیں کہ ان مبغوضین کے پاس نہ ہوتیں یہ تو متاع فانی ہے بہت جلد جاتا رہے گا اور بلحاظ افسوس کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ افسوس یہ چیزیں ان کو ایمان سے مانع ہو رہی ہیں اگر یہ نہ ہوں تو غالبا ایمان لے آئیں اس کا جواب لا تحزن میں ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ ان کی طینت میں حد درجہ عناد ہے ان سے کسی طرح توقع نہیں اور حزن ہوتا ہے خلاف توقع پر جب توقع نہیں تو پھر حزن بےوجہ سے اور بہ لحاظ حرص نظر کرنے کا تو آپ سے احتمال ہی نہیں غرض یہ کہ آپ کسی بھی طرح ان کفار کے فکر وغم میں نہ پڑئیے) اور مسلمانوں پر شفقت رکھئے (یعنی فکر مصلحت اور شفقت کے لئے مسلمان کافی ہیں کہ ان کو اس سے نفع بھی ہے) اور (کافروں کے لئے چونکہ فکر مصلحت کا کوئی نتیجہ نہیں اس لئے ان کی طرف توجہ بھی نہ کیجئے البتہ تبلیغ جو آپ کا فرض منصبی ہے اسکو ادا کرتے رہئے اور اتنا) کہہ دیجئے کہ میں کھلم کھلا (تم کو خدا کے عذاب سے) ڈرانیوالا ہوں (اور خدا کی طرف سے تم کو یہ مضمون پہنچاتا ہوں کہ وہ عذاب جس سے ہمارا نبی ڈراتا ہے ہم تم پر کسی وقت ضرور نازل کریں گے) جیسا ہم نے (وہ عذاب) ان لوگوں پر (مختلف اوقات گذشتہ میں) نازل کیا ہے جنہوں نے (احکام الہی کے) حصے کر رکھے تھے یعنی آسمانی کتاب کے مختلف اجزا قرار دیئے تھے (ان میں جو مرضی کے موافق ہوا مان لیا جو مرضی کے خلاف ہو اس سے انکار کردیا مراد اس سے سابق یہود و نصاری ہیں جن پر مخالفت انبیاء (علیہم السلام) کی وجہ سے عذابوں کا ہونا مثل مسخ بصورت بندر وخنزیر، قید قتل اور ذلت مشہور و معروف تھا مطلب یہ کہ عذاب کا نازل ہونا امر بعید نہیں پہلے ہوچکا ہے اگر تم پر بھی ہوجائے تو تعجب کی کون سی بات ہے خواہ وہ عذاب دنیا میں ہو یا آخرت میں اور جب تقریر مذکور سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح پچھلے لوگ مخالفت انبیاء (علیہم السلام) کی وجہ سے عذاب کے مستحق تھے اسی طرح موجودہ لوگ بھی مستحق عذاب ہوگئے ہیں) سو (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو) آپ کے پروردگار کی (یعنی اپنی) قسم ہم ان سب (اگلوں اور پچھلوں) سے ان کے اعمال کی (قیامت کے روز) ضرور باز پرس کریں گے (پھر ہر ایک کو اس کے مناسب سزا دیں گے غرض (حاصل کلام یہ کہ) آپ کو جس بات (کے پہنچانے) کا حکم کیا گیا ہے اس کو (تو) صاف صاف سنا دیجئے اور (اگر یہ نہ مانے تو) ان مشرکوں (کے نہ ماننے) کی (مطلق) پروا نہ کیجئے (یعنی غم نہ کیجئے جیسا اوپر آیا ہے لا تحزن اور نہ طبعی طور پر خوف کیجئے کہ یہ مخالف بہت سے ہیں کیونکہ) یہ لوگ جو (آپ کے اور خدا کے مخالف ہیں چناچہ آپ پر تو) ہنستے ہیں (اور) اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود قرار دیتے ہیں ان (کے شر و ایذاء) سے آپ (کو محفوظ رکھنے) کے …
لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًۭا مِّنْهُمْ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَٱخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ
اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا
Explained together with ayah 87
وَقُلْ إِنِّىٓ أَنَا ٱلنَّذِيرُ ٱلْمُبِينُ
اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں
Explained together with ayah 87
كَمَآ أَنزَلْنَا عَلَى ٱلْمُقْتَسِمِينَ
(اور ہم ان کفار پر اسی طرح عذاب نازل کریں گے) جس طرح ان لوگوں پر نازل کیا جنہوں نے تقسیم کردیا
Explained together with ayah 87
Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.