Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 51–60 of 99

51

وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَٰهِيمَ

اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو

خلاصہ تفسیر :- اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان (لوگوں) کو ابراہم (علیہ السلام) کے مہمانوں (کے قصہ) کی بھی اطلاع دیجئے (وہ قصہ اس وقت واقع ہوا تھا) جب کہ وہ (مہمان جو کہ واقع میں فرشتے تھے اور بشکل انسانی ہونے کی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو مہمان سمجھا) ان کے (یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کے) پاس آئے پھر (آ کر) انہوں نے السلام علیکم کہا (ابراہیم (علیہ السلام) ان کو مہمان سمجھ کر فورا ان کے لئے کھانا تیار کر کے لائے مگر چونکہ وہ فرشتے تھے انہوں نے کھایا نہیں تب) ابراہیم (علیہ السلام دل میں ڈرے کہ یہ لوگ کھانا کیوں نہیں کھاتے کیونکہ وہ فرشتے بشکل بشر تھے ان کو بشر ہی سمجھا اور کھانا نہ کھانے سے شبہ ہوا کہ یہ لوگ کہیں مخالف نہ ہوں اور) کہنے لگے کہ ہم تو تم سے خائف ہیں انہوں نے کہا کہ آپ خائف نہ ہوں کیونکہ ہم (فرشتے ہیں منجانب اللہ ایک بشارت لے کر آئے ہیں اور) آپ کو ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جو بڑا عالم ہوگا (مطلب یہ کہ نبی ہوگا کیونکہ آدمیوں میں سب سے زیادہ علم انبیاء (علیہم السلام) کو ہوتا ہے مراد اس فرزند سے اسحاق (علیہ السلام) ہیں اور دوسری آیتوں میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے ساتھ یعقوب (علیہ السلام) کی بشارت بھی مذکور ہے) ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے کہ کیا تم مجھ کو اس حالت میں (فرزند کی) بشارت دیتے ہو کہ مجھ پر بوڑھاپا آ گیا سو (ایسی حالت میں مجھ کو) کس چیز کی بشارت دیتے ہو (مطلب یہ کہ یہ امر فی نفسہ عجیب ہے نہ یہ کہ قدرت سے بعید ہے) وہ (فرشتے) بولے کہ ہم آپ کو امر واقعی کی بشارت دیتے ہیں (یعنی تولد فرزند یقینا ہونے والا ہے) سو آپ ناامید نہ ہوں (یعنی اپنے بڑھاپے پر نظر نہ کیجئے کہ ایسے اسباب عادیہ پر نظر کرنے سے وساوس ناامیدی کے غالب ہوتے ہیں) ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھلا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے بجز گمراہ لوگوں کے (یعنی میں نبی ہو کر گمراہوں کی صفت سے کب موصوف ہوسکتا ہوں محض مقصود اس امر کا عجیب ہونا ہے باقی اللہ کا وعدہ سچا اور مجھ کو امید سے بڑھ کر اس کا کامل یقین ہے بعد اس کے فراست نبوت سے آپ کو معلوم ہوا کہ ان ملائکہ کے آنے سے علاوہ بشارت کے اور بھی کوئی مہم عظیم مقصود ہے اس لئے) فرمانے لگے کہ (جب قرائن سے مجھ کو یہ معلوم ہوگیا کہ تمہارے آنے کا کچھ اور بھی مقصود ہے) تو (یہ بتلاؤ کہ) اب تم کو کیا مہم در پیش ہے اے فرشتو فرشتوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف (ان کو سزا دینے کے لئے) بھیجے گئے ہیں (مراد قوم لوط ہے) مگر لوط (علیہ السلام) کا خاندان کہ ہم ان سب کو (عذاب سے) بچا لیں گے (یعنی ان کو بچنے کا طریقہ بتلا دیں گے کہ ان مجرموں سے علیحدہ ہوجائیں) بجر ان کی (یعنی لوط (علیہ السلام) کی) بی بی کے کہ اس کی نسبت ہم نے تجویز کر رکھا ہے کہ وہ ضرور اسی قوم مجرم میں رہ جائے گی (اور ان کے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوگی) - پھر جب وہ فرشتے خاندان لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے (تو چونکہ بشکل بشر تھے اس لئے) کہنے لگے تم تو اجنبی لوگوں کو پریشان کیا کرتے ہیں) انہوں نے کہا نہیں (ہم آدمی نہیں) بلکہ ہم (فرشتے ہیں) آپ کے پاس وہ چیز (یعنی وہ عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کیا کرتے تھے اور ہم آپ کے پاس یقینی ہونے والی چیز (یعنی عذاب) لے کر آئے ہیں اور ہم (اس خبر دینے میں) بالکل سچے ہیں سو آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر (یہاں سے) چلے جائیے اور آپ سب کے پیچھے ہو لیجئے (تاکہ کوئی رہ نہ جائے یا لوٹ نہ جائے اور آپ کے رعب اور ہیبت کی وجہ سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے جس کی ممانعت کردی گئی ہو) اور تم میں سے کوئی پیچھا پھر کر بھی نہ دیکھے (یعنی سب جلدی چلے جائیں) اور جس جگہ (جانے کا) تم کو حکم ہوا ہے اس طرف سب کے سب چلے جاؤ (تفسیر در منثور میں بحوالہ سدی نقل کیا ہے کہ وہ جگہ ملک شام ہے جس کی …

52

إِذْ دَخَلُوا۟ عَلَيْهِ فَقَالُوا۟ سَلَٰمًۭا قَالَ إِنَّا مِنكُمْ وَجِلُونَ

جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے

Explained together with ayah 51

53

قَالُوا۟ لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَٰمٍ عَلِيمٍۢ

(مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں

Explained together with ayah 51

54

قَالَ أَبَشَّرْتُمُونِى عَلَىٰٓ أَن مَّسَّنِىَ ٱلْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ

بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو

Explained together with ayah 51

55

قَالُوا۟ بَشَّرْنَٰكَ بِٱلْحَقِّ فَلَا تَكُن مِّنَ ٱلْقَٰنِطِينَ

(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے

Explained together with ayah 51

56

قَالَ وَمَن يَقْنَطُ مِن رَّحْمَةِ رَبِّهِۦٓ إِلَّا ٱلضَّآلُّونَ

(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے

Explained together with ayah 51

57

قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ

پھر کہنے لگے کہ فرشتو! تمہیں (اور) کیا کام ہے

Explained together with ayah 51

58

قَالُوٓا۟ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمٍۢ مُّجْرِمِينَ

(انہوں نے) کہا کہ ہم ایک گنہگار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں (کہ اس کو عذاب کریں)

Explained together with ayah 51

59

إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ أَجْمَعِينَ

مگر لوط کے گھر والے کہ ان سب کو ہم بچالیں گے

Explained together with ayah 51

60

إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَآ ۙ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلْغَٰبِرِينَ

البتہ ان کی عورت (کہ) اس کے لیے ہم نے ٹھہرا دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جائے گی

Explained together with ayah 51

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.