Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 41–50 of 99

41

قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَىَّ مُسْتَقِيمٌ

(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے

Explained together with ayah 31

42

إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنٌ إِلَّا مَنِ ٱتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے

اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کے معنی :- (آیت) اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص اور منتخب بندوں پر شیطانی فریب کا اثر نہیں ہوتا مگر اسی واقعہ آدم میں یہ بھی مذکور ہے کہ آدم وحوا پر اس کا فریب چل گیا اسی طرح صحابہ کرام (رض) اجمعین کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) اِنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّـيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا (آل عمران) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ پر بھی شیطان کا کید اس موقع میں چل گیا۔- اس لئے آیت مذکورہ میں اللہ کے مخصوص بندوں پر شیطان کا تسلط نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے قلوب وعقول پر شیطان کا ایسا تسلط نہیں ہوتا کہ وہ اپنی غلطی پر کسی وقت متنبہ ہی نہ ہوں جس کی وجہ سے ان کو توبہ نصیب نہ ہو یا کوئی ایسا گناہ کر بیٹھیں جس کی مغفرت نہ ہو سکے۔- اور مذکورہ واقعات اس کے منافی نہیں کیونکہ آدم وحوا (علیہما السلام) نے توبہ کی اور یہ توبہ قبول ہوئی اسی طرح حضرات صحابہ نے بھی توبہ کرلی تھی اور شیطان کے مکر سے جس گناہ میں ابتلاء ہوا وہ معاف کردیا گیا۔

43

وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ

اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

Explained together with ayah 42

44

لَهَا سَبْعَةُ أَبْوَٰبٍۢ لِّكُلِّ بَابٍۢ مِّنْهُمْ جُزْءٌۭ مَّقْسُومٌ

اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں

جہنم کے سات دروازے :- (آیت) لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ ۔ امام احمد ابن جریر طبری اور بیہقی نے بروایت حضرت علی کرم اللہ وجہہ لکھا ہے کہ جہنم کے سات دروازے اوپر نیچے سات طبقات کے اعتبار سے ہیں اور بعض حضرات نے ان کو عام دروازوں کی طرح قرار دیا ہے ہر دروازہ خاص قسم کے مجرمین کے لئے مخصوص ہوگا (قرطبی)

45

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَعُيُونٍ

جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

خلاصہ تفسیر :- بے شک خدا سے ڈرنے والے (یعنی اہل ایمان) باغوں اور چشموں میں (بستے) ہوں گے (خواہ اول ہی سے اگر معصیت نہ ہو یا معاف ہوگئی ہو اور خواہ سزائے معصیت بھگتنے کے بعد ان سے کہا جائے گا کہ) تم ان (جنات و عیون) میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو (یعنی اس وقت بھی ہر ناپسند چیز سے سلامتی ہے اور آئندہ بھی کسی شر کا اندیشہ نہیں) اور (دنیا میں طبعی تقاضے سے) ان کے دلوں میں جو کینہ تھا ہم وہ سب (ان کے دلوں سے جنت میں داخل ہونے کے قبل ہی) دور کردیں گے کہ سب بھائی بھائی کی طرح (الفت و محبت سے) رہیں گے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھا کریں گے وہاں ان کو ذرا بھی تکلیف نہ پہنچے گی اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ میرے بندوں کو اطلاع دیدیجئے کی میں بڑا مغفرت اور رحمت والا بھی ہوں اور (نیز) یہ کہ میری سزا (بھی) درد ناک سزا ہے (تاکہ اس سے مطلع ہو کر ایمان اور تقوی کی رغبت اور کفر و معصیت سے خوف پیدا ہو)- معارف و مسائل :- حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے ان کے سامنے پانی کے دو چشمے پیش کئے جائیں گے پہلے چشمہ سے وہ پانی پئیں گے تو ان سب کے دلوں سے باہمی رنجش جو کبھی دنیا میں پیش آئی تھی اور طبعی طور پر اس کا اثر آخر تک موجود رہا وہ سب دھل جائے گی اور سب کے دلوں میں باہمی الفت و محبت پیدا ہوجائے گی کیونکہ باہمی رنجش بھی ایک تکلیف و عذاب ہے اور جنت ہر تکلیف سے پاک ہے۔- اور حدیث صحیح میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر بھی کینہ کسی مسلمان سے ہوگا وہ جنت میں نہ جائے گا اس سے مراد وہ کینہ اور بغض ہے جو دنیوی غرض سے اور اپنے قصد واختیار سے ہو اور اس کی وجہ سے یہ شخص اس کے درپے رہے کہ جب موقع پائے اپنے دشمن کو تکلیف اور نقصان پہونچائے طبعی انقباض جو خاصہ بشری اور غیر اختیاری ہے وہ اس میں داخل نہیں اسی طرح جو کسی شرعی بنیاد پر مبنی ہو ایسے ہی بغض و انقباض کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اہل جنت کے دلوں سے ہر طرح کا انقباض اور رنجش دور کردی جائے گی۔- اسی کے متعلق حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ میں اور طلحہ اور زبیر انہی لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دلوں کا غبار جنت میں داخلہ کے وقت دور کردیا جائے گا۔ اشارہ ان اختلافات ومشاجرات کی طرف ہے جو ان حضرات اور حضرت علی کی درمیان پیش آئے تھے۔

46

ٱدْخُلُوهَا بِسَلَٰمٍ ءَامِنِينَ

(ان سے کہا جائے گا کہ) ان میں سلامتی (اور خاطر جمع سے) داخل ہوجاؤ

Explained together with ayah 45

47

وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ إِخْوَٰنًا عَلَىٰ سُرُرٍۢ مُّتَقَٰبِلِينَ

اور ان کے دلوں میں جو کدورت ہوگی ان کو ہم نکال کر (صاف کر) دیں گے (گویا) بھائی بھائی تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں

Explained together with ayah 45

48

لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌۭ وَمَا هُم مِّنْهَا بِمُخْرَجِينَ

نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے

(آیت) لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ وَّمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ ۔ اس آیت سے جنت کی دو خصوصیات معلوم ہوئیں اول یہ کہ کسی کو کبھی تکان اور ضعف محسوس نہ ہوگا بخلاف دنیا کے کہ یہاں محنت ومشقت کے کاموں سے تو ضعف وتکان ہوتا ہی ہے خاص آرام اور تفریح سے بھی کسی نہ کسی وقت آدمی تھک جاتا ہے اور ضعف محسوس کرنے لگتا ہے خواہ وہ کتنا ہی لذیذ کام اور مشغلہ ہو - دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جو آرام و راحت اور نعمتیں وہاں کسی کو مل جائیں گی پھر وہ دائمی ہوں گی نہ وہ نعمتیں کبھی کم ہوں گی اور نہ ان میں سے اس شخص کو نکالا جائے گا سورة ص میں ارشاد ہے (آیت) اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ یعنی یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا اور اس آیت میں فرمایا (آیت) وَمَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ یعنی ان کو کبھی ان نعمتوں راحتوں سے نکالا نہیں جائے گا بخلاف معاملات دنیا کے کہ یہاں اگر کوئی کسی کو بڑے سے بڑا انعام و راحت دے بھی دے تو یہ خطرہ ہر وقت لگا رہتا ہے کہ جس نے یہ انعامات دئیے ہیں وہ کسی وقت ناراض ہو کر یہاں سے نکال دے گا۔- ایک تیسرا احتمال جو یہ تھا کہ نہ جنت کی نعمتیں ختم ہوں اور نہ اس کو وہاں سے نکالا جائے مگر وہ خود ہی وہاں رہتے رہتے اکتا جائے اور باہر جانا چاہے قرآن عزیز نے اس احتمال کو بھی ایک جملہ میں ان الفاظ سے ختم کردیا ہے کہ (آیت) لَا يَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا۔ یعنی یہ لوگ بھی وہاں سے پلٹ کر آنے کی کبھی خواہش نہ کریں گے۔

49

۞ نَبِّئْ عِبَادِىٓ أَنِّىٓ أَنَا ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ

(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں

Explained together with ayah 48

50

وَأَنَّ عَذَابِى هُوَ ٱلْعَذَابُ ٱلْأَلِيمُ

اور یہ کہ میرا عذاب بھی درد دینے والا عذاب ہے

Explained together with ayah 48

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.