Muslim99Muslim99
← Tafsir library

15. Al-Hijr

The Rock · Meccan · 99 ayahs

سُورَةُ الحِجۡرِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 99

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ وَقُرْءَانٍۢ مُّبِينٍۢ

آلرا۔ یہ خدا کی کتاب اور قرآن روشن کی آیتیں ہیں

خلاصہ تفسیر :- الۗرٰ (اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک کامل کتاب کی اور قرآن واضح کی (یعنی اس کی دونوں صفتیں ہیں کامل کتاب ہونا بھی اور قرآن واضح ہونا بھی ان کلمات سے قرآن کا کلام حق ہونا واضح کرنے کے بعد ان لوگوں کو حسرت اور عذاب کا بیان ہے جو قرآن پر ایمان نہیں لاتے یا اس کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے فرمایا رُبَمَا يَوَدُّ یعنی جب قیامت نے حشر ونشر کے میدان میں کافروں پر طرح طرح کا عذاب ہوگا تو) کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے کہ کیا خوب ہوتا اگر وہ (یعنی ہم دنیا میں) مسلمان ہوتے (بار بار اس لئے کہ جب کوئی نئی شدت و مصیبت دیکھیں گے تو ہر مرتبہ اپنے اسلام نہ لانے پر حسرت تازہ ہوتی رہے گی) آپ (دنیا میں ان کے کفر پر غم نہ کیجئے اور) ان کو ان کے حال پر رہنے دیجئے کہ وہ (خوب) کھا لیں اور چین اڑا لیں اور خیالی منصوبے ان کو غفلت میں ڈالے رکھیں ان کو ابھی (مرنے کے ساتھ ہی) حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے (اور دنیا میں جو ان کو ان کے کفر اور بدعملی کی فورا سزا نہیں ملتی اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سزا کا وقت مقرر کر رکھا ہے ابھی وہ وقت نہیں آیا) اور ہم نے جتنی بستیاں (کفر کی وجہ سے) ہلاک کی ہیں ان سب کے لئے ایک معین وقت لکھا ہوا ہوتا رہا ہے اور (ہمارا اصول ہے کہ) کوئی امت اپنی میعاد مقرر سے نہ پہلے ہلاک ہوئی ہے اور نہ پیچھے رہی ہے (بلکہ وقت مقرر پر ہلاک ہوئی ہے اسی طرح جب ان کا وقت آجائے گا ان کو بھی سزا دی جائے گی)

2

رُّبَمَا يَوَدُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ كَانُوا۟ مُسْلِمِينَ

کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے کہ اے کاش وہ مسلمان ہوتے

Explained together with ayah 1

3

ذَرْهُمْ يَأْكُلُوا۟ وَيَتَمَتَّعُوا۟ وَيُلْهِهِمُ ٱلْأَمَلُ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ

(اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا

معارف و مسائل :- ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا الخ سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کو مقصد اور اصلی مشغلہ بنا لینا اور دنیاوی عیش و عشرت کے سامان میں موت سے بےفکر ہو کر طویل منصوبوں میں لگے رہنا کفار ہی سے ہوسکتا ہے جن کا آخرت اور اس کے حساب و کتاب اور جزا وسزا پر ایمان نہیں مومن بھی کھاتا پیتا ہے اور معاش کا بقدر ضرورت سامان کرتا ہے اور آئندہ کاروبار کے منصوبے بھی بناتا ہے مگر موت اور فکر آخرت سے غافل ہو کر یہ کام نہیں کرتا اسی لئے ہر کام میں حلال و حرام کی فکر رہتی ہے اور فضول منصوبہ بندی کو مشغلہ نہیں بناتا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ چار چیزیں بدبختی اور بدنصیبی کی علامت ہیں آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہونا (یعنی اپنے گناہوں، غفلتوں پر نادم ہو کر نہ رونا) اور سخت دلی، طول امل اور دنیا کی حرص (قرطبی عن مسند البزار عن انس )- اور طول امل کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی محبت اور حرص میں انہماک اور موت و آخرت سے بےفکری کے ساتھ دور دراز کے منصوبے بنائے جائیں (قرطبی) جو منصوبے دینی مقاصد کے لئے یا کسی قوم و ملک کے آئندہ مفاد کے لئے بنائے جاتے ہیں وہ اس میں داخل نہیں کیونکہ وہ فکر آخرت ہی کی ایک صورت ہے۔- اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس امت کے پہلے طبقہ کی نجات ایمان کامل اور دنیا سے اعراض کی وجہ سے ہوگی اور آخری امت کے لوگ بخل اور طول امل کی وجہ سے ہلاک ہوں گے - اور حضرت ابو الدرداء (رض) سے منقول ہے کہ وہ جامع مسجد دمشق کے منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اے اہل دمشق کیا تم اپنے ایک ہمدرد خیر خواہ بھائی کی بات سنو گے سن لو کہ تم سے پہلے بہت بڑے بڑے لوگ گذرے ہیں جنہوں نے مال و متاع بہت جمع کیا اور بڑے بڑے شان دار محلات تعمیر کئے اور دور دراز کے طویل منصوبے بنائے آج وہ سب ہلاک ہوچکے ہیں ان کے مکانات ان کی قبریں ہیں اور ان کی طویل امیدیں سب دھوکہ اور فریب ثابت ہوئیں قوم عاد تمہارے قریب تھی جس نے اپنے آدمیوں سے اور ہر طرح کے مال و متاع سے اور اسحلہ اور گھوڑوں سے ملک کو بھر دیا تھا آج کوئی ہے جو ان کی وراثت مجھ سے دو درہم میں خریدنے کو تیار ہوجائے۔- حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ جو شخص اپنی زندگی میں طویل امیدیں باندہتا ہے اس کا عمل ضرور خراب ہوجاتا ہے (قرطبی)

4

وَمَآ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌۭ مَّعْلُومٌۭ

اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہیں کی۔ مگر اس کا وقت مرقوم ومعین تھا

Explained together with ayah 3

5

مَّا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسْتَـْٔخِرُونَ

کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے

Explained together with ayah 3

6

وَقَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِى نُزِّلَ عَلَيْهِ ٱلذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌۭ

اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے

Explained together with ayah 3

7

لَّوْ مَا تَأْتِينَا بِٱلْمَلَٰٓئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ

اگر تو سچا ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتا

Explained together with ayah 3

8

مَا نُنَزِّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَمَا كَانُوٓا۟ إِذًۭا مُّنظَرِينَ

(کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملتی

خلاصہ تفسیر :- (الا بالحق۔ میں لفظ حق سے مراد فیصلہ عذاب ہے اور بعض مفسرین نے قرآن یا رسالت کو مراد قرار دیا ہے بیان القرآن میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے یہ معنی حضرت حسن بصری سے منقول ہیں تفسیر آیات یہ ہے)- اور ان کفار (مکہ) نے (رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے) یوں کہا اے وہ شخص جس پر (اس کے دعوے کے مطابق) قرآن نازل کیا گیا ہے تم (نعوذ باللہ) مجنون ہو ( اور نبوت کا غلط دعوی کرتے ہو ورنہ) اگر تم (اس دعوے میں) سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے (جو ہمارے سامنے تمہارے صدق کی گواہی دیں کقولہ تعالیٰ (آیت) لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ) ہم فرشتوں کو (جس طریق پر وہ درخواست کرتے ہیں) صرف فیصلہ ہی کے لئے نازل کیا کرتے ہیں اور (اگر ایسا ہوتا تو) اس وقت ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی (ہم فرشتوں کو (جس طریق پر وہ درخواست کرتے ہیں) صرف فیصلہ ہی کے لئے نازل کیا کرتے ہیں اور (اگر ایسا ہوتا تو) اس وقت ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی (بلکہ جب ان کے آنے پر بھی ایمان نہ لاتے جیسا کہ ان کے حالات سے ہی متیقن ہے تو فورا ہلاک کردئیے جاتے جیسا کہ سورة انعام کے اول رکوع کی اخیر آیتوں میں اس کی وجہ مذکور ہوچکی ہے)

9

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا ٱلذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُۥ لَحَٰفِظُونَ

بےشک یہ (کتاب) نصیحت ہمیں نے اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں

خلاصہ تفسیر :- ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور (یہ دعوی بلا دلیل نہیں بلکہ اس کا معجزہ ہونا اس پر دلیل ہے اور قرآن کے ایک اعجاز کا بیان تو دوسری سورتوں میں مذکور ہے کہ کوئی انسان اس کی ایک سورة کی مثل نہیں بنا سکتا دوسرا اعجاز یہ ہے کہ) ہم اس (قرآن) کے محافظ (اور نگہبان) ہیں (اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرسکتا جیسا اور کتابوں میں ہوتا ہے یہ ایسا صریح معجزہ ہے جس کو ہر عام و خاص سمجھ سکتا ہے پہلا معجزہ کہ قرآن کی فصاحت و بلاغت اور جامعیت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا اس کو تو اہل علم ہی سمجھ سکتے ہیں مگر کمی بیشی نہ ہونے کو تو ایک ان پڑھ جاہل بھی دیکھ سکتا ہے)- معارف و مسائل :- مامون کے دربار کا ایک واقعہ :- امام قرطبی نے اس جگہ سند متصل کے ساتھ ایک واقعہ امیر المؤ منین مامون کے دربار کا نقل کیا ہے کہ مامون کی عادت تھی کہ کبھی کبھی اس کے دربار میں مسائل پر بحث ومباحثے اور مذاکرے ہوا کرتے تھے جس میں ہر اہل علم کو آنے کی اجازت تھی ایسے ہی ایک مذاکرہ میں ایک یہودی بھی آگیا جو صورت شکل اور لباس وغیرہ کے اعتبار سے بھی ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتا تھا پھر گفتگو کی تو اس نے بھی فصیح وبلیغ اور عاقلانہ گفتگو کی تھی جب مجلس ختم ہوگئی تو مامون نے اس کو بلا کر پوچھا کہ تم اسرائیلی ہو ؟ اس نے اقرار کیا مامون نے (امتحان لینے کے لئے) کہا کہ اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو ہم تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کریں گے۔- اس نے جواب دیا کہ میں تو اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے دین کو نہیں چھوڑتا بات ختم ہوگئی یہ شخص چلا گیا پھر ایک سال کے بعد یہی شخص مسلمان ہو کر آیا اور مجلس مذاکرہ میں فقہ اسلامی کے موضوع پر بہترین تقریر اور عمدہ تحقیقات پیش کیں مجلس ختم ہونے کے بعد مامون نے اس کو بلا کر کہا کہ تم وہی شخص ہو جو سال گذشتہ آئے تھے ؟ جواب دیا ہاں وہی ہوں مامون نے پوچھا کہ اس وقت تو تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تھا پھر اب مسلمان ہونے کا سبب کیا ہوا ؟- اس نے کہا میں یہاں سے لوٹا تو میں نے موجودہ مذاہب کی تحقیق کرنے کا ارادہ کیا میں ایک خطاط اور خوشنویس آدمی ہوں کتابیں لکھ کر فروخت کرتا ہوں تو اچھی قیمت سے فروخت ہوجاتی ہیں میں نے امتحان کرنے کے لئے تورات کے تین نسخے کتابت کئے جن میں بہت جگہ اپنی طرف سے کمی بیشی کردی اور یہ نسخے لے کر میں کینسی میں پہنچا یہودیوں نے بڑی رغبت سے ان کو خرید لیا پھر اسی طرح انجیل کے تین نسخے کمی بیشی کے ساتھ کتابت کر کے نصارے کے عبادت خانہ میں لے گیا وہاں بھی عیسائیوں نے بڑی قدرو منزلت کے ساتھ یہ نسخے مجھ سے خرید لئے پھر یہی کام میں نے قرآن کے ساتھ کیا اس کے بھی تین نسخے عمدہ کتابت کئے جن میں اپنی طرف سے کمی بیشی کی تھی ان کو لے کر جب میں فروخت کرنے کے لئے نکلا تو جس کے پاس لے گیا اس نے دیکھا کہ صحیح بھی ہے یا نہیں جب کمی بیشی نظر آئی تو اس نے مجھے واپس کردیا۔- اس واقعہ سے میں نے یہ سبق لیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اس کی حفاظت کی ہوئی ہے اس لئے مسلمان ہوگیا قاضی یحییٰ بن اکثم اس واقعہ کے راوی کہتے ہیں کہ اتفاقا اسی سال مجھے حج کی توفیق ہوئی وہاں سفیان بن عیینہ سے ملاقات ہوئی تو یہ قصہ ان کو سنایا انہوں نے فرمایا بیشک ایسا ہی ہونا چاہئے کیونکہ اس کی تصدیق قرآن میں موجود ہے۔- یحیی ابن اکتم نے پوچھا قرآن کی کونسی آیت میں ؟ تو فرمایا کہ قرآن عظیم نے جہاں تورات و انجیل کا ذکر کیا ہے اس میں تو فرمایا بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ یعنی یہود و نصاری کو کتاب اللہ تورات و انجیل کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے یہی وجہ ہوئی کہ جب یہود و نصاری نے فریضہ حفاظت ادا نہ کیا تو یہ کتابیں مسخ و محرف ہو کر ضائع ہوگئیں بخلاف قرآن کریم کے کہ اس کے متعلق حق تعالیٰ نے فرمایا اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ یعنی ہم ہی اس کے محافظ ہیں اس لئے اس کی حفاظت …

10

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى شِيَعِ ٱلْأَوَّلِينَ

اور ہم نے تم سے پہلے لوگوں میں بھی پیغمبر بھیجے تھے

اللغات :- الشیع جمع شیعہ کی ہے جس کی معنی کسی شخص کے پیروکار و مددگار کے بھی آتے ہیں اور ایسے فرقہ کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو خاص عقائد ونظریات پر اتفاق رکھتے ہوں مراد یہ ہے کہ ہم نے ہر فرقہ اور ہر گروہ کے اندر رسول بھیجے ہیں اس میں لفظ الیٰ کے بجائے فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ فرما کر اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ ہر گروہ کا رسول اسی گروہ کے لوگوں میں سے بھیجا گیا تاکہ لوگوں کو اس پر اعتماد کرنا آسان ہو اور یہ بھی ان کی طبائع اور مزاج سے واقف ہو کر ان کی اصلاح کے لئے مناسب پروگرام بنا سکے۔- خلاصہ تفسیر :- اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجئے کیونکہ یہ معاملہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے چنانچہ) ہم نے آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کو اگلے لوگوں کے بہت سے گروہوں میں بھیجا تھا (اور ان کی یہ حالت تھی کہ) کوئی رسول ان کے پاس ایسا نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے استہزاء نہ کیا (جو کہ تکذیب کی بدترین قسم ہے پس جس طرح ان لوگوں کے دلوں میں یہ استہزاء پیدا ہوا تھا) اسی طرح ہم یہ استہزا ان مجرمین (یعنی کفار مکہ) کے قلوب میں ڈال دیتے ہیں (جس کی وجہ سے) یہ لوگ قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور یہ دستور پہلوں سے ہی ہوتا آیا ہے (کہ انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرتے رہے ہیں پس آپ مغموم نہ ہوں) اور (ان کے عناد کی یہ کیفیت ہے کہ فرشتوں کا آسمان سے آنا تو درکنار اس سے بڑھ کر) اگر (خود ان کو آسمان پر بھیج دیا جائے اس طرح سے کہ) ہم ان کے لئے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں پھر یہ دن کے وقت (جس میں نیند اور اونگھ وغیرہ کا بھی شبہ نہ ہو) اس (دروازہ) میں (سے آسمان کو) چڑھ جاویں تب بھی یوں کہہ دیں کہ ہماری نظر بند کردی گئی تھی (جس سے ہم اپنے کو آسمان پر چڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور واقع میں نہیں چڑھ رہے اور نظر بندی میں کچھ اسی واقعہ کی تخصیص نہیں) بلکہ ہم لوگوں پر تو بالکل جادو کر رکھا ہے (اگر ہم کو اس سے بڑھ کر بھی کوئی معجزہ دکھلایا جائے گا وہ بھی واقع میں معجزہ نہ ہوگا)

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.