وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٍۢ مَّعْلُومٍۢ
اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں
Explained together with ayah 19
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi
Ayahs 21–30 of 99
وَإِن مِّن شَىْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٍۢ مَّعْلُومٍۢ
اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم ان کو بمقدار مناسب اُتارتے رہتے ہیں
Explained together with ayah 19
وَأَرْسَلْنَا ٱلرِّيَٰحَ لَوَٰقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَأَسْقَيْنَٰكُمُوهُ وَمَآ أَنتُمْ لَهُۥ بِخَٰزِنِينَ
اور ہم ہی ہوائیں چلاتے ہیں (جو بادلوں کے پانی سے) بھری ہوئی ہوتی ہیں اور ہم ہی آسمان سے مینہ برساتے ہیں اور ہم ہی تم کو اس کا پانی پلاتے ہیں اور تم تو اس کا خرانہ نہیں رکھتے
تمام مخلوق کے لئے آب رسانی اور آب پاشی کا عجیب و غریب نظام الہی :- (آیت) وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ سے وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ تک قدرت الہیہ کے اس حکیمانہ نظام کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعہ روئے زمین پر بسنے والے تمام انسان اور جانور، چرندوں، پرندوں، درندوں کے لئے ضرورت کے مطابق پینے، نہانے، دھونے اور کھیتوں درختوں کو سیراب کرنے کے لئے پانی بلا کسی قیمت کے مل جاتا ہے اور جو کچھ کسی کنواں بنانے یا پائپ لگانے پر خرچ کرنا پڑتا ہے وہ اپنی سہولتیں حاصل کرنے کی قیمت ہے پانی کے ایک قطرہ کی قیمت بھی کوئی ادا نہیں کرسکتا نہ کسی سے مانگی جاتی ہے۔- اس آیت میں پہلے تو اس کا ذکر کیا گیا کہ کس طرح قدرت الہیہ نے سمندر کے پانی کو پوری زمین پر پہنچانے کا عجیب و غریب نظام بنایا ہے کہ سمندر میں بخارات پیدا فرمائے جن سے بارش کا مواد (مان سون) پیدا ہوا اوپر سے ہوائیں چلائیں جو اس کو بادل کی شکل میں تبدیل کر کے پانی سے بھرے ہوئے پہاڑوں جیسے جہاز بنادیں پھر پانی سے لبریز ان ہوائی جہازوں کو دنیا کے ہر گوشہ میں جہاں جہاں پہونچانا ہے پہنچا دیں پھر فرمان الہی کے تابع جس زمین پر جتنا پانی ڈالنے کا حکم ہے اس کے مطابق یہ خود کار ہوائی جہاز وہاں پانی برسا دیں۔- اس طرح یہ سمندر کا پانی زمین کے ہر گوشے میں بسنے والے انسانوں اور جانوروں کو گھر بیٹھے مل جائے اسی نظام میں ایک عجیب و غریب تبدیلی پانی کے ذائقے اور دوسری کیفیات میں پیدا کردی جاتی ہے کیونکہ سمندر کے پانی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے انتہائی کھارا اور ایسا نمکین بنایا ہے کہ ہزاروں ٹن نمک اس سے نکالا اور استعمال کیا جاتا ہے حکمت اس میں یہ ہے کہ یہ عظیم الشان پانی کا کرہ جس میں کروڑوں قسم کے جانور رہتے۔ اور اسی میں مرتے اور سڑتے ہیں اور ساری زمین کا گندہ پانی بالآخر اسی میں جاکر پڑتا ہے اگر یہ پانی میٹھا ہوتا تو ایک دن میں سڑ جاتا اور اس کی بدبو اتنی شدید ہوتی کہ خشکی میں رہنے والوں کی تندرستی اور زندگی بھی مشکل ہوجاتی اس لئے قدرت نے اس کو ایسا تیزابی کھارا بنادیا کہ دنیا بھر کی غلاظتیں اس میں پہنچ کر بھسم ہوجاتی ہیں غرض اس حکمت کی بناء پر سمندر کا پانی کھارا بلکہ تلخ بنایا گیا جو نہ پیاجا سکتا ہے اور نہ اس سے پیاس بجھ سکتی ہے نظام قدرت نے جو پانی کے ہوائی جہاز بادلوں کی شکل میں تیار کئے ان کو صرف سمندری پانی کا خزانہ ہی نہیں بنایا بلکہ مون سون اٹھنے سے لے کر زمین پر برسنے تک اس میں ایسے انقلابات بغیر کسی ظاہری مشین کے پیدا کردیئے کہ اس پانی کا نمک علیحدہ ہو کر میٹھا پانی بن گیا سورة مرسلت میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔- (آیت) وَاَسْقَيْنٰكُمْ مَّاۗءً فُرَاتًا اس میں لفظ فرات کے معنی ہیں ایسا میٹھا پانی جس سے پیاس بجھے معنی یہ ہیں کہ ہم نے بادلوں کی قدرتی مشینوں سے گذار کر سمندر کے کھارے اور تلخ پانی کو تمہارے پینے کے لئے شیریں بنادیا۔- سورة واقعہ میں اسی مضمون کو ارشاد فرمایا ہے (آیت) اَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ لَوْ نَشَاۗءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ ۔ بھلا دیکھو تو پانی کو جو تم پیتے ہو کیا تم نے اتارا (اس کو بادل سے یا ہم ہیں اتارنے والے اگر ہم چاہیں کردیں اس کو کھارا پھر کیوں نہیں احسان مانتے۔- یہاں تک تو قدرت الہیہ کی یہ کرشمہ سازی دیکھی کہ سمندر کے پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کر کے پورے روئے زمین پر بادلوں کے ذریعے کس حسن نظام کیساتھ پہونچایا کہ ہر خطہ کے نہ صرف انسانوں کو بلکہ جانوروں کو بھی جو انسانوں کی دریافت سے باہر ہیں گھر بیٹھے پانی پہنچا دیا اور بالکل مفت بلکہ جبری طور پر پہونچا۔- لیکن انسان اور جانوروں کا مسئلہ صرف اتنی بات سے حل نہیں ہوجاتا کیونکہ پانی ان کی ایسی ضرورت ہے جس …
وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْىِۦ وَنُمِيتُ وَنَحْنُ ٱلْوَٰرِثُونَ
اور ہم ہی حیات بخشتے اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ اور ہم سب کے وارث (مالک) ہیں
Explained together with ayah 22
وَلَقَدْ عَلِمْنَا ٱلْمُسْتَقْدِمِينَ مِنكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا ٱلْمُسْتَـْٔخِرِينَ
اور جو لوگ تم میں پہلے گزر چکے ہیں ہم کو معلوم ہیں اور جو پیچھے آنے والے ہیں وہ بھی ہم کو معلوم ہیں
نیک کاموں میں آگے بڑھنے اور پیچھے رہنے میں درجات کا فرق :- وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِيْنَ میں مستقدمین اور مستاخرین کی چند تفسیریں ائمہ صحابہ وتابعین سے مختلف منقول ہیں مستقدمین وہ لوگ وہ جواب تک پیدا ہوچکے ہیں اور مستاخرین وہ جو ابھی پیدا نہیں ہوئے (قتادہ و عکرمہ) مستقدمین سے مراد اموات ہیں اور مستاخرین سے وہ لوگ جو اب زندہ ہیں (ابن عباس وضحاک) مستقدمین سے مراد امت محمدیہ سے پہلے حضرات ہیں اور مستاخرین سے مراد امت محمدیہ (مجاہد) مستقدمین سے مراد اہل اطاعت وخیر ہیں اور مستاخرین سے اہل معصیت و غفلت (حسن و قتادہ) مستقدمین وہ لوگ ہیں جو نماز کی صفوف یا جہاد کی صفوف اور دوسرے نیک کاموں میں آگے رہنے والے ہیں اور مستاخرین وہ جو ان چیزوں میں پچھلی صفوں میں رہنے والے اور دیر کرنے والے ہیں حسن بصری، سعید بن مسیب، قرطبی، شعبی وغیرہ ائمہ تفسیر کی یہ تفسیر ہے اور یہ ظاہر ہے کہ درحقیقت ان اقوال میں کوئی خاص اختلاف نہیں سب جمع ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ کا علم محیط ان تمام اقسام کے مستقدمین ومستاخرین پر حاوی ہے۔- قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ اسی آیۃ سے نماز میں صف اول اور شروع وقت میں نماز ادا کرنے کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ اذان کہنے اور نماز کی صف اول میں کھڑے ہونے کی کتنی بڑی فضیلت ہے تو تمام آدمی اس کی کوشش میں لگ جاتے کہ پہلی ہی صف میں کھڑے ہوں اور سب کے لئے جگہ نہ ہوتی تو قرعہ اندازی کرنا پڑتی۔- قرطبی نے اس کے ساتھ حضرت کعب کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ اس امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ جب وہ سجدے میں جاتے ہیں تو جتنے آدمی اس کے پیچھے ہیں سب کی مغفرت ہوجاتی ہے اسی لئے حضرت کعب آخری صف میں رہنا پسند کرتے تھے کہ شاید اگلی صفوف میں اللہ کا کوئی بندہ اس شان کا ہو تو اس کی برکت سے میری مغفرت ہوجائے انتہی کلامہ۔- اور ظاہر یہ ہے کہ اصل فضیلت تو صف اول ہی میں ہے جیسا کہ آیت قرآن اور حدیث کی تصریحات سے ثابت ہوا لیکن جس شخص کو کسی وجہ سے صف اول میں جگہ نہ ملی تو اس کو بھی ایک گونہ فضیلت یہ حاصل رہے گی کہ شاید اگلی صفوف کے کسی نیک بندے کی بدولت اس کی بھی مغفرت ہوجائے اور آیت مذکورہ میں جیسے نماز کی صف اول کی فضیلت ثابت ہوئی اسی طرح جہاد کی صف اول کی افضلیت بھی ثابت ہوگئی۔
وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌۭ
اور تمہارا پروردگار (قیامت کے دن) ان سب کو جمع کرے گا وہ بڑا دانا (اور) خبردار ہے
Explained together with ayah 24
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ
اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے
خلاصہ تفسیر :- اور ہم نے انسان کو (یعنی اس نوع کی اصل اول آدم (علیہ السلام) کو) بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہوئی تھی پیدا کیا (یعنی اول گاڑے کو خوب خمیر کیا کہ اس میں بو آنے لگی پھر وہ خشک ہوگیا کہ وہ خشک ہونے سے کھن کھن بولنے لگا جیسا مٹی کے برتن چٹکی مارنے سے بجا کرتے ہیں پھر اس خشک گارے سے آدم کا پتلا بنایا جو بڑی قدرت کی علامت ہے) اور جن کو (یعنی اس نوع کی اصل ابو الجان کو) اس کے قبل (یعنی آدم (علیہ السلام) کے قبل) آگ سے کہ وہ (غایت لطافت کی وجہ سے) ایک گرم ہوا تھی پیدا کرچکے تھے مطلب یہ کہ چونکہ اس آگ میں اجزائے دخانیہ نہ تھے اس لئے وہ مثل ہوا کے نظر نہ آتی تھی کیونکہ آگ کا نظر آنا اجزائے کثیفہ کے اختلاط سے ہوتا ہے اس کو دوسری آیت میں اس طرح فرمایا ہے وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ) اور وہ وقت یاد کرنے قابل ہے جب آپ کے رب نے ملائکہ سے (ارشاد) فرمایا کہ میں ایک بشر کو (یعنی اس کے پتلے کو) بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہوگی پیدا کرنے والا ہوں سو میں جب اس کو (یعنی اس کے اعضائے جسمانیہ کو) پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی (طرف سے) جان ڈال دوں تو تم سب اس کے روبرو سجدہ میں گر پڑنا سو (جب اللہ تعالیٰ نے اس کو بنا لیا تو) سارے کے سارے فرشتوں نے (آدم (علیہ السلام) کو) سجدہ کیا مگر ابلیس نے کہ اس نے اس بات کو قبول نہ کیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ شامل کرنے ہو (یعنی سجدہ نہ کیا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھ کو کون سا امر باعث ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا کہنے لگا کہ میں ایسا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جس کو آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے جو کہ سڑے ہوئے گارے کی بنی ہے پیدا کیا ہے (یعنی ایسے حقیر و ذلیل مادہ سے بنایا گیا ہے کیونکہ میں نورانی مادہ آتش سے پیدا ہوا ہوں تو نورانی ہو کر ظلمانی کو کیسے سجدہ کروں) ارشاد ہوا تو (اچھا پھر) آسمان سے نکل کیونکہ بیشک تو (اس حرکت سے) مردود ہوگیا اور بیشک تجھ پر میری) لعنت قیامت تک رہے گی (جیسا دوسری آیت میں ہے عَلَيْكَ اللَّعْنَتِی یعنی قیامت تک جو محل رحمت نہ ہو تو پھر قیامت میں تو مرحوم ہونے کا احتمال ہی نہیں پس جس وقت تک احتمال تھا اس کی نفی کردی اور اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ اس میں تو مہلت مانگنے سے پہلے ہی مہلت دینے کا وعدہ ہوگیا بات یہ ہے کہ مقصود قیامت تک عمر دینا نہیں ہے کہ یہ شبہ ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ حیات دنیویہ میں تو ملعون ہے گو وہ قیامت تک ممتد کیوں نہ ہو) کہنے لگا (کہ اگر مجھ کو آدم کی وجہ سے مردود کیا ہے) تو پھر مجھ کو (مرنے سے) مہلت دیجئے قیامت کے دن تک (تاکہ ان سے اور ان کی اولاد سے خوب بدلہ لوں) ارشاد ہوا (جب تو مہلت مانگتا ہے) تو (جا) تجھ کو معین وقت کی تاریخ تک مہلت دی گئی کہنے لگا اے میرے رب بسبب اس کے کہ آپ کے ان بندوں کے جو ان میں منتخب کئے گئے ہیں (یعنی آپ نے ان کو میرے اثر سے محفوظ رکھا ہے) ارشاد ہوا کہ (ہاں) یہ (منتخب ہوجانا جس کا طریقہ اعمال صالحہ و اطاعت کاملہ ہے) ایک سیدھا راستہ ہے جو مجھ تک پہنچتا ہے (یعنی اس پر چل کر ہمارے مقرب ہوجاتا ہے) واقعی میرے ان (مذکور) بندوں پر تیرا ذرا بھی بس نہ چلے گا ہاں مگر جو گمراہ لوگوں میں تیری راہ پر چلنے لگے (تو چلے) اور (جو لوگ تیری راہ پر چلیں گے) ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے جس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ (میں سے جانے) کیلئے ان لوگوں کے الگ الگ حصے ہیں (کہ کوئی کسی دروازے سے جائے گا کوئی کسی دروازے سے)
وَٱلْجَآنَّ خَلَقْنَٰهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ ٱلسَّمُومِ
اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا
Explained together with ayah 26
وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ إِنِّى خَٰلِقٌۢ بَشَرًۭا مِّن صَلْصَٰلٍۢ مِّنْ حَمَإٍۢ مَّسْنُونٍۢ
اور جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک بشر بنانے والا ہوں
Explained together with ayah 26
فَإِذَا سَوَّيْتُهُۥ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّوحِى فَقَعُوا۟ لَهُۥ سَٰجِدِينَ
جب اس کو (صورت انسانیہ میں) درست کر لوں اور اس میں اپنی (بےبہا چیز یعنی) روح پھونک دوں تو اس کے آگے سجدے میں گر پڑنا
معارف و مسائل :- بدن انسانی میں نفخ روح اور اس کو مسجود ملائکہ بنانے کی مختصر تحقیق :- روح کوئی جسم ہے یا جوہر مجرد اس میں علماء وحکماء کا اختلاف قدیم زمانے سے چلا آتا ہے شیخ عبد الرءوف منادی نے فرمایا کہ اس میں حکماء کے اقوال ایک ہزار تک پہنچنے ہیں مگر سب قیاسات اور تخمینے ہی ہیں کسی کو یقینی نہیں کہا جاسکتا امام غزالی، امام رازی اور عموما صوفیہ اور فلاسفہ کا قول یہ ہے کہ وہ جسم نہیں بلکہ جوہر مجرد ہے امام رازی نے اس کے بارہ دلائل پیش کئے ہیں - مگر جمہور علماء امت روح کو ایک جسم لطیف قرار دیتے ہیں نفخ کے معنی پھونک مارنے کے ہیں اگر بقول جمہور روح کو جسم لطیف قرار دیا جائے تو اس کو پھونکنا ظاہر ہے اور جوہر مجرد مان لیا جائے تو پھونکنے کے معنی اس کا بدن سے تعلق پیدا کردینا ہوگا (بیان القرآن)- روح اور نفس کے متعلق حضرت قاضی ثناء اللہ کی تحقیق :- یہاں اس طویل الذیل بحث کو چھوڑ کر ایک خاص تحقیق پر اکتفاء کیا جاتا ہے جو تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے تحریر فرمائی ہے حضرت قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ روح کی دو قسم ہیں، علوی اور سفلی، روح علوی مادہ سے مجرد اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے جس کی حقیقت کا ادراک مشکل ہے اہل کشف کو اس کا اصل مقام عرش کے اوپر دکھائی دیتا ہے کیونکہ وہ عرش سے زیادہ لطیف ہے اور روح علوی بنظر کشفی اوپر نیچے پانچ درجات میں محسوس کی جاتی ہے وہ پانچ یہ ہیں قلب، روح، سر، خفی، اخفی، اور یہ سب عالم امر کے لطائف میں سے ہیں جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ فرمایا ہے (آیت) قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ اور روح سفلی وہ بخار لطیف ہے جو بدن انسانی کے عناصر اربعہ آگ پانی مٹی ہوا سے پیدا ہوتا ہے اور اسی روح سفلی کو نفس کہا جاتا ہے۔- اللہ تعالیٰ نے اس روح سفلی کو جسے نفس کہا جاتا ہے ارواح علویہ مذکورہ کا آئینہ بنادیا ہے جس طرح آئینہ جس آفتاب کے مقابل کیا جائے تو آفتاب کے بہت بعید ہونے کے باوجود اس میں آفتاب کا عکس آجاتا ہے اور روشنی کی وجہ سے وہ بھی آفتاب کی طرح چمک اٹھتا ہے اور آفتاب کی حرارت بھی اس میں آجاتی ہے جو کپڑے کو جلا سکتی ہے اسی طرح ارواح علویہ اگرچہ اپنے تجرد کی وجہ سے بہت اعلیٰ وارفع اور بہت مسافت بعیدہ پر ہیں مگر ان کا عکس اس روح سفلی کے آئینہ میں آ کر ارواح علویہ کی کیفیات وآثار اس میں منتقل کردیتا ہے اور یہی آثار جو نفوس میں پیدا ہوجاتے ہیں ہر ہر فرد کے لئے ارواح جزئیہ کہلاتے ہیں - پھر یہ روح سفلی جس کو نفس کہتے ہیں اپنی ان کیفیات وآثار کے ساتھ جن کو ارواح علویہ سے حاصل کیا ہے اس کا تعلق بدن انسانی میں سب سے پہلے مضغہ قلبیہ سے ہوتا ہے اور اس تعلق ہی کا نام حیات اور زندگی ہے روح سفلی کے تعلق سے سب سے پہلے انسان کے قلب میں حیات اور وہ ادراکات پیدا ہوتے ہیں جن کو نفس نے ارواح علویہ سے حاصل کیا ہے یہ روح سفلی پورے بدن میں پھیلی ہوئی باریک رگوں میں سرایت کرتی ہے جن کو شرائین کہا جاتا ہے اور اس طرح وہ تمام بدن انسانی کے ہر حصہ میں پہنچ جاتی ہے۔- روح سفلی کے بدن انسانی میں سرایت کرنے ہی کو نفخ روح سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ کسی چیز میں پھونک بھرنے سے بہت مشابہ ہے۔- اور آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے روح کو اپنی طرف منسوب کر کے من روحی اسی لئے فرمایا ہے کہ تمام مخلوقات میں روح انسانی کا اشرف واعلیٰ ہونا واضح ہوجائے کیونکہ وہ بغیر مادے کے محض امر الہی سے پیدا ہوئی ہے نیز اس میں تجلیات رحمانیہ کے قبول کرنے کی ایسی استعداد ہے جو انسان کے علاوہ کسی دوسرے جاندار کی روح میں نہیں ہے۔- اور انسان کی پیدائش میں اگرچہ عنصر غالب مٹی کا ہے اور اسی لئے قرآن عزیز میں انسان کی پیدائش کو مٹی کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن درحقیقت وہ دس چیزوں کا جامع ہے جن میں پانچ عالم خلق کی ہیں اور پانچ عالم امر کی عالم خلق کے چار عنصر آگ پانی مٹی …
فَسَجَدَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ
تو فرشتے تو سب کے سب سجدے میں گر پڑے
Explained together with ayah 29
Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.