وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
Explained together with ayah 10
سُورَةُ الحِجۡرِ
Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi
Ayahs 11–20 of 99
وَمَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
اور اُن کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر وہ اُس کے ساتھ استہزاء کرتے تھے
Explained together with ayah 10
كَذَٰلِكَ نَسْلُكُهُۥ فِى قُلُوبِ ٱلْمُجْرِمِينَ
اسی طرح ہم اس (تکذیب وضلال) کو گنہگاروں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں
Explained together with ayah 10
لَا يُؤْمِنُونَ بِهِۦ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ ٱلْأَوَّلِينَ
سو وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور پہلوں کی روش بھی یہی رہی ہے
Explained together with ayah 10
وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ فَظَلُّوا۟ فِيهِ يَعْرُجُونَ
اوراگر ہم آسمان کا کوئی دروازہ اُن پر کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے بھی لگیں
Explained together with ayah 10
لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ
تو بھی یہی کہیں کہ ہماری آنکھیں مخمور ہوگئی ہیں بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
Explained together with ayah 10
وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى ٱلسَّمَآءِ بُرُوجًۭا وَزَيَّنَّٰهَا لِلنَّٰظِرِينَ
اور ہم ہی نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے اُس کو سجا دیا
پچھلی آیات میں منکرین کی ہٹ دھرمی اور عناد کا ذکر تھا ان آیات میں جو آگے آ رہی ہیں اللہ جل شانہ کے وجود، توحید، علم، قدرت کے واضح دلائل، آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی مخلوقات کے حالات ومشاہدات سے بیان کئے گئے ہیں جن میں ذرا بھی غور کیا جائے تو کسی عاقل کو انکار کی مجال نہیں رہتی ارشاد فرمایا۔- اور بیشک ہم نے آسمان میں بڑے بڑے ستارے پیدا کئے اور دیکھنے والوں کیلئے آسمان کو (ستاروں سے) آراستہ کیا۔- معارف و مسائل :- بُرُوْجًا برج کی جمع ہے جو بڑے محل اور قلعہ وغیرہ کے لئے بولا جاتا ہے ائمہ تفسیر مجاہد، قتادہ، ابو صالح وغیرہ نے اس جگہ بروج کی تفسیر بڑے ستاروں سے کی ہے اور اس آیت میں جو ان بڑے ستاروں کا آسمان میں پیدا کرنا ارشاد ہے یہاں آسمان سے مراد فضاء آسمانی ہے جس کو آجکل کی اصطلاح میں خلا کہا جاتا ہے اور لفظ سماء کا دونوں معنی میں اطلاق عام و معروف ہے جرم آسمان کو بھی سما کہا جاتا ہے اور سیارات اور ستاروں کا آسمانوں کے اندر نہیں بلکہ فضاء آسمانی میں ہونا اس کی مکمل تحقیق قرآن کریم کی آیات سے نیز قدیم وجدید علم فلکیات کی تحقیق سے انشاء اللہ سورة فرقان کی آیت نمر 61 تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاۗءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا کی تفسیر میں آئے گی۔
وَحَفِظْنَٰهَا مِن كُلِّ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍ
اور ہر شیطان راندہٴ درگاہ سے اُسے محفوظ کر دیا
خلاصہ تفسیر :- آسمان کو (ستاروں کے ذریعہ) ہر شیطان مردود سے محفوظ فرما دیا (کہ وہاں تک ان کی رسائی نہیں ہونے پاتی) ہاں مگر کوئی بات (فرشتوں کی) چوری چھپے سن بھاگے تو اس کے پیچھے ایک روشن شعلہ ہوتا ہے (اور اس کے اثر سے وہ شیطان ہلاک یا بدحواس ہوجاتا ہے)
إِلَّا مَنِ ٱسْتَرَقَ ٱلسَّمْعَ فَأَتْبَعَهُۥ شِهَابٌۭ مُّبِينٌۭ
ہاں اگر کوئی چوری سے سننا چاہے تو چمکتا ہوا انگارہ اس کے پیچھے لپکتا ہے
معارف و مسائل :- شہاب ثاقب :- ان آیات میں سے ایک تو یہ ثابت ہوا کہ شیاطین کی رسائی آسمانوں تک نہیں ہو سکتی ابلیس لعین کا تخلیق آدم (علیہ السلام) کے وقت آسمانوں میں ہونا اور آدم وحوا (علیہا السلام) کو دھوکہ میں مبتلا کرنا وغیرہ یہ سب آدم (علیہ السلام) کے زمین پر نزول سے پہلے کے واقعات ہیں اس وقت تک جنات و شیاطین کا داخلہ آسمانوں میں ممنوع نہیں تھا نزول آدم (علیہ السلام) اور اخراج شیطان کے بعد سے یہ داخلہ ممنوع ہوا سورة جن کی آیات میں جو یہ مذکور ہے وّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ ۭ فَمَنْ يَّسْتَمِعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے شیاطین آسمانوں کی خبریں فرشتوں کی باہمی گفتگو سے سن لیا کرتے تھے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ شیاطین آسمانوں میں داخل ہو کر سنتے تھے نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ کے الفاظ سے بھی یہ مفہوم ہوتا ہے کہ چوروں کی طرح آسمانی فضاء میں جہاں بادل ہوتے ہیں چھپ کر بیٹھ جاتے اور سن لیا کرتے تھے ان الفاظ سے خود بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ قبل بعثت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی جنات و شیاطین کا داخلہ آسمانوں میں ممنوع ہی تھا مگر فضاء آسمانی تک پہنچ کر چوری سے کچھ سن لیا کرتے تھے بعثت نبوی کے بعد حفاظت وحی کا یہ مزید سامان ہوا کہ شیاطین کو اس چوری سے بھی بذریعہ شہاب ثاقب روک دیا گیا۔- رہا یہ سوال کہ آسمانوں کے اندر فرشتوں کی گفتگو کو آسمانوں سے باہر شیاطین کس طرح سن سکتے تھے سو یہ کوئی ناممکن چیز نہیں کہ فرشتے کسی وقت آسمانوں سے نیچے اتر کر باہم ایسی گفتگو کرتے ہوں جس کو شیاطین سن بھاگتے تھے صحیح بخاری میں حضرت صدیقہ عائشہ (رض) کی حدیث سے اسی کی تائید ہوتی ہے کہ فرشتے آسمان سے نیچے جہاں بادل ہوتے ہیں کبھی کسی وقت یہاں تک اترتے ہیں اور آسمانی خبروں کا باہمی تذکرہ کرتے ہیں شیاطین اسی فضاء آسمانی میں چھپ کر یہ خبریں سنتے تھے جن کو شہاب ثاقب کے ذریعہ بند کیا گیا اس کی پوری تفصیل انشاء اللہ سورة جن میں (آیت) وَّاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ للسَّمْعِ کی تفسیر میں آئے گی - دوسرا مسئلہ : ان آیات میں شہاب ثاقب کا ہے قرآن کریم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہاب حفاظت وحی کے لئے شیاطین کو مارنے کے واسطے پیدا ہوتے ہیں ان کے ذریعہ شیاطین کو دفع کیا جاتا ہے تاکہ وہ فرشتوں کی باتیں نہ سن سکیں۔- اس میں ایک اشکال قوی یہ ہے کہ فضائے آسمانی میں شہابوں کا وجود کوئی نئی چیز نہیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے بھی ستارے ٹوٹنے کا مشاہدہ کیا جاتا تھا اور بعد میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ شہاب ثاقب شیاطین کو دفع کرنے لے لئے پیدا ہوتے ہیں جو کہ عہد نبوی کی خصوصیات ہے اس سے تو بظاہر اسی بات کی تقویت ہوتی ہے جو فلاسفہ کا خیال ہے کہ شہاب ثاقب کی حقیقت اتنی ہی ہے کہ آفتاب کی تمازت سے جو بخارات زمین سے اٹھتے ہیں ان میں کچھ آتش گیر مادے بھی ہوتے ہیں اوپر جا کر جب ان کو آفتاب یا کسی دوسری وجہ سے مزید گرمی پہونچتی ہے تو وہ سلگ اٹھتے ہیں اور دیکھنے والوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ستارا ٹوٹا ہے اسی لئے محاورات میں اس کو ستارا ٹوٹنے ہی سے تعبیر کیا جاتا ہے عربی زبان میں بھی اس کے لئے انقضاض کو کب کا لفظ استعمال ہوتا ہے جو اسی کا ہم معنی ہے۔- جواب یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تعارض واختلاف نہیں زمین سے اٹھنے والے بخارات مشتعل ہوجائیں یہ بھی ممکن ہے اور یہ بھی کوئی بعید نہیں کہ کسی ستارے یا سیارے سے کوئی شعلہ نکل کر گرے اور ایسا ہونا عام عادات کے مطابق ہمیشہ سے جاری ہو مگر بعثت نبوی سے پہلے ان شعلوں سے کوئی خاص کام نہیں لیا جاتا تھا آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے بعد ان شہابی …
وَٱلْأَرْضَ مَدَدْنَٰهَا وَأَلْقَيْنَا فِيهَا رَوَٰسِىَ وَأَنۢبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَىْءٍۢ مَّوْزُونٍۢ
اور زمین کو بھی ہم ہی نے پھیلایا اور اس پر پہاڑ (بنا کر) رکھ دیئے اور اس میں ہر ایک سنجیدہ چیز اُگائی
خلاصہ تفسیر :- اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس (زمین) میں بھاری بھاری پہاڑ ڈال دیئے اور اس میں ہر قسم کی (ضرورت کی پیداوار) ایک معین مقدار سے اگائی اور ہم نے تمہارے واسطے اس (زمین) میں معاش کے سامان بنائے (جس میں ضروریات زندگی کی تمام چیزیں داخل ہیں جو کھانے پینے پہننے اور رہنے سہنے سے متعلق ہیں) اور (یہ سامان معاش اور ضروریات زندگی صرف تم کو ہی نہیں دیا بلکہ) ان کو بھی دیا جن کو تم روزی نہیں دیتے (یعنی وہ تمام مخلوقات جو ظاہر میں بھی تمہارے ہاتھ سے خوردو نوش اور زندگی گذارنے کا سامان نہیں پاتے ظاہر اس لئے کہا کہ گھر کے پالتو جانور بکری، گائے، بیل، گھوڑا، گدھا وغیرہ بھی اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے اپنی روزی اور ضروریات معاش حقیقتاً اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے پاتے ہیں مگر ظاہری طور پر ان کے خوردو نوش اور رہائش کا انتظام انسانوں کے ہاتھوں ہوتا ہے ان کے علاوہ تمام دنیا کے بری اور بحری جانور، پرندے اور درندے ایسے ہیں جن کے سامان معاش میں کسی انسانی ارادے اور عمل کا کوئی دخل اور شائبہ بھی نہیں پایا جاتا اور یہ جانور اتنے بےحد و بیشمار ہیں کہ انسان نہ ان سب کو پہچان سکتا ہے نہ شمار کرسکتا ہے) اور جتنی چیزیں (ضروریات زندگی سے متعلق ہیں ہمارے پاس سب کے خزانے کے خزانے (بھرے پڑے) ہیں اور ہم (اپنی خاص حکمت کے مطابق) اس (چیز) کو ایک معین مقدار سے اتارتے رہتے ہیں اور ہم ہی ہواؤں کو بھیجتے رہتے ہیں جو بادل کو پانی سے بھر دیتی ہیں پھر ہم ہی آسمان سے پانی برساتے ہیں پھر وہ پانی تم کو پینے کو دیتے ہیں اور تم اس کو ذخیرہ کر کے رکھنے والے نہ تھے (کہ اگلی بارش تک اس ذخیرہ کو استعمال کرتے رہتے) اور ہم ہی ہیں کہ زندہ کرتے ہیں اور مارتے ہیں اور (سب کے مرنے کے بعد) ہم ہی باقی رہ جاویں گے اور ہم ہی جانتے ہیں تم میں سے آگے بڑھ جانے والوں کو اور ہم جانتے ہیں پیچھے رہنے والوں کو اور بیشک آپ کا رب ہی ان سب کو (قیامت میں) محشور فرماوے گا (یہ اس لے فرمایا کہ اوپر توحید ثابت ہوئی ہے اس میں منکر توحید کی سزاء کی طرف اشارہ کردیا) بیشک وہ حکمت والا ہے (ہر شخص کو اس کے مناسب بدلہ دے گا اور) علم والا ہے (سب کے اعمال کی اس کو پوری خبر ہے)- معارف و مسائل :- حکمت الہیہ ضروریات معاش میں تناسب وموزونیت :- مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ کا ایک مفہوم تو وہی ہے جو ترجمہ میں لیا گیا ہے کی بتقاضائے حکمت ہر اگنے والی چیز کی ایک مقدار معین اگائی جس سے کم ہوجاتی تو زندگی میں دشواریاں پیدا ہوجاتیں اور زیادہ ہوجاتی تو بھی مشکلات پیدا کرتی انسانی ضرورت کے گندم اور چاول وغیرہ اور بہتر سے بہتر عمدہ پھل اگر اتنے زیادہ پیدا ہوجائیں جو انسانوں اور جانوروں کے کھانے پینے کے بعد بھی بہت بچ رہیں تو ظاہر ہے کہ وہ سڑیں گے ان کا رکھنا بھی مشکل ہوگا اور پھینکنے کے لئے جگہ نہ رہے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ جن دانوں اور پھلوں پر انسان کی زندگی موقوف ہے ان کو اتنا زیادہ پیدا کردیتے کہ ہر شخص کو ہر جگہ مفت مل جایا کرتے اور بےفکری سے استعمال کرنے کے بعد بھی ان کے بڑے ذخیرے پڑے رہتے لیکن یہ انسان کے لئے عذاب ہوجاتا اس لئے ایک خاص مقدار میں نازل کئے گئے کہ ان کی قدر و قیمت بھی باقی رہے اور بیکار بھی نہ بچیں۔- اور مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام اگنے والی چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص تناسب اور موزونیت کے ساتھ پیدا کیا ہے جس سے اس میں حسن اور دل کشی پیدا ہوتی، مختلف رنگ اور ذائقے کے پیدا کئے گئے جس کے تناسب اور حسین منظر سے تو انسان فائدہ اٹھاتا ہے مگر ان کی تفصیلی حکمتوں کا ادراک کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔
وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَٰيِشَ وَمَن لَّسْتُمْ لَهُۥ بِرَٰزِقِينَ
اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے اس میں معاش کے سامان پیدا کئے
Explained together with ayah 19
Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.