لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٌۭ مِّنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ سُوٓءًۭا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ
اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا
(آیت) لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ مُعَقِّبٰتٌ- معقبۃ کی جمع ہے اس جماعت کو جو دوسری جماعت کے پیچھے متصل آئے اس کو معقبہ یا متعقبہ کہا جاتا ہے مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ کے لفظی معنی ہیں دونوں ہاتھ کے درمیان مراد انسان کے سامنے کی جہت اور سمت ہے وَمِنْ خَلْفِهٖ پیچھے کی جانب مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ میں من بمعنی باء سببیت کے لئے ہے بامر اللہ کے معنی میں آیا ہے بعض قراءتوں میں یہ لفظ بامر اللہ منقول بھی ہے (روح) - معنی آیت کے ہیں کہ ہر شخص خواہ اپنے کلام کو چھپاتا ہے یا ظاہر کرنا چاہتا ہے اسی طرح اپنے چلنے پھرنے کو رات کی تاریکیوں کے ذریعہ مخفی رکھنا چاہے یا کھلے بندوں سڑکوں پر پھرے ان سب انسانوں کے لئے اللہ کی طرف سے فرشتوں کی جماعتیں مقرر ہیں جو ان کے آگے اور پیچھے سے احاطہ کئے رہتے ہیں جن کی خدمت اور ڈیوٹی بدلتی رہتی ہے اور یکے بعد دیگرے آتی رہتی ہیں ان کے ذمہ یہ کام سپرد ہے کہ وہ بحکم خداوندی انسانوں کی حفاظت کریں۔- صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ فرشتوں کی دو جماعتیں حفاظت کے لئے مقرر ہیں ایک رات کے لئے دوسری دن کے لئے اور یہ دونوں جماعتیں صبح اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتی ہیں صبح کی نماز کے بعد یہ رخصت ہوجاتے ہیں دن کے محافظ کام سنبھال لیتے ہیں اور عصر کی نماز کے بعد یہ رخصت ہوجاتے ہیں رات کے فرشتے ڈیوٹی پر آجاتے ہیں - ابوداؤد کی ایک حدیث میں بروایت علی مرتضی (رض) مذکور ہیں کہ ہر انسان کے ساتھ کچھ حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی دیوار وغیرہ نہ گر جائے یا کسی گڑھے اور غار میں نہ گر جائے یا کوئی جانور یا انسان اس کو تکلیف نہ پہونچائے البتہ جب حکم الہی کسی انسان کو بلا و مصیبت میں مبتلا کرنے کے لئے نافذ ہوجاتا ہے تو محافظ فرشتے وہاں سے ہٹ جاتے ہیں (روح المعانی)- ابن جریر کی ایک حدیث سے بروایت عثمان غنی (رض) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان محافظ فرشتوں کا کام صرف دنیاوی مصائب اور تکلیفوں ہی سے حفاظت نہیں بلکہ وہ انسان کو گناہوں سے بچانے اور محفوظ رکھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں انسان کے دل میں نیکی اور خوف خدا کے الہام سے غفلت برت کر گناہ میں مبتلا ہی ہوجائے تو وہ اس کی دعاء اور کوشش کرتے ہیں کہ یہ جلد توبہ کر کے گناہ سے پاک ہوجائے پھر اگر وہ کسی طرح متنبہ نہیں ہوتا تب وہ اس کے نامہ اعمال میں گناہ کا کام لکھ دیتے ہیں۔- خلاصہ یہ ہے کہ یہ محافظ فرشتے دین و دنیا دونوں کی مصیبتوں اور آفتوں سے انسان کی سوتے جاگتے حفاظت کرتے رہتے ہیں حضرت کعب احبار (رض) فرماتے ہیں کہ اگر انسان سے یہ حفاظت خداوندی کا پہرہ ہٹا دیا جائے تو جنات ان کی زندگی وبال کردیں لیکن یہ سب حفاظتی پہرے اسی وقت تک کام کرتے ہیں جب تک تقدیر الہی ان کی حفاظت کی اجازت دیتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ ہی کسی بندہ کو مبتلا کرنا چاہیں تو یہ حفاظتی پہرا ہٹ جاتا ہے۔- اسی کا بیان اگلی آیت میں اس طرح کیا گیا ہے :- (آیت) اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ- یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت امن و عافیت کو آفت و مصیبت میں اس وقت تک تبدیل نہیں کرتے جب تک وہ قوم خود ہی اپنے اعمال و احوال کو برائی اور فساد میں تبدیل نہ کرلے اور جب جب وہ اپنے حالات کو سرکشی اور نافرمانی سے بدلتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا طرز بدل دیتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہی کسی کا برا چاہیں اور عذاب دینا چاہیں تو نہ پھر کوئی اس کو ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی حکم ربانی کے خلاف ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے،- حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی حفاظت کے لئے فرشتوں کا پہرہ لگا …