Muslim99Muslim99
← Tafsir library

12. Yusuf

Joseph · Meccan · 111 ayahs

سُورَةُ يُوسُفَ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 111

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ

الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں

خلاصہ تفسیر :- الرٰ اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک واضح کتاب کی (جس کے الفاظ اور معانی اولیہ بہت صاف ہیں) ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم (اہل زبان ہونے کی وجہ سے دوسروں سے پہلے) سمجھو (پھر تمہارے واسطے سے دوسرے لوگ سمجھیں) ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پہلے آپ (اس قصہ سے) بالکل بیخبر تھے (کیونکہ نہ آپ نے کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی معلم سے کچھ سیکھا تھا اور قصہ کی شہرت بھی ایسی نہیں تھی کہ عوام جانتے ہوں آغاز قصہ) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد (یعقوب علیہ السلام) سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں ان کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ بیٹا اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا (کیونکہ وہ خاندان نبوت میں سے ہونے کی وجہ سے اس خواب کی تعبیر جانتے ہیں کہ گیارہ ستارے گیارہ بھائی اور سورج والد اور چاند ماں ہے اور سجدہ کرنے سے مراد ان سب کا تمہارے لئے مطیع و فرمانبردار ہونا ہے) تو وہ تمہارے (ایذاء رسانی کے) لئے کوئی خاص تدبیر کریں گے (یعنی بھائیوں میں سے اکثر کیونکہ دس بھائی علاتی تھے ان سے خطرہ تھا صرف ایک بھائی حقیقی بنیامین تھے جن سے کسی خلاف کا تو اندیشہ نہ تھا مگر یہ احتمال تھا کہ انکے منہ سے بات نکل جائے) بلاشبہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (اس لئے بھائیوں کے دل میں وسوسے ڈالے گا) اور (جس طرح اللہ تعالیٰ تم کو یہ عزت دے گا کہ سب تمہارے تابع ومطیع ہوں گے) اس طرح تمہارا رب تم کو (دوسری عزت نبوت کیلئے بھی) منتخب کرے گا اور تم کو خوابوں کی تعبیر دے گا اور (دوسری نعمتیں دے کر بھی) تم پر اور اولاد یعقوب پر اپنا انعام کامل کرے گا جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے دادا ابراہیم واسحاق (علیہما السلام) پر اپنا انعام کامل کرچکا ہے واقعی تمہارا رب بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے - معارف و مسائل :- سورة یوسف چار آیتوں کے سوا پوری مکی سورة ہے اس سورة میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ تسلسل اور ترتیب کے ساتھ بیان ہوا ہے اور یہ قصہ صرف اسی سورة میں آیا ہے پورے قرآن میں دوبارہ اس کا کہیں ذکر نہیں یہ خصوصیت صرف قصہ یوسف (علیہ السلام) ہی کی ہی ورنہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصص و واقعات پورے قرآن میں خاص حکمت کے تحت اجزاء اجزاء کر کے لائے گئے ہیں اور بار بار لائے گئے،- حقیقت یہ ہے کہ تاریخ عالم اور ماضی کے تجربات میں انسان کی آئندہ زندگی کے لئے بڑے سبق ہوتے ہیں جن کی قدرتی تاثیر کا رنگ انسان کے قلب و دماغ پر عام تعلیمات سے بہت زیادہ گہرا اور بےمحنت ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم جو تمام اقوام عالم کے لئے آخری ہدایت نامہ کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے اس میں پوری اقوام عالم کی تاریخ کا وہ منتخب حصہ لے لیا گیا ہے جو انسان کے حال اور مال کی اصلاح کے لئے نسخہ کیمیا ہے مگر قرآن کریم نے تاریخ عالم کے اس حصہ کو بھی اپنے مخصوص وبے مثال انداز میں اس طرح لیا ہے کہ اس کا پڑھنے والا یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ کہ کوئی تاریخ کی کتاب ہے بلکہ ہر مقام پر جس قصہ کا کوئی ٹکڑا عبرت وموعظت کیلئے ضروری سمجھا گیا صرف اتنا ہی حصہ وہاں بیان کیا گیا اور پھر کسی دوسرے موقع پر اس حصہ کی ضرورت سمجھی گئی تو پھر اس کا اعادہ کردیا گیا اسی لئے ان قصوں کے بیان میں واقعاتی ترتیب کی رعایت نہیں کی گئی بعض جگہ قصہ کا ابتدائی حصہ بعد میں اور آخری حصہ پہلے ذکر کردیا گیا ہے اس خاص اسلوب قرآنی میں یہ مستقل ہدایت ہے کہ دنیا کی تاریخ اور اس کے گذشتہ واقعات کا پڑھنا یادرکھنا خود کوئی مقصد نہیں بلکہ انسان کا مقصد ہر قصہ وخبر سے کوئی عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہونا چاہئے،- اسی لئے بعض اہل تحقیق نے فرمایا کہ …

2

إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَٰنًا عَرَبِيًّۭا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو

(آیت) اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ یعنی ہم نے نازل کیا اس کو قرآن عربی بنا کر شاید تم سمجھ بوجھ حاصل کرلو،- اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ قصہ یوسف (علیہ السلام) کا سوال کرنے والے عرب کے یہودی تھے اللہ تعالیٰ نے انہی کی زبان میں یہ قصہ نازل فرما دیا تاکہ وہ غور کریں اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق و حقانیت پر ایمان لائیں اور اس قصہ میں جو احکام و ہدایات ہیں ان کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں - اسی لئے اس جگہ لفظ لعل بمعنے شاید لایا گیا ہے کیونکہ ان مخاطبوں کا حال معلوم تھا کہ ایسی واضح آیات بینات سامنے آنے کے بعد بھی ان سے قبول حق کی توقع مشکوک تھی،

3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ ٱلْقَصَصِ بِمَآ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبْلِهِۦ لَمِنَ ٱلْغَٰفِلِينَ

(اے پیغمبر) ہم اس قرآن کے ذریعے سے جو ہم نے تمہاری طرف بھیجا ہے تمہیں ایک نہایت اچھا قصہ سناتے ہیں اور تم اس سے پہلے بےخبر تھے

(آیت) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ ڰ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ یعنی ہم بیان کرتے ہیں آپ کے لئے بہترین قصہ اس قرآن کو بذریعہ وحی آپ پر نازل کر کے بیشک آپ اس سے پہلے ان تمام واقعات سے ناواقف تھے، اس میں یہود کو تنبیہ ہے کہ تم نے جس طرح ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آزمائش کرنا چاہی اس میں بھی رسول کا کمال واضح ہوگیا کیونکہ وہ پہلے سے امی اور تاریخ عالم سے ناواقف تھے اب اس واقفیت کا کوئی ذریعہ بجز تعلیم الہی اور وحی نبوت کے نہیں ہو سکتا

4

إِذْ قَالَ يُوسُفُ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ إِنِّى رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًۭا وَٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ رَأَيْتُهُمْ لِى سَٰجِدِينَ

جب یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے۔ دیکھتا (کیا) ہوں کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں

(آیت) اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ یعنی یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا کہ اباجان میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے اور یہ دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں،- یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب تھا جس کی تعبیر کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا کہ گیارہ ستاروں سے مراد یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی اور سورج اور چاند سے مراد ماں باپ تھے - قرطبی میں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ اگرچہ اس واقعہ سے پہلے وفات پاچکی تھیں مگر ان کی خالہ والد ماجد کے نکاح میں آگئی تھیں خالہ خود بھی ماں کے قائم مقام سمجھی جاتی ہے خصوصا جبکہ وہ والد کی زوجیت میں آجائے تو عرفاً اس کو ماں ہی کہا جائے گا،

5

قَالَ يَٰبُنَىَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلَىٰٓ إِخْوَتِكَ فَيَكِيدُوا۟ لَكَ كَيْدًا ۖ إِنَّ ٱلشَّيْطَٰنَ لِلْإِنسَٰنِ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ

انہوں نے کہا کہ بیٹا اپنے خواب کا ذکر اپنے بھائیوں سے نہ کرنا نہیں تو وہ تمہارے حق میں کوئی فریب کی چال چلیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

(آیت) قَالَ يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ یعنی بیٹا تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے نہ کہنا ایسا نہ ہو کہ وہ یہ خواب سن کر تمہاری عظمت شان معلوم کر کے تمہیں ہلاک کرنے کی کوئی تدبیر کریں کیونکہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے وہ دنیا کے جاہ ومال کی خاطر انسان کو ایسے کاموں میں مبتلاکر دیتا ہے - ان آیات میں چند مسائل قابل ذکر ہیں،- خواب کی حقیقت اور درجہ اور اس کی قسمیں :- سب سے اول خواب کی حقیقت اور اس سے معلوم ہونے والے واقعات واخبار کا درجہ اور مقام ہے تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء اللہ (رح) نے فرمایا کہ حقیقت خواب کی یہ ہے کہ نفس انسان جس وقت نیند یا بیہوشی کے سبب ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوجاتا ہے تو اس کو اس کی قوت خیالیہ کی راہ سے کچھ صورتیں دکھائی دیتی ہیں جن کی کوئی حقیقت اور اصلیت نہیں ہوتی اور ایک اپنی ذات کے اعتبار سے صحیح وصادق ہے مگر اس صحیح قسم میں بھی کبھی کچھ عوراض شامل ہو کر اس کو فاسدو ناقابل اعتبار کردیتے ہیں ،- تفصیل اس کی یہ ہے کہ خواب میں جو انسان مختلف صورتیں اور واقعات دیکھتا ہے کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ بیداری کی حالت میں جو صورتیں انسان دیکھتا رہتا ہے وہی خواب میں متشکل ہو کر نظر آجاتی ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شیطان کچھ صورتیں اور واقعات اس کے ذہن میں ڈالتا ہے کبھی خوش کرنے والے اور کبھی ڈرانے والے یہ دونوں قسمیں باطل ہیں جن کی نہ کوئی حقیقت واصلیت ہے نہ اس کی کوئی واقعی تعبیر ہوسکتی ہے ان میں پہلی قسم کو حدیث النفس اور دوسری کو تسویل شیطانی کہا جاتا ہے،- تیسری قسم جو صحیح اور حق ہے وہ اللہ تعالیٰکی طرف سے ایک قسم کا الہام ہے جو اپنے بندہ کو متنبہ کرنے یا خوش خبری دینے کے لئے کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے خزانہ غیب سے بعض چیزیں اس کے قلب و دماغ میں ڈال دیتے ہیں - ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ مومن کا خواب ایک کلام ہے جس میں وہ اپنے رب سے شرف گفتگو حاصل کرتا ہے یہ حدیث طبرانی نے بسند صحیح روایت کی ہے (مظہری )- اس کی تحقیق صوفیائے کرام کے بیان کے مطابق یہ ہے کہ عالم میں جتنی چیزیں وجود میں آنے والی ہیں اس وجود سے پہلے ہر چیز کی ایک خاص شکل عالم مثال میں ہوتی ہے اور اس عالم مثال میں جس طرح جواہر اور حقائق ثابتہ کی صورتیں اور شکلیں ہوتی ہیں اسی طرح معانی اور اعراض کی بھی خاص شکلیں ہوتی ہیں خواب میں جب نفس انسانی ظاہر بدن کی تدبیر سے فارغ ہوتا ہے، تو بعض اوقات اس کا تعلق عالم مثال سے ہوجاتا ہے وہاں جو کائنات کی شکلیں ہیں وہ اس کو نظر آجاتی ہیں پھر یہ صورتیں عالم غیب سے دکھائی جاتی ہیں بعض اوقات ان میں بھی کچھ عوارض ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ اصل حقیقت کے ساتھ کچھ تخیلات باطلہ شامل ہوجاتے ہیں اس لئے اہل تعبیر کو بھی اس کی تعبیر سمجھنا دشوار ہوجاتا ہے اور بعض اوقات وہ تمام عوارض سے پاک صاف رہتی ہیں تو وہ اصل حقیقت ہوتی ہیں مگر ان میں بھی بعض خواب محتاج تعبیر ہوتے ہیں کیونکہ ان میں حقیقت واقعہ واضح نہیں ہوتی ایسی صورت میں بھی اگر تعبیر غلط ہوجائے تو واقعہ مختلف ہوجاتا ہے اس لئے صرف وہ خواب صحیح طور پر الہام من اللہ اور حقیقت ثابتہ ہوں گے جو اللہ کی طرف سے ہو اور اس میں کچھ عوارض بھی شامل نہ ہوئے ہوں اور تعبیر بھی صحیح دی گئی ہو۔ - انبیاء (علیہم السلام) کے سب خواب ایسے ہی ہوتے ہیں اسی لئے ان کے خواب بھی وحی کا درجہ رکھتے ہیں عام مسلمانوں کے خواب میں ہر طرح کے احتمال رہتے ہیں اس لئے وہ کسی کے لئے حجت اور دلیل نہیں ہوتے ان کے خوابوں میں بعض اوقات طبعی اور نفسانی صورتوں کی آمیزش ہوجاتی ہے اور بعض اوقات گناہوں کی ظلمت و کدورت صحیح خواب پر چھا کر اس کو ناقابل اعتماد بنا دیتی ہے بعض اوقات تعبیر …

6

وَكَذَٰلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ وَيُتِمُّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكَ وَعَلَىٰٓ ءَالِ يَعْقُوبَ كَمَآ أَتَمَّهَا عَلَىٰٓ أَبَوَيْكَ مِن قَبْلُ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَلِيمٌ حَكِيمٌۭ

اور اسی طرح خدا تمہیں برگزیدہ (وممتاز) کرے گا اور (خواب کی) باتوں کی تعبیر کا علم سکھائے گا۔ اور جس طرح اس نے اپنی نعمت پہلے تمہارے دادا، پردادا ابراہیم اور اسحاق پر پوری کی تھی اسی طرح تم پر اور اولاد یعقوب پر پوری کرے گا۔ بےشک تمہارا پروردگار (سب کچھ) جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

چھٹی آیت میں اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) سے چند انعامات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اول كَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے انعامات و احسانات کے لئے آپ کا انتخاب فرما لیں گے جس کا ظہور ملک مصر میں حکومت اور عزت و دولت ملنے سے ہوا دوسرے وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ اس میں احادیث سے مراد لوگوں کے خواب ہیں معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو تعبیر خواب کا علم سکھا دیں گے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعبیر خواب ایک مستقل فن ہے جو اللہ تعالیٰ کسی کسی کو عطا فرما دیتے ہیں ہر شخص اس کا اہل نہیں۔- مسئلہ : تفسیر قرطبی میں ہے کہ عبداللہ بن شداد بن الہاد نے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے اس خواب کی تعبیر چالیس سال بعد ظاہر ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ تعبیر کا فوراً ظاہر ہونا کوئی ضروری نہیں - تیسرا وعدہ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ یعنی اللہ تعالیٰ آپ پر اپنی نعمت پوری فرمادیں گے اس میں عطاء نبوت کی طرف اشارہ ہے اور اسی کی طرف اشارہ بعد کے جملوں میں ہے كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ یعنی جس طرح ہم اپنی نعمت نبوت تمہارے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام) پر آپ سے پہلے پوری کرچکے ہیں اس میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ تعبیر خواب کا فن جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) کو دیا گیا اسی طرح ابراہیم واسحاق (علیہم السلام) کو بھی سکھایا گیا تھا ،- آخر میں فرمای آ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ یعنی تمہارا پروردگار بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے نہ اس کے لئے کسی کو کوئی فن سکھانا مشکل ہے اور نہ ازرؤے حکمت وہ یہ فن ہر شخص کو سکھاتا ہے بلکہ اپنی حکمت کے ماتحت انتخاب کر کے کسی کو یہ ہنر دیدیتا ہے

7

۞ لَّقَدْ كَانَ فِى يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِۦٓ ءَايَٰتٌۭ لِّلسَّآئِلِينَ

ہاں یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لیے (بہت سی) نشانیاں ہیں

خلاصہ تفسیر :- یوسف (علیہ السلام) کے اور ان کے (علاتی) بھائیوں کے قصہ میں (خدا کی قدرت اور آپ کی نبوت کے) دلائل موجود ہیں ان لوگوں کے لئے جو (آپ سے ان کو قصہ) پوچھتے ہیں (کیونکہ یوسف (علیہ السلام) کو ایسی بےکسی اور بےبسی سے سلطنت و حکومت تک پہنچا دینا یہ خدا ہی کا کام تھا جس سے مسلمانوں کے لئے عبرت اور قوت ایمان حاصل ہوگی اور یہود جنہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آزمائش کے لئے یہ قصہ پوچھا تھا ان کے لئے اس میں دلیل نبوت مل سکتی) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ ان (علاتی) بھائیوں نے (باہمی مشورہ کے طور پر) یہ گفتگو کی کہ (یہ کیا بات ہے کہ یوسف اور ان کا (حقیقی) بھائی (بنیامین) ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں حالانکہ (وہ دونوں کم عمری کی وجہ سے ان کی خدمت کے قابل بھی نہیں اور) ہم ایک جماعت ہیں (کہ اپنی قوت و کثرت کی وجہ سے ان کی ہر طرح کی خدمت بھی کرتے ہیں) واقعی ہمارے باپ کھلی غلطی میں ہیں (اس لئے تدبیر یہ کرنی چاہئے کہ ان دونوں میں بھی زیادہ پیار یوسف سے ہے اس کو کسی طرح ان کے پاس سے ہٹانا چاہئے جس کی صورت یہ ہے کہ) یا تو یوسف کو قتل کر ڈالو یا اس کو کسی (دوردراز) سر زمین میں ڈال آؤ تو (پھر) تمہارے باپ کا رخ خالص تمہاری طرف ہوجاوے گا اور تمہارے سب کام بن جاویں گے انہی میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو (کہ وہ بڑا جرم ہے) اور ان کو کسی اندھیرے کنویں میں ڈال دو (جس میں اتنا پانی نہ ہو جس میں ڈوبنے کا خطرہ ہو کیونکہ وہ تو قتل ہی کی ایک صورت ہے البتہ بستی اور راہ گذر سے بہت دور بھی نہ ہو) تاکہ انکو کوئی راہ چلتا مسافر نکال لے جائے اگر تم کو (یہ کام) کرنا ہی ہے (تو اس طرح کرو اس پر سب کی رائے متفق ہوگئی اور) سب نے (مل کر باپ سے) کہا کہ ابا اس کی کیا وجہ ہے کہ یوسف کے بارے میں آپ ہمارا اعتبار نہیں کرتے (کہ کبھی کہیں ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے) حالانکہ ہم اس کے (دل وجان سے) خیرخواہ ہیں (ایسا نہ چاہئے بلکہ) آپ اس کو کل ہمارے ساتھ (جنگل) بھیجئے کہ ذرا وہ کھاویں کھیلیں اور ہم ان کی پوری حفاظت رکھیں گے، یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ (مجھے ساتھ بھیجنے سے دو چیزیں مانع ہیں ایک حزن اور ایک خوف، حزن تو یہ کہ) مجھ کو یہ بات غم میں ڈالتی ہے کہ اس کو تم (میری نظروں کے سامنے سے) لے جاؤ اور (خوف یہ کہ) میں یہ اندیشہ کرتا ہوں کہ اس کو کوئی بھیڑیا کھا جاوے اور تم (اپنے مشاغل میں) اس سے بیخبر رہو (کیونکہ اس جنگل میں بھیڑئیے بہت تھے) وہ بولے اگر اس کو بھیڑیا کھالے اور ہم ایک جماعت کی جماعت (موجود) ہوں تو ہم بالکل ہی گئے گذرے ہوے (غرض کہہ سن کر یعقوب (علیہ السلام) سے یہ ان کو لے کر چلے) تو جب ان کو (اپنے ساتھ جنگل) لے گئے اور (قرار داد سابق کے مطابق) سب نے پختہ ارادہ کرلیا کہ ان کو کسی اندھیرے کنویں میں ڈال دیں (پھر اپنی تجویز پر عمل بھی کرلیا) اور (اس وقت یوسف (علیہ السلام) کی تسلی کے لئے) ہم نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ (تم مغموم نہ ہو ہم تم کو یہاں سے خلاصی دے کر بڑے رتبہ پر پہنچادیں گے اور ایک دن وہ ہوگا کہ) تم ان لوگوں کو یہ باتے جتلاؤ گے اور وہ تم کو (اس وجہ سے کہ غیر متوقع طور پر شاہانہ صورت میں دیکھیں گے) پہچانیں گے بھی نہیں (چنانچہ واقعہ اسی طرح پیش آیا کہ بھائی مصر پہنچنے اور آخرکار یوسف (علیہ السلام) نے ان کو جتلایا هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ یوسف (علیہ السلام) کا تو یہ قصہ ہوا) اور (ادھر) وہ لوگ اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے پہنچے (اور جب باپ نے رونے کا سبب پوچھا تو) کہنے لگے ابا ہم سب تو آپس میں دوڑ لگانے میں (کہ کون آگے نکلے) لگ گئے اور یوسف کو ہم نے (ایسی جگہ جہاں بھیڑیا آنے کا گمان نہ تھا) اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا بس (اتفاقا) ایک بھیڑیا (آیا اور) ان کو کھا گیا اور آپ تو ہمارا کا ہے کو یقین کرنے لگے گو ہم کیسے ہی …

8

إِذْ قَالُوا۟ لَيُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَىٰٓ أَبِينَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ أَبَانَا لَفِى ضَلَٰلٍۢ مُّبِينٍ

جب انہوں نے (آپس میں) تذکرہ کیا کہ یوسف اور اس کا بھائی ابا کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم جماعت (کی جماعت) ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ابا صریح غلطی پر ہیں

دوسری آیت میں یوسف (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) کو دیکھا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) سے غیر معمولی محبت رکھتے ہیں جو ان کے بڑے بھائیوں کو حاصل نہیں اس لئے ان پر حسد ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی طرح ان کو یوسف (علیہ السلام) کا خواب بھی معلوم ہوگیا جس سے انہوں نے یہ محسوس کیا ہو کہ ان کی بڑی شان ہونے والی ہے اس سے حسد پیدا ہوا اور آپس میں گفتگو کی کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے والد کو بہ نسبت ہمارے یوسف اور اس کے حقیقی بھائی بنیامین سے زیادہ محبت ہے حالانکہ ہم دس ہیں اور ان سے بڑے ہیں گھر کے کام کاج سنبھالنے کی قوت رکھتے ہیں اور یہ دونوں چھوٹے بچے ہیں جو کچھ کام نہیں کرسکتے ہمارے والد کو اس کا خیال کرنا اور ہم سے زیادہ محبت کرنا چاہئے تھا مگر انہوں نے کھلی ہوئی بےانصافی کر رکھی ہے اس لئے یا تو تم یوسف (علیہ السلام) کو قتل ڈالو یا پھر کسی دور زمین میں پھینک آؤ جہاں سے واپس نہ آسکے۔- اس آیت میں ان بھائیوں نے اپنے متعلق لفظ (آیت) اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ استعمال کیا ہے یہ لفظ عربی زبان میں پانچ سے لے کر دس تک کی جماعت کے لئے بولا جاتا ہے اور اپنے والد کے بارے میں جو یہ کہا کہ (آیت) وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ اس میں لفظ۔۔ کے لغوی معنی گمراہی کے ہیں مگر یہاں گمراہی سے مراد دینی گمراہی نہیں ورنہ ایسا خیال کرنے سے یہ سب کے سب کافر ہوجاتے کیونکہ یعقوب (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبرا ور نبی ہیں ان کی شان میں ایساخیال قطعی کفر ہے،- اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے متعلق خود قرآن کریم میں مذکور ہے کہ بعد میں انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر کے والد سے دعاء مغفرت کی درخواست کی جس کو ان کے والد نے قبول کیا جس سے ظاہریہ ہے کہ ان سب کی خطامعاف ہوئی یہ سب اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ یہ سب مسلمان ہوں ورنہ کافر کے حق میں دعاء مغفرت جائز نہیں اسی لئے ان بھائیوں کے انبیاء ہونے میں تو علماء کا اختلاف ہے مگر مسلمان ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں اس سے معلوم ہوا کہ لفظ ضلال اس جگہ صرف اس معنی میں بولا گیا ہے کہ بھائیوں کے حقوق میں برابری نہیں کرتے،

9

ٱقْتُلُوا۟ يُوسُفَ أَوِ ٱطْرَحُوهُ أَرْضًۭا يَخْلُ لَكُمْ وَجْهُ أَبِيكُمْ وَتَكُونُوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ قَوْمًۭا صَٰلِحِينَ

تو یوسف کو (یا تو جان سے) مار ڈالو یا کسی ملک میں پھینک آؤ۔ پھر ابا کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی۔ اور اس کے بعد تم اچھی حالت میں ہوجاؤ گے

تیسری آیت میں یہ بیان ہے کہ ان بھائیوں میں مشورہ ہوا بعض نے یہ رائے دی کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو، بعض نے کہا کہ کسی غیرآباد کنویں کی گہرائی میں ڈال دو تاکہ یہ کانٹا درمیان سے نکل جائے اور تمہارے باپ کی پوری توجہ تمہارے ہی طرف ہوجائے رہا یہ گناہ جو اس کے قتل یا کنویں میں ڈالنے سے ہوگا سو بعد میں توبہ کر کے تم نیک ہو سکتے ہو آیت کے جملہ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ کے یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ یوسف کے قتل کے بعد تمہارے حالات درست ہوجائیں گے کیونکہ باپ کی توجہ کا یہ مرکز ختم ہوجائے گا یا یہ کہ قتل کے بعد باپ سے عذر معذرت کر کے تم پھر ویسے ہوجاؤ گے،- یہ دلیل ہے اس بات کی کہ یوسف (علیہ السلام) کے یہ بھائی انبیاء نہیں تھے کیونکہ انہوں نے اس واقعہ میں بہت سے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ایک بےگناہ کے قتل کا ارادہ باپ کی نافرمانی اور ایذاء رسانی، معاہدہ کی خلاف ورزی، پھر جھوٹی سازش وغیرہ، انبیاء (علیہم السلام) سے قبل نبوت بھی جمہور کے عقیدہ کے مطابق ایسے گناہ سرزد نہیں ہو سکتے،

10

قَالَ قَآئِلٌۭ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا۟ يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ ٱلسَّيَّارَةِ إِن كُنتُمْ فَٰعِلِينَ

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو جان سے نہ مارو کسی گہرے کنویں میں ڈال دو کہ کوئی راہگیر نکال (کر اور ملک میں) لے جائے گا۔ اگر تم کو کرنا ہے (تو یوں کرو)

چوتھی آیت میں ہے کہ انہی بھائیوں میں سے ایک نے یہ ساری گفتگو سن کر کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اگر کچھ کرنا ہی ہے تو کنویں کی گہرائی میں ایسی جگہ ڈال دو جہاں یہ زندہ رہے اور راہ مسافر جب اس کنویں پر آئیں تو وہ اس کو اٹھا کرلے جائیں اس طرح تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور اس کو لے کر تمہیں خود کسی دور مقام پر جانا بھی نہ پڑے گا کوئی قافلہ آئے گا وہ خود اس کو اپنے ساتھ کسی دور مقام پر پہنچا دے گا،- یہ رائے دینے والا ان کا سب سے بڑا بھائی یہودا تھا اور بعض روایات میں ہے کہ روبیل سب سے بڑا تھا اسی نے یہ رائے دی اور یہ وہ شخص ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے کہ جب مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی بنیامین کو روک لیا گیا تو اس نے کہا کہ میں جا کر باپ کو کیا منہ دکھاؤں گا اس لئے میں واپس کنعان نہیں جاتا اس آیت میں لفظ غَيٰبَتِ الْجُبِّ فرمایا ہے غَیَابہ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو چھپا لے اور غائب کر دے اسی لئے قبر کو بھی غیابہ کہا جاتا ہے اور جُبّ ایسے کنویں کو کہتے ہیں جس کی مَن بنی ہوئی نہ ہو،- يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ لفظ التقاط لقطہ سے بنا ہے لقطہ اس گری پڑی چیز کو کہتے ہیں جو کسی کو بغیر طلب مل جائے غیر جان دار چیز ہو تو اس کو لقطہ اور جان دار کو فقہاء کی اصطلاح میں لقیط کہا جاتا ہے انسان کو لقیط اسی وقت کہا جائے گا جبکہ وہ بچہ ہو عاقل بالغ نہ ہو قرطبی نے اسی لفظ سے استدلال کیا ہے کہ جس وقت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالا گیا تھا اس وقت وہ نابالغ بچے تھے نیز یعقوب (علیہ السلام) کا یہ فرمانا بھی ان کے بچہ ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑیا کھا جائے کیونکہ بھیڑئیے کا کھاجانا بچوں ہی کے معاملہ میں متصور ہے ابن جریر ابن المنذرا بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اس وقت یوسف (علیہ السلام) کی عمر سات سال تھی (مظہری)- امام قرطبی (رح) نے اس جگہ لقطہ اور لقیط کے شرعی احکام کی تفصیل دی ہے جس کی یہاں گنجائش نہیں البتہ اس کے متعلق ایک اصولی بات یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اسلامی حکومت کے محکوموں کی ذمہ داری نہیں بنایا بلکہ ہر شخص کو اس کا مکلف بنایا ہے راستوں اور سڑکوں میں کھڑے ہو کر یا اپنا کوئی سامان ڈال کر چلنے والوں کے لئے تنگی پیدا کرنے پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے۔- فرمایا کہ جو شخص مسلمانوں کا راستہ تنگ کر دے اس کا جہاد مقبول نہیں اسی طرح اگر راستہ میں کوئی ایسی چیز پڑی ہے جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچ جانے کا خطرہ ہے جیسے کانٹے یا کانچ کے ٹکڑے یا پتھر وغیرہ ان کو راستہ سے ہٹانا صرف میونسپل بورڈ کی ذمہ داری نہیں بنایا بلکہ ہر مسلمان کو ترغیبی انداز میں اس کا ذمہ دار بنایا ہے اور ایسا کرنے والوں کے لئے بڑے اجرو ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے ،- اسی اصول پر کسی شخص کا گم شدہ مال کسی کو مل جائے تو اس کی شرعی ذمہ داری صرف اتنی ہی نہیں کہ اس کو چرائے نہیں بلکہ یہ بھی اس کے ذمہ ہے کہ اس کو حفاظت سے اٹھا کر رکھے اور اعلان کر کے مالک کی تلاش کرے وہ مل جائے اور علامات وغیرہ بیان کرنے سے یہ اطمینان ہوجائے کہ یہ مال اسی کا ہے تو اس کو دیدے اور اعلان و تلاش کے باوجود مالک کا پتہ نہ چلے اور مال کی حیثیت کے مطابق یہ اندازہ ہوجائے کہ اب مالک اس کو تلاش نہ کرے گا اس وقت اگر خود غریب مفلس ہے تو اپنے صرف میں لے آئے ورنہ مساکین پر صدقہ کر دے اور بہر دو صورت یہ مالک کی طرف سے صدقہ قرار دیا جائے گا اس کا ثواب اس کو ملے گا گویا آسمانی بیت المال میں اس کے نام پر جمع کردیا گیا،- یہ ہیں خدمت عامہ اور امداد باہمی کے وہ اصول جن کی ذمہ داری اسلامی معاشرہ کے ہر فرد پر عائد کی گئی ہے کاش مسلمان اپنے دین کو سمجھیں اور اس پر عمل کرنے لگیں تو دنیا کی آنکھیں کھل جائیں کہ حکومت کے بڑے بڑے محکمے کروڑوں روپیہ کے خرچ سے جو کام انجام نہیں دے سکتے وہ اس آسانی کے …

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.