الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْمُبِينِ
الٓرا۔ یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
خلاصہ تفسیر :- الرٰ اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک واضح کتاب کی (جس کے الفاظ اور معانی اولیہ بہت صاف ہیں) ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم (اہل زبان ہونے کی وجہ سے دوسروں سے پہلے) سمجھو (پھر تمہارے واسطے سے دوسرے لوگ سمجھیں) ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پہلے آپ (اس قصہ سے) بالکل بیخبر تھے (کیونکہ نہ آپ نے کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی معلم سے کچھ سیکھا تھا اور قصہ کی شہرت بھی ایسی نہیں تھی کہ عوام جانتے ہوں آغاز قصہ) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد (یعقوب علیہ السلام) سے کہا کہ ابا میں نے (خواب میں) گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں ان کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے انہوں نے (جواب میں) فرمایا کہ بیٹا اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا (کیونکہ وہ خاندان نبوت میں سے ہونے کی وجہ سے اس خواب کی تعبیر جانتے ہیں کہ گیارہ ستارے گیارہ بھائی اور سورج والد اور چاند ماں ہے اور سجدہ کرنے سے مراد ان سب کا تمہارے لئے مطیع و فرمانبردار ہونا ہے) تو وہ تمہارے (ایذاء رسانی کے) لئے کوئی خاص تدبیر کریں گے (یعنی بھائیوں میں سے اکثر کیونکہ دس بھائی علاتی تھے ان سے خطرہ تھا صرف ایک بھائی حقیقی بنیامین تھے جن سے کسی خلاف کا تو اندیشہ نہ تھا مگر یہ احتمال تھا کہ انکے منہ سے بات نکل جائے) بلاشبہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے (اس لئے بھائیوں کے دل میں وسوسے ڈالے گا) اور (جس طرح اللہ تعالیٰ تم کو یہ عزت دے گا کہ سب تمہارے تابع ومطیع ہوں گے) اس طرح تمہارا رب تم کو (دوسری عزت نبوت کیلئے بھی) منتخب کرے گا اور تم کو خوابوں کی تعبیر دے گا اور (دوسری نعمتیں دے کر بھی) تم پر اور اولاد یعقوب پر اپنا انعام کامل کرے گا جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے دادا ابراہیم واسحاق (علیہما السلام) پر اپنا انعام کامل کرچکا ہے واقعی تمہارا رب بڑا علم والا بڑی حکمت والا ہے - معارف و مسائل :- سورة یوسف چار آیتوں کے سوا پوری مکی سورة ہے اس سورة میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ تسلسل اور ترتیب کے ساتھ بیان ہوا ہے اور یہ قصہ صرف اسی سورة میں آیا ہے پورے قرآن میں دوبارہ اس کا کہیں ذکر نہیں یہ خصوصیت صرف قصہ یوسف (علیہ السلام) ہی کی ہی ورنہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کے قصص و واقعات پورے قرآن میں خاص حکمت کے تحت اجزاء اجزاء کر کے لائے گئے ہیں اور بار بار لائے گئے،- حقیقت یہ ہے کہ تاریخ عالم اور ماضی کے تجربات میں انسان کی آئندہ زندگی کے لئے بڑے سبق ہوتے ہیں جن کی قدرتی تاثیر کا رنگ انسان کے قلب و دماغ پر عام تعلیمات سے بہت زیادہ گہرا اور بےمحنت ہوتا ہے اسی لئے قرآن کریم جو تمام اقوام عالم کے لئے آخری ہدایت نامہ کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے اس میں پوری اقوام عالم کی تاریخ کا وہ منتخب حصہ لے لیا گیا ہے جو انسان کے حال اور مال کی اصلاح کے لئے نسخہ کیمیا ہے مگر قرآن کریم نے تاریخ عالم کے اس حصہ کو بھی اپنے مخصوص وبے مثال انداز میں اس طرح لیا ہے کہ اس کا پڑھنے والا یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ کہ کوئی تاریخ کی کتاب ہے بلکہ ہر مقام پر جس قصہ کا کوئی ٹکڑا عبرت وموعظت کیلئے ضروری سمجھا گیا صرف اتنا ہی حصہ وہاں بیان کیا گیا اور پھر کسی دوسرے موقع پر اس حصہ کی ضرورت سمجھی گئی تو پھر اس کا اعادہ کردیا گیا اسی لئے ان قصوں کے بیان میں واقعاتی ترتیب کی رعایت نہیں کی گئی بعض جگہ قصہ کا ابتدائی حصہ بعد میں اور آخری حصہ پہلے ذکر کردیا گیا ہے اس خاص اسلوب قرآنی میں یہ مستقل ہدایت ہے کہ دنیا کی تاریخ اور اس کے گذشتہ واقعات کا پڑھنا یادرکھنا خود کوئی مقصد نہیں بلکہ انسان کا مقصد ہر قصہ وخبر سے کوئی عبرت و نصیحت حاصل کرنا ہونا چاہئے،- اسی لئے بعض اہل تحقیق نے فرمایا کہ …