Muslim99Muslim99
← Tafsir library

11. Hud

Hud · Meccan · 123 ayahs

سُورَةُ هُودٍ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 123

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ كِتَٰبٌ أُحْكِمَتْ ءَايَٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ

الٓرا۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کردی گئی ہے

خلاصہ تفسیر - الۗر ( کے معنی تو اللہ کو معلوم) یہ ( قرآن) ایک ایسی کتاب ہے کہ اس کی آیتیں ( دلائل سے) محکم کی گئی ہیں پھر ( اس کے ساتھ) صاف صاف ( بھی) بیان کی گئی ہیں ( اور وہ کتاب ایسی ہے کہ) ایک حکیم باخبر ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے ( آئی ہے جس کا بڑا مقصد) یہ ( ہے) کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ( ایمان نہ لانے پر عذاب سے) ڈرانے والا اور (ایمان لانے پر ثواب کی) بشارت دینے والا ہوں اور ( اس کتاب کے مقاصد میں سے) یہ ( بھی ہے) کہ تم لوگ اپنے گناہ ( شرک و کفر وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراؤ یعنی ایمان لاؤ اور) پھر ( ایمان لا کر) اس کی طرف ( عبادت سے) متوجہ رہو ( یعنی عمل صالح کرو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے) وہ تم کو وقت مقررہ ( یعنی وقت موت) تک (دنیا میں) خوش عیشی دے گا اور (آخرت میں) ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا ( یہ کہنا بھی بمنزلہ بشیر کے کہنے کے ہے) اور اگر ( ایمان لانے سے) تم لوگ اعراض ( ہی) کرتے رہے تو مجھ کو ( اس صورت میں) تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ( یہ کہنا بمنزلہ نذیر کے کہنے کے ہے، اور عذاب کو مستبعد مت سمجھو کیونکہ) تم ( سب) کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اور وہ ہر شئے پر پوری قدرت رکھتا ہے ( پھر استبعاد کی کوئی وجہ نہیں البتہ اگر وہاں تمہاری حاضری نہ ہوتی یا نعوذ باللہ اس کو قدرت نہ ہوتی تو عذاب واقع نہ ہوتا پس ایسی ایسی حالت میں ایمان اور توحید سے اعراض نہ کرنا چاہئے، آگے علم الہٰی کا اثبات ہے، اور ایسا علم وقدرت دونوں دلیل توحید ہیں) یاد رکھو وہ لوگ دوہرا کئے دیتے ہیں اپنے سینوں کو ( اور اوپر سے کپڑا لپیٹ لیتے ہیں) تاکہ اپنی باتیں خدا سے چھپا سکیں ( یعنی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف میں جو باتیں کرتے ہیں تو اس ہیئت سے کرتے ہیں تاکہ کسی کو خبر نہ ہوجاوے اور جس کو اعقاد ہوگا کہ خدا کو ضرور خبر ہوتی ہے اور آپ کا صاحب وحی ہونا دلائل سے ثابت ہے، پس وہ اخفاء کی ایسی تدبیر کبھی نہ کرے گا کیونکہ ایسی تدبیر کرنا گویا بدلالت حال اللہ سے پوشیدہ رہنے کی کوشش کرنا ہے سو) یاد رکھو کہ وہ لوگ جس وقت ( دوہرے ہوکر) اپنے کپڑے ( اپنے اوپر) لپیٹتے ہیں وہ اس وقت بھی سب جانتا ہے جو کچھ چپکے باتیں کرتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر باتیں کرتے ہیں ( کیونکہ) بالیقین وہ ( تو) دلوں کے اندر کی باتیں جانتا ہے ( تو زبان سے کہی ہوئی تو کیوں نہ جانے گا ) ۔- معارف و مسائل - سورة ہود ان سورتوں میں سے ہے جن میں پچھلی قوموں پر نازل ہونے والے قہر الہٰی اور مختلف قسم کے عذابوں کا اور پھر قیامت کے ہولناک واقعات اور جزاء و سزا کا ذکر خاص انداز میں آیا ہے۔- یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ریش مبارک میں کچھ بال سفید ہوگئے تو حضرت صدیق اکبر نے بطور اظہار رنج کے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ بوڑھے ہوگئے، تو آپ نے فرمایا کہ ہاں مجھے سورة ھود نے بوڑھا کردیا، اور بعض روایات میں سورة ہود کے ساتھ سورة واقعہ اور مرسلات اور عم یتساءلون اور سورة تکویر کا بھی ذکر ہے۔ (رواہ الحاکم والترمذی) مطلب یہ تھا کہ ان واقعات کے خوف و دہشت کی وجہ سے بڑھاپے کے آثار ظاہر ہوگئے) اس کی پہلی آیت کو الر سے شروع کیا گیا ہے، یہ ان حروف میں سے ہیں جن کی مراد اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان راز ہے دوسروں کو اس پر مطلع نہیں کیا گیا، ان کو اس کی فکر میں پڑنے سے بھی روکا گیا ہے۔- اس کے بعد قرآن مجید کے متعلق فرمایا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات کو محکم بنایا گیا ہے، لفظ محکم احکام سے بنا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کلام کو ایسا درست کیا جائے جس میں کسی لفظی اور معنوی غلطی یا فساد کا احتمال نہ رہے، اس بناء پر آیات کے محکم بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ حق تعالیٰ نے ان آیات کو ایسا بنایا ہے کہ ان میں میں کسی لفظی غلطی یا معنوی …

2

أَلَّا تَعْبُدُوٓا۟ إِلَّا ٱللَّهَ ۚ إِنَّنِى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ وَبَشِيرٌۭ

(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں

دوسری آیت میں متذکرہ آیات کا بیان ایک سب سے اہم اور مقدم چیز سے شروع ہوتا ہے یعنی حق تعالیٰ کی توحید، ارشاد ہوتا ہے (آیت) اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ یعنی ان آیات میں جو مضامین بیان کئے گئے ہیں ان میں سب سے اہم اور مقدم یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت اور پرستش نہ کی جائے۔- اس کے بعد ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ، یعنی ان آیات میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم فرمایا ہے کہ وہ سارے جہاں کے لوگوں سے کہہ دیں کہ میں اللہ کی طرف سے تم کو ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں، مراد یہ ہے کہ نافرمانی اور اپنی ناجائز خواہشات کا اتباع کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور اطاعت شعار نیک لوگوں کو آخرت کی نعمتوں اور دونوں عالم کی راحتوں کی خوشخبری دیتا ہوں۔- نذیر کا ترجمہ ڈرانے والے کا کیا جاتا ہے لیکن یہ لفظ ڈرانے والے دشمن یا درندے یا دوسرے نقصان پہنچانے والوں کے لئے نہیں بولا جاتا، بلکہ نذیر اس شخص کے لئے جو اس کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی اپنے عزیز کو شفقت و محبت کی بناء پر ایسی چیزوں سے ڈرائے اور بچائے جو اس کے لئے دنیا یا آخرت یا دونوں میں مضرت پہنچانے والی ہیں۔

3

وَأَنِ ٱسْتَغْفِرُوا۟ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوٓا۟ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَٰعًا حَسَنًا إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ مُّسَمًّۭى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍۢ فَضْلَهُۥ ۖ وَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنِّىٓ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍۢ كَبِيرٍ

اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو وہ تو تم کو ایک وقت مقررہ تک متاع نیک سے بہرہ مند کرے گا اور ہر صاحب بزرگ کو اس کی بزرگی (کی داد) دے گا۔ اور اگر روگردانی کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں (قیامت کے) بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

تیسری آیت میں آیات قرآنی کی ہدایات میں سے ایک دوسری ہدایت کا بیان اس طرح فرمایا ہے (آیت) وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ، یعنی ان آیات محکمات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ بھی ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اپنے رب سے مغفرت اور معافی مانگا کریں اور توبہ کیا کریں، مغفرت کا تعلق پچھلے گناہوں سے ہے اور توبہ کا تعلق آئندہ ان کے پاس نہ جانے کے عہد سے ہے، اور درحقیقت صحیح توبہ یہی ہے کہ پچھلے گناہوں پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے ان کی معافی طلب کرے اور آئندہ ان کے نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرے، اسی لئے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ آئندہ کو گناہ سے بچنے کا پختہ عزم اور اہتمام کئے بغیر محض زبان سے استغفار کرنا کذابین یعنی جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے، ( قرطبی) اور ایسے ہی استغفار کے متعلق بھی بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ :- معصیت را خندہ می آیدز استغفار ما - یا یہ کہ ایسی توبہ خود قابل توبہ ہے۔- اس کے بعد صحیح طور پر استغفار و توبہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی فلاح اور عیش و راحت کی خوشخبری اس طرح دی گئی ہے، (آیت) يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى، یعنی جن لوگوں نے صحیح طور پر اپنے پچھلے گناہوں سے استغفار کیا اور آئندہ ان سے بچنے کا پختہ عزم اور پورا اہمتام کیا تو صرف یہی نہیں کہ ان کی خطا بخش دی جائے گی بلکہ ان کو اچھی زندگی عطا کی جائے گی، اور ظاہر یہ ہے کہ یہ زندگی عام ہے دنیا کی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی دونوں کو شامل ہے، جیسے ایک دوسری آیت میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ارشاد ہوا ہے (آیت) لَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً یعنی ہم ضرور ان کو پاکیزہ زندگی عطا کریں گے، اس آیت کے متعلق بھی جمہور مفسرین کی تحقیق یہی ہے کہ دنیا و آخرت کی دونوں زندگیاں اس میں شامل ہیں، سورة نوح میں اس کی تصریح بھی اس طرح آگئی ہے کہ استغفار کرنے والوں کے متعلق یہ فرمایا ہے (آیت) يُّرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا، وَّيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّيَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا، یعنی اگر تم نے صحیح طور سے اللہ سے مغفرت مانگی تو اللہ تعالیٰ تم پر باران رحمت نازل فرمائے گا اور تم کو مال و اولاد سے بامراد کرے گا اور تمہارے لئے باغات اور نہریں عطا فرمائے گا، ظاہر ہے کہ باران رحمت اور مال و اولاد کا تعلق اسی حیات دنیا سے ہے۔- اسی لئے آیت مذکور میں متاع حسن کی تفسیر بھی اکثر مفسرین نے یہ کی ہے کہ استغفار و توبہ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تم کو رزق کی وسعت اور عیش کی سہولتیں عطا فرمائے گا اور آفتوں اور عذابوں سے تمہاری حفاظت کرے گا، اور چونکہ حیات دنیا کا ایک روز ختم ہوجانا لازمی ہے اور اس کی عیش و راحت قانون قدرت کے تحت دائمی نہیں ہوسکتی، اس لئے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فرما کر ہدایت کردی کہ دنیا میں پاکیزہ زندگی اور عیش کی سہولتیں ایک خاص میعاد یعنی موت تک حاصل رہیں گی، آخرکار موت ان سب چیزوں کا خاتمہ کردے گی۔- مگر اس موت کے فوراً بعد ہی دوسرے عالم کی زندگی شروع ہوجائے گی اور اس میں بھی توبہ و استغفار کرنے والوں کے لئے دائمی راحتیں میسر ہوں گی۔- اور حضرت سہل بن عبداللہ نے فرمایا کہ متاع حسن سے مراد یہ ہے کہ انسان کی توجہ مخلوق سے ہٹ کر خالق پر جم جائے، اور بعض بزرگوں نے فرمایا کہ متاع حسن یہ ہے کہ انسان موجود پر قناعت کرے، مفقود کے غم میں نہ پڑے یعنی دنیا جس قدر میسر ہو اس پر مطمئن ہوجائے جو حاصل نہیں اس کے غم میں نہ پڑے۔- دوسری خوشخبری توبہ و استغفار کرنے والوں کو یہ دی گئی کہ (آیت) وَّيُؤ ْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ، اس میں پہلے فضل سے مراد انسان کا عمل صالح اور دوسری فضل سے فضل خداوندی یعنی جنت ہے، مطلب یہ ہے کہ ہر نیک عمل والے کو اللہ تعالیٰ اپنا فضل یعنی جنت عطا فرماویں گے۔- پہلے …

4

إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ

تم (سب) کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

پانچویں آیت میں اسی مضمون کی مزید تا کید فرمائی گئی ہے کہ دنیا میں تم کچھ بھی کرو اور کسی طرح بھی بسر کرو مگر انجام کار مرنے کے بعد تمہیں خدا تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد تمہارے سب ذرات کو جمع کر کے تم کو ازسرنو انسان بنا کر کھڑا کردے۔

5

أَلَآ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا۟ مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ۚ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

دیکھو یہ اپنے سینوں کو دوھرا کرتے ہیں تاکہ خدا سے پردہ کریں۔ سن رکھو جس وقت یہ کپڑوں میں لپٹ کر پڑتے ہیں (تب بھی) وہ ان کی چھپی اور کھلی باتوں کو جانتا ہے۔ وہ تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے

چھٹی آیت میں منافقین کے ایک گمان بد اور خیال فاسد کی تردید ہے کہ یہ لوگ اپنی عداوت اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کو اپنے نزدیک خوب چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے سینوں میں جو حسد و بغض کی آگ بھری ہوئی ہے اس پر ہر طرح کے پردے ڈالتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ اس طرح ہمارا اصل حال کسی کو معلوم نہ ہوگا، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کپڑوں کی تہ میں پردوں کے پیچھے جو کچھ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ پر سب کچھ روشن ہے اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ ، کیونکہ وہ تو دلوں کے پوشیدہ اسرار کو بھی خوب جانتے ہیں۔

6

۞ وَمَا مِن دَآبَّةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا عَلَى ٱللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ۚ كُلٌّۭ فِى كِتَٰبٍۢ مُّبِينٍۢ

اور زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر اس کا رزق خدا کے ذمے ہے وہ جہاں رہتا ہے، اسے بھی جانتا ہے اور جہاں سونپا جاتا ہے اسے بھی۔ یہ سب کچھ کتاب روشن میں (لکھا ہوا) ہے

خلاصہ تفسیر - اور کوئی ( رزق کھانے والا) جاندار روئے زمین پر چلنے والا ایسا نہیں کہ اس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو ( اور رزق رسانی کے لئے علم کی ضرورت ہوتی ہے سو) وہ ہر ایک کی زیادہ رہنے کی جگہ کو اور چند روز رہنے کی جگہ کو جانتا ہے ( اور ہر ایک کو وہاں ہی رزق پہنچاتا ہے، اور گو سب چیزیں علم الہٰی میں تو ہیں ہی مگر اس کے ساتھ ہی) سب چیزیں کتاب مبین ( یعنی لوح محفوظ) میں ( بھی منضبط و مندرج) میں ( عرض واقعات ہر طرح محفوظ ہیں، آگے تخلیق کا مع اس کی بعض حکمتوں کے بیان ہے جس سے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کی بھی تائید ہوتی ہے، کیونکہ ابتدائی تخلیق دلیل ہے اس پر کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے) اور وہ ( اللہ) ایسا ہے کہ سب آسمان اور زمین کو چھ دن ( کی مقدار) میں پیدا کیا اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا ( کہ یہ دونوں چیزیں پہلے سے پیدا ہوچکی تھیں اور یہ پیدا کرنا اس لئے ہے) تاکہ تم کو آزماوے کہ ( دیکھیں) تم میں اچھا عمل کرنے والا کون ہے ( مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کو پیدا کیا، تمہارے حوائج و منافع اس میں پیدا کئے تاکہ تم ان کو دیکھ کر توحید پر استدلال کرو اور ان سے منتفع ہو کر منعم کا شکر اور خدمت کہ عبادت ہے عمل صالح سے، بجا لاؤ سو بعض نے ایسا کیا، بعض نے نہ کیا) اور اگر آپ ( لوگوں سے) کہتے ہیں کہ یقینا تم لوگ مرنے کے بعد ( قیامت کے روز دوبارہ) زندہ کئے جاؤ گے تو ( ان میں) جو لوگ کافر ہیں وہ ( قرآن کی نسبت) کہتے ہیں کہ یہ تو نرا صاف جادو ہے (جادو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ باطل ہوتا ہے مگر مؤ ثر، اسی طرح قرآن کو نعوذ باللہ باطل سمجھتے تھے لیکن اس کے مضامین کا مؤ ثر ہونا بھی مشاہدہ کرتے تھے، اس مجموعہ پر یہ حکم کیا، نعوذ باللہ منہ۔ مقصود اس سے آخرت کا انکار تھا، آگے ان کے منشاء انکار کا جواب ارشاد ہے) اور اگر تھوڑے دنوں تک ( مراد دنیوی زندگی ہے) ہم ان سے عذاب ( موعود) کو ملتوی رکھتے ہیں ( کہ اس میں حکمتیں ہیں) تو ( بطور انکار و استہزاء کے) کہنے لگتے ہیں کہ ( جب ہم تمہارے نزدیک مستحق عذاب ہیں تو) اس عذاب کو کون چیز روک رہی ہے ( یعنی اگر عذاب کوئی چیز ہوتی تو اب تک ہوچکتا جب نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ کچھ بھی نہیں، حق تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ) یاد رکھو جس دن ( وقت موعود پر) وہ ( عذاب) ان پر آپڑے گا تو پھر کسی کے ٹالے نہ ٹلے گا اور جس ( عذاب) کے ساتھ یہ استہزاء کر رہے تھے وہ ان کو آگھیرے گا ( مطلب یہ کہ باوجود استحقاق کے یہ تاخیر اس لئے ہے کہ بعض حکمتوں سے اس کا وقت معین ہے پھر اس وقت ساری کسر نکل جاوے گی ) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیت میں حق تعالیٰ کے علم محیط کا ذکر تھا جس سے کائنات کا کوئی ذرہ اور دلوں کے چھپے ہوئے راز بھی مخفی نہیں، آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس مناسبت سے انسان پر ایک عظیم الشان احسان کا ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ کہ اس کے رزق کی کفالت حق تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لے لی اور نہ صرف انسان کی بلکہ زمین پر چلنے والے ہر جاندار کی، وہ جہاں کہیں رہتا ہے یا چلا جاتا ہے اس کی روزی اس کے پاس پہنچتی ہے، تو کفار کے یہ ارادے کہ اپنے کسی کام کو اللہ تعالیٰ سے چھپا لیں جہالت اور بےوقوفی کے سوا کچھ نہیں، پھر اس کے عموم میں جنگل کے تمام درندے، پرندے اور حشرات الارض، دریا اور خشکی کے تمام جانور داخل ہیں اس عموم کی تاکید کے لئے لفظ من کا اضافہ کرکے وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فرمایا ہے دابہ ہر اس جانور کو کہتے ہیں جو زمین پر چلے، پرندے جانور بھی اس میں داخل ہیں کیونکہ ان کا آشیانہ بھی کہیں زمین ہی پر ہوتا ہے، دریائی جانوروں کا بھی تعلق زمین سے ہونا کچھ مخفی نہیں، ان سب جانداروں کے رزق کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے کر ایسے الفاظ سے اس کو بیان کیا ہے جیسے کوئی فریضہ کسی کے ذمہ ہو، ارشاد فرمایا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا یعنی اللہ کے ذمہ ہے اس کا رزق، یہ ظاہر ہے کہ …

7

وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ وَكَانَ عَرْشُهُۥ عَلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِنۢ بَعْدِ ٱلْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی پر تھا۔ (تمہارے پیدا کرنے سے) مقصود یہ ہے کہ وہ تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے لحاظ سے کون بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ تم لوگ مرنے کے بعد (زندہ کرکے) اٹھائے جاؤ گے تو کافر کہہ دیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے

دوسری آیت میں حق تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت قاہرہ کا ایک اور مظہر ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے تمام آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا اور ان چیزوں کے پیدا کرنے سے پہلے عرش رحمن پانی پر تھا۔- اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پیدا کیا گیا ہے اور آسمان و زمین کو چھ دن میں پیدا کرنے کی تفصیل سورة حم سجدہ کی آیت (١١، ١٠) میں اس طرح آئی ہے کہ دو دن میں زمین بنائی گئی دو دن میں زمین کے پہاڑ، دریا، درخت اور جانداروں کی غذا وبقاء کا سامان بنایا گیا، دو دن میں سات آسمان بنائے گئے۔- تفسیر مظہری میں ہے کہ آسمان سے مراد وہ تمام علویات ہیں جو اوپر کی سمت میں ہیں اور زمین سے مراد تمام سفلیات ہیں جو نیچے کی جہت میں ہیں، اور دن سے مراد وہ مقدار وقت ہے جو آسمان زمین کی پیدائش کے بعد آفتاب کے طلوع سے غروب تک ہوتا ہے اگرچہ آسمان زمین کی پیدائش کے وقت نہ آفتاب تھا نہ اس کا طلوع و غروب۔- حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ میں یہ بھی تھا کہ ان تمام چیزوں کو ایک آن میں پیدا فرما دیں مگر اس نے اپنی حکمت سے اس عالم کے نظام کو تدریجی بنایا ہے جو انسان کے مزاج کے مناسب ہے۔- آخر آیت میں آسمان و زمین کے پیدا کرنے کا مقصد یہ بتلایا ہے (آیت) لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا، یعنی یہ سب چیزیں اس لئے پیدا کی گئیں کہ ہم تمہارا امتحان لیں کہ کون تم میں سے اچھا عمل کرنے والا ہے۔- اس سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین کا پیدا کرنا خود کوئی مقصد نہ تھا بلکہ ان کو عمل کرنے والے انسانوں کے لئے بنایا گیا ہے تاکہ وہ ان چیزوں سے اپنے معاش کا فائدہ بھی حاصل کریں اور ان میں غور کرکے اپنے مالک اور رب کو بھی پہچانیں۔- حاصل یہ ہوا کہ آسمان و زمین کی پیدائش سے اصل مقصود انسان ہے بلکہ انسان میں بھی اہل ایمان ہیں اور ان میں بھی وہ انسان جو سب سے اچھا عمل کرنے والا ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ سارے بنی آدم میں سب سے اچھا عمل کرنے والے ہمارے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، اس لئے یہ کہنا صحیح ہوا کہ تمام کائنات کے پیدا کرنے کا اصل مقصد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وجود باجود ہے۔ ( مظہری ) ۔- یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حق تعالیٰ نے اس جگہ اَحْسَنُ عَمَلًا فرمایا ہے، یعنی کون اچھا عمل کرنے والا ہے، یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ عمل کرنے والا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اعمال صالح نماز، روزہ، تلاوت و ذکر کی عملی کثرت اور بہت بڑی مقدار سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نظر حسن عمل پر ہے، اسی حسن عمل کو ایک حدیث میں احسان سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ عمل خالص اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے ہو اور کوئی دنیوی غرض اس میں نہ ہو اور اس عمل کی صورت بھی وہ اختیار کی جائے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہے، جس کو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے عمل سے بتلایا اور امت کے لئے اتباع سنت کو لازم قرار دیا، خلاصہ یہ ہے کہ تھوڑا عمل جو پورے اخلاص کے ساتھ سنت کے مطابق ہو وہ اس زیادہ عمل سے بہتر جس میں یہ چیزیں نہ ہوں یا کم ہوں۔

8

وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ ٱلْعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٍۢ مَّعْدُودَةٍۢ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُۥٓ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ

اور اگر ایک مدت معین تک ہم ان سے عذاب روک دیں تو کہیں گے کہ کون سی چیز عذاب روکے ہوئے ہے۔ دیکھو جس روز وہ ان پر واقع ہوگا (پھر) ٹلنے کا نہیں اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی

ساتویں آیت میں منکرین قیامت و آخرت کا حال بیان ہوا ہے کہ یہ لوگ جو بات ان کی سمجھ میں نہ آئے اس کو جادو کہہ کر ٹال دینا چاہتے ہیں۔- آٹھویں آیت میں ان لوگوں کے شبہ کا جواب ہے جو عذاب کی وعیدوں پر انبیاء (علیہم السلام) کا اعتبار نہ کرکے کہا کرتے تھے کہ اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کی وعید تھی وہ کیوں نہیں آجاتا۔

9

وَلَئِنْ أَذَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ مِنَّا رَحْمَةًۭ ثُمَّ نَزَعْنَٰهَا مِنْهُ إِنَّهُۥ لَيَـُٔوسٌۭ كَفُورٌۭ

اور اگر ہم انسان کو اپنے پاس سے نعمت بخشیں پھر اس سے اس کو چھین لیں تو ناامید (اور) ناشکرا (ہوجاتا) ہے

خلاصہ تفسیر - اور اگر ہم انسان کو اپنی مہربانی کا مزا چکھا کر اس سے چھین لیتے، ہیں تو وہ ناامید اور ناشکرا ہوجاتا ہے اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو کہ اس پر واقع ہوئی ہو کسی نعمت کا مزا چکھاویں تو ( ایسا اتراتا ہے کہ) کہنے لگتا ہے کہ میرا سب دکھ درد رخصت ہوا ( اب کبھی نہ ہوگا پس) وہ اترانے لگتا ہے شیخی بگھارنے لگتا ہے مگر جو لوگ مستقل مزاج ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ( مراد اس سے مؤمنین ہیں کہ ان میں کم وبیش یہ خصائل ہوتے ہیں سو) وہ ایسے نہیں ہوتے ( بلکہ زوال نعمت کے وقت صبر سے کام لیتے ہیں اور عطاء نعمت کے وقت شکر و اطاعت بجا لاتے ہیں پس) ایسے لوگوں کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجر ہے ( خلاصہ یہ ہے کہ بجز مؤمنین کے اکثر آدمی ایسے ہی ہیں کہ ذرا سی دیر میں نڈر ہوجاویں ذرا سی دیر میں ناامید ہوجاویں اس لئے یہ لوگ تاخیر عذاب کے سبب بےخوف اور منکر ہوگئے، یہ لوگ جو انکار و استہزاء سے پیش آتے ہیں) سو شاید آپ ( تنگ ہوکر) ان احکام میں سے جو کہ آپ کے پاس وحی کے ذریعہ بھیجے جاتے ہیں بعض کو ( یعنی تبلیغ کو) چھوڑ دینا چاہتے ہیں ( یعنی کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ تبلیغ ترک کردیں سو ظاہر ہے کہ ایسا ارادہ تو آپ کر نہیں سکتے پھر تنگ ہونے سے کیا فائدہ) اور آپ کا دل اس بات سے تنگ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ( اگر یہ نبی ہیں تو) ان پر کوئی خرانہ کیوں نہیں نازل ہوا یا ان کے ہمراہ کوئی فرشتہ ( جو ہم سے بھی بولتا چالتا) کیوں نہیں آیا ( یعنی ایسے معجزات کیوں نہیں دیئے گئے سو ایسی باتوں سے آپ تنگ نہ ہوجئے کیونکہ) آپ تو ( ان کفار کے اعتبار سے) صرف ڈرانے والے ہیں ( یعنی پیغمبر ہیں جس کے لئے دراصل کسی بھی معجزے کی ضرورت نہیں) اور پورا اختیار رکھنے والا ہر شئے پر ( تو) صرف اللہ ہی ہے ( آپ نہیں ہیں، جب یہ بات ہے تو ان معجزات کا ظاہر کرنا آپ کے اختیار سے باہر ہے پھر اس کی فکر اور اس فکر سے تنگی کیوں ہو اور چونکہ پیغمبر کے لئے مطلق معجزہ کی ضرورت ہے اور آپ کا بڑا معجزہ قرآن ہے تو اس کو نہ ماننے کی کیا وجہ) کیا ( اس کی نسبت) یوں کہتے ہیں کہ ( نعوذ باللہ) آپ نے اس کو ( اپنی طرف سے) خود بنا لیا ہے، آپ جواب میں فرما دیجئے کہ ( اگر یہ میرا بنایا ہوا ہے) تو ( اچھا) تم بھی اس جیسی دس سورتیں (جو تمہاری) بنائی ہوئی ( ہوں) لے آؤ اور ( اپنی مدد کے لئے) جن جن غیر اللہ کو بلا سکو بلا لو اگر تم سچے ہو پھر یہ کفار اگر تم لوگوں کا ( یعنی پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مؤمنین کا یہ) کہنا ( کہ اس کی مثل بنا لاؤ نہ کرسکیں تو تم ( ان سے کہہ دو کہ اب تو) یقین کرلو کہ یہ قرآن اللہ ہی کے علم ( اور قدرت) سے اترا ہے ( اس میں اور کسی کے نہ علم کا دخل ہے اور نہ قدرت کا) اور یہ ( بھی یقین کرلو) کہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہیں ( کیونکہ معبود خدائی کی صفات میں کامل ہوتا ہے پھر اگر اور کوئی ہوتا تو اس کو قدرت بھی پوری ہوتی اور اس قدرت سے وہ تم لوگوں کی مدد کرتا کہ تم اس کی مثل لے آتے کیونکہ موقع تحقیق دین کا اس کو مقتضی تھا پس اس کے مثل بنانے سے ان کے عاجز ہونے سے رسالت اور توحید دونوں ثابت ہوگئے جب دونوں ثابت ہوگئے) تو اب بھی مسلمان ہوتے ہو ( یا نہیں ) ۔- معارف و مسائل - آیات مذکورہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی تصدیق اور اس میں شبہات نکالنے والوں کا جواب مذکور ہے، اور اس کے شروع یعنی پہلی تین آیتوں میں انسان کی ایک طبعی عادت قبیحہ کا ذکر اور مسلمانوں کو اس سے بچنے کی ہدایت ہے۔- پہلی دو آیتوں میں فطری طور پر انسان کا غیر مستقل مزاج، جلدی پسند ہونا اور موجودہ حالت میں کھپ کر ماضی و مستقبل کو بھلا دینا بیان فرمایا ہے، ارشاد ہے کہ اگر ہم انسان کو کوئی نعمت چکھاتے ہیں اور پھر اس سے واپس لے لیتے ہیں تو وہ بڑا ہمت ہار، ناامید اور ناشکرا بن جاتا ہے، اور اگر اس کو کسی تکلیف کے بعد جو …

10

وَلَئِنْ أَذَقْنَٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ ٱلسَّيِّـَٔاتُ عَنِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ لَفَرِحٌۭ فَخُورٌ

اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد آسائش کا مزہ چکھائیں تو (خوش ہو کر) کہتا ہے کہ (آہا) سب سختیاں مجھ سے دور ہوگئیں۔ بےشک وہ خوشیاں منانے والا (اور) فخر کرنے والا ہے

Explained together with ayah 9

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.