Muslim99Muslim99
← Tafsir library

10. Yunus

Jonas · Meccan · 109 ayahs

سُورَةُ يُونُسَ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 1–10 of 109

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

الٓر ۚ تِلْكَ ءَايَٰتُ ٱلْكِتَٰبِ ٱلْحَكِيمِ

آلرا ۔ یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں

خلاصہ تفسیر - ( الر کا مطلب تو اللہ کو معلوم ہے) یہ ( جو آگے آتی ہیں) پر حکمت کتاب ( یعنی قرآن) کی آیتیں ہیں ( جو بوجہ حق ہونے کے قابل جاننے کے اور ماننے کے ہیں اور چونکہ جن پر اس کا نزول ہوا ہے ان کی نبوت کا کفار انکار کرتے تھے اس لئے جواب فرماتے ہیں کہ (کیا ان مکہ کے) لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس ( جو کہ مثل ان کے بشر ہے) وحی بھیج دی ( جس کا خلاصہ یہ ہے) کہ ( عام طور پر) سب آدمیوں کو ( احکام خداوندی کے خلاف کرنے پر) ڈرایئے اور جو ایمان لے آئے ان کو یہ خوشخبری سنایئے کہ ان کے رب کے پاس ( پہنچ کر) ان کو پورا مرتبہ ملے گا ( یعنی اگر ایسا مضمون کسی بشر پر وحی کے ذریعہ سے نازل ہوجاوے تو کوئی تعجب کی وجہ نہیں مگر) کافر ( اس قدر متعجب ہوئے کہ آپ کی نسبت کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) یہ شخص تو بلاشبہ صریح جادوگر ہے (نبی نہیں ہے کیونکہ نبوت بشر کے لئے نہیں ہوسکتی) بلاشبہ تمہارا رب ( حقیقی) اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ روز ( کی مقدار) میں پیدا کردیا ( پس اعلی درجہ کا قادر ہے) پھر عرش پر ( جو مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم ( اور جلوہ فرما) ہوا ( کہ جو اس کی شان کے لائق ہے تاکہ عرش سے زمین و آسمان میں احکام جاری فرمائے، جیسا آگے ارشاد ہے کہ) وہ ہر کام کی ( مناسب) تدبیر کرتا ہے، ( پس حکیم بھی ہے، اس کے سامنے) کوئی سفارش کرنے والا ( سفارش) نہیں ( کرسکتا ہے) بدون اس کی اجازت کے ( پس عظیم بھی ہوا، پس) ایسا اللہ تمہارا رب ( حقیقی) ہے سو تم اس کی عبادت کرو ( اور شرک مت کرو) کیا تم ( ان دلائل کے سننے کے بعد) پھر بھی نہیں سمجھتے، تم سب کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے اللہ نے ( اس کا) سچا وعدہ کر رکھا ہے، بیشک وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی (قیامت کو) پیدا کرے گا تاکہ ایسے لوگوں کو جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے انصاف کے ساتھ ( پوری پوری) جزا دے ( اور اس میں ذرا کمی نہ کرے بلکہ بہت کچھ زیادہ دے دے) اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے واسطے ( آخرت میں) کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا، اور دردناک عذاب ہوگا ان کے کفر کی وجہ سے۔- معارف و مسائل - سورة یونس مکی سورتوں میں سے ہے، بعض حضرات نے اس کی صرف تین آیتوں کو مدنی کہا ہے جو ہجرت مدینہ کے بعد نازل ہوئی ہیں۔- اس سورت میں بھی قرآن اور اسلام کے بنیادی مقاصد توحید، رسالت، آخرت وغیرہ کو کائنات عالم اور اس میں ہونے والے تغیرات و مشاہدات سے استدلال کرکے ذہن نشین کیا گیا ہے، اس کے ساتھ کچھ عبرت خیز تاریخی واقعات و قصص کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ان کھلی نشانیوں پر نظر نہیں کرتے اور اس کے ضمن میں شرک کا ابطال اور اس سے متعلق بعض شبہات کا جواب ارشاد ہوا ہے، یہ خلاصہ ہے مضامین سورت کا، یعنی توبہ اور اس سورت میں باہمی کیا ربط ہے، سورة توبہ میں انہی مقاصد کے لئے منکرین و کفار کے ساتھ جہاد اور کفر و شرک کی طاقت کو مادی اسباب کے ذریعہ توڑنے کا بیان تھا، اور یہ سورت چونکہ احکام جہاد کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی اس میں مذکورہ مقاصد کو مکی دور کے قانون کے مطابق صرف دلائل و براھین کے ذریعہ ثابت کیا گیا ہے۔- الر، یہ حروف مقطعہ کہلاتے ہیں جو قرآن مجید کی بہت سی سورتوں کے شروع میں آئے ہیں، الم، حم، عسق، وغیرہ ان کے معانی کی تحیقق میں مفسرین کی بحثیں طویل ہیں، صحابہ وتابعین اور جمہور سلف کی تحقیق اس قسم کے تمام حروف مقطعہ کے متعلق یہ ہے کہ یہ خاص رموز ہیں ان کے معنی غالباً رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلائے گئے ہیں مگر آپ نے عام امت کو صرف ان علوم و معارف سے آگاہ فرمایا جن کو ان کے ذہن برداشت کرسکیں اور جن کے معلوم نہ ہونے سے امت کے کاموں میں کوئی حرج واقع ہوتا ہے، حروف مقطعہ کے رموز ایسے نہیں جن پر امت کا کوئی کام موقوف …

2

أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰ رَجُلٍۢ مِّنْهُمْ أَنْ أَنذِرِ ٱلنَّاسَ وَبَشِّرِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّهِمْ ۗ قَالَ ٱلْكَٰفِرُونَ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌۭ مُّبِينٌ

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے ان ہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو۔ اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ صریح جادوگر ہے

دوسری آیت میں مشرکین کے ایک شبہ اور اعتراض کا جواب ہے، شبہ کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنی جہالت سے یہ قرار دے رکھا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رسول یا پیغمبر آئے وہ بشر یعنی انسان نہیں ہونا چاہئے بلکہ کوئی فرشتہ ہونا چاہئے، قرآن کریم نے ان کے اس لغو خیال کا جواب کئی جگہ مختلف عنوانات سے دیا ہے، ایک آیت میں ارشاد فرمایا (آیت) قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا، یعنی اگر زمین پر بسنے والے فرشتے ہوتے تو ہم ان کے لئے رسول بھی کسی فرشتہ ہی کو بناتے، جس کا حاصل یہ ہے کہ رسالت کا مقصد بغیر اس کے پورا نہیں ہوسکتا کہ جن لوگوں کی طرف کوئی رسول بھیجا جائے ان لوگوں میں اور اس رسول میں باہمی مناسبت ہو، فرشتوں کی مناسبت فرشتوں سے اور انسان کی انسان سے ہوتی ہے، جب انسانوں کے لئے رسول بھیجنا مقصد ہے تو کسی بشر ہی کو رسول بنانا چاہئے۔- اس آیت میں ایک دوسرے انداز سے اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ان لوگوں کا اس بات پر تعجب کرنا کہ بشر کو کیوں رسول بنایا گیا اور اس کو نافرمان انسانوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور فرمانبرداروں کو اس کے ثواب کی خوشخبری سنانے کا کام کیوں سپرد کیا گیا، یہ تعجب خود قابل تعجب ہے کیونکہ جنس بشر کی طرف بشر کو رسول بنا کر بھیجنا عین مقتضائے عقل ہے۔- اس آیت میں ایمان والوں کو خوشخبری ان الفاظ میں دی گئی (آیت) اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ، اس لفظ قدم کے اصلی معنی تو وہی ہیں جو اردو میں سمجھے جاتے ہیں یعنی پاؤ ں، چونکہ انسان کی سعی و عمل اور اس کے سبب ترقی کا ذریعہ قدم ہوتا ہے، اس لئے مجازا بلند مرتبہ کو قدم کہہ دیا جاتا ہے، اور لفظ قدم کی اضافت صدق کی طرف کرکے یہ بتلا دیا کہ یہ بلند مرتبہ جو ان کو ملنے والا ہے وہ حق اور یقینی بھی ہے اور قائم و باقی رہنے والا لازوال بھی، دنیا کے منصوبوں اور عہدوں کی طرح نہیں کہ کسی عمل کے نتیجہ میں اول تو ان کا حاصل ہونا ہی یقینی نہیں ہوتا اور حاصل بھی ہوجائے تو ان کا باقی رہنا یقینی نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا فانی اور زائل ہونا یقینی ہے، کبھی تو زندگی ہی میں زائل ہوجاتا ہے اور موت کے وقت تو دنیا کے ہر منصب و عہدہ اور دولت و نعمت سے انسان خالی ہاتھ ہوجاتا ہے، غرض لفظ صدق کے مفہوم میں اس کا یقینی ہونا بھی شامل ہے اور کامل مکمل لازوال ہونا بھی، اس لئے معنی جملہ کے یہ ہوئے کہ ایمان والوں کو یہ خوشخبری سنا دیجئے کہ ان کے لئے ان کے رب کے پاس بڑا درجہ ہے جو یقینی ملے گا اور لازوال دولت ہوگی۔- بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ لفظ صدق لانے میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جنت کے یہ درجات عالیہ صرف صدق و سچائی اور اخلاص ہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتے ہیں نرا زبانی جمع خرچ اور صرف زبان سے کلمہ ایمان پڑھ لینا کافی نہیں جب تک دل اور زبان دونوں سے سچائی کے ساتھ ایمان اختیار نہ کرلیا جائے جس کا لازمی نتیجہ اعمال صالحہ کی پابندی اور برے اعمال سے پرہیز ہے۔

3

إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ ۖ مَا مِن شَفِيعٍ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ إِذْنِهِۦ ۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کیے بغیر کسی کی سفارش نہیں کرسکتا، یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے

تیسری آیت میں توحید کو اس ناقابل انکار حقیقت کے ذریعہ ثابت کیا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے میں اور پھر پورے عالم کے کاموں کی تدبیر کرنے اور چلانے میں جب اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں تو پھر عبادت و اطاعت میں کوئی دوسرا کیسے شریک ہوسکتا ہے، بلکہ کسی دوسرے کو اس میں شریک کرنا بڑی بےانصافی اور ظلم عظیم ہے۔- اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا ہے، لیکن ہمارے عرف میں دن اس وقت کو کہا جاتا ہے جو آفتاب کے طلوع ہونے سے غروب ہونے تک ہوتا ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ آسمان و زمین اور ستاروں کے پیدا ہونے سے پہلے آفتاب ہی کا وجود نہیں تو طلوع، غروب کا حساب کیسے ہو اس لئے مراد یہاں وہ مقدار وقت ہے جو آفتاب کے طلوع و غروب کے درمیان اس جہان میں ہونے والی تھی۔- چھ دن کے تھوڑے سے وقت میں اتنے بڑے جہان کو جو آسمانوں اور زمین اور سیارات اور تمام کائنات عالم پر مشتمل ہے، بنا کر تیار کردینا اسی ذات قدوس کا مقام ہے جو قادر مطلق ہے اس کی تخلیق کے لئے نہ پہلے سے خام اجناس کا موجود ہونا ضروری ہے اور نہ بنانے کے لئے کسی عملہ اور خدام کی ضرورت ہے بلکہ اس کی قدرت کاملہ کا یہ مقام ہے کہ جب وہ کسی چیز کو پیدا فرمانا چاہیں تو بغیر کسی سامان اور کسی کی امداد کے ایک آن میں پیدا فرما دیں، یہ چھ دن کی مہلت بھی خاص حکمت و مصلحت کی بناء پر اختیار کی گئی ہے ورنہ ان کی قدرت میں یہ بھی تھا کہ تمام آسمان و زمین اور اس کی کائنات کو ایک آن میں پیدا فرما دیتے۔- اس کے بعد فرمایا (آیت) ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ ، یعنی پھر قائم ہوا عرش پر۔ اتنی بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ عرش رحمن کوئی ایسی مخلوق ہے جو تمام آسمانوں اور زمین اور تمام کائنات عالم پر محیط ہے سارا جہاں اس کے اندر سمایا ہوا ہے، اس سے زائد اس کی حقیقت کا معلوم کرنا انسان کے بس کی بات نہیں، جو انسان اپنی سائنس کی انتہائی ترقی کے زمانہ میں بھی صرف نیچے کے سیاروں تک پہنچنے کی تیاری میں ہے اور وہ بھی ابھی نصیب نہیں اور اس کا یہ اقرار ہے کہ اوپر کے سیارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ آلات رصدیہ کے ذریعہ بھی ان کی معلومات تخمینہ اور اندازہ سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور بہت سے ستارے ایسے بھی ہیں جن کی شعاعیں ابھی تک زمین پر نہیں پہنچیں، حالانکہ شعاع نوری کی حرکت ایک منٹ میں لاکھوں میل بتائی جاتی ہے، جب سیاروں اور ستاروں تک انسان کی رسائی کا یہ حال ہے تو آسمان جو ان سب ستاروں اور سیاروں سے اوپر ہے اس کا یہ مسکین انسان کیا حال معلوم کرسکتا ہے، اور پھر جو ساتوں آسمانوں سے بھی اوپر اور سب پر حاوی اور محیط عرش رحمن ہے اس کی حقیقت تک انسان کی رسائی معلوم - آیت مذکورہ سے اتنا معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ نے چھ دن میں آسمان و زمین اور تمام کائنات بنائی اور اس کے بعد عرش پر قیام فرمایا۔- یہ یقینی اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ جسم اور جسمانیت اور اس کی تمام صفات و خصوصیات سے بالا و برتر ہے نہ اس کا وجود کسی خاص سمت اور جہت سے تعلق رکھتا ہے نہ اس کا کسی مکان میں قیام اس طرح کا ہے جس طرح دنیا کی چیزوں کا قیام اپنی اپنی جگہ میں ہوتا ہے، پھر عرش پر قیام فرمانا کس طرح اور کس کیفیت کے ساتھ ہے، یہ ان متشابہات میں سے ہے جن کو انسان کی عقل و فہم نہیں پاسکتی اسی لئے قرآن حکیم کا ارشاد ان کے بارے میں یہ ہے کہ (آیت) وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗٓ اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ، یعنی ان کے سوائے خدا تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، اور مضبوط اور صحیح علم والے اس پر ایمان لانے کا اقرار کرتے ہیں مگر اس کی حقیقت جاننے کی فکر میں نہیں پڑتے، اس لئے اس قسم کے تمام معاملات میں جن میں حق تعالیٰ کی نسبت کسی مکان یا جہت کی طرف کی گئی ہے یا جن میں حق تعالیٰ کے لئے …

4

إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا ۖ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقًّا ۚ إِنَّهُۥ يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ بِٱلْقِسْطِ ۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَهُمْ شَرَابٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ وَعَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْفُرُونَ

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لیے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیوں کہ (خدا سے) انکار کرتے تھے

چوتھی آیت میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے (آیت) اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا، یعنی اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو، وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا، یہ وعدہ ہے اللہ کا حق اور صحیح، (آیت) اِنَّهٗ يَبْدَؤ ُ ا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ، یعنی وہ اول پیدا کرتا ہے تمام مخلوق کو اور وہی اس کو قیامت میں دوبارہ زندہ فرمائے گا، اس جملہ میں بتلا دیا کہ اس پر کوئی تعجب کرنے کی جگہ نہیں کہ یہ ساری کائنات فنا ہوجانے کے بعد پھر کیسے زندہ ہوگی کیونکہ جس ذات اقدس کے قبضہ میں یہ ہے کہ اول کسی چیز کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ شکل و صورت کے پیدا کردے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ پیدا شدہ مخلوق کو فنا کرنے کے بعد پھر دوبارہ پیدا کردے۔

5

هُوَ ٱلَّذِى جَعَلَ ٱلشَّمْسَ ضِيَآءًۭ وَٱلْقَمَرَ نُورًۭا وَقَدَّرَهُۥ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا۟ عَدَدَ ٱلسِّنِينَ وَٱلْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍۢ يَعْلَمُونَ

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

خلاصہ تفسیر - وہ اللہ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو ( بھی) نورانی بنایا اور اس ( کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں (کہ ہر روز ایک منزل قطع کرتا ہے) تاکہ ( ان اجرام کے ذریعہ سے) تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بےفائدہ نہیں پیدا کیں، وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف بتلا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہں، بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے ( توحید کے) دلائل ہیں جو ( خدا کا) ڈر مانتے ہیں۔- معارف و مسائل - ان آیتوں میں کائنات عالم کی بہت سی نشانیاں مذکور ہیں جو اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر شاہد اور اس کے دلائل ہیں کہ رب العزت اس پر پوری طرح قادر ہے کہ اس عالم کو فنا کرنے اور ذرہ ذرہ کردینے کے بعد پھر ان ذرات کو جمع کردے اور از سرنو ان سب کو زندہ کردے اور حساب و کتاب کے بعد جزاء و سزاء کا قانون نافذ کردے اور یہ کہ یہی عقل و حکمت کا مقتضی ہے اس طرح یہ آیتیں اس اجمال کی تفصیل ہیں جو گذشتہ تیسری آیت میں آسمان و زمین کی چھ دن میں پیدائش اور پھر اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ کے بعد يُدَبِّرُ الْاَمْرَ کے الفاظ میں بیان کیا تھا کہ اس نے عالم کو صرف پیدا کرکے نہیں چھوڑ دیا بلکہ ہر وقت ہر آن میں ہر چیز کا نظام بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔- اسی نظام و انتظام کا ایک جزء یہ ہے (آیت) ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا، ضیاء اور نور دونوں کے معنی چمک اور روشنی کے ہیں اسی لئے بہت سے ائمہ لغت نے ان دونوں لفظوں کو مرادف کہا ہے، علامہ زمخشری اور طیبی وغیرہ نے فرمایا کہ اگرچہ روشنی کے معنی ان دونوں لفظوں میں مشترک ہیں مگر لفظ نور عام ہے، ہر قوی و ضعیف ہلکی اور تیز روشنی کو نور کہا جاتا ہے اور ضوء و ضیاء قوی اور تیز روشنی کو کہتے ہیں، انسان کو دونوں قسم کی روشنیوں کی ضرورت پڑتی ہے، عام کاروبار کے لئے دن کو بھی صرف چاند کی پھیکی روشنی رہے تو کاروبار میں خلل آئے اور رات کو بھی آفتاب چمکتا رہے تو نیند اور رات کے مناسب کاموں میں خلل آئے، اس لئے قدرت نے دونوں طرح کی روشنی کا انتظام اس طرح فرمایا کہ آفتاب کی روشنی کو ضوء و ضیاء کا درجہ دیا اور کاروبار کے وقت اس کا ظہور فرمایا اور چاند کی روشنی کو ہلکی اور پھیکی روشنی بنایا اور رات کو اس کا محل ظہور بنایا۔- قرآن کریم نے شمس و قمر کی روشنیوں میں فرق و امتیاز کو متعدد جگہ مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے، سورة نوح میں ہے (آیت) وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا، سورة فرقان میں فرمایا (آیت) وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرًا، سراج کے معنی چراغ کے ہیں اور چونکہ چراغ کا نور ذاتی ہوتا ہے کسی دوسری چیز سے حاصل کردہ نہیں ہوتا اس لئے بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ ضیاء کسی چیز کی ذاتی روشنی کو کہتے ہیں اور نور اس کو جو دوسرے سے مستفاد اور حاصل کردہ ہو، مگر یہ بظاہر یونانی فلسفہ سے متاثر ہو کر کہا گیا ہے ورنہ لغت میں اس کی کوئی اصل نہیں، اور قرآن کریم نے بھی اس کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا۔- زجاج نے لفظ ضیاء کو ضوء کی جمع قرار دیا ہے، اس کی رو سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ روشنی کے ساتھ مشہور رنگ اور قسمیں جو دنیا میں پائی جاتی ہیں آفتاب ان تمام اقسام کا جامع ہے جو بارش کے بعد قوس قزح میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ( منار) ۔- نظام شمس و قمر میں آیات قدرت کا ایک دوسرا مظاہرہ یہ ہے (آیت) وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ ، قدر لفظ تقدیر سے بنا ہے، تقدیر کے معنٰی کسی چیز کو زمانہ یا مکان یا صفات کے اعتبار سے ایک مخصوص مقدار اور پیمانہ پر رکھنے کے ہیں، رات اور دن کے اوقات کو ایک خاص پیمانہ پر رکھنے کے لئے قرآن …

6

إِنَّ فِى ٱخْتِلَٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ لَءَايَٰتٍۢ لِّقَوْمٍۢ يَتَّقُونَ

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے پیچھے) آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں

اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے ( توحید و آخرت کے) دلائل ہیں جو خدا تعالیٰ کا ڈر مانتے ہیں۔- توحید کے دلائل تو قدرت و صنعت کی یکتائی اور بغیر کسی امداد کے ان تمام چیزوں کو پیدا کرنا اور ایسے نظام کے ساتھ چلانا ہے جو نہ کبھی ٹوٹتا ہے نہ بدلتا ہے۔- اور آخرت کے دلائل اس لئے ہیں کہ جس ذات حکیم نے ان تمام چیزوں کو انسانوں کے فائدہ کے لئے بنایا اور ایک محکم نظام کا پابند کیا، اس سے یہ ممکن نہیں کہ اس مخدوم کائنات کو اس نے بےفائدہ محض کھانے پینے کے لئے پیدا کیا ہو، اس کے ذمہ کچھ فرائض نہ لگائے ہوں، اور جب یہ لازم ہوا کہ اس مخدوم کائنات پر بھی کچھ پابندیاں ہونا ضروری ہے تو یہ بھی لازم ہوا کہ ان پابندیوں کو پورا کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کا کبھی کہیں حساب ہو، کرنے والوں کو اچھا بدلہ ملے اور نہ کرنے والوں کو سزا، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس دنیا میں تو جزا و سزا کا یہ دستور نہیں، یہاں تو مجرم بسا اوقات متقی پارسا سے زیادہ اچھی زندگی گزارتا ہے، اس لئے ضرورت ہے کہ حساب اور جزاء و سزا کا کوئی دن مقرر ہو، اسی کا نام قیامت اور آخرت ہے۔

7

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَٰتِنَا غَٰفِلُونَ

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں

خلاصہ تفسیر - جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں ( آخرت کی طلب اصلاً نہیں کرتے) اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں ( آئندہ کی کچھ خبر نہیں) اور جو لوگ ہماری آیتوں سے ( جو کہ بعثت پر دلالت کرتی ہیں) بالکل غافل ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ان کے ( ان) اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے ( اور) یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کا رب ان کو بوجہ ان کے مومن ہونے کے ان کے مقصد ( یعنی جنت تک پہنچا دے گا، ان کے ( مسکن کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی جن کے باغوں میں ( اور جس وقت وہ جنت میں جاویں گے اور عجائبات کا دفعةً معائنہ کریں گے تو اس وقت) ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی کہ سبحان اللہ اور ( پھر جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو) ان کا باہمی سلام یہ ہوگا اسلام علیکم اور ( جب اطمینان سے وہاں جا بیٹھیں گے اور اپنے پرانے مصائب اور متاعب اور اس وقت کے غیر مکدر دائمی عیش کا موازنہ کریں گے تو) ان کی ( اس وقت کی باتوں میں) اخیر بات یہ ہوگی الحمد اللہ رب العلمین ( جیسا دوسری آیت میں ہے الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ) ۔- معارف و مسائل - پچھلی آیات میں اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت کے خاص خاص مظاہر آسمان اور زمین شمس و قمر وغیرہ کی تخلیق کا ذکر کرکے عقیدہ توحید و آخرت کو ایک بلیغ انداز میں ثابت کیا گیا تھا، مذکور الصدر آیات میں سے پہلی تین آیتوں میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کائنات عالم کی ایسی کھلی کھلی نشانیوں اور شہادتوں کے باوجود، انسانوں کے دو طبقے ہوگئے، ایک وہ جس نے ان آیات قدرت کی طرف ذرا دھیان نہ دیا، نہ اپنے پیدا کرنے والے مالک کو پہچانا اور نہ اس پر غور کیا کہ ہم دنیا کے عام جانوروں کی طرح ایک جانور نہیں، رب العزت نے ہمیں ادراک و شعوری عقل و ہوش تمام جانوروں سے زیادہ دیا ہے اور ساری مخلوقات کو ہمارا خادم بنادیا ہے تو ہمارے ذمہ بھی کوئی کام لگایا ہوگا اور اس کا ہمیں بھی حساب دینا ہوگا جس کے لئے ضرورت ہے کہ کوئی روز حساب اور روز جزاء مقرر ہو جس کو قرآن کی اصطلاح میں قیامت اور حشر و نشر سے تعبیر کیا جاتا ہے، بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کو عام جانوروں کی سطح پر رکھا، پہلی دو آیتوں میں ان لوگوں کی خاص علامات بتلا کر ان کی سزائے آخرت کا ذکر کیا گیا ہے، فرمایا کہ جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور ان کی حالت یہ ہے کہ آخرت کی دائمی زندگی اور اس کی راحت و تکلیف کو بھلا کر صرف دنیا کی زندگی پر راضی ہوگئے۔- دوسرے یہ کہ اس دنیا میں ایسے مطمئن ہو کر بیٹھے ہیں کہ گویا یہاں سے کہیں جانا ہی نہیں ہمیشہ ہمیشہ یہیں رہنا ہے، ان کو کبھی یہ دھیان نہیں آتا کہ اس دنیا سے ہر شخص کو رخصت ہونا تو ایسا بدیہی مسئلہ ہے جس میں کبھی کسی کو شبہ ہی نہیں ہوسکتا ہے، اور جب یہاں سے جانا یقینی ہے تو جہاں جانا ہے وہاں کی کچھ تیاری ہونا چاہئے “۔- تیسرے یہ کہ یہ لوگ ہماری آیتوں اور نشانیوں سے مسلسل غفلت ہی غفلت میں ہیں، اگر وہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی عام مخلوقات میں اور خود اپنے نفس میں ذرا بھی غور کرتے تو حقیقت حال کا سمجھنا کچھ مشکل نہ ہوتا اور وہ اس احمقانہ غفلت سے نکل سکتے تھے۔- ایسے لوگ جن کی یہ علامات بتلائی گئیں ان کی سزا آخرت میں یہ ہے کہ ان کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے اور یہ سزا خود ان کے اپنے عمل کا نتیجہ ہے۔- افسوس ہے کہ قرآن کریم نے جو علامات کفار و منکرین کی بتلائی ہیں آج ہم مسلمانوں کا حال ان سے کچھ ممتاز نہیں، ہماری زندگی اور ہمارے شب و روز کے اشغال و افکار کو دیکھ کر کوئی نہیں سمجھ سکتا کہ ہمیں اس دنیا کے سوا اور بھی کوئی فکر لگی ہوئی ہے اور اس کے باوجود ہم اپنے آپ کو پکا اور سچا مسلمان باور کئے ہوئے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ سچے اور پکے مسلمان جیسے کہ ہمارے اسلاف تھے ان کے چہرے دیکھ کر خدا یاد آتا …

8

أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ

ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے

Explained together with ayah 7

9

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہہ رہی ہوں گی

تیسری آیت میں ان خوش نصیب انسانوں کا ذکر ہے جنہوں نے اللہ جل شانہ کی آیات قدرت میں غور کیا اور اس کو پہچانا، اس پر ایمان لائے اور ایمان کے مقتضی پر عمل کرکے اعمال صالحہ کے پابند ہوگئے۔- قرآن کریم نے ان حضرات کے لئے دنیا و آخرت میں جو اچھا صلہ اور جزاء مقرر فرمائی ہے اس کا ذکر اس طرح فرمایا ہے : (آیت) اُولٰۗىِٕكَ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ ، یعنی ان کا رب ان کو ایمان کی وجہ سے منزل مقصود یعنی جنت دکھلائے گا، جس میں چین و آرام کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی۔- اس میں لفظ ہدایت آیا ہے جس کے مشہور معنٰی راستہ بتلانے اور دکھلانے کے ہیں، اور کبھی منزل مقصود تک پہنچا دینے کے معنٰی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس مقام پر یہی معنٰی مراد ہیں اور منزل مقصود سے مراد جنت ہے جس کی وضاحت بعد کے الفاظ میں ہوگئی ہے، جس طرح پہلے طبقہ کی سزا ان کے اپنے کرتوت کا نتیجہ تھی اسی طرح اس دوسرے مومن طبقہ کی جزاء کے بارے میں فرمایا کہ یہ بہترین جزاء ان کو ان کے ایمان کی وجہ سے ملی ہے اور چونکہ اوپر ایمان کے ساتھ عمل صالحہ بھی ہوں، ایمان اور عمل صالح کا بدلہ بےنظیر راحتوں اور نعمتوں کا مقام جنت ہے۔

10

دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌۭ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ

(جب وہ) ان میں (ان نعمتوں کو دیکھوں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان الله۔ اور آپس میں ان کی دعا سلامٌ علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول یہ (ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے

چوتھی آیت میں جنت میں پہنچنے کے بعد اہل جنت کے چند مخصوص حالات بتلائے ہیں، اول یہ کہ (آیت) دَعْوٰىھُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ ، اس میں لفظ دعوی اپنے مشہور معنی میں نہیں جو کوئی مدعی اپنے حریف کے مقابلہ میں کیا کرتا ہے، بلکہ اس جگہ لفظ دعوٰی دعا کے معنی میں ہے۔ معنی یہ ہیں کہ اہل جنت کی دعا جنت میں پہنچنے کے بعد یہ ہوگی کہ وہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کہتے رہیں گے یعنی اللہ جل شانہ کی تسبیح کیا کریں گے۔- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعا تو عرف عام میں کسی چیز کی درخواست اور کسی مقصد کے طلب کرنے کو کہا جاتا ہے، سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ میں نہ کوئی درخواست ہے نہ طلب، اس کو دعا کس حیثیت سے کہا گیا ؟- جواب یہ ہے کہ اس کلمہ سے بتلانا یہ مقصود ہے کہ اہل جنت کو جنت میں ہر راحت ہر مطلب من مانے انداز سے خود بخود حاصل ہوگی، کسی چیز کو مانگنے اور درخواست کرنے کے ضرورت اللہ کی تسبیح ہوگی اور وہ بھی دنیا کی طرح کوئی فریضہ عبادت ادا کرنے کے لئے نہیں بلکہ وہ اس کلمہ تسبیح سے لذت محسوس کریں گے اور اپنی خوشی سے سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کہا کریں گے، اس کے علاوہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو بندہ میری حمد و ثنا میں ہر وقت لگا رہے یہاں تک کہ اس کو اپنے مطلب کی دعا مانگنے کی بھی فرصت نہ رہے تو میں اس کو تمام مانگنے والوں سے بہتر چیز دوں گا یعنی بےمانگے اس کے سب کام پورے کردوں گا۔ - اس حیثیت سے بھی لفظ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کو دعا کہہ سکتے ہیں۔- اسی معنی کے اعتبار سے صحیح بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب کوئی تکلیف و بےچینی پیش آتی تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے : - لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم، لا الہ الا اللہ رب العرش العظیم، لا الہ الا اللہ رب السموت و رب الارض و رب العرش الکریم۔- اور امام طبری نے فرمایا کہ سلف صالحین اس کو دعا کرب کہا کرتے تھے، اور مصیبت و پریشانی کے وقت یہ کلمات پڑھ کر دعا مانگا کرتے تھے۔ ( تفسیر قرطبی) - اور امام ابن جریر، ابن منذر وغیرہ نے ایک یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ اہل جنت کو جب کسی چیز کی ضرورت اور خواہش ہوگی تو وہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کہیں گے، یہ سنتے ہیں فرشتے ان کے مطلب کی چیز حاضر کردیں گے، گویا کلمہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ اہل جنت کی ایک خاص اصطلاح ہوگی جس کے ذریعہ وہ اپنی خواہش کا اظہار کریں گے اور ملائکہ ہر مرتبہ اس کو پورا کردیں گے ( روح المعانی و قرطبی) اس لحاظ سے بھی کلمہ سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ کو دعا کہا جاسکتا ہے۔- اہل جنت کا دوسرا حال یہ بتلایا کہ (آیت) تَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ، تحیہ عرف میں اس کلمہ کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعہ کسی آنے والے یا ملنے والے شخص کا استقبال کیا جاتا ہے جیسے سلام یا خوش آمدید یا اہل و سہلا وغیرہ، اس آیت نے بتلایا کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے اہل جنت کا تحیہ لفظ سلام سے ہوگا، یعنی یہ خوشخبری کہ تم ہر تکلیف اور ناگوار چیز سے سلامت رہو گے، یہ سلام خود حق تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جیسے دوسری جگہ ارشاد ہے (آیت) وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ ، سلم علیکم یعنی فرشتے اہل جنت کے پاس ہر دروازہ سے سلام علیکم کہتے ہوئے داخل ہوں گے، اور ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں کہ کسی وقت براہ راست اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے اور کسی وقت فرشتوں کی طرف سے، اور سلام کا لفظ اگرچہ دنیا میں دعا ہے لیکن جنت میں پہنچ کر تو ہر مطلب حاصل ہوگا اس لئے وہاں یہ لفظ دعا بجائے خوشخبری کا کلمہ ہوگا ( روح) تیسرا حال اہل جنت کا یہ بتلایا کہ (آیت) اٰخِرُ دَعْوٰىھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، یعنی اہل جنت کی آخری دعا الحمد اللہ رب العلمین ہوگی۔- مطلب یہ ہے کہ اہل جنت کو جنت میں پہنچنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی …

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.