Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 31–40 of 43

31

وَلَوْ أَنَّ قُرْءَانًۭا سُيِّرَتْ بِهِ ٱلْجِبَالُ أَوْ قُطِّعَتْ بِهِ ٱلْأَرْضُ أَوْ كُلِّمَ بِهِ ٱلْمَوْتَىٰ ۗ بَل لِّلَّهِ ٱلْأَمْرُ جَمِيعًا ۗ أَفَلَمْ يَا۟يْـَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَهَدَى ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا ۗ وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُوا۟ قَارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَرِيبًۭا مِّن دَارِهِمْ حَتَّىٰ يَأْتِىَ وَعْدُ ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخْلِفُ ٱلْمِيعَادَ

اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا

خلاصہ تفسیر - اور (اے پیغمبر اور مسلمانو ان کافروں کی عناد کی یہ کیفیت ہے کہ قرآن کی جو موجودہ حالت ہے کہ اس کا معجزہ ہونا غور وفکر پر موقوف ہے بجائے اس کے) اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹا دیئے جاتے یا اس کے ذریعے سے زمین جلدی جلدی طے ہوجاتی یا اس کے ذریعہ سے مردوں کے ساتھ کسی کو باتیں کرا دی جائیں (یعنی مردہ زندہ ہوجاتا اور کوئی اس سے باتیں کرلیتا اور یہ وہ معجزے ہیں جن کی فرمائش اکثر کفار کیا کرتے تھے بعضے مطلقا بعضے اس طرح سے کہ قرآن کو بحالت موجودہ تو ہم معجزہ مانتے نہیں البتہ اگر قرآن سے ان خوارق کا ظہور ہو تو ہم اس کو معجزہ مان لیں مطلب یہ کہ قرآن سے ایسے ایسے معجزات کا بھی ظہور ہوتا جس سے دونوں طرح کے لوگوں کی فرمائش پوری ہوجاتی یعنی جو نفس خوارق مذکورہ کے مسدعی تھے اور جو ان کا ظہور قرآن سے چاہتے تھے) تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے (کیونکہ یہ اسباب مؤ ثر حقیقی نہیں) بلکہ سارا اختیار اللہ ہی کو ہے ( وہ جس کو توفیق عطا فرماتے ہیں وہی ایمان لاتا ہے اور انکی عادت ہے کہ طالب کو توفیق دیتے ہیں اور معاند کو محروم رکھتے ہیں اور چونکہ بعضے مسلمانوں کا جی چاہتا تھا کہ ان معجزات کا ظہور ہوجاوے تو شاید ایمان لے آویں اس لئے آگے ان کا جواب ہے کہ) کیا (یہ سن کر کہ یہ معاند ہیں ایمان نہ لاویں گے اور یہ کہ سب اختیار خدا ہی کو ہے اور یہ کہ اسباب مؤ ثر حقیقی نہیں ہیں کیا یہ سن کر) پھر بھی ایمان والوں کو اس بات میں دل جمعی نہیں ہوئی کہ اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو تمام (دنیا بھر کے) آدمیوں کو ہدایت کردیتا (مگر بعض حکمتوں سے مشیت نہیں ہوئی تو سب ایمان نہ لاویں گے جس کی بڑی وجہ عناد ہے پھر ان معاندین کے ایمان لانے کی فکر میں کیوں لگے ہیں) اور (جب محقق ہوگیا کہ یہ لوگ ایمان نہ لاویں گے تو اس امر کا خیال آسکتا ہے کہ پھر ان کو سزا کیوں نہیں دی جاتی اس کے متعلق ارشاد ہے کہ) یہ (مکہ کے) کافر تو ہمیشہ (آئے دن) اس حالت میں رہتے ہیں کہ ان کے (بد) کرداروں کے سبب ان پر کوئی نہ کوئی حادثہ پڑتا رہتا ہے (کہیں قتل کہیں قید کہیں ہزیمت و شکست) یا (بعض حادثہ اگر ان پر نہیں بھی پڑتا مگر) ان کی بستی کے قریب نازل ہوتا رہتا ہے (مثلا کسی قوم پر آفت آئی اور ان کو خوف پیدا ہوگیا کہ کہیں ہم پر بھی بلا نہ آوے) یہاں تک کہ (اسی حالت میں) اللہ تعالیٰ کا وعدہ آ جاوے گا (یعنی آخرت کے عذاب کا سامنا ہوجاوے گا جو کہ مرنے کے بعد شروع ہوجاوے گا اور) یقینا اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتے (پس عذاب کا وقوع ان پر یقینی ہے گو بعض اوقات کچھ دیر سے سہی) اور (ان لوگوں کا یہ معاملہ تکذیب و استہزاء کچھ آپ کے ساتھ خاص نہیں اور اسی طرح ان کے عذاب میں توفیق ہونا کچھ ان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ پہلے رسل اور ان کی امتوں کے ساتھ بھی ایسا ہوچکا ہے چنانچہ) بہت سے پیغمبروں کے ساتھ جو کہ آپ سے قبل ہوچکے ہیں (کفار کی طرف سے) استہزاء ہوچکا ہے پھر میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے ان پر داروگیر کی سو (سمجھنے کی بات ہے کہ) میری سزا کس طرح کی تھی (یعنی نہایت سخت تھی جب اللہ تعالیٰ کی شان معلوم ہوگئی وہی مختار کل ہیں تو اس سے معلوم اور ثابت ہونے کے بعد) پھر (بھی) کیا جو (خدا) ہر شخص کے اعمال پر مطلع ہوا اور ان لوگوں کے شرکاء برابر ہو سکتے ہیں اور (باوجود اس کے) ان لوگوں نے خدا کے لئے شرکاء تجویز کئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہئے کہ (ذرا) ان (شرکاء) کے نام تو لو ( میں بھی سنو کون ہیں اور کیسے ہیں) کیا (تم حقیقتا ان کو شرکاء سمجھ کر دعوی کرتے ہو تو تم پر یہ لازم آتا ہے کہ) تم اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو کہ دنیا (بھر) میں اس (کے وجود) کی خبر اللہ تعالیٰ کو نہ ہو (کیونکہ اللہ تعالیٰ اسی کو موجود جانتے ہیں جو واقع میں موجود ہو اور معدوم کو موجود نہیں جانتے کیونکہ اس سے …

32

وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍۢ مِّن قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا

(آیت) وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ ۔ یہ حالات جو آپ کو درپیش ہیں کچھ آپ ہی کو پیش نہیں آئے آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پڑتا رہا ہے کہ مجرموں اور منکروں کو ان کے جرم پر فورا نہیں پکڑا گیا اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے جب وہ انتہا کو پہنچ گئے تو پھر ان کو عذاب الہی نے پکڑ لیا اور کیسا پکڑا کہ کسی کو مقابلہ کی تاب نہ رہی۔

33

أَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ ۗ وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلْ سَمُّوهُمْ ۚ أَمْ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلْأَرْضِ أَم بِظَٰهِرٍۢ مِّنَ ٱلْقَوْلِ ۗ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مَكْرُهُمْ وَصُدُّوا۟ عَنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍۢ

تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) رستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں

(آیت) اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍ ۔ۢ اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور بےعقلی کو اس طرح واضح فرمایا ہے کہ یہ کیسے بیوقوف ہیں کہ بےجان وبے شعور بتوں کو اس ذات پاک کے برابر ٹھراتے ہیں جو ہر نفس پر نگراں اور اس کے اعمال و افعال کا محاسبہ کرنے والی ہے پھر فرمایا کہ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ شیطان نے ان کی اس جہالت ہی کو ان کی نظر میں مزین کر رکھا ہے وہ اسی کو بڑا کمال اور کامیابی سمجھتے ہیں۔

34

لَّهُمْ عَذَابٌۭ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْءَاخِرَةِ أَشَقُّ ۖ وَمَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍۢ

ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں

خلاصہ تفسیر :- ان کافروں کے لئے دنیوی زندگانی میں (بھی) عذاب ہے (وہ قتل و قید وذلت یا امراض و مصائب ہے) اور آخرت کا عذاب اس سے بدرجہا زیادہ سخت ہے (کیونکہ شدید بھی ہے اور دائم بھی ہے) اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا (اور) جس جنت کا متقیوں سے (یعنی شرک و کفر سے بچنے والوں سے) وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ کہ اس (کی عمارات اور اشجار) کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور اس کا پھل اور اس کا سایہ دائم رہے گا یہ تو انجام ہوگا متقیوں کا اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا اور جن لوگوں کو ہم نے (آسمانی) کتاب (یعنی تورات و انجیل) دی ہے (اور وہ اس کو پورے طور سے مانتے تھے) وہ اس (کتاب) سے خوش ہوئے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی ہے (کیونکہ اس کی خبر اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اور خوش ہو کر مان لیتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں جیسے یہود میں عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور نصاری میں نجاشی اور ان کے فرستادے جن کا ذکر اور آیات میں بھی ہے) اور انہی کے گروہ میں بعضے ایسے ہیں کہ اس (کتاب) کے بعض حصہ کا (جس میں ان کی کتاب کے خلاف احکام ہیں) انکار کرتے ہیں (اور کفر کرتے ہیں) آپ (ان سے) فرمائیے کہ (احکام دو قسم کے ہیں اصول اور فروع اگر تم اصول میں مخالف ہو سو وہ سب شرائع میں مشترک ہیں چنانچہ) مجھ کو (توحید کے متعلق) صرف یہ حکم ہوا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھراؤں (اور نبوت کے متعلق یہ بات ہے کہ) میں (لوگوں کو) اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں (یعنی نبوت کا حاصل یہ ہے کہ میں داعی الی اللہ ہوں) اور (میعاد کے متعلق میرا یہ عقیدہ ہے کہ) اسی کی طرف مجھ کو (دنیا سے لوٹ کر) جانا ہے (یعنی اصول یہ تین ہیں سو ان میں سے ایک بھی قابل انکار نہیں چناچہ توحید سب کے نزدیک مسلم ہے جیسا کہ یہی مضمون دوسری آیت میں ہے (قل تعالوا کلمۃ سواء بننا الخ) اور نبوت میں اپنے لئے مال وجاہ نہیں چاہتا جس پر انکار کی گنجائش ہو محض دعوت الی اللہ کرتا ہوں سو ایسے لوگ پہلے بھی ہوئے ہیں جس کو تم بھی مانتے ہو جیسا یہی مضمون دوسری جگہ بھی ہے (آیت) مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّؤ ْتِيَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ الخ اسی طرح میعاد کا عقیدہ مشترک اور مسلم اور غیر قابل انکار ہے اور اگر فروع میں مخالف ہو تو اس کا جواب اللہ تعالیٰ یوں دیتے ہیں کہ ہم نے جس طرح اور رسولوں کو خاص خاص زبانوں میں خاص احکام دیئے) اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو اس طور پر نازل کیا کہ وہ خاص حکم ہے عربی زبان میں (عربی کی تصریح سے اشارہ ہوگیا دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی دوسری زبانوں کی طرف اور زبانوں کے اختلاف سے اشارہ ہوگیا اختلاف امم کی طرف تو حاصل جواب کا یہ ہوا کہ فروع میں اختلاف بسبب اختلاف امم کے ہوا کیونکہ مصالح امم کے ہر زمانہ میں جداگانہ ہیں پس یہ اختلاف شرائع کا مقتضی مخالفت نہیں چناچہ خود شرائع مسلمہ میں بھی ایسا اختلاف فروع کا ہوا ہے پھر تمہاری مخالفت و انکار کی کیا گنجائش ہے) اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ (بفرض محال) ان کے نفسانی خیالات کا (یعنی احکام منسوخہ یا احکام محرفہ کا) اتباع کرنے لگیں بعد اس کے کہ آپ کے پاس (احکام مقصودہ کا) علم (صحیح) پہنچ چکا ہے تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ کوئی آپ کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا ( اور جب نبی کو ایسا خطاب کیا جا رہا ہے تو اور لوگ انکار کر کے کہاں رہیں گے سو اس میں تعریض ہے اہل کتاب کے ساتھ پس دونوں شقوں پر منکرین و مخالفین کا جواب ہوگیا)

35

۞ مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ أُكُلُهَا دَآئِمٌۭ وَظِلُّهَا ۚ تِلْكَ عُقْبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوا۟ ۖ وَّعُقْبَى ٱلْكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ

جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے

Explained together with ayah 34

36

وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَفْرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ ٱلْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُۥ ۚ قُلْ إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشْرِكَ بِهِۦٓ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُوا۟ وَإِلَيْهِ مَـَٔابِ

اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کتاب) سے جو تم پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے۔ کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ خدا ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے

Explained together with ayah 34

37

وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّۭا ۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعْتَ أَهْوَآءَهُم بَعْدَمَا جَآءَكَ مِنَ ٱلْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِىٍّۢ وَلَا وَاقٍۢ

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا

Explained together with ayah 34

38

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًۭا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَٰجًۭا وَذُرِّيَّةًۭ ۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِىَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۗ لِكُلِّ أَجَلٍۢ كِتَابٌۭ

اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے۔ اور ان کو بیبیاں اور اولاد بھی دی تھی ۔اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے۔ ہر (حکم) قضا (کتاب میں) مرقوم ہے

خلاصہ تفسیر :- اور (اہل کتاب میں سے بعضوں کا جو نبوت پر یہ طعن ہے کہ ان کے پاس متعدد بیبیاں ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ) ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور بچے بھی دیئے (یہ کونسا امر منافی رسالت ہے ایسا ہی مضمون دوسری آیت میں ہے اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰي مَآ اٰتٰىھُمُ الخ) اور (چونکہ اختلاف شرائع کا شبہ دیگر شبہات سے زیادہ مشہور اور اوپر محض اجمال کے ساتھ مذکور تھا اس لئے اس کو آگے مکرر و مفصل ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی پر اختلاف شرائع کا شبہ کرتا ہے وہ در پردہ نبی کو مالک احکام سمجھتا ہے حالانکہ) کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ امر نہیں کہ ایک آیت (یعنی ایک حکم) بدون خدا کے حکم کے (اپنی طرف سے) لا سکے (بلکہ احکام کو مقرر ہونا اذن واختیار خداوندی پر موقوف ہے اور خدا تعالیٰ کی حکمت و مصلحت کے اعتبار سے یہ معمول مقرر ہے کہ) ہر زمانے کے مناسب خاص خاص احکام ہوتے ہیں (پھر دوسرے زمانے میں بعض امور میں دوسرے احکام آتے ہیں اور پہلے احکام موقوف ہوجاتے ہیں اور بعض بحالہ باقی رہتے ہیں پس) خدا تعالیٰ (ہی) جس حکم کو چاہیں موقوف کردیتے ہیں اور جس حکم کو چاہیں قائم رکھتے ہیں اور اصل کتاب (یعنی لوح محفوظ) انہی کے پاس (رہتی) ہے (اور یہ سب احکام ناسخ و منسوخ و مستمر اس میں درج ہیں وہ سب کی جامع اور گویا میزان الکل ہے یعنی جہاں سے یہ احکام آتے ہیں وہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے پس احکام سابقہ کے موافق یا مغائر احکام لانے کی کسی کو گنجائش اور دسترس ہی نہیں ہو سکتی)- اور (یہ لوگ جو اس بنا پر انکار نبوت کرتے ہیں کہ اگر آپ نبی ہیں تو انکار نبوت پر جس عذاب کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ عذاب کیوں نہیں نازل ہوتا اس کے متعلق سن لیجئے کہ) جس بات کا (یعنی عذاب کا) ہم ان سے (انکار نبوت پر) وعدہ کر رہے ہیں اس میں کا بعض واقعہ اگر ہم آپ کو دکھلا دیں (یعنی آپ کی حیات میں کوئی عذاب ان پر نازل ہوجاوے) خواہ (قبل نزول اس عذاب کے) ہم آپ کو وفات دیدیں (پھر بعد میں وہ عذاب واقع ہو خواہ دنیا میں یا آخرت میں دنوں حالتوں میں آپ فکر و اہتمام نہ کریں کیونکہ) بس آپ کے ذمہ تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور دارو گیر کرنا تو ہمارا کام ہے (آپ اس فکر میں کیوں پڑیں کہ اگر واقع ہوجائے تو بہتر ہے شاید ایمان لے آویں اور ان لوگوں پر بھی تعجب ہے کہ وقوع عذاب علی الکفر کا کیسے یک لخت انکار کر رہے ہیں) کیا (مقدمات عذاب میں سے) اس امر کو نہیں دیکھ رہے کہ ہم (فتح اسلام کے ذریعہ سے انکی) زمین کو ہر چہار طرف سے برابر کم کرتے چلے آتے ہیں (یعنی ان کی عملداری بسبب کثرت فتوحات اسلامیہ کے روز بروز گھٹتی جا رہی ہے سو یہ بھی تو ایک قسم کا عذاب ہے جو مقدمہ ہے اصلی عذاب کا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے (آیت) وَلَنُذِيْـقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ ) اور اللہ (جو چاہتا ہے) حکم کرتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا نہیں (پس عذاب ادنیٰ خواہ عذاب اکبر جو بھی ہو اس کو کوئی ان کے شرکاء یا غیر شرکاء میں سے رد نہیں کرسکتا) اور (اگر ان کو چندے مہلت بھی ہوگئی تو کیا ہے) وہ بڑی جلدی حساب لینے والا ہے (وقت کی دیر ہے پھر فورا ہی سزائے موعود شروع ہوجاوے گا) اور (یہ لوگ جو ایذاء رسول یا تنقیص اسلام میں طرح طرح کی تدبیریں کرتے ہیں تو ان سے کچھ نہیں ہوتا چنانچہ) ان سے پہلے جو (کافر) لوگ ہوچکے ہیں انہوں نے (بھی ان ہی اغراض کے لئے بڑی بڑی) تدبیریں کیں سو (کچھ بھی نہ ہوا کیونکہ) اصل تدبیر تو خدا ہی کی ہے (اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی سو اللہ نے ان کو وہ تدبیریں نہ چلنے دیں اور) اس کو سب خبر رہتی ہے جو شخص جو کچھ بھی کرتا ہے (پھر اس کو وقت پر سزا دیتا ہے) اور (اسی طرح) ان کفار (کے اعمال کی بھی سب اس کو خبر ہے سو ان) کو (بھی) ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ اس عالم میں نیک …

39

يَمْحُوا۟ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلْكِتَٰبِ

خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) قائم رکھتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے

(آیت) يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ ۔ ام الکتب کے لفظی معنی اصل کتاب کے ہیں مراد اس سے وہ لوح محفوظ ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا - معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت اور باقی رکھتا ہے اور اس محو و اثبات کے بعد جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے جس پر نہ کسی کی دسترس ہے نہ اس میں کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔- ائمہ تفسیر میں سے حضرت سعید بن جبیر (رض) اور قتادہ (رض) وغیرہ نے اس آیت کو بھی احکام و شرائع کے محو و اثبات یعنی مسئلہ نسخ کے متعلق قرار دیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو ہر زمانے اور ہر قوم کے لئے مختلف رسولوں کے ذریعہ اپنی کتابیں بھیجتے ہیں جن میں احکام شریعت اور فرائض کا بیان ہوتا ہے یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ سب احکام دائمی ہوں اور ہمیشہ باقی رہیں بلکہ قوموں کے حالات اور زمانے کے تغیرات کے مناسب اپنی حکمت کے ذریعہ جس حکم کو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں ثابت اور باقی رکھتے ہیں اور اصل کتاب بہرحال ان کے پاس محفوظ ہے جس میں پہلے ہی سے یہ لکھا ہوا ہے کہ فلاں حکم جو فلاں قوم کے لئے نازل کیا گیا ہے یہ ایک میعاد کے لئے یا خاص حالات کی بنا پر ہے جب وہ میعاد گذر جائیگی یا وہ حالات بدل جائیں گے تو یہ حکم بھی بدل جائے گا اس ام الکتب میں اس کی میعاد اور وقت مقرر بھی پوری تعیین کے ساتھ درج ہے اور یہ بھی کہ اس حکم کو بدل کو کونسا حکم لایا جائے گا اس سے یہ شبہ بھی جاتا رہا کہ احکام خداوندی کبھی منسوخ نہ ہونے چاہئیں کیونکہ کوئی حکم جاری کرنے کے بعد منسوخ کرنا علامت اس کی ہے کہ حکم جاری کرنے والے کو حالات کا اندازہ نہ تھا اس لئے حالات دیکھنے کے بعد اس کو منسوخ کرنا پڑا اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ کی شان اس سے بلند وبالا ہے کہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر ہو کیونکہ تقریر مذکور سے معلوم ہوگیا کہ جس حکم کو منسوخ کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے علم میں پہلے سے ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف اتنی مدت کے لئے جاری کیا گیا ہے اس کے بعد بدلا جائے گا اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے کسی مریض کا حال دیکھ کر کوئی حکیم یا ڈاکٹر ایک دوا اس وقت کے مناسب حال تجویز کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس دوا کا یہ اثر ہوگا اس کے بعد اس دوا کو بدل کر فلاں دوسری دوا دی جائے گی خلاصہ یہ ہے کہ اس تفسیر کے مطابق آیت میں محو و اثبات سے مراد احکام کا منسوخ ہونا اور باقی رہنا ہے۔- اور ائمہ تفسیر کی ایک جماعت سفیان ثوری وکیع وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس سے اس آیت کی دوسری تفسیر نقل کی جس میں مضمون آیت کو نوشتہ تقدیر کے متعلق قرار دیا ہے اور معنی آیت کے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ قرآن و حدیث کی تصریحات کے مطابق مخلوقات کی تقدیریں اور ہر شخص کی عمر اور زندگی بھر میں ملنے والا رزق اور پیش آنے والی راحت یا مصیبت اور ان سب چیزوں کی مقداریں اللہ تعالیٰ نے ازل میں مخلوقات کی پیدائش سے بھی پہلے لکھی ہوئی ہیں پھر بچہ کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھی لکھوا دیا جاتا ہے اور ہر سال شب قدر میں اس سال کے اندر پیش آنے والے معاملات کا چٹھا فرشتوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔- خلاصہ یہ ہے کہ ہر فرد مخلوق کی عمر رزق حرکات و سکنات سب متعین ہیں اور لکھے ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ اس نوشتہ تقدیر میں سے جس کو چاہتے ہیں مٹا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں باقی رکھتے ہیں وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ یعنی اصل کتاب جس کے مطابق محو و اثبات کے بعد انجام کار عمل ہونا ہے وہ اللہ کے پاس ہے اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا۔- تشریح اس کی یہ ہے کہ بہت سی احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال سے انسان کی عمر اور رزق بڑھ جاتے ہیں بعض سے گھٹ جاتے ہیں صحیح بخاری میں …

40

وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ وَعَلَيْنَا ٱلْحِسَابُ

اور اگر ہم کوئی عذاب جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں تمہیں دکھائیں (یعنی تمہارے روبرو ان پر نازل کریں) یا تمہاری مدت حیات پوری کر دیں (یعنی تمہارے انتقال کے بعد عذاب بھیجیں) تو تمہارا کام (ہمارے احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے

(آیت) وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے اور مطمئن رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر و کافر ذلیل و خوار ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وفات کے بعد ہو اور آپ کے اطمینان کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں یعنی یہ اطراف مسلمانوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں اس طرح ان کی مقبوضہ زمین گھٹتی جاتی ہے اور مسلمانوں کے لئے کشایش ہوتی جاتی ہے اس طرح ایک دن اس فتح کی تکمیل بھی ہوجائے گی حکم اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور بہت جلد حساب لینے والا ہے - سورة رعد تمام شد :

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.