Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 21–30 of 43

21

وَٱلَّذِينَ يَصِلُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُونَ سُوٓءَ ٱلْحِسَابِ

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

تیسری صفت اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی یہ بتلائی گئی وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کے قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اس کی مشہور تفسیر تو یہی ہے کہ رشتہ داری کے تعلقات قائم رکھنے اور ان کے تقاضوں پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے یہ لوگ ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل صالح کو یا آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان کے ساتھ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی کتابوں پر ایمان کو ملا دیتے ہیں - چوتھی صفت یہ بیان فرمائی وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ یعنی یہ لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں یہاں لفظ خوف کے بجائے خشیہ کا لفظ استعمال کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ان کا خوف اس طرح کا نہیں جیسے درندہ جانور یا موذی انسان سے طبعا خوف ہوا کرتا ہے بلکہ ایسا خوف ہے جیسے اولاد کو ماں باپ کا شاگرد کو استاد کا خوف عادۃ ہوتا ہے کہ اس کا منشا کسی ایذاء رسانی کا خوف نہیں ہوتا بلکہ عظمت و محبت کی وجہ سے خوف اس کا ہوتا ہے کہ کہیں ہمارا کوئی قول وفعل اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسند اور مکروہ نہ ہوجائے اسی لئے مقام مدح میں جہاں کہیں اللہ تعالیٰ کے خوف کا ذکر ہے عموما وہاں یہی لفظ خشیت کا استعمال ہوا ہے کیونکہ خشیت اسی خوف کو کہا جاتا ہے جو عظمت و محبت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی لئے اگلے جملہ میں جہاں حساب کی سختی کا خوف بیان کیا گیا ہے وہاں خشیت کا لفظ نہیں بلکہ خوف ہی کا لفظ استعمال ہوا ہے ارشاد فرمایا۔- وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَاب یعنی یہ لوگ برے حساب سے ڈرتے ہیں برے حساب سے مراد حساب میں سختی اور جز رسی ہے حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا کہ انسان کی نجات تو رحمت الہی سے ہو سکتی ہے کہ حساب اعمال کے وقت اجمال اور عفو و درگذر سے کام لیا جائے ورنہ جس شخص سے بھی پورا پورا ذرہ ذرہ کا حساب لیے لیا جائے اس کا عذاب سے بچنا ممکن نہیں کیونکہ ایسا کون ہے جس سے کوئی گناہ وخطاء کبھی سرزد نہ ہوا ہو یہ حساب کی سختی کا خوف نیک و فرمانبردار لوگوں کی پانچوں صفت ہے،- ٢ وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تعلیم راہبانہ انداز سے ترک تعلقات کی نہیں بلکہ ضروری تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے ماں باپ کے حقوق، اولاد، بیوی، اور بہن بھائیوں کے حقوق، دوسرے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر لازم کئے ہیں ان کو نظرانداز کرکے نفلی عبادت میں یا کسی دینی خدمت میں لگ جانا بھی جائز نہیں دوسرے کاموں میں لگ کر ان کو بھلا دینا تو کیسے جائز ہوتا۔- صلہ رحمی اور رشتہ داری کے تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کی خبر گیری اور ادائے حقوق کی تاکید قرآن کریم کی بیشمار آیات میں مذکور ہے۔- اور بخاری ومسلم کی حدیث میں روایت انس (رض) مذکور ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی رزق میں وسعت اور کاموں میں برکت عطا فرماویں تو اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کے معنی یہی ہیں کہ جن سے رشتہ داری کے خصوصی تعلقات ہیں ان کی خبر گیری اور بقدر گنجائش امداد واعانت کرے۔- اور حضرت ابو ایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ ایک گاؤں والا اعرابی آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکان پر حاضر ہوا اور سوال کیا کہ مجھے یہ بتلا دیجئے کہ وہ عمل کون سا ہے جو جنت سے قریب اور جہنم سے دور کردے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو (بغوی)- اور صحیح بخاری میں بروایت حضرت عبداللہ بن عمر (رض) مذکور …

22

وَٱلَّذِينَ صَبَرُوا۟ ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَأَنفَقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ سِرًّۭا وَعَلَانِيَةًۭ وَيَدْرَءُونَ بِٱلْحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى ٱلدَّارِ

اور جو پروردگار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے (مصائب پر) صبر کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور نیکی سے برائی دور کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے عاقبت کا گھر ہے

چھٹی صفت یہ بیان فرمائی (آیت) وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ ۔ یعنی وہ لوگ جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضائی جوئی کے لئے صبر کرتے ہیں صبر کے معنی عربی زبان میں اس مفہوم سے بہت عام ہیں جو اردو زبان میں سمجھا جاتا ہے کہ کسی مصیبت اور تکلیف پر صبر کریں کیونکہ اس کے اصلی معنی خلاف طبع چیزوں سے پریشان نہ ہونا بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے کام پر لگے رہنا ہے اسی لئے اس کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں ایک صبر اعلی الطاعۃ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل پر ثابت قدم رہنا دوسرے صبر میں عن المعصیۃ یعنی گناہوں سے بچنے پر ثابت قدم رہنا صبر کے ساتھ اِبْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ کی قید میں یہ بتلایا کہ متعلقہ صبر کوئی فضیلت کی چیز نہیں کیونکہ کبھی نہ کبھی تو بےصبرے انسان کو بھی انجام کار ایک مدت کے بعد صبر آ ہی جاتا ہے جو صبر غیر اختیاری ہو اس کی کوئی خاص فضیلت نہیں نہ ایسی غیر اختیاری کفیت کا اللہ تعالیٰ کسی کو حکم دیتے ہیں اسی لئے حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یعنی اصلی اور معتبر صبر تو وہی ہے جو ابتدائے صدمہ کے وقت اختیار کرلیا جائے ورنہ بعد میں تو کبھی نہ کبھی جبری طور پر انسان کو صبر آ ہی جاتا ہے بلکہ قابل مدح وثناء وہ صبر ہے کہ اپنے اختیار سے خلاف طبع امر کو برداشت کرے خواہ وہ فرائض و واجبات کی ادائیگی ہو یا محرمات و مکروہات سے بچنا ہو اسی لئے اگر کوئی شخص چوری کی نیت سے کسی مکان میں داخل ہوگیا مگر وہاں چوری کا موقع نہ ملا صبر کر کے واپس آ گیا تو یہ غیر اختیاری صبر کوئی مدح وثواب کی چیز نہیں ثواب جب ہے کہ گناہ سے بچنا خدا کے خوف اور اس کی رضائی جوئی کے سبب سے ہو۔ - ساتویں صفت : وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۔ اقامت صلوۃ کے معنی نماز کو اس کے پورے آداب و شرائط اور خشوع کے ساتھ ادا کرنا ہے محض نماز پڑھنا نہیں اسی لئے قرآن کریم میں عموما نماز کا حکم اقامت صلوۃ کے الفاظ سے دیا گیا ہے۔- آٹھویں صفت : (آیت) وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً یعنی وہ لوگ جو اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے کچھ اللہ کے نام پر بھی خرچ کرتے ہیں اس میں اشارہ کیا گیا کہ تم سے جس مال زکوٰۃ وغیرہ کا مطالبہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے وہ کچھ تم سے نہیں مانگتا بلکہ اپنے ہی دیئے ہوئے رزق کا کچھ حصہ وہ بھی صرف ڈھائی فی صد قلیل و حقیر مقدار میں آپ سے مانگا جاتا ہے جس کے دینے میں آپ کو طبعا کوئی پس و پیش نہ ہونی چاہئے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً کی قید سے معلوم ہوا کہ صدقہ و خیرات میں ہر جگہ اخفاء ہی مسنون نہیں بلکہ بعض اوقات اس کا اظہار درست و صحیح ہوتا ہے اسی لئے علماء نے فرمایا زکوٰۃ اور صدقات واجبہ اعلان و اظہار ہی افضل و بہتر ہے اس کا اخفاء مناسب نہیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی تلقین اور ترغیب ہو البتہ نفلی صدقات کا خفیہ دینا افضل و بہتر ہے جن احادیث میں خفیہ دینے کی فضیلت آئی ہے وہ نفلی صدقات ہی کے متعلق ہے - نویں صفت ہے يَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ یعنی یہ لوگ برائی کو بھلائی سے دشمنی سے ظلم کو عفو و درگذر سے دفع کرتے ہیں، برائی کے جواب میں برائی سے پیش نہیں آتے، اور بعض حضرات نے اس کے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ گناہ کو نیکی سے دفع کرتے ہیں یعنی اگر کسی وقت کوئی خطاء و گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اطاعت و عبادت کی کثرت اور اہتمام اتنا کرتے ہیں کہ اس سے پچھلا گناہ محو ہوجاتا ہے حدیث میں ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو وصیت فرمائی کہ بدی کے بعد نیکی کرلو تو وہ بدی کو مٹا دے گی مراد یہ ہے کہ جب اس بدی اور گناہ پر نادم ہو کر توبہ کرلی اور اس کے پیچھے نیک عمل پیچھلے گناہ کو مٹا دے گا بغیر ندامت اور توبہ کے گناہ کے بعد کوئی نیک عمل کرلینا گناہ کی معافی کے لئے کافی نہیں …

23

جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ ءَابَآئِهِمْ وَأَزْوَٰجِهِمْ وَذُرِّيَّٰتِهِمْ ۖ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍۢ

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے

کہ وہ ہوں گی جنت میں داخل ہوں گے عدن کے معنی قیام وقرار کے ہیں مراد یہ ہے کہ ان جنتوں سے کسی وقت ان کو نکالا نہ جائے گا بلکہ ان میں ان کا اقرار و قیام دائمی ہوگا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ عدن وسط جنت کا نام ہے جو جنت کے مقامات میں بھی اعلیٰ مقام ہے،- اس کے بعد ان حضرات کے لئے ایک اور انعام یہ ذکر فرمایا گیا کہ یہ انعام ربانی صرف ان لوگوں کی ذات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں اور اولاد کو بھی اس میں حصہ ملے گا شرط یہ ہے کہ وہ صالح ہوں جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ مسلمان ہوں اور مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں کا اپنا عمل اگرچہ اس مقام پر پہنچنے کے قابل نہ تھا مگر اللہ کے مقبول بندوں کی رعایت اور برکت سے ان کو بھی اسی مقام بلند پر پہنچا دیا جائے گا۔- اس کے بعد دار آخرت میں ان کی فلاح و کامیابی کا مزید بیان یہ ہے کہ فرشتے ہر دروازے سے ان کو سلام کرتے ہوئے داخل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارے صبر کی وجہ سے تمام تکلیفوں سے سلامتی ہے اور یہ کیسا اچھا انجام ہے دار آخرت کا۔- (آیت) جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے مقبول اور نیک بندوں کو خود بھی جنت میں مقام ملے گا اور ان کی رعایت سے ان کے ماں باپ بیوی اور اولاد کو بھی شرط یہ ہے کہ یہ لوگ صالح یعنی مومن اور مسلمان ہوں کافر نہ ہوں اگرچہ اعمال صالحہ میں اپنے بزرگ کے برابر نہ ہوں مگر اللہ تعالیٰ اس بزرگ کی برکت سے ان لوگوں کو بھی اسی مقام جنت میں پہنچا دیں گے جو اس بزرگ کا مقام ہے جیسے دوسری آیت میں مذکور ہے اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ یعنی اپنے نیک بندوں کی ذریت اور اولاد کو بھی انہی کے ساتھ کردیں گے - اس سے معلوم ہو کہ بزرگوں کے ساتھ تعلق خواہ نسب اور قرابت کا ہو یا دوستی کا وہ آخرت میں بھی بشرط ایمان نفع دے گا۔

24

سَلَٰمٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى ٱلدَّارِ

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے

٦ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ سے معلوم ہوا کہ آخرت کی نجات اور درجات عالیہ سب اس کا نتیجہ ہوتے ہیں کہ انسان دنیا میں صبر سے کام لے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کو ادا کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے پر اپنے نفس کو مجبور کرتا رہے

25

وَٱلَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ ٱللَّهِ مِنۢ بَعْدِ مِيثَٰقِهِۦ وَيَقْطَعُونَ مَآ أَمَرَ ٱللَّهُ بِهِۦٓ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۙ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوٓءُ ٱلدَّارِ

اور جو لوگ خدا سے عہد واثق کر کے اس کو توڑ ڈالتے اور (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو قطع کر دیتے ہیں اور ملک میں فساد کرتے ہیں۔ ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے

خلاصہ تفسیر :- اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر ( اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی (اور اس کی عیش و عشرت) آخرت کے مقابلہ میں بجز ایک متاع قلیل کے اور کچھ بھی نہیں اور یہ کافر لوگ (آپ کی نبوت میں طعن و اعتراض کرنے کے لئے یوں) کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر کوئی معجزہ (ہمارے فرمائشی معجزوں میں سے) ان کے رب کی طرف سے کیوں نہیں نازل کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجئے کہ واقعی (تمھاری ان بیہودہ فرمائشوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ) اللہ تعالیٰ جس کو چاہیں گمراہ کردیتے ہیں (وجہ معلوم ہونے کی ظاہر ہے کہ باوجود معجزات کافیہ کے جن میں سب سے اعظم قرآن ہے پھر فضول باتیں کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسمت ہی میں گمراہی لکھی ہے) اور (جس طرح معاندین کو قرآن جو اعظم معجزات ہے ہدایت کے لئے کافی نہ ہوا اور گمراہی ان کو نصیب ہوئی اسی طرح) جو شخص ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے (اور طریق حق کا طالب ہوتا ہے جس کا مصداق آگے آتا ہے (آیت) اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ الخ) اس کو اپنی طرف (رسائی دینے کے لئے) ہدایت کردیتے ہیں (اور گمراہی سے بچا لیتے ہیں) مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے (جس کی بڑی فرد قرآن ہے) ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے (جس کی بڑی فرد ایمان ہے یعنی وہ قرآن اعجاز کو دلالت علی النبوۃ کے لئے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمائش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور اطاعت میں ان کی ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی اور) خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر (کی ایسی ہی خاصیت ہے کہ اس) سے دل کو اطمینان ہوجاتا ہے (یعنی جس مرتبے کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان چناچہ قرآن سے ایمان اور اعمال صالحہ سے اطاعت کا شدت تعلق اور توجہ الی اللہ میسر ہوتا ہے غرض) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے (جن کا ذکر اوپر ہوا) ان کے لئے (دنیا میں) خوش حالی اور (آخرت میں) نیک انجامی ہے (جس کو دوسری (آیت) میں فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ الخ سے تعبیر فرمایا ہے اسی طرح) ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اس (امت) سے پہلے اور بہت سی امتیں گذر چکی ہیں (اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی طرف اس لئے رسول بنا کر بھیجا ہے) تاکہ آپ ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنا دیں جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ بھیجی ہے اور (ان کو چاہئے تھا کہ اس نعمت عظمی کی قدر کرتے اور اس کتاب پر کہ وہ معجزہ بھی ہے ایمان لے آتے مگر) وہ لوگ ایسے بڑے رحمت والے کی ناسپاہی کرتے ہیں (اور قرآن پر ایمان نہیں لاتے) آپ فرما دیجئے کہ (تمہارے ایمان نہ لانے سے میرا کوئی ضرر نہیں کیونکہ تم زیادہ سے زیادہ میرے ساتھ مخالفت کرو گے سو اس سے مجھ کو اس لئے اندیشہ نہیں کہ) وہ میرا مربی (اور نگہبانی ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (پس لامحالہ وہ کامل الصفات ہوگا اور حفاظت کے لئے کافی ہوگا اس لئے) میں نے اسی پر بھروسہ کرلیا اور اسی کے پاس مجھ کو جانا ہے (خلاصہ یہ کہ میری حفاظت کے لئے تو اللہ تعالیٰ کافی ہے تم مخالفت کر کے میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے البتہ تمہارا ہی ضرر ہے)- معارف و مسائل :- …

26

ٱللَّهُ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ وَفَرِحُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا فِى ٱلْءَاخِرَةِ إِلَّا مَتَٰعٌۭ

خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے

Explained together with ayah 25

27

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌۭ مِّن رَّبِّهِۦ ۗ قُلْ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهْدِىٓ إِلَيْهِ مَنْ أَنَابَ

اور کافر کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو (اس کی طرف) رجوع ہوتا ہے اس کو اپنی طرف کا رستہ دکھاتا ہے

Explained together with ayah 25

28

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ ٱللَّهِ ۗ أَلَا بِذِكْرِ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

Explained together with ayah 25

29

ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَـَٔابٍۢ

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لیے خوشحالی اور عمدہ ٹھکانہ ہے

Explained together with ayah 25

30

كَذَٰلِكَ أَرْسَلْنَٰكَ فِىٓ أُمَّةٍۢ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهَآ أُمَمٌۭ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ ٱلَّذِىٓ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُونَ بِٱلرَّحْمَٰنِ ۚ قُلْ هُوَ رَبِّى لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ

(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں

Explained together with ayah 25

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.