Muslim99Muslim99
← Tafsir library

13. Ar-Ra'd

The Thunder · Medinan · 43 ayahs

سُورَةُ الرَّعۡدِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 11–20 of 43

11

لَهُۥ مُعَقِّبَٰتٌۭ مِّنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِۦ يَحْفَظُونَهُۥ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا۟ مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ سُوٓءًۭا فَلَا مَرَدَّ لَهُۥ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَالٍ

اس کے آگے اور پیچھے خدا کے چوکیدار ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ خدا اس (نعمت) کو جو کسی قوم کو (حاصل) ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے۔ اور جب خدا کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔ اور خدا کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتا

(آیت) لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ مُعَقِّبٰتٌ- معقبۃ کی جمع ہے اس جماعت کو جو دوسری جماعت کے پیچھے متصل آئے اس کو معقبہ یا متعقبہ کہا جاتا ہے مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ کے لفظی معنی ہیں دونوں ہاتھ کے درمیان مراد انسان کے سامنے کی جہت اور سمت ہے وَمِنْ خَلْفِهٖ پیچھے کی جانب مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ میں من بمعنی باء سببیت کے لئے ہے بامر اللہ کے معنی میں آیا ہے بعض قراءتوں میں یہ لفظ بامر اللہ منقول بھی ہے (روح) - معنی آیت کے ہیں کہ ہر شخص خواہ اپنے کلام کو چھپاتا ہے یا ظاہر کرنا چاہتا ہے اسی طرح اپنے چلنے پھرنے کو رات کی تاریکیوں کے ذریعہ مخفی رکھنا چاہے یا کھلے بندوں سڑکوں پر پھرے ان سب انسانوں کے لئے اللہ کی طرف سے فرشتوں کی جماعتیں مقرر ہیں جو ان کے آگے اور پیچھے سے احاطہ کئے رہتے ہیں جن کی خدمت اور ڈیوٹی بدلتی رہتی ہے اور یکے بعد دیگرے آتی رہتی ہیں ان کے ذمہ یہ کام سپرد ہے کہ وہ بحکم خداوندی انسانوں کی حفاظت کریں۔- صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ فرشتوں کی دو جماعتیں حفاظت کے لئے مقرر ہیں ایک رات کے لئے دوسری دن کے لئے اور یہ دونوں جماعتیں صبح اور عصر کی نمازوں میں جمع ہوتی ہیں صبح کی نماز کے بعد یہ رخصت ہوجاتے ہیں دن کے محافظ کام سنبھال لیتے ہیں اور عصر کی نماز کے بعد یہ رخصت ہوجاتے ہیں رات کے فرشتے ڈیوٹی پر آجاتے ہیں - ابوداؤد کی ایک حدیث میں بروایت علی مرتضی (رض) مذکور ہیں کہ ہر انسان کے ساتھ کچھ حفاظت کرنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی دیوار وغیرہ نہ گر جائے یا کسی گڑھے اور غار میں نہ گر جائے یا کوئی جانور یا انسان اس کو تکلیف نہ پہونچائے البتہ جب حکم الہی کسی انسان کو بلا و مصیبت میں مبتلا کرنے کے لئے نافذ ہوجاتا ہے تو محافظ فرشتے وہاں سے ہٹ جاتے ہیں (روح المعانی)- ابن جریر کی ایک حدیث سے بروایت عثمان غنی (رض) یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان محافظ فرشتوں کا کام صرف دنیاوی مصائب اور تکلیفوں ہی سے حفاظت نہیں بلکہ وہ انسان کو گناہوں سے بچانے اور محفوظ رکھنے کی بھی کوشش کرتے ہیں انسان کے دل میں نیکی اور خوف خدا کے الہام سے غفلت برت کر گناہ میں مبتلا ہی ہوجائے تو وہ اس کی دعاء اور کوشش کرتے ہیں کہ یہ جلد توبہ کر کے گناہ سے پاک ہوجائے پھر اگر وہ کسی طرح متنبہ نہیں ہوتا تب وہ اس کے نامہ اعمال میں گناہ کا کام لکھ دیتے ہیں۔- خلاصہ یہ ہے کہ یہ محافظ فرشتے دین و دنیا دونوں کی مصیبتوں اور آفتوں سے انسان کی سوتے جاگتے حفاظت کرتے رہتے ہیں حضرت کعب احبار (رض) فرماتے ہیں کہ اگر انسان سے یہ حفاظت خداوندی کا پہرہ ہٹا دیا جائے تو جنات ان کی زندگی وبال کردیں لیکن یہ سب حفاظتی پہرے اسی وقت تک کام کرتے ہیں جب تک تقدیر الہی ان کی حفاظت کی اجازت دیتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ ہی کسی بندہ کو مبتلا کرنا چاہیں تو یہ حفاظتی پہرا ہٹ جاتا ہے۔- اسی کا بیان اگلی آیت میں اس طرح کیا گیا ہے :- (آیت) اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ ۭ وَاِذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْۗءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ- یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت امن و عافیت کو آفت و مصیبت میں اس وقت تک تبدیل نہیں کرتے جب تک وہ قوم خود ہی اپنے اعمال و احوال کو برائی اور فساد میں تبدیل نہ کرلے اور جب جب وہ اپنے حالات کو سرکشی اور نافرمانی سے بدلتی ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا طرز بدل دیتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ہی کسی کا برا چاہیں اور عذاب دینا چاہیں تو نہ پھر کوئی اس کو ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی حکم ربانی کے خلاف ان کی مدد کو پہنچ سکتا ہے،- حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کی حفاظت کے لئے فرشتوں کا پہرہ لگا …

12

هُوَ ٱلَّذِى يُرِيكُمُ ٱلْبَرْقَ خَوْفًۭا وَطَمَعًۭا وَيُنشِئُ ٱلسَّحَابَ ٱلثِّقَالَ

اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے

(آیت) هُوَ الَّذِيْ يُرِيْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنْشِئُ السَّحَاب الثِّقَالَ- یعنی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پاک ہے جو تمہیں برق و بجلی دکھلاتا ہے جو انسان کے لئے خوف بھی بن سکتی ہے کہ جس جگہ پڑجائے سب کچھ خاک کر ڈالے اور طمع بھی ہوتی ہے کہ بجلی کی چمک کے بعد بارش آئے گی جو انسان اور حیوانات کی زندگی کا سہارا اور وہی ذات پاک ہے جو بڑے بڑے بھاری بادل سمندر سے مان سون بنا کر اٹھاتا ہے اور پھر ان پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو فضا میں بڑی سرعت کے ساتھ کہیں سے کہیں لے جاتا ہے اور اپنے حکم قضا وقدر کے مطابق جس زمین پر چاہتا ہے برساتا ہے

13

وَيُسَبِّحُ ٱلرَّعْدُ بِحَمْدِهِۦ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِۦ وَيُرْسِلُ ٱلصَّوَٰعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَآءُ وَهُمْ يُجَٰدِلُونَ فِى ٱللَّهِ وَهُوَ شَدِيدُ ٱلْمِحَالِ

اور رعد اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے

(آیت) وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ۚ - یعنی تسبیح پڑھتا ہے رعد اللہ تعالیٰ کے حمد وشکر کی اور تسبیح پڑھتے ہیں فرشتے اس کے خوف سے رعد، عرف ومحاورہ میں بادل کی آواز کو کہا جاتا ہے جو بادلوں کے باہمی ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے اس کے تسبیح پڑھنے سے مراد وہی تسبیح ہے جس کے متعلق قرآن کریم ایک دوسری آیت میں آیا ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن یہ تسبیح عام لوگ سن نہیں سکتے۔- اور بعض روایات و حدیث میں ہے کہ رعد اس فرشتہ کا نام ہے جو بارش برسانے پر مسلط ہے اور مامور ہے اس معنی کے اعتبار سے تسبیح پڑھنا ظاہر ہے،- (آیت) وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيْبُ بِهَا مَنْ يَّشَاۗءُ ۔ صواعق، صاعقہ کی جمع ہے زمین پر گرنے والی بجلی کو صاعقہ کہا جاتا ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی یہ بجلیاں زمین پر بھیجتا ہے جن کے ذریعہ جسکو چاہتا ہے جلا دیتا ہے،- (آیت) وَهُمْ يُجَادِلُوْنَ فِي اللّٰهِ ۚ وَهُوَ شَدِيْدُ الْمِحَالِ ۔ لفظ محال، بکسر میم حیلہ و تدبیر کے معنی میں ہے اور عذاب و عقاب کے معنی میں بھی اور قدرت کے معنی میں بھی معنی آیت کے یہ ہیں کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید کے معاملہ میں باہمی جھگڑے اور مجادلہ میں مبتلا ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ بڑی قوی تدبیر کرنے والے ہیں جس کے سامنے کسی کی چال نہیں چلتی ،

14

لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍۢ

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے

Explained together with ayah 13

15

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ طَوْعًۭا وَكَرْهًۭا وَظِلَٰلُهُم بِٱلْغُدُوِّ وَٱلْءَاصَالِ ۩

اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)

Explained together with ayah 13

16

قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ قُلِ ٱللَّهُ ۚ قُلْ أَفَٱتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًۭا وَلَا ضَرًّۭا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِى ٱلظُّلُمَٰتُ وَٱلنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا۟ لِلَّهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوا۟ كَخَلْقِهِۦ فَتَشَٰبَهَ ٱلْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ ٱللَّهُ خَٰلِقُ كُلِّ شَىْءٍۢ وَهُوَ ٱلْوَٰحِدُ ٱلْقَهَّٰرُ

ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے

خلاصہ تفسیر :- آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے کہئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار (یعنی موجد و مبقی یعنی خالق وحافظ) کون ہے (اور چونکہ اس کا جواب متعین ہے اس لئے جواب بھی) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہے کہ اللہ ہے (پھر) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کہئے کہ کیا (یہ دلائل توحید سن کر) پھر بھی تم نے خدا کے سوا دوسرے مددگار (یعنی معبودین) قرار دے رکھے ہیں جو (بوجہ غایت عجز کے) خود اپنی ذات کے نفع نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (اور پھر شرک کے ابطال اور توحید کے احقاق کے بعد اہل توحید واہل شرک اور خود توحید و شرک کے درمیان اظہار فرق کے لئے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ (بھی) کہئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے (یہ مثال ہے مشرک اور موحد کی) یا کہیں تاریکی اور روشنی برابر ہو سکتی ہے (یہ مثال ہے شرک اور توحید کی) یا انہوں نے اللہ کے ایسے شریک قرار دے رکھے ہیں کہ انہوں نے بھی (کسی چیز کو) پیدا کیا ہو جیسا خدا (ان کے اعتراف کے موافق بھی) پیدا کرتا ہے پھر (اس وجہ سے) ان کو (دونوں کا) پیدا کرنا ایک سا معلوم ہواہو (اور اس سے استدلال کیا ہو کہ جب دونوں یکساں خالق ہیں تو دونوں یکساں معبود بھی ہوں گے اس کے متعلق بھی) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی (اپنی ذات وصفات کمال میں) واحد ہے (اور سب مخلوقات پر) غالب ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا پھر (اس پانی سے) نالے (بھر کر) اپنی مقدار کے موافق چلنے لگے (یعنی چھوٹے نالے میں تھوڑا پانی اور بڑے نالے میں زیادہ پانی) پھر وہ سیلاب (کا پانی ) خس و خاشاک کو بہا لایا جو اس (پانی) کی (سطح کے) اوپر (آرہا) ہے (ایک کوڑا کرکٹ تو یہ ہے) اور جن چیزوں کو آگ کے اندر ( رکھ کر) زیور یا اور اسباب (ظروف وغیرہ) بنانے کی غرض سے تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی میل کچیل (اوپر آجاتا) ہے (پس ان دو مثالوں میں دو چیزیں ہیں ایک کار آمد چیز کہ اصل پانی اور اصل مال ہے اور ایک ناکارہ چیز کہ کوڑا کرکٹ میل کچیل ہی غرض) اللہ تعالیٰ حق (یعنی توحید و ایمان وغیرہ) اور باطل (یعنی کفر و شرک وغیرہ) کی اسی طرح کی مثال بیان کر رہا ہے (جس کی تکمیل اگلے مضمون سے ہوتی ہے) سو (ان دونوں مذکورہ مثالوں میں) جو میل کچیل تھا وہ تو پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے کارآمد ہے وہ دنیا میں (نفع رسانی کے ساتھ) رہتی ہے (اور جس طرح حق و باطل کی مثال بیان کی گئی) اللہ تعالیٰ اسی طرح (ہر ضروری مضمون میں) مثالیں بیان کیا کرتے ہیں،- معارف و مسائل :- حاصل دونوں مثالوں کا یہ ہے کہ جیسا کہ ان مثالوں میں میل کچیل برائے چندے اصلی چیز کے اوپر نظر آتا ہے لیکن انجام کار وہ پھینک دیا جاتا ہے اور اصلی چیز رہ جاتی ہے،- اسی طرح گو چند روز حق کے اوپر غالب نظر آئے لیکن آخر کار باطل محو اور مغلوب ہوجاتا ہے اور حق باقی اور ثابت رہتا ہے کذا فی الجلالین۔

17

أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَٱحْتَمَلَ ٱلسَّيْلُ زَبَدًۭا رَّابِيًۭا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِى ٱلنَّارِ ٱبْتِغَآءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَٰعٍۢ زَبَدٌۭ مِّثْلُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْحَقَّ وَٱلْبَٰطِلَ ۚ فَأَمَّا ٱلزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءًۭ ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ فَيَمْكُثُ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ

اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)

Explained together with ayah 16

18

لِلَّذِينَ ٱسْتَجَابُوا۟ لِرَبِّهِمُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَٱلَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا۟ لَهُۥ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفْتَدَوْا۟ بِهِۦٓ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْحِسَابِ وَمَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے

خلاصہ تفسیر - جن لوگوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا (اور توحید اور اطاعت کو اختیار کرلیا) ان کے واسطے اچھا بدلہ (یعنی جنت مقرر) ہے اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا (اور کفر و معصیت پر قائم رہے) ان کے پاس (قیامت کے دن) اگر تمام دنیا بھر کی چیزیں (موجود) ہوں اور (بلکہ) اس کے ساتھ اسی کے برابر اور بھی (مال و دولت) ہو تو سب اپنی رہائی کے لئے دے ڈالیں ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا ( جس کو دوسری آیت میں حساب عسیر فرمایا ہے) اور ان کا ٹھکانا (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہے اور وہ بری قرار گاہ ہے جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے وہ سب حق ہے کیا ایسا شخص اس کی طرح ہوسکتا ہے جو کہ (اس علم سے محض) اندھا ہے (یعنی کافر ومؤ من برابر نہیں) پس نصیحت تو سمجھدار ہی لوگ قبول کرتے ہیں (اور) یہ (سمجھدار) لوگ ایسے ہیں کہ اللہ سے جو کچھ انہوں نے عہد کیا ہے اس کو پورا کرتے ہیں اور (اس) عہد کو توڑتے نہیں اور یہ ایسے ہیں کہ اللہ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم کیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور سخت عذاب کا اندیشہ رکھتے ہیں (جو کفار کے ساتھ خاص ہوگا اس لئے کفر سے بچتے ہیں) اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ اپنے رب کی رضا مندی کے جو یہاں رہ کر (دین حق پر) مضبوط رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو روزی دی ہے اس میں سے چپکے بھی اور ظاہر کر کے بھی (جیسا موقع ہوتا ہے) خرچ کرتے ہیں اور (لوگوں کی) بدسلوکی (جو ان کے ساتھ کی جاوے) حسن سلوک سے ٹال دیتے ہیں (یعنی کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرے تو کچھ خیال نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں) اس جہان میں (یعنی آخرت میں) نیک انجام ان لوگوں کے واسطے ہے یعنی ہمیشہ رہنے کی جنتیں جن میں وہ لوگ بھی داخل ہوں گے اور ان کے ماں باپ اور بیبیوں اور اولاد میں جو (جنت کے) لائق (یعنی مؤ من) ہوں گے (گو ان موصوفین کے درجہ کے نہ ہوں) وہ بھی (جنت میں انکی برکت سے انہی کے درجوں میں) داخل ہوں گے اور فرشتے ان کے پاس ہر (سمت کے) دروازہ سے آتے ہوں گے (اور یہ کہتے ہوں گے) کہ تم (ہر آفت اور خطرہ سے) صحیح سلامت رہو گے بدولت اس کے کہ تم (دین حق پر) مضبوط رہے تھے سو اس جہان میں تمہارا انجام بہت اچھا ہے۔

19

۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ٱلْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰٓ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں

معارف و مسائل :- پچھلی آیتوں میں حق و باطل کو مثالوں کے ذریعہ واضح کیا گیا تھا مذکورہ آیات میں اہل حق اور اہل باطل کی علامات وصفات اور ان کے اچھے اور برے اعمال اور ان کے جزاء سزا کا بیان ہے۔- پہلی آیت میں احکام ربانی کی تعمیل و اطاعت کرنے والوں کے لئے اچھے بدلے کا اور نافرمانی کرنے والوں کے لئے عذاب شدید کا ذکر ہے - دوسری آیت میں ان دونوں کی مثال بینا اور نابینا سے دی گئی ہے اور اس کے آخر میں فرمایا اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَاب یعنی اگرچہ بات واضح ہے مگر اس کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو عقل والے ہیں جن کی عقلیں غفلت و معصیت نے بیکار کر رکھی ہیں وہ اتنے بڑے عظیم فرق کو بھی نہیں سمجھتے

20

ٱلَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ ٱللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ ٱلْمِيثَٰقَ

جو خدا کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتے

تیسری آیت سے ان دونوں فریق کے خاص اعمال اور علامات کا بیان شروع ہوا ہے پہلے احکام الہیہ کے ماننے والوں کی صفات یہ ذکر فرمائی ہیں (آیت) الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں مراد اس سے وہ تمام عہد و پیمان ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے لئے ہیں جن میں سب سے پہلا ربوبیت ہے جو ازل میں تمام ارواح کو حاضر کرکے لیا گیا تھا اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں جس کے جواب میں سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا بلی یعنی کیوں نہیں آپ ضرور ہمارے رب ہیں اسی طرح تمام احکام الہی کی اطاعت تمام فرائض کی ادائیگی اور ناجائز چیزوں سے اجتناب کی منجانب اللہ وصیت اور بندوں کی طرف سے اس کا اقرار مختلف آیات قرآن میں مذکور ہے - دوسری صفت وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ ہے یعنی وہ کسی عہد ومیثاق کی خلاف ورزی نہیں کرتے اس میں وہ عہد و پیمان بھی داخل ہیں جو بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہیں جن کا ذکر ابھی پہلے جملے میں عَهْدِ اللّٰهِ کے الفاظ سے کیا گیا ہے اور وہ عہد بھی جو امت کے لوگ اپنے نبی و رسول سے کرتے ہیں اور وہ معاہدے بھی جو ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کرتا ہے،- ابوداؤد نے بروایت عوف ابن مالک یہ حدیث نقل کی ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام (رض) اجمعین سے اس پر عہد اور بیعت لی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور پانچ وقت نماز کو پابندی سے ادا کریں گے اور اپنے امراء کی اطاعت کریں گے اور کسی انسان سے کسی چیز کا سوال نہ کریں گے۔- جو لوگ اس بیعت میں شریک تھے ان کا حال پابندی عہد میں یہ تھا کہ اگر گھوڑے پر سواری کے وقت ان کے ہاتھ سے کوڑا گر جاتا تو کسی انسان سے نہ کہتے کہ یہ کوڑا اٹھا دو بلکہ خود سواری سے اتر کر اٹھاتے تھے،- یہ صحابہ کرام (رض) اجمعین کے دلوں میں آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت و عظمت اور جذبہ اطاعت کا اثر تھا ورنہ یہ ظاہر تھا کہ اس طرح کے سوال سے منع فرمانا مقصود نہ تھا جیسے حضرت عبداللہ ابن مسعود ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہو رہے تھے دیکھا کہ آنحضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ دے رہے ہیں اور اتفاق سے ان کے دخول مسجد کے وقت آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمہ نکلا کہ بیٹھ جاؤ عبداللہ بن مسعود جانتے تھے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سڑک پر یا بےموقع کسی جگہ کوئی ہے تو وہیں بیٹھ جائے مگر جذبہ اطاعت نے ان کو آگے قدم بڑھانے نہ دیا دروازہ سے باہر ہی جہاں یہ آواز کان میں پڑی اسی جگہ بیٹھ گئے - احکام و ہدایات :- مذکورہ آیات میں انسانی زندگی کے مختلف شعبوں کے متعلق خاص خاص احکام و ہدایات آئی ہیں بعض صراحۃ اور بعض اشارۃ مثلا۔- ١ الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ سے ثابت ہوا کہ جو معاہدہ کسی سے کرلیا جائے اس کی پابندی فرض اور اس کی خلاف ورزی حرام ہے خواہ وہ معاہدہ اللہ اور رسول سے ہو جیسے ایمانی یا مخلوقات میں کسی سے ہو خواہ مسلمان سے یا کافر سے عہد شکنی بہرحال حرام ہے،

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.