Sunan Darmi #2448
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: هُوَ الصَّدَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْأُمْلُوكِيِّ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْقَتْلَى ثَلَاثَةٌ: مُؤْمِنٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ، قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ". قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ:"فَذَلِكَ الشَّهِيدُ الْمُمْتَحَنُ فِي خَيْمَةِ اللَّهِ، تَحْتَ عَرْشِهِ، لَا يَفْضُلُهُ النَّبِيُّونَ إِلَّا بِدَرَجَةِ النُّبُوَّةِ وَمُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ". قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ:"مَصْمَصَةٌ مَحَتْ ذُنُوبَهُ وَخَطَايَاهُ، إِنَّ السَّيْفَ مَحَّاءٌ لِلْخَطَايَا، وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ. وَمُنَافِقٌ جَاهَدَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَإِذَا لَقِيَ الْعَدُوَّ قَاتَلَ حَتَّى يُقْتَلَ، فَذَاكَ فِي النَّارِ، إِنَّ السَّيْفَ لَا يَمْحُو النِّفَاقَ". قَالَ عَبْد اللَّهِ: يُقَالُ لِلثَّوْبِ إِذَا غُسِلَ: مُصْمِصَ.
اردو ترجمہ · Urdu
عتبہ بن عبد السلمی نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل ہونے والے تین قسم کے ہیں: (1) ایک تو وہ مومن جس نے اللہ کے راستے میں اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کیا، دشمن سے مڈ بھیڑ ہوئی تو قتال کیا اور مارا گیا“، ایسے مقتول کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ آزمایا ہوا وہ شہید ہے جو عرش کے نیچے اللہ کے خیمے میں ہوگا اور انبیاء اس سے درجہ نبوت میں بڑھے ہوئے ہونگے۔“ (2) ”دوسرا وہ مومن ہے جس کے اچھے برے اعمال خلط ملط رہے، اس نے اللہ کے راستے میں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کیا، جب دشمن سے مڈ بھیڑ ہوئی تو قتال کیا یہاں تک کہ قتل کردیا گیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مقتول کے بارے میں فرمایا: ”یہ چوسنے والی چیز ہے جس نے اس کے گناہ اورلغزشیں مٹا دیں کیونکہ تلوار گناہوں کو مٹا دینے والی ہے، ایسا مقتول جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل کردیا جائے گا۔“ (3) ”تیسرا مقتول وہ منافق ہے جس نے اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کیا، دشمن سے ملاقات ہوئی تو (خوب) جنگ کی یہاں تک کہ مار ڈالا گیا لیکن وہ جہنم میں جائے گا اور تلوار نفاق (کے داغ) کو نہ مٹا سکے گی۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: جب کپڑا دھو کر ڈال دیا جائے تو اس کو مصص بولتے ہیں۔ لہٰذا مصمصہ کے معنی ہوئے: دھلی ہوئی چیز۔