Sunan Darmi #2447
(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّهَدَاءِ، وَلَوْلَا عَبْدُ اللَّهِ لَمْ يُحَدِّثْنَا أَحَدٌ، قَالَ: "أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حَوَاصِلِ طَيْرٍ خُضْرٍ، لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ، تَسْرَحُ فِي أَيِّ الْجَنَّةِ شَاءُوا ثُمَّ تَرْجِعُ إِلَى قَنَادِيلِهَا فَيُشْرِفُ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ، فَيَقُولُ: أَلَكُمْ حَاجَةٌ؟. تُرِيدُونَ شَيْئًا؟، فَيَقُولُونَ: لَا، إِلَّا أَنْ نَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَنُقْتَلَ مَرَّةً أُخْرَى".
اردو ترجمہ · Urdu
مسروق رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے شہیدوں کی ارواح کے بارے پوچھا۔ اور اگر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نہ ہوتے تو ہمیں کوئی حدیث نہ بتاتا، انہوں نے کہا: شہیدوں کی ارواح اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سبز پرندوں کے قالب میں ہوں گی، جو عرش سے لٹکی ہوئی قنادیل میں بسیرا کرتی ہوں گی، اور جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہونگی، اور پھر اپنی قندیلوں میں لوٹ آتی ہونگی، ان کا رب (رب العالمین) ان کی طرف جھانکے گا اور پوچھے گا: ”تم کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟“ وہ روحیں کہیں گی: ہمیں اور کسی چیز کی حاجت نہیں سوائے اسکے کہ ہم دنیا میں لوٹ جائیں اور پھر دوبارہ ماری جائیں (یعنی شہید کی جائیں)۔