Sunan Darmi #2449
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْهُ إِلَّا الْفَرَائِضَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهَلْ ذَلِكَ مُكَفِّرٌ عَنْهُ خَطَايَاهُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نَعَمْ، إِذَا قُتِلَ صَابِرًا، مُحْتَسِبًا، مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ، إِلا الدَّيْنَ فَإِنَّهُ مَأْخُوذٌ بِهِ كَمَا زَعَمَ لِي جِبْرِيلُ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا: اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، پھر جہاد کا تذکرہ کیا تو کوئی ایسی چیز نہ چھوڑی جو جہاد سے افضل ہو (یعنی جہاد کو افضل ترین بتایا) سوائے فرائض کے، ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول الله! بتایئے اگر کوئی شخص اللہ کے راستے میں مار ڈالا جائے تو کیا اس کی غلطیاں معاف کر دی جائیں گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جو صبر کے ساتھ اجر کی نیت سے اگر بڑھتے ہوئے مارا گیا پیچھے ہٹتے ہوئے نہیں (اس کی ساری خطائیں معاف کردی جائیں گی) قرض کے علاوہ، اس کا شہید ہونے کے بعد بھی اس سے مواخذہ کیا جائے گا جیسا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے ابھی بتایا ہے۔“