Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 18

مقدمہ

18. فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان

9 hadiths in this chapter

123

Sunan Darmi #123

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَوْمًا إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: "لَا تَسْأَلْ عَمَّا لَمْ يَكُنْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَلْعَنُ مَنْ سَأَلَ عَمَّا لَمْ يَكُنْ".

اردو ترجمہ · Urdu

حماد بن یزید نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ایک دن ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور آپ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جس کا مجھے علم نہیں، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جو چیز وقوع پذیر نہیں ہوئی اس کے بارے میں نہ پوچھو، میں نے سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو ایسے شخص پر لعنت کرتے سنا ہے جو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کرے جو (ظہور پذیر) نہیں ہوئی ہیں۔

124

Sunan Darmi #124

See Details

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ كَانَ يَقُولُ إِذَا سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ: "أَكَانَ هَذَا؟ فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، قَدْ كَانَ، حَدَّثَ فِيهِ بِالَّذِي يَعْلَمُ وَالَّذِي يَرَى، وَإِنْ قَالُوا: لَمْ يَكُنْ، قَالَ: فَذَرُوهُ حَتَّى يَكُونَ".

اردو ترجمہ · Urdu

امام زہری نے کہا کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ پوچھتے تھے: کیا یہ واقعہ رونما ہو چکا ہے؟ اگر ان کا جواب ہاں میں ہوتا تو ان سے حدیث بیان کر دیتے یا پھر اپنی رائے ظاہر کر دیتے تھے اور اگر لوگوں کا جواب ”نہیں“ میں ہوتا تو کہہ دیتے تھے کہ جانے دو جب وقوع پذیر ہو تو پوچھنا۔

125

Sunan Darmi #125

See Details

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: سُئِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ: "هَلْ كَانَ هَذَا بَعْدُ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: دَعُونَا حَتَّى تَكُونَ، فَإِذَا كَانَ، تَجَشَّمْنَاهَا لَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

عامر نے کہا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے پوچھا یہ رونما ہو چکا ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں تو عمار نے کہا: جب تک واقع نہ ہو ہمیں چھوڑ دو اور اگر وہ واقعہ وقوع پذیر ہو چکے تو ہم تمہارے لئے مسئلہ کے چھان بین کی مشقت برداشت کریں گے۔

126

Sunan Darmi #126

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ: "أُحَرِّجُ بِاللَّهِ عَلَى رَجُلٍ سَأَلَ عَمَّا لَمْ يَكُنْ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ بَيَّنَ مَا هُوَ كَائِنٌ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: میں اس شخص کو گنہگار سمجھتا ہوں جو فرضی مسئلہ پوچھے کیونکہ جو چیز ظہور پذیر ہونے والی ہے اسے الله تعالیٰ نے بیان فرما دیا ہے۔

127

Sunan Darmi #127

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ،، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ، كُلُّهُنَّ، فِي الْقُرْآنِ مِنْهُنَّ، يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 217، وَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، قَالَ: مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے بہتر لوگ نہیں دیکھے، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں صرف ۱۳ مسئلے آپ سے پوچھے تھے، جو سب کے سب قرآن پاک میں مذکور ہیں، جیسے: «﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ ﴾» (البقرة: ۲۱۷/۲) ”لوگ آپ سے شہر حرام کے بارے میں پوچھتے ہیں“، «﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ﴾» (البقرة: ۲۲۲/۲) ”لوگ آپ سے حیض کے مسائل دریافت کرتے ہیں۔“ نیز انہوں نے بتایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف وہی سوال اور مسئلہ پوچھتے تھے جو انہیں سودمند ہوتا۔

128

Sunan Darmi #128

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ , عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: "لَمَنْ أَدْرَكْتُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرُ مِمَّنْ سَبَقَنِي مِنْهُمْ، فَمَا رَأَيْتُ قَوْمًا أَيْسَرَ سِيرَةً، وَلَا أَقَلَّ تَشْدِيدًا مِنْهُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

عمر بن اسحاق نے کہا: اپنے سے پہلے لوگوں میں سب سے زیادہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو پایا، میں نے ان سے زیادہ آسان سیرت اور سب سے کم سختی کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔

129

Sunan Darmi #129

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ، وَسُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ مَاتَتْ مَعَ قَوْمٍ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ، فَقَالَ: "أَدْرَكْتُ أَقْوَامًا مَا كَانُوا يُشَدِّدُونَ تَشْدِيدَكُمْ، وَلَا يَسْأَلُونَ مَسَائِلَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

رجاء بن حیوہ نے کہا: میں نے عبادہ بن نسی الکندی سے سنا ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جو کچھ لوگوں کے ساتھ فوت ہو گئی اور اس کا کوئی ولی موجود نہیں تھا تو انہوں نے کہا: میں نے ایسی جماعت کو پایا جو نہ تمہاری طرح تشدد کرتے اور نہ تمہارے جیسے مسائل پوچھتے تھے۔

130

Sunan Darmi #130

Zaeef

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، بِمَرْجِ الدِّيبَاجِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ خَلْوَةً، فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ لِي: مَا تَصْنَعُ بِالْمَسَائِلِ؟، قُلْتُ:"لَوْلَا الْمَسَائِلُ، لَذَهَبَ الْعِلْمُ، قَالَ: "لَا تَقُلْ ذَهَبَ الْعِلْمُ، إِنَّهُ لَا يَذْهَبُ الْعِلْمُ مَا قُرِئَ الْقُرْآنُ، وَلَكِنْ لَوْ قُلْتَ: يَذْهَبُ الْفِقْهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن مسلم قرشی نے کہا کہ میں ابن محیریز کے ساتھ وادی مرج الدیباج میں تھا، انہیں تنہا پا کر میں نے ان سے ایک مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: تم مسائل پوچھ کر کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اگر مسائل نہ ہوتے تو علم مٹ جاتا، کہنے لگے یہ نہ کہو کہ علم مٹ جاتا، جب تک قرآن کریم پڑھا جاتا رہے گا، علم نہیں مٹے گا، ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ سمجھ بوجھ اٹھ جائے گی۔

131

Sunan Darmi #131

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّا لَا نَدْرِي، "لَعَلَّنَا نَأْمُرُكُمْ بِأَشْيَاءَ لَا تَحِلُّ لَكُمْ، وَلَعَلَّنَا نُحَرِّمُ عَلَيْكُمْ أَشْيَاءَ هِيَ لَكُمْ حَلَالٌ، إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَ مِنْ الْقُرْآنِ آيَةُ الرِّبَا، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُبَيِّنْهَا لَنَا حَتَّى مَاتَ، فَدَعُوا مَا يَرِيبُكُمْ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

امام شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! ہم نہیں جانتے، ہو سکتا ہے ہم تمہیں ایسے امور کا حکم دیں جو تمہارے لئے جائز نہ ہوں، ہو سکتا ہے ہم تمہارے لئے ایسی چیزیں حرام قرار دے دیں جو اصل میں تمہارے لئے حلال ہوں، قرآن کریم میں آخری آیت سود والی نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے اس کی اچھی طرح وضاحت بھی نہ کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما گئے، اس لئے جس چیز میں تمہیں شبہ ہو اسے چھوڑ دو اور جس میں شبہ نہیں اس سے اپنا لو (اس پر عمل کرو)۔