Muslim99Muslim99

Sunan Darmi · Book 1 · Chapter 17

مقدمہ

17. ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو

21 hadiths in this chapter

102

Sunan Darmi #102

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُمَا كَانَا جَالِسَيْنِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُمَا عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لِحُذَيْفَةَ: "لِأَيِّ شَيْءٍ تَرَى يَسْأَلُونِي عَنْ هَذَا؟، قَالَ: يَعْلَمُونَهُ ثُمَّ يَتْرُكُونَهُ، فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: مَا سَأَلْتُمُونَا عَنْ شَيْءٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى نَعْلَمُهُ، أَخْبَرْنَاكُمْ بِهِ، أَوْ سُنَّةٍ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْنَاكُمْ بِهِ، وَلَا طَاقَةَ لَنَا بِمَا أَحْدَثْتُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالله بن مسعود اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا اور ان سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: جانتے ہو یہ لوگ اس چیز کے بارے میں مجھ سے کیوں سوال کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: معلوم کر کے چھوڑ دیتے ہوں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: جس چیز کے بارے میں تم نے سوال کیا اور اللہ کی کتاب میں سے ہمیں اس کا علم ہوا تو ہم نے تمہیں اس کی اطلاع دے دی یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں جو چیز ہمیں ملی تمہیں بتا دی اور جو تم نے نئی باتیں ایجاد کر لیں ان کا فتوی دینے کی ہم میں طاقت نہیں۔

103

Sunan Darmi #103

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: "مَا خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ خُطْبَةً بِالْكُوفَةِ إِلَّا شَهِدْتُهَا، فَسَمِعْتُهُ يَوْمًا، وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَمَانِيَةً وَأَشْبَاهِ ذَلِكَ، قَالَ: هُوَ كَمَا، قَالَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ كِتَابَهُ وَبَيَّنَ بَيَانَهُ، فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقَدْ بُيِّنَ لَهُ، وَمَنْ خَالَفَ فَوَاللَّهِ مَا نُطِيقُ خِلَافَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

نزال بن سبرہ نے کہا: سیدنا عبدالله (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں جو بھی خطبہ دیا میں اس میں حاضر رہا، ایک دن میں نے انہیں کہتے سنا، ان سے ایسے آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو آٹھ بار طلاق دیدے۔ انہوں نے جواب دیا جتنی اس نے کہا واقع ہو گئیں، بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اس کی وضاحت فرما دی، اب جو آدمی اس کے مطابق عمل کرے تو الله تعالیٰ نے اسے واضح کر دیا، اور جس نے مخالفت کی اللہ کی قسم ہم تو تمہاری (طرح) مخالفت کی طاقت نہیں رکھتے۔

104

Sunan Darmi #104

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، قَالَ: "شَهِدْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَأَتَاهُ رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ فِي تَحْرِيمٍ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَيَّنَ، فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ، فَقَدْ بُيِّنَ، وَمَنْ خَالَفَ، فَوَاللَّهِ مَا نُطِيقُ خِلَافَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

نزال بن سبرہ نے کہا: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو ایک مرد ایک عورت حرمت کا مسئلہ لے کر ان کے پاس آئے (یعنی طلاق کا)، انہوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرما دی ہے، جو شخص اس وضاحت کے عین مطابق چلا تو (حکم) واضح ہے، اور جو اس کے خلاف چلا تو تمہارے اس خلاف کے مطابق فتویٰ دینے کی ہمیں طاقت نہیں ہے۔

105

Sunan Darmi #105

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ: "أَنَّهُ كَانَ لَا يَقُولُ بِرَأْيِهِ إِلَّا شَيْئًا سَمِعَهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

اشعث نے کہا: ابن سیرین اپنی رائے سے کچھ نہ کہتے، وہی کہتے جو سنا ہوتا۔

106

Sunan Darmi #106

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَثَّامٌ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ عَثَّامٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "مَا سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ بِرَأْيِهِ فِي شَيْءٍ قَطُّ".

اردو ترجمہ · Urdu

اعمش نے کہا: میں نے ابراہیم کو کسی بارے میں اپنی رائے سے کبھی کچھ کہتے نہیں سنا۔

107

Sunan Darmi #107

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: "مَا قُلْتُ بِرَأْيِي مُنْذُ ثَلَاثُونَ سَنَةً"، قَالَ أَبُو هِلَالٍ:"مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً".

اردو ترجمہ · Urdu

قتاده رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے تیس سال سے اپنی رائے سے کچھ نہیں کہا۔ ابوہلال نے چالیس سال بتایا۔

108

Sunan Darmi #108

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ أَبِي خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: قِيلَ لَهُ: أَلَا تَقُولُ فِيهَا بِرَأْيِكَ؟، قَالَ: "إِنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدَانَ فِي الْأَرْضِ بِرَأْيِي".

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالعزیز بن رفیع سے مروی ہے کہ عطاء رحمہ اللہ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے «لا أدري» ”میں نہیں جانتا“ کہا۔ ان سے کہا گیا اپنی رائے سے بھی کچھ نہ کہیں گے؟ فرمایا: مجھے اللہ عز وجل سے شرم آتی ہے کہ روئے زمین پر میرے قول کی پیروی کی جائے۔

109

Sunan Darmi #109

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، أَخْبَرَنِي حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عِيسَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: "كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ فِيهِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَخْبِرْنِي أَنْتَ بِرَأْيِكَ، فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا؟ أَخْبَرْتُهُ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَيَسْأَلُنِي عَنْ رَأْيِي، وَدِينِي عِنْدِي آثَرُ مِنْ ذَلِكَ، وَاللَّهِ لَأَنْ أَتَغَنَّى أُغْنِيَّةً أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُخْبِرَكَ بِرَأْيِي".

اردو ترجمہ · Urdu

امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ایک شخص نے آ کر کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا، میں نے کہا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ (اس بارے میں) ایسا یا اس طرح کہتے ہیں۔ اس نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے؟ شعبی رحمہ اللہ نے کہا: تمہیں اس آدمی پرتعجب نہیں ہوتا؟ میں نے اسے کہا کہ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں اور یہ کہتا ہے مجھے اپنی رائے بتایئے، حالانکہ میرا مسلک (یعنی دوسروں کی رائے نقل کرنا) میرے نزدیک زیادہ راجح ہے۔ اللہ کی قسم اپنی رائے کے اظہار سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں گانے گاتا پھروں۔

110

Sunan Darmi #110

Zaeef

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ هُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عِيسَى، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "إِيَّاكُمْ وَالْمُقَايَسَةَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ أَخَذْتُمْ بِالْمُقَايَسَةِ لَتُحِلُّنَّ الْحَرَامَ وَلَتُحَرِّمُنَّ الْحَلَالَ، وَلَكِنْ مَا بَلَغَكُمْ عَمَّنْ حَفِظَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْمَلُوا بِهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: قیاس آرائی سے بچو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم نے قیاس آرائی کی تو یقیناً حرام کو حلال اور حلال کو حرام کر ڈالو گے، اس لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے محفوظات سے تم تک جو پہنچا ہے اسی پر عمل کرو۔

111

Sunan Darmi #111

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ ثَمَانِيًا، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ؟، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ طَلْقَةٍ قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ؟، قَالَ: بِكَلَامٍ وَاحِدٍ، قَالَ: فَيُرِيدُونَ أَنْ يُبِينُوا مِنْكَ امْرَأَتَكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "مَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ الطَّلَاقَ وَمَنْ لَبَّسَ عَلَى نَفْسِهِ، وَكَّلْنَا بِهِ لَبْسَهُ وَاللَّهِ لَا تُلَبِّسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ نَحْنُ، هُوَ كَمَا تَقُولُونَ".

اردو ترجمہ · Urdu

علقمہ نے کہا ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے پچھلی شب اپنی بیوی کو آٹھ طلاق دے دیں، پوچھا ایک بار میں؟ کہا: ایک کلمہ میں۔ پوچھا وہ تم سے تمہاری بیوی جدا کرانا چاہتے ہیں، کہا: ہاں۔ راوی نے کہا پھر دوسرا آدمی آیا کہ اس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں داغ دی ہیں، پوچھا ایک بار میں؟ کہا: ہاں (یعنی یہ کہا میں نے سو طلاق دیں)۔ سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو لوگ طلاق بائنہ سمجھ کر تمہاری بیوی کو جدا کرانا چاہتے ہیں، عرض کیا جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق (ایک ایک کر کے) طلاق دی تو اللہ تعالیٰ نے اسے بیان فرما دیا ہے، اور جس نے خلط ملط کیا ہم نے اسے اسی خلط کے حوالے کر دیا، واللہ گڑبڑ تم کرتے ہو اس کا بوجھ ہم اٹھائیں اب فیصلہ ویسا ہی ہے جیسا تم کر چکے ہو یعنی (طلاق بائن ہوگئی)۔

112

Sunan Darmi #112

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: "لَأَنْ يَعِيشَ الرَّجُلُ جَاهِلًا بَعْدَ أَنْ يَعْلَمَ حَقَّ اللَّهِ عَلَيْهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ".

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم نے کہا: اللہ تعالیٰ کے حق کو اپنے اوپر جاننے کے بعد آدمی اگر جاہل بن کر جیئے تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ جو جانتا نہیں ہے اس کے متعلق کچھ کہے۔

113

Sunan Darmi #113

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ سُئْلُ، قَالَ: "إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ كُلَّ مَا تَسْأَلُونَ عَنْهُ، وَلَوْ عَلِمْنَا مَا كَتَمْنَاكُمْ، وَلَا حَلَّ لَنَا أَنْ نَكْتُمَكُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

ایوب نے کہا: میں نے قاسم کو سنا، ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: والله ہم کو ان تمام چیزوں کا علم نہیں ہے جو تم ہم سے پوچھتے ہو، اور اگر ہمیں علم ہوتا تو ہم نہ تم سے چھپاتے اور نہ ہی ہمارے لئے چھپانا جائز ہوتا۔

114

Sunan Darmi #114

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: سُئِلَ الْقَاسِمُ عَنْ شَيْءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَقَالَ: "مَا أَضْطَرُّ إِلَى مَشُورَةٍ، وَمَا أَنَا مِنْ ذَي فِي شَيْءٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالله بن عون نے کہا: قاسم (بن محمد الفقیہ) سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: نہ مجھے مشورے کی ضرورت ہے اور نہ میں اس کے لائق ہوں۔

115

Sunan Darmi #115

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: قُلْتُ لِلْقَاسِمِ: مَا أَشَدَّ عَلَيَّ أَنْ تُسْأَلَ عَنْ الشَّيْءِ لَا يَكُونُ عِنْدَكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ إِمَامًا، قَالَ: "إِنَّ أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ مَنِ عَقَلَ عَنْ اللَّهِ أَنْ أُفْتِيَ بِغَيْرِ عِلْمٍ، أَوْ أَرْوِيَ عَنْ غَيْرِ ثِقَةٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

یحییٰ نے کہا میں نے قاسم سے کہا: میرے اوپر بڑا شاق گزرتا ہے آپ سے کوئی سوال کیا جائے اور آپ اس سے لاعلمی کا اظہار کریں حالانکہ آپ کے والد امام وقت تھے۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کے اور اس کے نزدیک جسے اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقل و سمجھ ہے اس سے بھی زیادہ شاق اور شدید (سخت امر) یہ ہے کہ میں بنا علم فتویٰ دوں یا غیر ثقہ راوی سے کچھ روایت کروں۔

116

Sunan Darmi #116

See Details

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ الْعَوَّامِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، قَالَ: "كَانُوا إِذَا نَزَلَتْ بِهِمْ قَضِيَّةٌ لَيْسَ فِيهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَثَرٌ، اجْتَمَعُوا لَهَا وَأَجْمَعُوا، فَالْحَقُّ فِيمَا رَأَوْا، فَالْحَقُّ فِيمَا رَأَوْا"..

اردو ترجمہ · Urdu

مسیّب بن رافع نے کہا کہ جب لوگوں کو کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اثر منقول نہیں ہوتا تو اس کے لئے سب جمع ہوتے اور اجماع قائم ہوتا اور حق وہی ہے جو ان کی رائے ہوتی، حق وہی ہے جس پر انہوں نے اجماع کیا۔

117

Sunan Darmi #117

Zaeef

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، عَنْ الْعَوَّامِ بِهَذَا..

اردو ترجمہ · Urdu

دوسری سند سے عوام بن حوشب نے بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے۔

118

Sunan Darmi #118

Zaeef

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ، أَنَّ وَهْبَ بْنَ عَمْرٍو الْجُمَحِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تَعْجَلُوا بِالْبَلِيَّةِ قَبْلَ نُزُولِهَا، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَا تَعْجَلُوهَا قَبْلَ نُزُولِهَا، لَا يَنْفَكُّ الْمُسْلِمُونَ وَفِيهِمْ إِذَا هِيَ نَزَلَتْ مَنْ إِذَا قَالَ، وُفِّقَ وَسُدِّدَ، وَإِنَّكُمْ إِنْ تَعْجَلُوهَا، تَخْتَلِفْ بِكُمْ الْأَهْوَاءُ، فَتَأْخُذُوا هَكَذَا وَهَكَذَا، وَأَشَارَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ".

اردو ترجمہ · Urdu

وہب بن عمرو جمحی نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مصیبت کے نزول سے پہلے جلد بازی نہ کرو، اگر تم اس کے نزول سے پہلے جلدی نہ کرو گے تو مسلمان اس سے اس وقت تک چھٹکارہ نہ پائیں گے جب ان میں ایسا شخص موجود رہے گا جو کہے تو باتوفیق و درست و سچا ہو، اور اگر تم نے اس میں جلد بازی کی تو تمہاری آراء مختلف ہو جائیں گی اور تم اس طرح پکڑ لو گے“، اپنے ہاتھوں سے آپ نے دائیں بائیں اشارہ کیا۔

119

Sunan Darmi #119

Sahih

(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمْرِ يَحْدُثُ لَيْسَ فِي كِتَابٍ وَلَا سُنَّةٍ، فَقَالَ: "يَنْظُرُ فِيهِ الْعَابِدُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ".

اردو ترجمہ · Urdu

یحییٰ بن حمزہ نے کہا کہ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے امر کے بارے میں دریافت کیا گیا جو قرآن و حدیث میں نہ ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں عبادت گزار مؤمنین غور کریں گے۔“

120

Sunan Darmi #120

Sahih

(حديث مقطوع) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ الْقَاسِمُ: "إِنَّكُمْ لَتَسْأَلُونَ عَنْ أَشْيَاءَ مَا كُنَّا نَسْأَلُ عَنْهَا، وَتُنَقِّرُونَ عَنْ أَشْيَاءَ مَا كُنَّا نُنَقِّرُ عَنْهَا، وَتَسْأَلُونَ عَنْ أَشْيَاءَ مَا أَدْرِي مَا هِيَ، وَلَوْ عَلِمْنَاهَا مَا حَلَّ لَنَا أَنْ نَكْتُمُكُمُوهَا".

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عون سے مروی ہے، قاسم بن محمد نے کہا: تم لوگ ایسی باتوں کے بارے میں سوال کرتے ہو جن کے بارے میں ہم سوال نہیں کرتے تھے۔ اور تم لوگ ایسی چیزوں کے بارے میں بحث کرتے ہو جن کے بارے میں ہم بحث نہیں کرتے تھے۔ تم ایسی باتیں دریافت کرتے ہو جنہیں میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہیں اور اگر معلوم ہوتیں تو ہمارے لئے ان کا تم سے چھپانا جائز نہیں تھا۔

121

Sunan Darmi #121

Zaeef

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْأَشَجِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّهُ سَيَأْتِي نَاسٌ يُجَادِلُونَكُمْ بِشُبُهَاتِ الْقُرْآنِ، فَخُذُوهُمْ بِالسُّنَنِ، فَإِنَّ أَصْحَابَ السُّنَنِ أَعْلَمُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو قرآن کی (آیات) متشابہات کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں گے، تو تم ان کی احادیث سے گرفت کرنا، اس لئے کہ اہل السنن کتاب اللہ کا بہت اچھی طرح علم رکھتے ہیں۔

122

Sunan Darmi #122

Sahih

(حديث موقوف) أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: "مَا زَالَ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ حَتَّى نَشَأَ فِيهِمْ الْمُوَلَّدُونَ، أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، أَبْنَاءُ النِّسَاءِ الَّتِي سَبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالُوا فِيهِمْ: بِالرَّأْيِ فَأَضَلُّوهُمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

عروہ بن زبیر نے کہا: بنی اسرائیل میں اعتدال قائم تھا اور کوئی خلاف شرع بات ان میں نہ تھی، پھر جب نئی نسل اور دیگر اقوام کے قیدی اور لونڈیوں کی پود آئی تو انہوں نے (دین میں) اپنی رائے داخل کر دی اور انہیں گمراہ کر دیا۔