Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 69 · Chapter 4069

گواہیوں کا بیان

گواہوں کے معاملہ کا بیان اللہ کا فرمان : { وَ اَشْھِدُوْآ اِذَا تَبَایَعْتُمْ }[البقرۃ ٢٨٢] امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : خریدو فروخت کے وقت گواہوں کا موجود ہونا لازمی ہے۔ آیتِ دین سے مراد ایک دوسرے سے خریدو فروخت کرنا ہے۔ [البقرۃ ٢٨٢] { اِنْ کُنْتُمْ عَلٰی سَف

4 hadiths in this chapter

20519

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20519

Sahih

(۲۰۵۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ شَہْرَیَارَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الرَّزْجَاہِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَنْبَأَنَا الصُّوفِیُّ وَہُوَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو ہَمَّامٍ الْوَلِیدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی نَضْرَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : تَلاَ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ إِلَی أَجَلٍ مُسَمًّی} [البقرۃ ۲۸۲] حَتَّی بَلَغَ {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا} [البقرۃ ۲۸۳] قَالَ : ہَذِہِ نَسَخَتْ مَا قَبْلَہَا۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥١٣) ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں : آیت { یٰٓا أَ یُّھَا الَّذِیْْنَ اٰمَنُوْْٓا اِذَا تَدَایَنْْتُمْْ بِدَیْْنٍ اِلٓٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی } [البقرۃ ٢٨٢] ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو جب تم آپس میں قرض کا لین دین کرو تو وقت مقرر تک لکھ لیا کرو۔ “ { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] ” بعض تمہارا بعض سے اس میں ہو۔ “ اس نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔

20520

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20520

Sahih

(۲۰۵۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ عَنْ وُہَیْبٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ فِی ہَذِہِ الآیَۃِ قَالَ {وَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا} [البقرۃ ۲۸۳] قَالَ : إِنْ أَشْہَدْتَ فَحَزْمٌ وَإِنِ ائْتَمَنْتَہُ فَفِی حِلٍّ وَسَعَۃٍ۔ وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ إِنْ شَائَ أَشْہَدَ وَإِنْ شَائَ لَمْ یُشْہِدْ أَلاَ تَسْمَعْ إِلَی قَوْلِہِ {فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا} [البقرۃ ۲۸۳] قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ حُفِظَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ بَایَعَ أَعْرَابِیًّا فِی فَرَسٍ فَجَحَدَ الأَعْرَابِیُّ بِأَمْرِ بَعْضِ الْمُنَافِقِینَ وَلَمْ یَکُنْ بَیْنَہُمَا بَیِّنَۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥١٤) عامر اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] اگر آپ گواہ بنے تو پختہ بات کرنا، اگر امین بنو تو جائز اور وسعت والی بات کرنا۔ (ب) حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہے تو گواہی دے، اگر چاہے تو گواہی نہ دے، کیا آپ نے یہ اللہ کا فرمان نہیں سنا : { فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا } [البقرۃ ٢٨٣] امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دیہاتی سے گھوڑے کے بارے میں بیع کی۔ دیہاتی نے بعض منافقین کی وجہ سے جھگڑا کیا ۔ ان دونوں کے درمیان میں کوئی دلیل نہ تھی۔

20521

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20521

Sahih

(۲۰۵۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ أَنَّ عَمَّہُ حَدَّثَہُ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ قَالاَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی أَخِی أَبُو بَکْرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی عَتِیقٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ أَنَّ عَمَّہُ أَخْبَرَہُ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الأَعْرَابِ فَاسْتَتْبَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِیَقْضِیَ ثَمَنَ فَرَسِہِ فَأَسْرَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- الْمَشْیَ وَأَبْطَأَ الأَعْرَابِیُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ یَعْتَرِضُونَ الأَعْرَابِیَّ وَیُسَاوِمُونَہُ الْفَرَسَ وَلاَ یَشْعُرُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدِ ابْتَاعَہُ حَتَّی زَادَ بَعْضُہُمُ الأَعْرَابِیَّ فِی السَّوْمِ فَلَمَّا زَادُوا نَادَی الأَعْرَابِیُّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِنْ کُنْتَ مُبْتَاعًا ہَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْہُ وَإِلاَّ بِعْتُہُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ سَمِعَ نِدَائَ الأَعْرَابِیِّ حَتَّی أَتَی الأَعْرَابِیَّ فَقَالَ : أَوَلیْسَ قَدِ ابْتَعْتُ مِنْکَ ۔ قَالَ لاَ وَاللَّہِ مَا بِعْتُکَہُ قَالَ : بَلِ ابْتَعْتُہُ مِنْکَ ۔ فَطَفِقَ النَّاسُ یَلُوذُونَ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَبِالأَعْرَابِیِّ وَہُمَا یَتَرَاجَعَانِ فَطَفِقَ الأَعْرَابِیُّ یَقُولُ ہَلُمَّ شَہِیدًا أَنِّی بَایَعْتُکَ فَقَالَ خُزَیْمَۃُ أَنَا أَشْہَدُ أَنَّکَ بَایَعْتَہُ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی خُزَیْمَۃَ فَقَالَ: بِمَ تَشْہَدُ؟ قَالَ بِتَصْدِیقِکَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَہَادَۃَ خُزَیْمَۃَ شَہَادَۃَ رَجُلَیْنِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥١٥) عمارہ بن خزیمہ کے چچا نے خبر دی اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ساتھ لیا تاکہ گھوڑے کی قیمت ادا کریں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیز چلے اور دیہاتی نے دیر کی۔ کچھ لوگ دیہاتی کو ملے اور گھوڑے کی قیمت مقرر کرنے لگے۔ انھیں معلوم نہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خریدا ہوا ہے۔ بعض نے قیمت زیادہ لگا دی۔ جب انھوں نے قیمت زیادہ دینا چاہی تو دیہاتی نے رسول اللہ کو آواز دی کہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لو، وگرنہ میں فروخت کر دوں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب دیہاتی کی آواز سنی تو آئے اور فرمایا : کیا میں نے آپ سے گھوڑا خریدا نہیں ؟ اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے آپ کو فروخت نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا : میں نے تجھ سے خریدا ہے۔ لوکی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پناہ میں آرہے تھے، آپ کی حفاظت کر رہے تھے۔ آپ اور دیہاتی بات چیت کر رہے تھے، دیہاتی نے کہا : گواہ لاؤ کہ میں نے فروخت کیا ہے، تو خزیمہ کہنے لگے : میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے فروخت کیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے، تو نے گواہی کیوں دی ؟ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی وجہ سے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خزیمہ کی گواہی دو آدمیوں کے برابر ہے۔

20522

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20522

Zaeef

(۲۰۵۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَنْبَأَنَا الأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ زُرَارَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَنِی عُمَارَۃُ بْنُ خُزَیْمَۃَ عَنْ أَبِیہِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ابْتَاعَ مِنْ سَوَائِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِیِّ فَرَسًا فَجَحَدَ فَشَہِدَ لَہُ خُزَیْمَۃُ بْنُ ثَابِتٍ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَا حَمَلَکَ عَلَی الشَّہَادَۃِ وَلَمْ تَکُنْ مَعَہُ؟ ۔ قَالَ : صَدَقْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ وَلَکِنْ صَدَّقْتُکَ بِمَا قُلْتَ وَعَرَفْتُ أَنَّکَ لاَ تَقُولُ إِلاَّ حَقًّا فَقَالَ مَنْ شَہِدَ لَہُ خُزَیْمَۃُ أَوْ شَہِدَ عَلَیْہِ فَہُوَ حَسْبُہُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : فَلَوْ کَانَ حَتْمًا لَمْ یُبَایِعْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِلاَ بَیِّنَۃٍ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٥١٦) عمارہ بن خزیمہ اپنے والدخزیمہ بن ثابت سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سواء بن حارث محاربی سے گھوڑا خریدا۔ اس نے جھگڑا کیا تو خزیمہ بن ثابت نے گواہی دی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے گواہی کیوں دی حالانکہ آپ موجود نہ تھے ؟ عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے سچ فرمایا : لیکن میں نے آپ کی تصدیق کی؛ کیونکہ آپ سچ ہی بولتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دیں وہ کافی ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حتمی بات ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر دلیل کی خریدو فروخت نہیں کی۔