Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 4029

قاضی کے اداب کا بیان

جس نے اجتہاد کیا اور اس کا اجتہاد نص، اجماع یا جو اس کے معنی میں ہو کے مخالف ہو تو اپنے اجتہاد سے واپس پلٹ جائے

9 hadiths in this chapter

20377

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20377

Sahih

(۲۰۳۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَنْبَأَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ یَعْنِی الدُّولاَبِیَّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ أَحْدَثَ فِی أَمْرِنَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَہُوَ رَدٌّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧١) سیدہ عائشہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے ہمارے دین میں نئی چیز پیدا کی جو اس سے نہیں وہ مردود ہے۔

20378

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20378

Sahih

(۲۰۳۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ إِدْرِیسَ الأَوْدِیِّ قَالَ : أَخْرَجَ إِلَیْنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی بُرْدَۃَ کِتَابًا فَقَالَ ہَذَا کِتَابُ عُمَرَ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَمَّا بَعْدُ لاَ یَمْنَعُکَ قَضَاء ٌ قَضَیْتَہُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ الْحَقَّ فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِیمٌ لاَ یُبْطِلُ الْحَقَّ شَیْء ٌ وَمُرَاجَعَۃُ الْحَقِّ خَیْرٌ مِنَ التَّمَادِی فِی الْبَاطِلِ۔ وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَیْرُہُ عَنْ سُفْیَانَ وَقَالُوا فِی الْحَدِیثِ لاَ یَمْنَعُکَ قَضَاء ٌ قَضَیْتَہُ بِالأَمْسِ رَاجَعَتَ فِیہِ نَفْسَکَ وَہُدِیتَ فِیہِ لِرُشْدِکَ أنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِیمٌ وَإِنَّ الْحَقَّ لاَ یُبْطِلُہُ شَیْء ٌ وَمُرَاجَعَۃُ الْحَقِّ خَیْرٌ مِنَ التَّمَادِیِّ فِی الْبَاطِلِ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ۲۰۲۸۳]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٢) ادریس اودی فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ نے ایک خط دیا اور کہا : یہ خط عمربن خطاب کی جانب سے ابوموسیٰ کی جانب ہے حمدوثنا کے بعد ! فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے فیصلہ کیا ہے۔ آپ نے حق کی جانب رجوع کیا ہے اور حق ہی قدیم ہے، حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی طرف رجوع زیادہ بہتر ہے باطل میں گزر جانے سے۔ (ب) ابو سفیان کی حدیث میں ہے کہ فیصلہ آپ کو منع نہ کرے جو کل شام آپ نے کیا۔ آپ نے اپنے دل سے مشورہ کیا اور حق کی رہنمائی کی گئی۔ حق قدیم ہے اور حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی اور حق کی جانب رجوع بہتر ہے باطل میں چلے جانے سے۔

20379

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20379

Sahih

(۲۰۳۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَعْقِلٍ حَدَّثَنِی حَرْمَلَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ وَرَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالاَ کَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ یَقُولُ : مَا مِنْ طِینَۃٍ أَہْوَنُ عَلَیَّ فَکًّا وَمَا مِنْ کِتَابٍ أَیْسَرُ عَلَی رَدًّا مِنْ کِتَابٍ قَضَیْتُ بِہِ ثُمَّ أَبْصَرْتُ أَنَّ الْحَقَّ فِی غَیْرِہِ فَفَسَخْتُہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٣) عمر بن عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ گارے کا دور کرنا میرے نزدیک زیادہ آسان ہے اور جو فیصلہ کرو اس کو تبدیل کرنا زیادہ آسان ہے، جب میں اس کے خلاف حق کو دیکھتا ہوں۔ باب مَنِ اجْتَہَدَ مِنَ الْحُکَّامِ ثُمَّ تَغَیَّرَ اجْتِہَادُہُ أَوِ اجْتِہَادُ غَیْرِہِ فِیمَا یَسُوغُ فِیہِ الاِجْتِہَادُ لَمْ یُرَدَّ مَا قَضَی بِہِ حاکم کا اجتہاد کرنا یا اس کے علاوہ کسی دوسرے کا اجتہاد کرنا جائز صورتوں میں پھر اپنے اجتہاد میں تبدیلی کی صورت میں فیصلہ بدلنا جائز نہیں اسْتِدْلاَلاً بِمَا مَضَی فِی خَطَإِ الْقِبْلَۃِ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ

20380

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20380

Zaeef

(۲۰۳۷۴) وَبِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِیسَی أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ قَالَ سَمِعْتُ سِمَاکَ بْنَ الْفَضْلِ الْخَوْلاَنِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ وَہْبِ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِیِّ قَالَ : شَہِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَشْرَکَ الإِخْوَۃَ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ مَعَ الإِخْوَۃِ مِنَ الأُمِّ فِی الثُّلُثِ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : لَقَدْ قَضَیْتَ عَامَ أَوَّلٍ بِغَیْرِ ہَذَا۔ قَالَ : فَکَیْفَ قَضَیْتُ؟ قَالَ : جَعَلْتَہُ لِلأُخْوَۃِ مِنَ الأَبِ وَالأُمِّ وَلَمْ تَجْعَلْ لِلإِخْوَۃِ مِنَ الأُمِّ شَیْئًا۔ قَالَ : تِلْکَ عَلَی مَا قَضَیْنَا وَہَذِہِ عَلَی مَا قَضَیْنَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٤) حکم بن مسعود ثقفی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس تھا۔ انھوں نے حقیقی بھائی کے ساتھ علاتی بھائی کو تیسرے حصہ میں شریک کیا تو ایک آدمی نے کہا : اس سے پہلے سال اس کے الٹ فیصلہ فرمایا تھا۔ کہنے لگے : میں نے کیا فیصلہ کیا تھا ؟ اس نے کہا : حقیقی بھائی کو حصہ دیا تھا اور علاتی کو کچھ بھی نہ دیا تھا۔ فرمانے لگے : وہ ویسے ہی ہے جیسا ہم نے فیصلہ کیا اور یہ اپنی جگہ پر ہے۔

20381

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20381

Sahih

(۲۰۳۷۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ قَالَ : لَوْ کَانَ عَلِیٌّ طَاعِنًا عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَوْمًا مِنَ الدَّہْرِ لَطَعَنَ عَلَیْہِ یَوْمَ أَتَاہُ أَہْلُ نَجْرَانَ وَکَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَتَبَ الْکِتَابَ بَیْنَ أَہْلِ نَجْرَانَ وَبَیْنَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَکَثُرُوا فِی عَہْدِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی خَافَہُمْ عَلَی النَّاسِ فَوَقَعَ بَیْنَہُمْ الاِخْتِلاَفُ فَأَتَوْا عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلُوہُ الْبَدَلَ فَأَبْدَلَہُمْ قَالَ ثُمَّ نَدِمُوا أَوْ وُضِعَ بَیْنَہُمْ شَیْء ٌ فَأَتَوْہُ فَاسْتَقَالُوہُ فَأَبَی أَنْ یُقِیلَہُمْ فَلَمَّا وَلِیَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَوْہُ فَقَالُوا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ شَفَاعَتُکَ بِلِسَانِکَ وَخَطُّکَ بِیَمِینِکَ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَیْحَکُمْ إِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ رَشِیدَ الأَمْرِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٥) سالم بن ابی جعد فرماتے ہیں کہ اگر حضرت علی (رض) سیدنا عمر (رض) پر طعن کرتے تو کبھی تو اس دن کرتے جب ان کے پاس اہل نجران آتی تھے اور حضرت علی (رض) کے اہل نجران اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان خط و کتابت کیا کرتے تھے اور حضرت عمر (رض) کے دور میں زیادہ ہوگیا۔ وہ لوگوں پر ڈرے اور ان کے درمیان اختلاف واقع ہوگیا۔ وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور تبدیلی کا مطالبہ کردیا تو اس نے ان کے کہنے کی بنا پر تبدیلی کردی۔ پھر وہ نادم ہوئے یا ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ پھر انھوں نے بات کی تبدیلی چاہی لیکن انکار کردیا گیا۔ جب حضرت علی (رض) امیرالمومنین بنے تو ان کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے امیرالمومنین ! آپ کی زبان میں شفا اور آپ کے ہاتھ کا خط۔ حضرت علی (رض) فرمانے لگے : تمہاری بربادی ! حضرت عمر (رض) معاملہ فہم انسان تھے۔

20382

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20382

Zaeef

(۲۰۳۷۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَیْمَانُ بْنُ سَلاَّمٍ نَیْسَابُورِیٌّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَنْبَأَنَا عَطَائُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ صَالِحًا الْمُرَادِیَّ یَقُولُ قَالَ عَبْدُ خَیْرٍ کُنْتُ قَرِیبًا مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ جَائَ ہُ أَہْلُ نَجْرَانَ قَالَ قُلْتُ : إِنْ کَانَ رَادًّا عَلَی عُمَرَ شَیْئًا فَالْیَوْمَ قَالَ فَسَلَّمُوا وَاصْطَفُّوا بَیْنَ یَدَیْہِ قَالَ ثُمَّ أَدْخَلَ بَعْضُہُمْ یَدَہُ فِی کُمِّہِ فَأَخْرَجَ کِتَابًا فَوُضِعَ فِی یَدِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالُوا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ خَطُّکَ بِیَمِینِکِ وَإِمْلاَئُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَیْکَ قَالَ : فَرَأَیْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَقَدْ جَرَتِ الدُّمُوعُ عَلَی خَدِّہِ قَالَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَیْہِمْ فَقَالَ : یَا أَہْلَ نَجْرَانَ إِنَّ ہَذَا لآخِرُ کِتَابٍ کَتَبْتُہُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالُوا فَأَعْطِنَا مَا فِیہِ قَالَ سَأُخْبِرُکُمْ عَنْ ذَاکَ إِنَّ الَّذِی أَخَذَ مِنْکُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمْ یَأْخُذْہُ لِنَفْسِہِ إِنَّمَا أَخَذَہُ لِجَمَاعَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَکَانَ الَّذِی أَخَذَ مِنْکُمْ خَیْرًا مِمَّا أَعْطَاکُمْ وَاللَّہِ لاَ أَرُدُّ شَیْئًا مِمَّا صَنَعَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ رَشِیدَ الأَمْرِ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٦) عبد خیر فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی (رض) کے قریب تھا۔ جب اہل نجران آئیتو میں نے کہا : اگر وہ حضرت عمر (رض) پر کوئی چیز رد کرنا چاہیں تو آج کا دن ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ انھوں نے سلام کہا اور ان کے سامنے بیٹھ گئے۔ پھر اپنی آستین میں ہاتھ ڈال کر خط نکالا اور حضرت علی (رض) کے ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا : آپ کے ہاتھ کا خط جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوایا تھا۔ راوی فرماتے ہیں حضرت علی (رض) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ پھر ان کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا : یہ آخری خط ہے جو میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تحریر کیا تھا۔ انھوں نے کہا : جو کچھ اس میں ہے ہمیں عطا کرو۔ فرمایا : عنقریب میں تمہیں اس کی خبر دوں گا۔ حضرت عمر (رض) نے جو کچھ لیا اپنے لیے نہیں مسلمانوں کے لیے وصول کیا۔ حضرت عمر (رض) نے جو تم سے مال وصول کیا، وہ اس کے عوض تھا جو تمہیں عطا کیا، جو حضرت عمر (رض) نے کیا میں واپس نہیں کرسکتا۔ کیونکہ حضرت عمر (رض) معاملہ فہم انسان تھے۔

20383

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20383

Zaeef

(۲۰۳۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ عَنْ سَعِیدٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی حَسَّانَ : أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ خَرَشَۃَ الْکِلاَبِیَّ قَالَ لَہُ بَنُو عَمِّہِ وَبَنُو عَمِّ امْرَأَتِہِ إِنَّ امْرَأَتَکَ لاَ تُحِبُّکَ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَعْلَمَ ذَلِکَ فَخَیِّرْہَا فَقَالَ یَا بَرْزَۃُ بِنْتَ الْحُرِّ اخْتَارِی فَقَالَتْ وَیْحَکَ اخْتَرْتُ وَلَسْتَ بِخِیَارٍ قَالَتْ ذَلِکَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَقَالُوا حَرُمَتْ عَلَیْکَ فَقَالَ : کَذَبْتُمْ فَأَتَی عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : لَئِنْ قَرِبْتَہَا حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَکَ لأُغَیِّبَنَّکَ بِالْحِجَارَۃِ أَوْ قَالَ أَرْضَخُکَ بِالْحِجَارَۃِ قَالَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِیَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَتَاہُ فَقَالَ إِنَّ أَبَا تُرَابٍ فَرَّقَ بَیْنِی وَبَیْنَ امْرَأَتِی بِکَذَا وَکَذَا قَالَ : قَدْ أَجَزْنَا قَضَائَ ہُ عَلَیْکَ أَوْ قَالَ مَا کُنَّا لَنَرُدَّ قَضَائً قَضَاہُ عَلَیْکَ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٧) عباس بن خرشہ کلابی سے اس کے چچاؤں کے بیٹے اور اس کی بیوی کے چچاؤں کے بیٹے نے کہا : تیری عورت تجھ سے محبت نہیں کرتی، اگر آپ جاننا چاہتے ہیں تو اس کو اختیار دے دو ۔ اس نے اپنی بیوی برزہ بنت حر کو اختیار دے دیا۔ وہ کہنے لگی : تجھ پر افسوس میں نے اپنا اختیار استعمال کرلیا۔ لیکن آپ کو اختیار نہیں۔ اس نے یہ تین بار کہہ دیا۔ انھوں نے کہا : یہ تیرے اوپر حرام ہوگئی۔ وہ کہنے لگے : تم جھوٹ بولتے ہو۔ انھوں نے حضرت علی (رض) کے پاس آکر تذکرہ کیا فرمایا اگر تو اس کے پاس گیا یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ نکاح کرے تو میں تجھے پتھروں سے سنگسار کر دوں گا۔ راوی فرماتے ہیں کہ پھر وہ امیر معاویہ کے پاس آئے اور کہا کہ حضرت علی (رض) نے اس وجہ سے میرے اور میری بیوی کے درمیان تفریق کروا دی تھی ۔ کہنے لگے : ہم نے بھی وہی فیصلہ باقی رکھا یا فرمایا : ہم ان کے فیصلہ میں تبدیلی نہ کریں گے۔

20384

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20384

Zaeef

(۲۰۳۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عِیسَی بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : کَانَتْ أُمُّ وَلَدٍ لأَخِی شُرَیْحِ بْنِ الْحَارِثِ وَلَدَتْ لَہُ جَارِیَۃً فَزُوِّجَتْ فَوَلَدَتْ غُلاَمًا ثُمَّ تُوُفِّیَتْ أُمُّ الْوَلَدِ قَالَ فَاخْتَصَمَ فِی مِیرَاثِہَا شُرَیْحُ بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ بِنْتِہَا إِلَی شُرَیْحٍ فَجَعَلَ شُرَیْحُ بْنُ الْحَارِثِ یَقُولُ لِشُرَیْحٍ إِنَّہُ لَیْسَ لَہُ مِیرَاثٌ فِی کِتَابِ اللَّہِ إِنَّمَا ہُوَ ابْنُ بِنْتِہَا فَقَضَی شُرَیْحٌ بِمِیرَاثِہَا لاِبْنِ بِنْتِہَا وَقَالَ {وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللَّہِ} [الأنفال ۷۵] فَرَکِبَ مَیْسَرَۃُ بْنُ یَزِیدَ إِلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ فَأَخْبَرَہُ الَّذِی کَانَ مِنْ شُرَیْحٍ فَکَتَبَ ابْنُ الزُّبَیْرِ إِلَی شُرَیْحٍ أَنَّ مَیْسَرَۃَ بْنَ یَزِیدَ ذَکَرَ لِی کَذَا وَکَذَا وَإِنَّکَ قُلْتَ عِنْدَ ذَلِکَ {وَأُولُو الأَرْحَامِ بَعْضُہُمْ أَوْلَی بِبَعْضٍ فِی کِتَابِ اللَّہِ} [الأنفال ۷۵] إِنَّمَا کَانَتْ تِلْکَ الآیَۃُ فِی شَأْنِ الْعُصْبَۃِ کَانَ الرَّجُلُ یُعَاقِدُ الرَّجُلَ فَیَقُولُ تَرِثُنِی وَأَرِثُکَ فَلَمَّا نَزَلَتْ تُرِکَ ذَلِکَ قَالَ فَجَائَ مَیْسَرَۃُ بْنُ یَزِیدَ بِالْکِتَابِ إِلَی شُرَیْحٍ فَلَمَّا قَرَأَہُ أَبَی أَنْ یَرُدَّ قَضَائَ ہُ وَقَالَ إِنَّمَا أَعْتَقَہَا حِیتَانُ بَطْنِہَا۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٨) عیسیٰ بن حارث فرماتے ہیں کہ میرے بھائی شریح بن حارث کی ایک امِ ولد تھی۔ اس کے ہاں بچی پیدا ہوئی۔ اس کی شادی کردی گئی۔ اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور ام ولد لونڈی فوت ہوگئی۔ راوی فرماتے ہیں کہ شریح بن حارث اور اس لونڈی کے نواسے میں میراث کا جھگڑا پیدا ہوگیا۔ وہ قاضی شریح کے پاس آئے تو قاضی شریح نے فیصلہ لونڈی کے نواسی کے حق میں کردیا اور فرمایا : { وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ } [الأنفال ٧٥] ” اللہ کی کتاب میں بعض رشتہ دار بعض کے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں۔ “ میسرہ بن یزید نے ابن زبیر کو قاضی شریح کے فیصلہ سے آگاہ کیا تو ابن زبیر نے قاضی شریح کو خط لکھا کہ میسرۃ بن یزید نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ آپ نے یہ آیت { وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ } [الأنفال ٧٥] تلاوت فرمائی۔ یہ آیت تو عصبات کے متعلق ہے کہ آدمی ایک دوسرے سے معاہدہ کرلیتے تھے کہ تو میرا وارث میں تیرا وارث۔ جب یہ آیت اتری تو یہ سلسلہ چھوڑ دیا گیا تو میسرہبن یزید ابن زبیر (رض) کا خط لے کر قاضی شریح کے پاس آئے۔ انھوں نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا اور فرمایا : اس کو اس کیپیٹ کی مچھلی نے آزاد کیا ہے۔

20385

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20385

Sahih

(۲۰۳۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَعْقِلٍ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنِی مَالِکٌ : أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ حِینَ وَلِیَ الْمَدِینَۃَ فِی خِلاَفَۃِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ فَأَرَادَ أَنْ یَنْقُضَ مَا کَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الزُّبَیْرِ قَضَی فِیہِ فَکَتَبَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ فِی ذَلِکَ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عَبْدُ الْمَلِکِ إِنَّا لَمْ نَنْقَمْ عَلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ مَا کَانَ یَقْضِی بِہِ وَلَکِنْ نَقَمْنَا عَلَیْہِ مَا کَانَ أَرَادَ مِنَ الإِمَارَۃِ فَإِذَا جَائَ کَ کِتَابِی ہَذَا فَأَمْضِ مَا کَانَ قَضَی بِہِ ابْنُ الزُّبَیْرِ وَلاَ تَرُدُّہُ فَإِنَّ نَقْضَنَا الْقَضَائَ عَنَاء ٌ مُعَنٍّی۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٣٧٩) امام مالک (رح) فرماتے ہیں : جب ابان بن عثمان عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں مدینہ کے امیر بنے تو اس نے ابن زبیر (رض) کو اس فیصلہ سے ہٹانا چاہا، جو وہ کیے بیٹھے تھے۔ ابان بن عثمان عبدالملک بن مروان کو خط لکھا کہ ہم ابن زبیر سے اس کے فیصلہ کی وجہ سے انتقام نہیں لینا چاہتے بلکہ ہم تو اس کے امارت کے ارادہ پر انتقام چاہیں گے۔ جب میرا خط ملے تو کر گزرنا، جو ابن زبیر نے فیصلہ کیا ہے، آپ باز نہ آئیں؛ کیونکہ فیصلوں کو کاٹنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔