Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 68 · Chapter 3998

قاضی کے اداب کا بیان

پکافیصلہ کرنا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَائَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍِ فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ } [الحجرات ٦] { اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ الل

5 hadiths in this chapter

20276

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20276

Zaeef

(۲۰۲۷۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ ابْنُ السِّقَائِ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّرَائِفِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : التَّأَنِّی مِنَ اللَّہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٧١) انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیر اللہ رب العزت کی جانب سے ہے اور جلدی شیطان کی طرف سے ہے۔

20277

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20277

Zaeef

(۲۰۲۷۱) أَخْبَرَنَا الْحَاکِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ رَحِمَہُ اللَّہُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَلِیِّ بْنِ أَحْمَدَ الْمُعَاذِیُّ وَأَبُو سَعْدٍ سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشُّعَیْبِیُّ وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ الْہَرَوِیُّ قَالُوا أَنْبَأَنَا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزَّیَّاتِ الصَّیْرَفِیُّ البَغْدَادِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ بْنِ نَجَبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَۃَ بْنِ سَوَائٍ أَنْبَأَنَا عَمِّی مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ذَرَانُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : إِذَا تَأَنَّیْتَ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُعَاذِیِّ وَالشُّعَیْبِیِّ وَالْہَرَوِیِّ : إِذَا تَبَیَّنْتَ أَصَبْتَ أَوْ کِدْتَ تُصِیبُ وَإِذَا اسْتَعْجَلْتَ أَخْطَأْتَ أَوْ کِدْتَ تُخْطِئُ ۔[ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٧١) حضرت عکرمہ سیدنا ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تو دیر کرے، ایک روایت میں ہے، جب تحقیق کرو تو درستگی کو پالو گے یا قریب ہے کہ درستگی کو پالو۔ جب جلد بازی کرو گے تو خطا کرو گے یا قریب ہے کہ آپ غلطی کریں۔

20278

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20278

Sahih

(۲۰۲۷۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الأَنْمَاطِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا قُرَّۃُ عَنْ أَبِی جَمْرَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ لِلأَشَجِّ أَشَجِّ عَبْدِ الْقَیْسِ : إِنَّ فِیکَ لَخَلَّتَیْنِ یُحِبُّہُمَا اللَّہُ الْحِلْمُ وَالأَنَاۃُ ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۷]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٧٢) ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی نے عبدالقیس سے فرمایا : تیرے اندر دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند کرتے ہیں :1 بردباری 2 سنجیدگی۔

20279

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20279

Sahih

(۲۰۲۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ ہِلاَلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَیَّاشٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا غَیْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِیَ الْوَفْدَ وَذَکَرَ أَبَا نَضْرَۃَ أَنَّہُ حَدَّثَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَیْسِ لَمَّا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فِیہِ ثُمَّ قَالَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- لأَشَجِّ عَبْدِ الْقَیْسِ : إِنَّ فِیکَ خَصْلَتَیْنِ یُحِبُّہُمَا اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُہُ الْحِلْمُ وَالأَنَاۃُ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٧٣) سیدنا ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں : جب عبدالقیس کا وفد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے حدیث کا تذکرہ کیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالقیس سے فرمایا : تمہارے اندر دو خوبیاں ہیں، جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں :1 بردباری 2 سنجیدگی۔

20280

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20280

Zaeef

(۲۰۲۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ قَالَ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ فِی حَدِیثِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی الرَّجُلِ الَّذِی سَافَرَ مَعَ أَصْحَابٍ لَہُ فَلَمْ یَرْجِعْ حِینَ رَجَعُوا فَاتَّہَمَ أَہْلُہُ أَصْحَابَہُ فَرَفَعُوہُمْ إِلَی شُرَیْحٍ فَسَأَلَہُمُ الْبَیِّنَۃَ عَلَی قَتْلِہِ فَارْتَفَعُوا إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَخْبَرُوہُ بِقَوْلِ شُرَیْحٍ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَوْرَدَہَا سَعْدٌ وَسَعْدٌ مُشْتَمِلْ یَا سَعْدُ لاَ تَرْوَی بِہَا ذَاکَ الإِبِلْ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ أَہْوَنَ السَّقْیِ التَّشْرِیعُ قَالَ ثُمَّ فَرَّقَ بَیْنَہُمْ وَسَأَلَہُمْ فَاخْتَلَفُوا ثُمَّ أَقَرُّوا بِقَتْلِہِ فَأَحْسِبُہُ قَالَ فَقَتَلَہُمْ بِہِ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ حَدَّثَنِیہِ رَجُلٌ لاَ أَحْفَظُ اسْمَہُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ قَوْلَہُ أَوْرَدَہَا سَعْدٌ وَسَعْدٌ مُشْتَمِلْ ہَذَا مَثَلٌ یُقَالُ إِنَّ أَصْلَہُ أَنَّ رَجُلاً أَوْرَدَ إِبِلَہُ مَائً لاَ تَصِلُ إِلَی شُرْبِہِ إِلاَّ بِالاِسْتِقَائِ ثُمَّ اشْتَمَلَ وَنَامَ وَتَرَکَہَا یَقُولُ فَہَذَا الْفِعْلُ لاَ تَرْوَی بِہِ الإِبِلُ وَقَوْلُہُ إِنَّ أَہْوَنَ السَقْیِ التَّشْرِیعُ ہُوَ مَثَلٌ أَیْضًا یَقُولُ إِنَّ أَیْسَرَ مَا یَنْبَغِی أَنْ یُفْعَلَ بِہَا أَنْ یُمَکِّنَہَا مِنَ الشَّرِیعَۃِ أَوِ الْحَوْضِ یَقُولُ إِنَّ أَہْوَنَ مَا کَانَ یَنْبَغِی لِشُرَیْحٍ أَنْ یَفْعَلَ أَنْ یَسْتَقْصِیَ فِی الْمَسْأَلَۃِ وَالنَّظَرِ وَالْکَشْفِ عَنْ خَبَرِ الرَّجُلِ حَتَّی یُعْذَرَ فِی طَلَبِہِ وَلاَ یَقْتَصِرَ عَلَی طَلَبِ الْبَیِّنَۃِ فَقَطْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٢٧٤) ابوعبید نے حضرت علی (رض) کی حدیث جس میں ہے کہ ایک شخص نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر کیا میں فرمایا : وہ ان کے ساتھ واپس نہ آیا، اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھیوں پر قتل کی تہمت لگا دی تو فیصلہ قاضی شریح کے پاس آیا۔ انھوں نے قتل پر گواہی طلب کی تو وہ لوگ فیصلہ حضرت علی (رض) کے پاس لے آئے۔ انھوں نے قاضی شریح کی بات سنائی تو حضرت علی (رض) فرمانے لگے : سعد آئے۔ سعید نے اونٹوں کو گھاٹ پر چھوڑا، جس سے صرف مشکیزہ کے ساتھ پانی پیا جاسکتا تھا۔ پھر سعد چادر اوڑھ کر سو گئے۔ اس کی وجہ سے اونٹ سیر نہ ہوئے۔ پھر حضرت علی (رض) نے ان کو جدا جدا کر کے پوچھا تو ان کے بیانات مختلف تھے۔ پھر انھوں نے اس کے قتل کا اقرار کرلیا۔ سب سے آسان طریقہ جس کے ذریعہ حوض سے جگہ حاصل کی جاسکتی ہے اور قاضی شریح کے لیے مسائل کو ختم کرنا زیادہ آسان ہے غور وفکر ہے یہاں تک کہ وہ کسی دلیل کے محتاج نہ رہے۔