Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 66 · Chapter 3967

قسموں کا بیان

جس نے نذر مانی کہ اپنے بیٹے یا اپنے آپ کو ذبح کرے گا

8 hadiths in this chapter

20085

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20085

Sahih

(۲۰۰۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الشَّیْبَانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ الْقَاسِمِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ یَقُولُ : أَتَتِ امْرَأَۃٌ إِلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَتْ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا لاَ تَنْحَرِی ابْنَکِ وَکَفِّرِی عَنْ یَمِینِکِ فَقَالَ شَیْخٌ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَالِسٌ وَکَیْفَ یَکُونُ فِی ہَذَا کَفَّارَۃٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ {وَالَّذِینَ یُظَاہِرُونَ مِنْ نِسَائِہِمْ} [المجادلۃ ۳] ثُمَّ جَعَلَ فِیہِ مِنَ الْکَفَّارَۃِ مَا قَدْ رَأَیْتَ۔ وَفِی رِوَایَۃِ جَعْفَرٍ فَقَالَ لَہُ شَیْخٌ وَکَیْفَ تَکُونُ کَفَّارَۃٌ فِی طَاعَۃِ الشَّیْطَانِ فَقَالَ بَلَی أَلَیْسَ اللَّہُ یَقُولُ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ ہَذَا إِسْنَادٌ صَحِیحٌ۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ۔وَخَالَفَہُ عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : یَذْبَحُ کَبْشًا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٧٩) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا ، وہ فرما رہے تھے کہ ایک عورت ابن عباس (رض) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : اپنے بیٹے کو ذبح مت کر اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ ایک بزرگ ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کہنے لگے : اس میں کفارہ کیسے ؟ تو ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا : { وَالَّذِیْنَ یُظَاہِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِ ہِمْ } [المجادلۃ ٣] ” وہ لوگ جو اپنی عورتوں سے ظہار کرلیتے ہیں۔ “ پھر اس میں کفارہ ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ (ب) جعفر کی روایت ہے کہ بزرگ نے فرمایا : شیطان کی اطاعت میں کفارہ کیسے ہوگا ؟ تو فرمانے لگے : کیوں نہیں کیا اللہ فرماتے نہیں۔۔۔ اس کے ہم معنیٰ ذکر کیا۔ (ج) عکرمہ ابن عباس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک مینڈھا ذبح کرے۔

20086

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20086

Sahih

(۲۰۰۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَنْبَأَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ وَخَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ فِی رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَذْبَحَ ابْنَہُ قَالَ : یَذْبَحُ کَبْشًا۔ وَکَذَلِکَ رُوِیَ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٨٠) عکرمہ ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : جس نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی وہ ایک مینڈھا ذبح کرے۔

20087

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20087

Sahih

(۲۰۰۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُکْرَمٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ أَنَّ رَجُلاً قَالَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ ابْنِی فَأَمَرَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِکَبْشٍ وَقَالَ {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ۲۱] کَذَا وَجَدْتُہُ فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ۔ وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ فِی الْجَامِعِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّ رَجُلاً أَتَاہُ فَقَالَ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِی فَقَالَ {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ۲۱] فَأَمَرَہُ بِکَبْشٍ فَسُئِلَ عَطَاء ٌ أَیْنَ یَذْبَحُ الْکَبْشَ قَالَ بِمَکَّۃَ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٨١) ابن جریج حضرت عطاء (رح) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس (رض) سے کہا : میں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو ابن عباس (رض) نے ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔ فرماتے ہیں : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ٢١] ” تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔ “ انھوں نے مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ وہ مینڈھا کہاں ذبح کرے ؟ فرمایا : مکہ میں۔

20088

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20088

Sahih

(۲۰۰۸۲) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ یَذْبَحَ نَفْسَہُ قَالَ {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ۲۱] فَأَفْتَاہُ بِکَبْشٍ۔ ہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّ رِوَایَۃَ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ خَطَأٌ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ غَیْرُ سُفْیَانَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٨٢) عطاء ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے اس آدمی کے بارے میں جس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی کہ { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ٢١] ” تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔ “ تو انھوں نے ایک مینڈھے کا فتویٰ دیا۔

20089

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20089

Sahih

(۲۰۰۸۳) أخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَنْبَأَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ حَمْدَانَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَیَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَیْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ (ح) وَأَنْبَأَنَا أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ أَخُو الشَّیْخِ أَبِی الْفَتْحِ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ سَعِیدٍ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا أَبُو عُبَیْدِ اللَّہِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنِ أَخِی ابْنِ وَہْبٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَمِّی قَالَ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ قَالَ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ وَزَعَمَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ عَطَائَ بْنَ أَبِی رَبَاحٍ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ إِنِّی نَذَرْتُ لأَنْحَرَنَّ نَفْسِی فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ۲۱] ثُمَّ تَلاَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا {وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیمٍ} [الصافات ۱۰۷] وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ أَرَادَ بِرَسُولِ اللَّہِ إِبْرَاہِیمَ النَّبِیَّ -ﷺ- وَعَلَی نَبِیِّنَا وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِیمَنْ نَذَرَ أَنْ یَنْحَرَ نَفْسَہُ فَتْوَی أُخْرَی۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٨٣) عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ ایک آدمی ابن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : { لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} [الأحزاب ٢١] ” تمہارے لیے رسول اللہ کی زندگی میں اچھا نمونہ ہے۔ “ پھر ابن عباس (رض) نے پڑھا۔ { وَفَدَیْنَاہُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ } [الصافات ١٠٧] ” کہ ہم نے عظیم بدلہ دیا۔ “ یہ دلالت کرتا ہے کہ رسول اللہ سے مراد یہاں ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر۔ (ب) ابن عباس (رض) سے اس بارے میں دوسرا فتویٰ بھی منقول ہے۔

20090

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20090

Sahih

(۲۰۰۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِی قَالَ وَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا رَجُلٌ یُرِیدُ أَنْ یَخْرُجَ إِلَی الْجِہَادِ وَمَعَہُ أَبَوَاہُ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مُشْتَغِلٌ یَقُولُ لَہُ أَقِمْ مَعَ أَبَوَیْکَ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ یَقُولُ إِنِّی نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ نَفْسِی فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مَا أَصْنَعُ بِکَ اذْہَبْ فَانْحَرْ نَفْسَکَ فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مِنَ الرَّجُلِ وَأَبَوَیْہِ قَالَ عَلَیَّ بِالرَّجُلِ فَذَہَبُوا فَوَجَدُوہُ قَدْ بَرَکَ عَلَی رُکْبَتَیْہِ یُرِیدُ أَنْ یَنْحَرَ نَفْسَہُ فَجَائُ وا بِہِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ وَیْحَکَ لَقَدْ أَرَدْتَ أَنْ تُحِلَّ ثَلاَثَ خِصَالٍ أَنْ تُحِلَّ بَلَدًا حَرَامًا وَتَقْطَعَ رَحْمًا حَرَامًا نَفْسُکُ أَقْرَبُ الأَرْحَامِ إِلَیْکَ وَأَنْ تَسْفِکَ دَمًا حَرَامًا أَتَجِدُ مِائَۃً مِنَ الإِبِلِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاذْہَبْ فَانْحَرْ فِی کُلِّ عَامٍ ثُلُثًا لاَ یَفْسُدُ اللَّحْمُ۔ ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَرِوَایَۃُ ابْنِ نُمَیْرٍ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ قَالَ کُرَیْبٌ فَشَہَدْتُہُ عَامَیْنَ فَأَمَّا الثَّالِثُ فَلاَ أَدْرِی مَا فَعَلَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٨٤) کریب ابن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے، راوی فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کے پاس اس وقت ایک آدمی تھا جو جہاد کے لیے جانا چاہتا تھا، اس کے والدین بھی موجود تھے تو ابن عباس (رض) فرما رہے تھے : والدین کے ساتھ دو ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ کہنے لگا : میں نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو ابن عباس فرماتے ہیں : کیا کروں ؟ جاؤ اپنے آپ کو قتل کرو۔ جب ابن عباس (رض) اس آدمی اور کے والدین سے فارغ ہوئے تو فرمایا :، اس آدمی کو میرے پاس لاؤ۔ وہ گئے تو اپنے آپ کو ذبح کرنے کے لیے تیار کررہا تھا۔ وہ اس کو ابن عباس (رض) کے پاس لے کر آئے تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : تو نے تین اشیاء کو حلال کرنے کی کوشش کی ہے :1 حرمت والے شہر کی حرمت کو ختم کرنا۔ 2 اور قطع رحمی کرنا، یعنی تیرا اپنا نفس سب سے زیادہ صلہ رحمی کا حق رکھتا ہے۔ 3 حرام خون بہانا۔ کیا تیرے پاس سو اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں فرمایا : جاؤ ہر سال تہائی حصہ اونٹوں کا ذبح کرو لیکن گوشت خراب نہ کرنا۔ (ب) کریب فرماتے ہیں کہ دو سال تک میں حاضر ہوتا رہا، لیکن تیسرے سال میں حاضر نہ ہوا، مجھے معلوم نہیں اس نے کیا کہ نہیں۔

20091

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20091

Sahih

(۲۰۰۸۵) وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ بِمَعْنَاہُ وَزَادَ قَالَ الأَعْمَشُ فَبَلَغَنِی عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : لَوِ اعْتَلَّ عَلَیَّ لأَمَرْتُہُ بِکَبْشٍ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ أَمَرَ فِی مِثْلِ ہَذِہِ الْمَسْأَلَۃِ بِکَبْشٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ اخْتِلاَفُ فَتَاوِیہِ فِی ذَلِکَ وَفِیمَنْ نَذَرَ أَنْ یَنْحَرَ ابْنَہُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ کَانَ یَقُولُہُ اسْتِدْلاَلاً وَنَظَرًا لاَ أَنَّہُ عَرَفَ فِیہِ تَوْقِیفًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٨٥) اعمش فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) سے مجھے خبر ملی۔ اگر کوئی میرے اوپر اسلحہ سونتے گا تو میں اس کو ایک مینڈھا ذبح کرنے کا حکم دوں گا۔

20092

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20092

Zaeef

(۲۰۰۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَنْبَأَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنِی رَجُلٌ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنَّ لاَ یُکَلِّمَ أَخَاہُ فَإِنْ کَلَّمَہُ فَہُوَ یَنْحَرُ نَفْسَہُ بَیْنَ الْمَقَامِ وَالرُّکْنِ فِی أَیَّامِ التَّشْرِیقِ فَقَالَ یَا ابْنَ أَخِی أَبْلِغْ مَنْ وَرَائَ کَ أَنَّہُ لاَ نَذْرَ فِی مَعْصِیَۃِ اللَّہِ لَوْ نَذَرَ أَنْ لاَ یَصُومَ رَمَضَانَ فَصَامَہُ کَانَ خَیْرًا لَہُ وَلَوْ نَذَرَ أَنْ لاَ یُصَلِّیَ فَصَلَّی کَانَ خَیْرًا لَہُ مُرْ صَاحِبَکَ فَلْیُکَفِّرْ عَنْ یَمِینِہِ وَلْیُکَلِّمْ أَخَاہُ۔ ہَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا مُنْقَطِعٌ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٨٦) ابن عون فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عمر (رض) سے سوال کیا کہ فلاں آدمی نے اپنے بھائی سے کلام نہ کرنے کی قسم کھائی ہے کہ اگر اس نے کلام کرلی تو وہ ایامِ تشریق کے اندر مقام ابراہیم اور رکن کے درمیان اپنے آپ کو ذبح کرے گا۔ وہ فرمانے لگے : اے بھتیجے ! دوسروں کو بھی بتاؤ، نافرمانی کے اندر نذر نہیں ہوتی۔ اگر کسی نے رمضان کے روزے نہ رکھنے کی قسم کھائی ہو تو وہ روزے رکھے، یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اگر نماز پڑھنے کی قسم اٹھائی ہے تو نماز پڑھنا اس کے لیے بہتر ہے، اپنے ساتھی کو کہو کہ قسم کا کفارہ دیں اور اپنے بھائی سے کلام کریں۔