Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 66 · Chapter 3954

قسموں کا بیان

جس نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنا ایک وقت یا ایک زمانہ تک پورا کرے گا اس سے استدلال کیا ہے کہ یہ وقت مقرر نہیں ہے

7 hadiths in this chapter

20022

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20022

Zaeef

(۲۰۰۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَنْبَأَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ سَمِعَ مُحَمَّدَ بنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حُنَیْنٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ سَمِعَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : الْحِینُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ۔ [ضعیف۔ اخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر ۴۱۱]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠١٦) محمد بن عبداللہ بن حنین اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے حضرت علی سے سنا، فرماتے ہیں کہ وقت چھ ماہ کی مدت ہے۔

20023

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20023

Sahih

(۲۰۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : الْحِینُ قَدْ یَکُونُ غَدْوَۃً وَعَشِیَّۃً۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠١٧) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ وقت کبھی صبح یا شام کا ہوتا ہے۔

20024

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20024

Sahih

(۲۰۰۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ ابْنَ الْمُسَیَّبِ قَالَ إِنِّی حَلَفْتُ أَنْ لاَ أُکَلِّمَ رَجُلاً حِینًا قَالَ {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ بِإِذْنِ رَبِّہَا} [إبراہیم ۲۵] قَالَ ہِیَ النَّخْلَۃُ یَکُونُ فِیہَا حَمْلُہَا شَہْرًا وَشَہْرَیْنِ فَنَرَی الْحِینَ شَہْرَیْنِ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠١٨) ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن مسیب سے سوال کیا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ ” ایک یا حین “ تک میں آدمی سے کلام نہ کروں گا ؟ فرمایا : اللہ کا فرمان ہے : { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } [إبراہیم ٢٥] ” ہر سال وہ اپنے رب کے حکم سے پھل لاتا ہے۔ “ فرماتے ہیں : یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل لاتا ہے۔ فرماتے ہیں : یہ کھجور ہے کہ اس کا پھل ایک یا دو مہینے تک اٹھاتے تھے۔ ہمارے خیال میں حین سے مراد دو مہینے ہیں۔

20025

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20025

Sahih

(۲۰۰۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْمِنْہَالِ عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ : الْحِینُ سِتَّۃُ أَشْہُرٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠١٩) عکرمہ فرماتے ہیں کہ حین سے مراد چھ ماہ ہیں۔

20026

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20026

Sahih

(۲۰۰۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِیلِ أَخْبَرَنِی عِکْرِمَۃُ قَالَ : أَرْسَلَ إِلَیَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَقَالَ إِنِّی حَلَفْتُ أَنْ لاَ أَصْنَعَ حِینًا کَذَا وَکَذَا فَمَا الْحِینُ الَّذِی لاَ یُدْرَکُ قَالَ فَقَرَأَ {ہَلْ أَتَی عَلَی الإِنْسَانِ حِینٌ مِنَ الدَّہْرِ} [الإنسان ۱] مَا یَدْرِی کَمْ أَتَی مُنْذُ خَلَقَہُ اللَّہُ وَأَمَّا الْحِینُ الَّذِی یُدْرَکُ قَوْلُ اللَّہِ تَعَالَی {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ} [إبراہیم ۲۵] مَا بَیْنَ صِرَامِ النَّخْلِ إِلَی ثَمَرِہَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٢٠) عکرمہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھے روانہ کیا کہ ایک وقت تک میں یہ نہ کروں گا تو ” حین “ سے مراد کیا ہے جس کو وہ پا نہ سکیں ؟ تو انھوں نے پڑھا :{ ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ } [الإنسان ١] ” کوئی نہیں جانتا کتنی مدت گزر گئی، جب سے اللہ نے اس کو پیدا کیا ہے۔ لیکن وہ لفظ حین جو اللہ کے اس فرمان میں موجود ہے “ { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ } [إبراہیم ٢٥] اس سے مراد پھل آنے سے لے کر پھل توڑنے کی مدت درمیانی حصہ ہے۔

20027

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20027

Sahih

(۲۰۰۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَنْبَأَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَہُ بَعْدَ حِینٍ} [صٓ ۸۸] قَالَ بَعْدَ الْمَوْتِ {وَفِی ثَمُودَ إِذْ قِیلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوا حَتَّی حِینٍ} [الذاریات ۴۳] قَالَ ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ وَفِی قَوْلِہِ {تُؤْتِی أُکُلَہَا کُلَّ حِینٍ} [إبراہیم ۲۵] قَالَ کُلَّ سَبْعَۃِ أَشْہُرٍ۔ وَیُذْکَرُ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ : الْحِینُ سَنَۃٌ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٢١) حضرت قتادہ (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : { وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعْدَ حِیْنٍ } [صٓ ٨٨] ” تم ضرور ایک وقت کے بعد اس کی خبر جان لو گی کے متعلق “ فرماتے ہیں : یعنی موت کے بعد { وَفِی ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَہُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰی حِیْنٍ } [الذاریات ٤٣] ” اور قوم ثمود کے بارے میں جب ان سے کہا گیا کہ تم ایک وقت تک فائدہ اٹھاؤ۔ “ یعنی تین دن تک { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ } [إبراہیم ٢٥] فرماتے ہیں : ہر ساتوے مہینے۔ ربیعہ بن عبدالرحمن سے منقول ہے، فرماتے ہیں : حین سے مراد ایک سال ہے۔

20028

Sunan Al Kubra Bayhaqi #20028

Sahih

(۲۰۰۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ : سُئِلَ طَاوُسٌ وَأَنَا عِنْدَہُ عَنْ رَجُلٍ حَلَفَ أَنْ لاَ یُکَلِّمَ رَجُلاً زَمَانًا قَالَ الزَّمَانُ شَہْرَیْنِ أَوْ ثَلاَثَۃٌ مَا لَمْ یُوَقِّتْ أَجَلاً۔ اخْتِلاَفُہُمْ فِی حِینٍ وَاخْتِلاَفُ مَعْنَی الْحِینِ فِی مَوَاضِعِہِ دَلِیلٌ عَلَی أَنْ لَیْسَ لِلْحِینِ غَایَۃٌ عِنْدَ الإِطْلاَقِ وَکَذَلِکَ الزَّمَانُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(٢٠٠٢٢) ابوحفص یزید بن کیسان فرماتے ہیں کہ طاؤس سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایک آدمی سے ایک وقت تک کلام نہ کرے گا، اس وقت میں بھی موجود تھا۔ فرماتے ہیں : زمان سے مراد دو یا تین ماہ ہیں، جب وقت کی تعین نہ ہو۔ ان کا حین کے بارے میں اختلاف ہے اور حین کے معنی میں بھی مختلف جگہوں میں اختلاف ہے، لیکن لفظ حین کے مطلق استعمال پر تعین نہیں ہے۔ ایسے ہی لفظ زمانہ بھی ہے۔