Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3752

جزیہ کا بیان

مسلم خلیفہ مشرک جو مسلم ہو کر آجائے تو اسے صلح کی بنا پر واپس کرسکتا ہے

4 hadiths in this chapter

18835

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18835

Sahih

(١٨٨٢٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : صَالَحَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمُشْرِکِینَ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ عَلَی ثَلاَثَۃِ أَشْیَائَ عَلَی أَنَّ مَنْ أَتَاہُ مِنَ الْمُشْرِکِینَ رَدَّہُ إِلَیْہِمْ وَمَنْ أَتَاہُمْ مِنَ الْمُسْلِمِینَ لَمْ یَرُدُّوہُ وَعَلَی أَنْ یَدْخُلَہَا مِنْ قَابِلٍ فَیُقِیمُ بِہَا ثَلاَثَۃَ أَیَّامٍ وَلاَ یَدْخُلَہَا إِلاَّ بِجُلُبَّانِ السِّلاَحِ السَّیْفِ وَالْقَوْسِ وَنَحْوِہِ فَجَائَ أَبُو جَنْدَلٍ یَحْجُلُ فِی قُیُودِہِ فَرَدَّہُ إِلَیْہِمْ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی حُذَیْفَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٢٩) حضرت براء فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین سے تین باتوں پر صلح حدیبیہ کی :1 جو مشرکین میں سے آپ کے پاس آئے گا آپ واپس کریں گے، 2 جو مسلمان کفار مکہ کے پاس آجائے اسے واپس نہ کیا جائے گا، 3 نیز آپ آئندہ سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوں گے اور وہاں تین دن قیام کریں گے اور ہتھیار تلوار وغیرہ کمان میں ڈال کر آئیں گے۔ جب ابو جندل بیڑیوں میں چلتا ہوا آیا تو آپ نے اسے کفار کی جانب واپس کردیا۔

18836

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18836

Sahih

(١٨٨٣٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ الْمُقْرِء أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہُدْبَۃُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا صَالَحَ قُرَیْشًا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ قَالَ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ ۔ فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو : لاَ نَعْرِفُ الرَّحْمَنَ الرَّحِیمَ اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ بِاسْمِکَ اللَّہُمَّ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ ہَذَا مَا صَالَحَ عَلَیْہِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّہِ ۔ فَقَالَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو : لَوْ نَعْلَمُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّہِ لَصَدَّقْنَاکَ وَلَمْ نُکَذِّبْکَ اکْتُبِ اسْمَکَ وَاسْمَ أَبِیکَ ۔ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اکْتُبْ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ ۔ وَکَتَبَ مَنْ أَتَانَا مِنْکُمْ رَدَدْنَاہُ عَلَیْکُمْ وَمَنْ أَتَاکُمْ مِنَّا تَرَکْنَاہُ عَلَیْکُمْ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ نُعْطِیہِمْ ہَذَا قَالَ : مَنْ أَتَاہُمْ مِنَّا فَأَبْعَدَہُ اللَّہُ وَمَنْ أَتَانَا مِنْہُمْ فَرَدَدْنَاہُ عَلَیْہِمْ جَعَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہُ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَفَّانَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٣٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ کے دن جب قریش سے صلح کی تو حضرت علی (رض) سے فرمایا : لکھ، میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے تو سھیل بن عمرو نے کہا : ہم رحمنورحیم کو نہیں جانتے، آپ لکھیں، اے اللہ ! تیرے نام سے ابتدا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا لکھ کہ میں اے اللہ تیرے نام سے شروع کرتا ہوں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : لکھو کہ اس معاہدہ میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صلح کی ہے تو سھیل بن عمرو نے فورا اعتراض کردیا کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے تو آپ کی تصدیق کرتے، تکذیب کبھی نہ کرتے، آپ اپنا اور والد کا نام تحریر کریں تو آپ نے فرمایا : اے علی ! لکھو، محمد بن عبداللہ اور یہ شرط تحریر کی۔ تمہاری آدمی ہم واپس کردیں گے لیکن ہمارا آدمی واپس نہ کیا جائے گا، صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم انھیں دے دیں گے ؟ فرمایا : جو ہم سے گیا اللہ نے اسے ہم سے دور کردیا اور جس کو ہم واپس کریں گے، اس کے لیے اللہ راستہ نکال دے گا۔

18837

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18837

Sahih

(١٨٨٣١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فِی قِصَّۃَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَخُرُوجِ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَنَّہُ لَمَّا انْتَہَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - جَرَی بَیْنَہُمَا الْقَوْلُ حَتَّی وَقَعَ الصُّلْحُ عَلَی أَنْ تُوضَعَ الْحَرْبُ بَیْنَہُمَا عَشْرَ سِنِینَ وَأَنْ یَأْمَنَ النَّاسُ بَعْضَہُمْ مِنْ بَعْضٍ وَأَنْ یَرْجِعَ عَنْہُمْ عَامَہَمْ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ قَدِمَہَا خَلَّوْا بَیْنَہُ وَبَیْنَ مَکَّۃَ فَأَقَامَ بِہَا ثَلاَثًا وَأَنَّہُ لاَ یَدْخُلَہَا إِلاَّ بِسِلاَحِ الرَّاکِبِ وَالسُّیُوفِ فِی الْقُرُبِ وَأَنَّہُ مَنْ أَتَانَا مِنْ أَصْحَابِکَ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہِ لَمْ نَرُدَّہُ عَلَیْکَ وَأَنَّہُ مَنْ أَتَاکَ مِنَّا بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہِ رَدَدْتَہُ عَلَیْنَا۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی کَتَبَۃِ الصَّحِیفَۃَ قَالَ : فَإِنَّ الصَّحِیفَۃَ لَتُکْتَبُ إِذْ طَلَعَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو یَرْسُفُ فِی الْحَدِیدِ وَقَدْ کَانَ أَبُوہُ حَبَسَہُ فَأَفْلَتَ فَلَمَّا رَآہُ سُہَیْلٌ قَامَ إِلَیْہِ فَضَرَبَ وَجْہَہُ وَأَخَذَ یُلَبِّبُہُ یَتُلُّہُ وَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ قَدْ وَلَجَتِ الْقَضِیَّۃُ بِیْنِی وَبَیْنَکَ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَکَ ہَذَا قَالَ : صَدَقْتَ ۔ وَصَاحَ أَبُو جَنْدَلٍ بِأَعْلَی صَوْتِہِ : یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِینَ أَأُرَدُّ إِلَی الْمُشْرِکِینَ یَفْتِنُونِی فِی دِینِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأَبِی جَنْدَلِ : أَبَا جَنْدَلٍ اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللَّہَ جَاعِلٌ لَکَ وَلِمَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا إِنَّا قَدْ صَالَحْنَا ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ وَجَرَی بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمُ الْعَہْدُ وَإِنَّا لاَ نَغْدِرُ ۔ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَمْشِی إِلَی جَنْبِ أَبِی جَنْدَلٍ وَأَبُوہُ یَتُلُّہُ وَہُوَ یَقُولُ : أَبَا جَنْدَلٍ اصْبَرْ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّمَا ہُمُ الْمُشْرِکُونَ وَإِنَّمَا دَمُ أَحَدِہِمْ دَمُ کَلْبٍ وَجَعَلَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُدْنِی مِنْہُ قَائِمَ السَّیْفِ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجَوْتُ أَنْ یَأْخُذَہُ فَیَضْرِبَ بِہِ أَبَاہُ فَضَنَّ بِأَبِیہِ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی التَّحَلُّلِ مِنَ الْعُمْرَۃِ وَالرُّجُوعِ قَالاَ : وَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْمَدِینَۃَ وَاطْمَأَنَّ بِہَا أَفْلَتَ إِلَیْہِ أَبُو بَصِیرٍ عُتْبَۃُ بْنُ أَسِیدِ بْنِ جَارِیَۃَ الثَّقَفِیُّ حَلِیفُ بَنِی زُہْرَۃَ فَکَتَبَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِ الأَخْنَسُ بْنُ شَرِیقٍ وَالأَزْہَرُ بْنُ عَبْدِ عَوْفٍ وَبَعَثَا بِکِتَابِہِمَا مَعَ مَوْلًی لَہُمَا وَرَجُلٍ مِنْ بَنِی عَامِرِ بْنِ لُؤَیٍّ اسْتَأْجَرَاہُ لَیَرُدَّ عَلَیْہِمَا صَاحِبَہُمَا أَبَا بَصِیرٍ فَقَدِمَا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَدَفَعَا إِلَیْہِ کِتَابَہُمَا فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبَا بَصِیرٍ فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا بَصِیرٍ إِنَّ ہَؤُلاَئِ الْقَوْمَ قَدْ صَالَحُونَا عَلَی مَا قَدْ عَلِمْتَ وَإِنَّا لاَ نَغْدِرُ فَالْحَقْ بِقَوْمِکَ ۔ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تَرُدُّنِی إِلَی الْمُشْرِکِینَ یَفْتِنُونِی فِی دِینِی وَیَعْبَثُونَ بِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اصْبَرْ یَا أَبَا بَصِیرٍ وَاحْتَسِبْ فَإِنَّ اللَّہَ جَاعِلٌ لَکَ وَلِمَنْ مَعَکَ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ۔ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو بَصِیرٍ وَخَرَجَا حَتَّی إِذَا کَانُوا بِذِی الْحُلَیْفَۃِ جَلَسُوا إِلَی سُورِ جِدَارٍ فَقَالَ أَبُو بَصِیرٍ لِلْعَامِرِیِّ : أَصَارِمٌ سَیْفُکَ ہَذَا یَا أَخَا بَنِی عَامِرٍ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : أَنْظُرُ إِلَیْہِ قَالَ : إِنْ شِئْتَ فَاسْتَلَّہُ فَضَرَبَ بِہِ عُنُقَہُ وَخَرَجَ الْمَوْلَی یَشْتَدُّ فَطَلَعَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ جَالِسٌ فِی الْمَسْجِدِ فَلَمَّا رَآہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : ہَذَا رَجُلٌ قَدْ رَأَی فَزَعًا ۔ فَلَمَّا انْتَہَی إِلَیْہِ قَالَ : وَیْحَکَ مَا لَکَ ؟ ۔ قَالَ : قَتَلَ صَاحِبُکُمْ صَاحِبِی فَمَا بَرِحَ حَتَّی طَلَعَ أَبُو بَصِیرٍ مُتَوَشِّحًا السَّیْفَ فَوَقَفَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَفَتْ ذِمَّتُکَ وَأَدَّی اللَّہُ عَنْکَ وَقَدِ امْتَنَعْتُ بِنَفْسِی عَنِ الْمُشْرِکِینَ أَنْ یَفْتِنُونِی فِی دِینِی أَوْ أَنْ یَعْبَثُوا بِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَیْلُ أُمِّہِ مِحَشَّ حَرْبٍ لَوْ کَانَ مَعَہُ رِجَالٌ ۔ فَخَرَجَ أَبُو بَصِیرٍ حَتَّی نَزَلَ بِالْعِیصِ وَکَانَ طَرِیقَ أَہْلِ مَکَّۃَ إِلَی الشَّامِ فَسَمِعَ بِہِ مَنْ کَانَ بِمَکَّۃَ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَبِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِ فَلَحِقُوا بِہِ حَتَّی کَانَ فِی عُصْبَۃٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ قَرِیبٍ مِنَ السِّتِّینَ أَوِ السَّبْعِینَ فَکَانُوا لاَ یَظْفَرُونَ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ إِلاَّ قَتَلُوہُ وَلاَ تَمُرُّ عَلَیْہِمْ عِیرٌ إِلاَّ اقْتَطَعُوہَا حَتَّی کَتَبَتْ فِیہَا قُرَیْشٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَسْأَلُونَہُ بِأَرْحَامِہِمْ لَمَا آوَاہُمْ فَلاَ حَاجَۃَ لَنَا بِہِمْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَدِمُوا عَلَیْہِ الْمَدِینَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٣١) عروہ حضرت مسور بن مخرمہ سے حدیبیہ کا قصہ روایت کرتے ہیں کہ جب سہیل اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات چیت ہوئی اور دس سال کے لیے جنگ بندی طے پائیتو لوگ ایک دوسرے سے بےخوف ہوگئے۔ اس سال آپ واپس جائیں اور آئندہ سال آ کر مکہ میں تین دن تک قیام کرسکتے ہیں اور مکہ میں داخلے کے وقت اسلحہ اور تلواریں میان میں رکھیں گے اور تمہارا کوئی شخص بغیر ولی کی اجازت سے ہمارے پاس آگیا تو واپس نہ کیا جائے گا۔ لیکن ہمارا کوئی شخص آپ کے پاس آیا تو آپ کو واپس کرنا پڑے گا۔ اس نے معاہدہ کی تحریر کا تذکرہ کیا۔ ابھی معاہدہ لکھا جا رہا تھا کہ ابو جندل بن سھیل بن عمرو لوہے کی بیڑیوں میں چلتا ہوا آگیا۔ اس کے باپ نے قید کر رکھا تھا جب سھیل نے دیکھا تو کھڑے ہو کر منہ پر تھپڑ رسید کردیا اور گردن سے پکڑ کر گرا دیا۔ سھیل نے کہا : اے محمد ! اس کے آنے سے پہلے ہمارے درمیان معاہدہ طے پا چکا۔ آپ نے فرمایا : تو نے سچ کہا تو ابو جندل نے کہا : اے مسلمانو ! کیا میں واپس کیا جاؤں گا۔ یہ مجھے دین کے بارے میں آزمائش میں ڈالتے ہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو جندل سے کہا : صبر کرو۔ اللہ آپ کے لیے اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کے اسباب پیدا فرما دے گا کیونکہ ہمارے درمیانعہد ہوچکا جس کو ہم توڑنا نہیں چاہتے۔ حضرت عمر (رض) ابو جندل کے پاس گئے۔ جب اس کا والد اس کو گرائے ہوئے تھا، حضرت عمر (رض) نے کہا : اے ابو جندل صبر کرو، کیونکہ مشرکین کا خون کتے کے خون کی طرح ہے اور حضرت عمر (رض) تلوار کا دستہ اس کے قریب کردیا۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : میں واپس ہوا تاکہ پکڑ لے اور اپنے باپ کو قتل کر دے، پھر اس نے عمرہ سے حلال ہونے اور واپسی کا تذکرہ کیا، دونوں یعنی مسور بن مخرمہ اور مروان فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ واپس آگئے تو پیچھے ابو بصیر بھی بھاگ کر آگئے، یعنی عتبہ بن اسید بن ماریہ ثقفی جو بنو زہر ہ کے حلیف تھے، اخنس بن شریک، ازھر بن عبد مناف نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خط لکھا ۔ ان کا ایک غلام اور دوسرا بنو عامر بن لوئی کا شخص اس خط کو لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ اس میں مطالبہ تھا کہ ابو بصیر کو واپس کیا جائے۔ انھوں نے خط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا تو آپ نے ابو بصیر کو بلایا اور فرمایا : اے ابو بصیر ! آپ جانتے ہیں کہ ہماری اس قوم سے صلح ہے اور ہم وعدہ توڑنا نہیں چاہتے ۔ آپ اپنی قوم کے پاس چلے جائیں تو ابو بصیر نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے مشرکین کی جانب واپس کریں گے، جو مجھے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دیں اور میرے ساتھ کھیل کود کریں ؟ آپ نے فرمایا : اے ابو بصیر ! صبر کرو، ثواب کی نیت کرو۔ اللہ آپ اور کمزور مسلمانوں کے لیے نکلنے کی کشادہ راہ مہیا کردیں گے، وہ دونوں ابو بصیر کو لے کر ذوالحلیفہ تک پہنچے تو ایک دیوار کے سائے میں آرام کی غرض سے بیٹھ گئے، ابو بصیر نے عامری شخص سے کہا : اے بنو عامر والے ! آپ کی تلوار کافی مضبوط لگتی ہے ؟ اس نے کہا : تلوار تو مضبوط ہی ہے۔ ابو بصیر نے کہا : میں دیکھ سکتا ہوں، عامری نے کہا : چاہو تو میان سے نکال کر دیکھ سکتے ہو، ابو بصیر نے اس عامری کی گردن اتار دی تو غلام بھاگتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا پہنچا ۔ جب آپ مسجد میں تشریف فرما تھے، جب آپ نے اس شخص کو دیکھا تو فرمایا : اس کا واسطہ کسی خوفناک چیز سے پڑگیا ہے۔ جب وہ آپ کے پاس آیا۔ آپ نے پوچھا : تجھے کیا ہے ؟ اس نے کہا : تمہارے ساتھی نے میرے ساتھی کو قتل کردیا ہے۔ اتنی دیر میں ابو بصیر بھی تلوار سونتے آپہنچے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہوگئے اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا وعدہ پورا ہوگیا۔ اللہ نے آپ کا ذمہ ادا کردیا، میں نے مشرکین سے اپنے آپ کو محفوظ کیا ہے تاکہ وہ دین کے بارے میں مجھے فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ آپ نے فرمایا : تیری ماں مرجائے تو لڑائی کو بھڑکانے والا ہے، اگرچہ تیرے چند ساتھی ہوں تو ابو بصیر اہل مکہ کا جو راستہ شام جاتا تھا اس پر آگئی جب مکی مسلمانوں نے سنا جو آپ نے اس کے بارے میں فرمایا تھا : تو وہ ابو بصیر کے ساتھ ملتے رہے ، یہاں تک کہ وہ ٦٠ تا ٩٠ افراد کا ایک گروہ بن گیا وہ کسی قریشی شخص کو چھوڑتے نہ تھے، قتل کردیتے اور ہر قافلے کو لوٹ لیتے۔ پھر قریش نے مجبور ہو کر خط لکھا کہ ان کو اپنے پاس بلالو ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے تو پھر آپ نے ابو بصیر گروپ کو واپس بلا لیا۔

18838

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18838

Zaeef

(١٨٨٣٢) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ فَذَکَرَ ہَذِہِ الْقَصَّۃَ قَالَ فِیہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : وَیْلُ أُمِّہِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ کَانَ مَعَہُ أَحَدٌ ۔ وَجَائَ أَبُو بَصِیرٍ بِسَلَبِہِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : خَمِّسْ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : إِنِّی إِذَا خَمَسْتُہُ لَمْ أُوفِ لَہُمْ بِالَّذِی عَاہَدْتُہُمْ عَلَیْہِ وَلَکِنْ شَأْنَکَ بِسَلَبِ صَاحِبِکَ وَاذْہَبْ حَیْثُ شِئْتَ ۔ فَخَرَجَ أَبُو بَصِیرٍ مَعَہُ خَمْسَۃُ نَفَرٍ کَانُوا قَدِمُوا مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مِنْ مَکَّۃَ حَتَّی کَانُوا بَیْنَ الْعِیصِ وَذِی الْمَرْوَۃِ مِنْ أَرْضِ جُہَیْنَۃَ عَلَی طَرِیقِ عِیرَاتِ قُرَیْشٍ مِمَّا یَلِی سِیفَ الْبَحْرِ لاَ یَمُرُّ بِہِمْ عِیرٌ لِقُرَیْشٍ إِلاَّ أَخَذُوہَا وَقَتَلُوا أَصْحَابَہَا وَانْفَلَتَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو فِی سَبْعِینَ رَاکِبًا أَسْلَمُوا وَہَاجَرُوا فَلَحِقُوا بِأَبِی بَصِیرٍ وَکَرِہُوا أَنْ یَقْدَمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی ہُدْنَۃِ الْمُشْرِکِینَ ثُمَّ ذَکَرَ مَا بَعْدَہُ بِمَعْنَی مَا تَقَدَّمَ وَأَتَمَّ مِنْہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٣٢) اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ اپنے چچا موسیٰ بن عقبہ سے اس قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیری ماں مرجائے تو لڑائی کی آگ بھڑکانے والا ہے، اگرچہ تیرا ایک ہی ساتھی کیوں نہ ہو اور ابو بصیر مقتول کا سامان لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پانچواں حصہ وصول کرلیں، آپ نے فرمایا : اگر میں نے پانچواں حصہ وصول کرلیا تو گویا میں نے ان کا وعدہ پورا نہ کیا، لیکن یہ سامان لے کر جہاں چاہو چلے جاؤ تو ابو بصیر پانچ ساتھیوں سمیت جو مکہ سے آئے تھے عیص اور ذی المروہ جھینہ کی سرزمین جہاں سے قریشیوں کا جو قافلہ بھی گزرتا لوٹ لیتے اور مردوں کو قتل کردیتے۔ ابو جندل بن سھیل بن عمرو ستر آدمیوں کے قافلہ میں مسلمان ہو کر ہجرت کر کے ابو بصیر کے ساتھ جا ملے اور انھوں نے مشرکین کے ساتھ صلح کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانا پسند نہ کیا ۔