Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3753

جزیہ کا بیان

جس وجہ سے صلح توڑنا جائز ہے وہ یہ ہے کہ عورتوں کو واپس نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ صلح کے اندر داخل ہی کیوں نہ ہو

4 hadiths in this chapter

18839

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18839

Sahih

(١٨٨٣٣) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّہُ قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّہُ قَاضَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُشْرِکِی قُرَیْشٍ عَلَی الْمُدَّۃِ الَّتِی جَعَلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُمْ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ أَنْزَلَ اللَّہُ فِیمَا قَضَی بِہِ بَیْنَہُمْ فَأَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَکَمِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ یُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا کَاتَبَ سُہَیْلَ بْنَ عَمْرٍو یَوْمَئِذٍ کَانَ فِیمَا اشْتَرَطَ سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ لاَ یَأْتِیکَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ کَانَ عَلَی دِینِکَ إِلاَّ رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا فَخَلَّیْتَ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ فَکَرِہَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِکَ وَأَلْغَطُوا بِہِ أَوْ قَالَ کَلِمَۃً أُخْرَی۔ قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَہُ اللَّہُ لَمْ یُقِمْ شَیْخُنَا ہَذِہِ الْکَلِمَۃَ وَرَأَیْتُہُ فِی نُسْخَۃٍ وَامْتَعَظُوا۔ وَأَبَی سُہَیْلٌ إِلاَّ ذَلِکَ فَکَاتَبَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَرَدَّ یَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ إِلَی أَبِیہِ سُہَیْلِ بْنِ عَمْرٍو وَلَمْ یَأْتِہِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ رَدَّہُ فِی تِلْکَ الْمُدَّۃِ وَإِنْ کَانَ مُسْلِمًا وَجَائَ الْمُؤْمِنَاتُ وَکَانَتْ أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَئِذٍ وَہِیَ عَاتِقٌ فَجَائَ أَہْلُہَا یَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یَرْجِعَہَا إِلِیْہِمْ فَلَمْ یَرْجِعْہَا إِلِیْہِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ فِیہِنَّ {إِذَا جَائَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ اللَّہُ أَعْلَمُ بِإِیمَانِہِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلاَ تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ لاَ ہُنَّ حِلٌّ لَہُمْ وَلاَ ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ } [الممتحنۃ ١٠] قَالَ عُرْوَۃُ فَأَخْبَرَتْنِی عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ یَمْتَحِنُہُنَّ بِہَذِہِ الآیَۃِ { یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا جَائَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلَی أَنْ لاَ یُشْرِکْنَ بِاللَّہِ شَیْئًا وَلاَ یَسْرِقْنَ وَلاَ یَزْنِینَ وَلاَ یُقْتَلْنَ أَوْلاَدَہُنَّ } [الممتحنۃ ١٢] الآیَۃَ قَالَ عُرْوَۃُ قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : فَمَنْ أَقَرَّ بِہَذَا الشَّرْطِ مِنْہُنَّ قَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَدْ بَایَعْتُکِ ۔ کَلاَمًا یُکَلِّمُہَا بِہِ وَاللَّہِ مَا مَسَّتْ یَدُہُ یَدَ امْرَأَۃٍ قَطُّ فِی الْمُبَایَعَۃِ مَا بَایَعَہُنَّ إِلاَّ بِقَوْلِہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ بُکَیْرٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٣٣) ابن شہاب فرماتے ہیں کہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے ساتھ حدیبیہ کے دن ایک مدت تک صلح کی، تو اللہ رب العزت نے اس کے بارے میں قرآن نازل کیا جو ان کے درمیان صلح تھی۔ (ب) عروہ بن زبیر نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ (رض) سے سنا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ نے سہیل بن عمرو کو معاہدہ تحریر کروایا جس میں سہیل بن عمرو نے یہ شرط رکھی تھی کہ ہمارا کوئی آدمی اگرچہ آپ کے دین پر ہوا تو آپ اسے واپس کریں گے تو مومنوں نے اس کو ناپسند کیا اور شور کیا یا کوئی دوسری بات کہی اور سہیل بن عمروکو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے معاہدہ تحریر کروایا تو اسی دن ابو جندل کو ان کے والد سھیل بن عمرو کے سپرد کیا گیا اور جو مسلمان بھی اس مدت کے اندر مکہ سے آیا۔ آپ نے واپس کردیا اور مومنہ عورتیں جن میں کلثوم بنت عقب ابن ابی معیط بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئیں تو اس کے گھر والوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے واپسی کا مطالبہ کیا تو آپ نے اس کو واپس نہیں کیا، کیونکہ قرآن نازل ہوا : { اِذَا جَائَکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِہِنَّ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ لاَ ہُنَّ حِلٌّ لَہُمْ وَلاَ ہُمْ یَحِلُّونَ لَہُنَّ } [الممتحنۃ ١٠] جب مومنہ عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کرلیا کرو۔ اللہ ان کے ایمانوں کو جانتا ہے اگر تم ان کو مومنہ پاؤ تو کفار کی جانب واپس نہ کرو، وہ عورتیں ان کے لیے اور وہ مرد ان کے لیے حلال نہیں ہیں۔ (ب) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس آیت کے ذریعے امتحان لیتے تھے : { یاَیُّہَا النَّبِیُّ اِذَا جَائَکَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰی اَنْ لاَ یُشْرِکْنَ بِاللّٰہِ شَیْئًا وَّلاَ یَسْرِقْنَ وَلاَ یَزْنِیْنَ وَلاَ یَقْتُلْنَ اَوْلاَدَہُنَّ } [الممتحنۃ ١٢] اے نبی ! جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں آئیں تو اس بات پر بیعت لیں کہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرنا، چوری، زنا اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا۔ عروہ کہتے ہیں : جو اس شرط کا اقرار کرتی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیتے : میں نے تجھ سے بیعت لے لی ہے صرف کلام کرتے، اللہ کی قسم ! آپ نے کسی عورت کا بیعت کرتے وقت ہاتھ نہیں چھوا۔

18840

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18840

Sahih

(١٨٨٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ حَدَّثَہُمْ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - زَمَنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَی مَا مَضَی زَادَ ثُمَّ جَائَ نِسْوَۃٌ مُؤْمِنَاتٌ مُہَاجِرَاتٌ الآیَۃَ فَنَہَاہُمُ اللَّہُ أَنْ یَرُدُّوہُنَّ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَرُدُّوا الصَّدَاقَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٣٤) مسور بن مخرمہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ کے وقت نکلے۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو اللہ نے ان کو واپس کرنے سے منع کردیا۔ صرف حق مہر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

18841

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18841

Sahih

(١٨٨٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ وَقَدْ کَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ أَبِی ہُنَیْدَۃَ یَسْأَلَہُ عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ {إِذَا جَائَ کُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوہُنَّ } [المتتحنۃ ١٠] فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُرْوَۃُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ صَالَحَ أَہْلَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَشَرَطَ لَہُمْ أَنَّہُ مَنْ أَتَاہُ بِغَیْرِ إِذْنِ وَلِیِّہِ رَدَّہُ عَلَیْہِمْ فَلَمَّا ہَاجَرَ الْمُسْلِمَاتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَرَ ہُ اللَّہُ بِامْتِحَانِہِنَّ فَإِنْ کُنَّ جِئْنَ رَغْبَۃً فِی الإِسْلاَمِ لَمْ یَرُدَّہُنَّ عَلَیْہِمْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { فَإِنْ عَلِمْتُمُوہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلاَ تَرْجِعُوہُنَّ إِلَی الْکُفَّارِ } [المتتحنۃ ١٠] فَحَبَسَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النِّسَائَ وَرَدَّ الرِّجَالَ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٣٥) زہری کہتے ہیں : میں عروہ بن زبیر کے پاس آیا تو ابن ابی ہنیدہ نے ان سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا : { اِذَا جَائَکُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُہَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوْہُنَّ } [المتتحنۃ ١٠] ” جب آپ کے پاس مومنہ عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان کرلیا کرو “ عروہ بن زبیر نے انھیں جواب لکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب صلح حدیبیہ کی تو اس میں شرط تھی کہ جو بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر آئے گا آپ اس کو واپس کریں گے لیکن جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں تو اللہ نے حکم دیا اگر وہ اسلام میں رغبت کرتے ہوئے آجائیں تو ان کا امتحان کرلیا کرو { فَاِنْ عَلِمْتُمُوْہُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلاَ تَرْجِعُوْہُنَّ اِلَی الْکُفَّارِ } [المتتحنۃ ١٠] اگر تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومنہ ہیں تو کفار کی جانب واپس نہ کرو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو روک لیا اور مردوں کو واپس کردیا۔

18842

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18842

Sahih

(١٨٨٣٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ : ہَاجَرَتْ أُمُّ کُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَجَائَ أَخَوَاہَا الْوَلِیدُ وَفُلاَنٌ ابْنَا عُقْبَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَطْلُبَانِہَا فَأَبَی أَنْ یَرُدَّہَا عَلَیْہِمَا۔ وَقَدْ مَضَی فِی رِوَایَۃِ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ فِی صُلْحِ حُدَیْبِیَۃَ فَقَالَ سُہَیْلٌ : عَلَی أَنْ لاَ یَأْتِیَکَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ کَانَ عَلَی دِینِکَ إِلاَّ رَدَدْتَہُ إِلَیْنَا۔ وَفِی ذَلِکَ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ النِّسَائَ لَمْ یَدْخُلْنَ فِی ہَذَا الشَّرْطِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٣٦) زہری اور عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب حدیبیہ کے سال ہجرت کی تو عقبہ کے دونوں بیٹے بہن کو لینے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، آپ نے اس کو واپس کرنے سے انکار کردیا۔ (ب) زہری نے صلح حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا کہ سھیل نے معاہدہ میں مرد کی شرط رکھی تھی۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورتیں اس میں شامل ہی نہ تھیں۔