Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3750

جزیہ کا بیان

مسلمان جنگ بندی کے لیے کچھ دیں اس میں خیر نہیں ہے امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : قتل مسلمان کی شہادت ہے اور اسلام کا مشرک کو جنگ بندی کے لیے کچھ دینا مناسب خیال نہیں کرتا، کیونکہ مسلمان قاتل یا متقول دونوں صورتوں میں حق پر ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں : مغیرہ بن شعبہ کی

4 hadiths in this chapter

18828

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18828

Sahih

(١٨٨٢٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ خَالَہُ وَکَانَ اسْمَہُ حَرَامٌ أَخَا أُمِّ سُلَیْمٍ فِی سَبْعِینَ رَجُلاً فَقُتِلُوا یَوْمَ بِئْرِ مَعُونَۃَ وَکَانَ رَئِیسُ الْمُشْرِکِینَ عَامِرُ بْنُ الطُّفَیْلِ وَکَانَ أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : أُخَیِّرُکَ بَیْنَ ثَلاَثِ خِصَالٍ أَنْ یَکُونَ لَکَ أَہْلُ السَّہْلِ وَلِی أَہْلُ الْمَدَرِ وَأَکُونُ خَلِیفَتَکَ مِنْ بَعْدِکَ أَوْ أَغْزُوکَ بِغَطَفَانَ بِأَلْفِ أَشْقَرَ وَأَلْفِ شَقْرَائَ ۔ قَالَ : فَطُعِنَ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلاَنٍ فَقَالَ : غُدَّۃٌ کَغُدَّۃِ الْبِکْرِ فِی بَیْتِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِی فُلاَنٍ ائْتُونِی بِفَرَسِی فَرَکِبَہُ فَمَاتَ عَلَی ظَہْرِ فَرَسِہِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أُمِّ سُلَیْمٍ وَرَجُلاَنِ مَعَہُ رَجُلٌ أَعْرَجُ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِی فُلاَنٍ قَالَ : کُونَا یَعْنِی قَرِیبًا مِنِّی حَتَّی آتِیَہُمْ فَإِنْ آمَنُونِی کُنْتُمْ کَذَا وَإِنْ قَتَلُونِی أَتَیْتُمْ أَصْحَابَکُمْ فَأَتَاہُمْ حَرَامٌ فَقَالَ : أَتُؤْمِنُونِی أُبَلِّغُکُمْ رِسَالَۃَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا نَعَمْ فَجَعَلَ یُحَدِّثُہُمْ وَأَوْمَئُوا إِلَی رَجُلٍ فَأَتَاہُ مِنْ خَلْفِہِ فَطَعَنَہُ ۔ قَالَ ہَمَّامٌ أَحْسِبُہُ قَالَ فَأَنْفَذَہُ بِالرُّمْحِ فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقُتِلَ کُلُّہُمْ إِلاَّ الأَعْرَجَ کَانَ فِی رَأْسِ الْجَبَلِ قَالَ إِسْحَاقُ فَحَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ أُنْزِلَ عَلَیْنَا ثُمَّ کَانَ مِنَ الْمَنْسُوخِ إِنَّا قَدْ لَقِینَا رَبَّنَا فَرَضِیَ عَنَّا وَأَرْضَانَا فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبْعِینَ صَبَاحًا عَلَی رِعْلٍ وَذَکْوَانَ وَبَنِی لِحْیَانَ وَعُصَیَّۃَ عَصَتِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٠٩١]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٢٢) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ماموں حرام جو ام سلیم کے بھائی تھے، ان ستر آدمیوں میں روانہ کیا جو بئر ممونہپر قتل کردیے گئے۔ مشرکین کا رئیس عامر بن طفیل نبی کے پاس آیا، اس نے کہا : میں تجھے تین چیزوں میں اختیار دیتا ہوں، 1 آپ کے لیے بدر اور میرے ساتھی گھروں میں رہنے والے لوگ، 2 آپ کے بعد میں خلیفہ ہوں گا، 3 میں تیرے ساتھ ایک ہزار سرخ وسفید رنگت والے نوجوانوں کے ساتھ جنگ کروں گا۔ راوی کہتے ہیں : بنو فلاں کے گھر اس کو نیزہ مارا گیا یا بنوفلاں قبیلے کی عورت کے گھر میں وہ طاعون کی بیماری میں مبتلا ہوگیا، اس نے اپنا گھوڑا منگوایا تو عامر بن طفیل اپنے گھوڑے پر سوار ہی فوت ہوگیا، تو ام سلیم کے بھائی حرام اور اس کے ساتھ دو شخص اور بھی چلے، ایک لنگڑا اور ایک بنو فلاں قبیلے کا شخص۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں میرے قریب آگئے۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا : اگر تم نے مجھے پناہ دے دی تو تمہیں ملے گا اور اگر انھوں نے مجھے قتل کردیا تو تم اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔ حرام ان کے پاس آگئے، کہنے لگے : میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیغام دیتا ہوں۔ کیا تم ایمان لاؤ گے، انھوں نے حامی بھری تو حرام نے ان کو وعظ شروع کردیا جبکہ انھوں نے کسی شخص کو پیچھے سے اتارا اس نے نیزہ مار کر حرام کو ہلاک کردیا۔ ھمام کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ جب اسے نیزہ لگا، اس نے کہا : اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا، اس شخص نے باقی افراد کو بھی قتل کر ڈالا، سوائے اعرج کے، کیونکہ وہ پہاڑ کی چوٹی پر تھے۔ (ب) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس لایا گیا، پھر یہ بات منسوخ ہوگئی کہ ہماری ملاقات اللہ رب العزت سے ہوئی، وہ ہم سے راضی اور ہم اس سے راضی تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٧٠ دن رعل وذکوان بنو لحیان قبیلوں پر بدعا کی کیونکہ انھوں نے اللہ ورسول کی نافرمانی کی تھی۔

18829

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18829

Sahih

(١٨٨٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ حَدَّثَنِی ثُمَامَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَنَسٍ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ وَکَانَ خَالَہُ یَوْمَ بِئْرِ مَعُونَۃَ فَقَالَ بِالدَّمِ ہَکَذَا فَنَضَحَہُ عَلَی وَجْہِہِ وَرَأْسِہِ ثُمَّ قَالَ : فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حِبَّانَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤٠٩٢]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٢٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ جب حرام بن ملحان کو نیزہ مارا گیا اور ان کا ماموں بئرمونہ کے دن تھا، اس نے خون کے نکلتے وقت اپنے چہرے اور سر پر پانی چھڑکتے ہوئے کہا کہ رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا۔

18830

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18830

Sahih

(١٨٨٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الصُّوفِیُّ حَدَّثَنَا خَلَفٌ ہُوَ ابْنُ سَالِمٍ الْمُخَرِّمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْخُرُوجِ مِنْ مَکَّۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْہِجْرَۃِ وَمَعَہُمَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ قَالَ فَقُتِلَ عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ یَوْمَ بِئْرِ مَعُونَۃَ وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیُّ فَقَالَ لَہُ عَامِرُ بْنُ الطُّفَیْلِ : مَنْ ہَذَا وَأَشَارَ إِلَی قَتِیلٍ فَقَالَ لَہُ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ : ہَذَا عَامِرُ بْنُ فُہَیْرَۃَ فَقَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُہُ بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَی السَّمَائِ حَتَّی إِنِّی لأَنْظُرُ إِلَی السَّمَائِ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الأَرْضِ قَالَ فَأَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَبَرُہُمْ فَنَعَاہُمْ وَقَالَ : إِنَّ أَصْحَابَکُمْ أُصِیبُوا وَإِنَّہُمْ قَدْ سَأَلُوا رَبَّہُمْ فَقَالُوا رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِینَا عَنْکَ وَرَضِیتَ عَنَّا قَالَ فَأَخْبَرَہُمْ عَنْہُمْ قَالَ : وَأُصِیبَ مِنْہُمْ یَوْمَئِذٍ عُرْوَۃُ بْنُ أَسْمَائَ بْنِ الصَّلْتِ سُمِّیَ بِہِ عُرْوَۃُ وَمُنْذِرُ بْنُ عُمَرَ وَسُمِّیَ بِہِ مُنْذِرٌ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَجَعَلَ آخِرَ الْحَدِیثِ مِنْ قَوْلِ عُرْوَۃَ ۔ [صحیح ٤٠٩٣]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٢٤) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہجرت کی اجازت طلب کی، انھوں نے ہجرت کے متعلقہ حدیث ذکر کی، ان کے ساتھ عامر بن فہیرہ تھے، کہتے ہیں : عامر بن فہیرہ بئرمعونہ کے دن قتل کر دییگئے، عمرو بن امیہ ضمری قیدی بنا لیے گئے، عامر بن طفیل نے مقتول کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : یہ کون ہے ؟ تو عمرو بن امیہ نے کہا : یہ عامر بن فہیرہ ہے۔ اس نے کہا : میں نے اس کے قتل کے بعد دیکھا کہ اسے آسمانوں زمین کے درمیان اٹھایا گیا، راوی کہتے ہیں کہ ان کے قتل کی خبر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی تو آپ نے فرمایا : تمہارے ساتھی شہید کردیے گئے تو انھوں نے اپنے سے سوال کیا کہ ہمارے رب ہمارے بھائیوں کو خبر دے دینا کہ تو ہم سے راضی اور ہم تجھ سے راضی ہیں۔ راوی کہتے ہیں : ان کی جانب سے خبر دی گئی۔ اس دن عروہ بن اسمائبن صلت جس کو عروہ اور منذر بن عمر کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔

18831

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18831

Sahih

(١٨٨٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی أَسْمَائَ عَنْ ثَوْبَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یَزَالُ طَائِفَۃٌ مِنْ أُمَّتِی ظَاہِرِینَ عَلَی الْحَقِّ لاَ یَضُرُّہُمْ مَنْ خَذَلَہُمْ حَتَّی یَأْتِیَ أَمْرُ اللَّہِ وَہُمْ کَذَلِکَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مَنْصُورٍ وَغَیْرِہِ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨٢٥) حضرت ثوبان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر ہی رہے گا۔ ان کو کوئی گمراہی نقصان نہ دے گی، قیامت تک وہ اسی حالت پر رہے گی۔