Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3746

جزیہ کا بیان

سو رہ فتح کے نزول اور آپ کا حدیبیہ سے واپس آنے کا بیان

5 hadiths in this chapter

18817

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18817

Sahih

(١٨٨١١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامَاتِیُّ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ وَأَبُو الأَشْعَثِ قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَدَّثَہُمْ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا ۔ لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ } [الفتح ١-٢] مَرْجِعَہُمْ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَہُمْ یُخَالِطُہُمُ الْحُزْنُ وَالْکَآبَۃُ وَقَدْ نَحَرَ الْہَدْیَ فَقَالَ : لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَیَّ آیَاتٌ ہِیَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ عَلِمْنَا مَا یَفْعَلُ اللَّہُ بِکَ فَمَا یَفْعَلُ بِنَا قَالَ فَنَزَلَتْ { لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ } [الفتح ٥] حَتَّی بَلَغَ رَأْسَ الآیَۃِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِیٍّ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٧٨٦]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨١١) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : جب یہ آیت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا ۔ لِّیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ } [الفتح ١-٢] ہم نے آپ کو واضح فتح عطا کی، تاکہ آپ کے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں، جب آپ حدیبیہ سے پلٹے تو غم و پریشانی تھی۔ آپ نے قربانی کو نحر کیا اور فرمایا یہ جو آیت میرے اوپر نازل ہوئی مجھے تمام دنیا سے زیادہ عزیز ہے، صحابہ نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ ہمارے اور آپ کے ساتھ کیا کریں گے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی : { لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } [الفتح ٥] کہ اللہ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے باغات میں داخل فرمائیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، یہاں تک کہ مکمل آیت تلاوت کی۔

18818

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18818

Sahih

(١٨٨١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ یَعْنِی ابْنَ إِسْحَاقَ الْحَافِظَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا } [الفتح ١] قَالَ فَتْحُ الْحُدَیْبِیَۃِ فَقَالَ رَجُلٌ : ہَنِیئًا مَرِیئًا یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا لَکَ فَمَا لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ } [الفتح ٥] قَالَ شُعْبَۃُ : فَقَدِمْتُ الْکُوفَۃَ فَحَدَّثْتُہُمْ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَدِمْتُ الْبَصْرَۃَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِقَتَادَۃَ فَقَالَ : أَمَّا الأَوَّلُ فَعَنْ أَنَسٍ وَأَمَّا الثَّانِی { لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتَہَا الأَنْہَارُ }[الفتح ٥] فَعَنْ عِکْرِمَۃَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤١٧٢]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨١٢) قتادہ حضرت انس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } [الفتح ١] سے مراد حدیبیہ کی فتح ہے، ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مبارک ہو ، یہ آپ کے لیے ہے اور ہمارے لیے کیا ہے ؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی : { لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } [الفتح ٥] شعبہ کہتے ہیں : میں نے کوفہ میں قتادہ اور انس سے بیان کیا اور بصرہ میں صرف قتادہ سے بیان کیا تو فرمانے لگے : پہلے الفاظ حضرت انس (رض) کے ہیں اور دوسرے الفاظ یعنی آیت : { لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } یہ حضرت عکرمہ سے منقول ہے۔

18819

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18819

Sahih

(١٨٨١٣) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ سِیَاہٍ ح قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ سِیَاہٍ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : قَامَ سَہْلُ بْنُ حُنَیْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَوْمَ صِفِّینَ فَقَالَ أَیُّہَا النَّاسُ اتَّہِمُوا أَنْفُسَکُمْ لَقَدْ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَلَوْ نَرَی قِتَالاً لَقَاتَلْنَا وَذَلِکَ فِی الصُّلْحِ الَّذِی کَانَ بَیْنَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ فَأَتَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَہُمْ عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی ۔ قَالَ : أَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَی ۔ قَالَ : فَفِیمَ نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی أَنْفُسِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ قَالَ : یَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنِّی رَسُولُ اللَّہِ وَلَنْ یُضَیِّعَنِی اللَّہُ ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ ابْنُ الْخَطَّابِ وَلَمْ یَصْبِرْ مُتَغَیِّظًا فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ أَلَسْنَا عَلَی حَقٍّ وَہُمْ عَلَی بَاطِلٍ ؟ قَالَ : بَلَی قَالَ : أَلَیْسَ قَتْلاَنَا فِی الْجَنَّۃِ وَقَتْلاَہُمْ فِی النَّارِ ؟ قَالَ : بَلَی قَالَ : فَعَلَی مَا نُعْطِی الدَّنِیَّۃَ فِی دِینِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا یَحْکُمِ اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ قَالَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ إِنَّہُ رَسُولُ اللَّہِ وَلَنْ یُضَیِّعَہُ اللَّہُ أَبَدًا۔ قَالَ : فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَی مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَرْسَلَ إِلَی عُمَرَ فَأَقْرَأَہُ إِیَّاہُ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَوَفَتْحٌ ہُوَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَطَابَتْ نَفْسُہُ وَرَجَعَ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ السُّلَمِیُّ عَنْ یَعْلَی بْنِ عُبَیْدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فَمَا کَانَ فِی الإِسْلاَمِ فَتْحٌ أَعْظَمُ مِنْہُ کَانَتِ الْحَرْبُ قَدْ أَحْجَزَتِ النَّاسَ فَلَمَّا أَمِنُوا لَمْ یُکَلَّمْ بِالإِسْلاَمِ أَحَدٌ یَعْقِلُ إِلاَّ قَبِلَہُ فَلَقَدْ أَسْلَمَ فِی سَنَتَیْنِ مِنْ تِلْکَ الْہُدْنَۃِ أَکْثَرَ مِمَّنْ أَسْلَمَ قَبْلَ ذَلِکَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨١٣) ابو وائل فرماتے ہیں کہ سہیل بن حنیف نے صفین کے دن کہا : اے لوگو ! اپنے اوپر الزام لگاؤ۔ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدیبیہ میں موجود تھے۔ اگر لڑائی ہوتی ہم ضرور لڑتے لیکن یہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان صلح تھی تو اس وقت حضرت عمر (رض) نے کہا تھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم حق پر اور ایمان باطل پر نہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہم حق پر اور دشمن باطل پر ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا ہمارے مقتول جنت اور ان کے مقتول جہنم میں نہ جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : پھر ہم کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، جب کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں، آپ نے فرمایا : اے ابن خطاب ! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ضائع نہ کریں گے، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) غصہ کی حالت میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس چلے گئے اور کہا : اے ابوبکر (رض) ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ؟ ابوبکر (رض) کہنے لگے : ہم حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے جہنم میں نہ جائیں گے ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہمارے مقتول جنتی اور ان کے جہنمی ہیں تو حضرت عمر (رض) نے کہا : پھر ہم اپنے دین کے بارے میں کمزوری کیوں دکھا رہے ہیں، حالانکہ ابھی تک اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ بھی نہیں فرمایا ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے ابن خطاب ! وہ اللہ کے نبی ہیں، اللہ انھیں ضائع نہ کرے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ نے قرآن نازل کیا تو آپ نے عمر (رض) کو بلا کر سنایا، حضرت عمر (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ فتح ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ فتح ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ خوشی خوشی واپس چلے گئے۔ امام شافعی (رض) فرماتے ہیں : ابن شھاب نے فرمایا : اسلام میں اس سے بڑی فتح کوئی نہ تھی، جب لوگوں کی لڑائی ختم ہوگئی۔ پھر کوئی عقل مند انسان اسلام کی بات سن کر قبول کیے بغیر نہ رہا، دو سال صلح کی مدت میں جتنے مسلمان ہوئے اس سے پہلے نہ ہوئے تھے۔

18820

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18820

Sahih

(١٨٨١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فِی قِصَّۃِ الْحُدَیْبِیَۃِ وَفِیہَا مُدْرَجًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَاجِعًا فَلَمَّا أَنْ کَانَ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِینَۃِ نَزَلَتْ عَلَیْہِ سُورَۃُ الْفَتْحِ مِنْ أَوَّلِہَا إِلَی آخِرِہَا {إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا } فَکَانَتِ الْقَضِیَّۃُ فِی سُورَۃِ الْفَتْحِ وَمَا ذَکَرَ اللَّہُ مِنْ بَیْعَۃِ رَسُولِہِ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَلَمَّا أَمِنَ النَّاسُ وَتَفَاوَضُوا لَمْ یُکَلَّمْ أَحَدٌ بِالإِسْلاَمِ إِلاَّ دَخَلَ فِیہِ فَلَقَدْ دَخَلَ فِی تَیْنِکَ السَّنَتَیْنِ فِی الإِسْلاَمِ أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ فِیہِ قَبْلَ ذَلِکَ وَکَانَ صُلْحُ الْحُدَیْبِیَۃِ فَتْحًا عَظِیمًا۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨١٤) عروہ مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے نقل فرماتے ہیں کہ حدیبیہ اس میں اندراج ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس پلٹے، ابھی مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ سورة فتح مکمل نازل ہوگئی، { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } یہ فیصلہ سورة فتح میں ہے، جو صحابہ کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی درخت کے نیچے بیعت کرنا ہے جب تمام لوگ امن میں ہوگئے کسی نے بھی اسلام کے متعلق بات نہ کی لیکن جو اسلام کے متعلق سنتا وہ ضرور اسلام قبول کرلیتا، ان دو سال کے اندر اسلام میں زیادہ لوگ داخل وئے اور صلح حدیبیہ عظیم فتح تھی۔

18821

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18821

Sahih

(١٨٨١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ البَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَکَّۃَ وَقَدْ کَانَ فَتْحُ مَکَّۃَ فِینَا فَتْحًا وَنَعُدُّ نَحْنُ الْفَتْحَ بَیْعَۃَ الرِّضْوَانِ نَزَلْنَا یَوْمَ الْحُدَیْبِیَۃِ وَہِیَ بِئْرٌ فَوَجَدْنَا النَّاسَ قَدْ نَزَحُوہَا فَلَمْ یَدَعُوا فِیہَا قَطْرَۃً فَذُکِرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَدَعَا بِدَلْوٍ فَنَزَعَ مِنْہَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْہُ بِفِیہِ فَمَجَّہُ فِیہَا وَدَعَا اللَّہَ فَکَثُرَ مَاؤُہَا حَتَّی صَدَرْنَا وَرَکَائِبُنَا وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مَالِکِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ وَغَیْرِہِ عَنْ إِسْرَائِیلَ ۔ [صحیح۔ بخاری ٤١٥٠]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٨١٥) براء فرماتے ہیں کہ تم فتح مکہ کو عظیم فتح شمار کرتے ہو ، جبکہ ہمارے نزدیک فتح مکہ عام فتح ہے۔ لیکن صلح حدیبیہ کی فتح عظیم تھی، حدیبیہ کے مقام پر ایک کنواں تھا جس کا لوگوں نے پانی نکال کر ختم کردیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا تو آپ کنویں کے کنارے پر آئے، پانی کا ڈول نکالا ۔ پھر کچھ پانی لیکر کنویں میں کلی کردی اور اللہ سے دعا کی تو پانی اتنا زیادہ ہوگیا کہ ہم نے سیر ہو کر پیا اور سواریوں کو پلایا اور ہماری تعداد ١٤ سو تھی۔