Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 62 · Chapter 3739

جزیہ کا بیان

حربی کافر جب حرم میں پناہ لے وہ اس شخص کی مانند ہے جس پر حد واجب ہو

8 hadiths in this chapter

18786

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18786

Sahih

(١٨٧٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قُلْتُ لِمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَکُ ابْنُ شِہَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ مَکَّۃَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَی رَأْسِہِ مِغْفَرٌ فَلَمَّا نَزَعَہُ جَائَ ہُ رَجُلٌ فَقَالَ : ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فَقَالَ : اقْتُلُوہُ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٨٠) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا جب آپ نے خود کو اتارا تو ایک شخص نے آ کر کہا : ابن خطل ! کعبہ کے غلاف کے ساتھ چمٹا ہوا ہے۔ فرمایا : تم اس کو قتل کر دو ۔

18787

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18787

Sahih

(١٨٧٨١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَدْلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَۃَ الْقَنَّادُ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ فَتْحِ مَکَّۃَ آمَنَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - النَّاسَ إِلاَّ أَرْبَعَۃَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَیْنِ وَقَالَ : اقْتُلُوہُمْ وَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمْ مُتَعَلِّقِینَ بِأَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ ۔ عِکْرِمَۃَ بْنَ أَبِی جَہْلٍ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ خَطَلٍ وَمِقْیَسَ بْنَ صُبَابَۃَ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٨١) مصعب بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سب لوگوں کو امن دے دیا۔ سوائے چار مرد اور عورتوں کے ۔ ان کو امن نہ دیا اور فرمایا : اگر تم ان کو کعبہ کے پردہ کے ساتھ لٹکے پاؤ تب بھی قتل کر دو ۔ یہ چار مرد تھے۔ 1 عکرمہ بن ابی جھل، 2 عبداللہ بن خطل، 3 مقیس بن صبابہ، 4 عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔

18788

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18788

Zaeef

(١٨٧٨٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَرْبِ بْنِ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِیدٍ الْمَخْزُومِیُّ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : أَرْبَعَۃٌ لاَ أُؤَمِّنُہُمْ فِی حِلٍّ وَلاَ حَرَمٍ الْحُوَیْرِثُ بْنُ نُقَیْدٍ وَمِقْیَسٌ وَہِلاَلُ بْنُ خَطَلٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی سَرْحٍ ۔ فَأَمَّا الْحُوَیْرِثُ فَقَتَلَہُ عَلِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّا مِقْیَسٌ فَقَتَلَہُ ابْنُ عَمٍّ لَہُ لَحٍّا وَأَمَّا ہِلاَلُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَہُ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی سَرْحٍ فَاسْتَأْمَنَ لَہُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ أَخَاہُ مِنَ الرَّضَاعَۃِ وَقَیْنَتَیْنِ کَانَتَا لِمِقْیَسٍ تُغَنِّیَانِ بِہِجَائِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قُتِلَتْ إِحْدَاہُمَا وَأَفْلَتَتِ الأُخْرَی فَأَسْلَمَتْ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٨٢) عمر بن عثمان بن عبد الرحمن بن سعید مخزومی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا : چار افراد کو حرم اور حلت میں بھی پناہ نہیں ہے۔ 1 حویرث بن نقید، 2 مقیس، 3 ھلال بن خطل، 4 عبداللہ بن ابی سرح۔ حویرث کو حضرت علی (رض) نے قتل کردیا، مقیس کو اس کے چچا کے بیٹے لخا نے قتل کردیا، ھلال بن خطل کو حضرت زبیر (رض) نے قتل کردیا۔ عبداللہ بن ابی سرح کو حضرت عثمان بن عفان (رض) نے رضاعی بھائی ہونے کی وجہ سے پناہ دے دی۔ مقیس کی دو گانے والی لونڈیاں تھیں۔ ایک کو قتل کردیا گیا ، دوسری کو چھوڑ دیا گیا، وہ مسلمان ہوگئی۔

18789

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18789

Sahih

(١٨٧٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی شُرَیْحٍ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِیدٍ وَہُوَ یَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّۃَ : ائْذَنْ لِی أَیُّہَا الأَمِیرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلاً قَامَ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الْغَدَ مِنْ یَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی وَأَبْصَرَتْہُ عَیْنَایَ حِینَ تَکَلَّمَ بِہِ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ مَکَّۃَ حَرَّمَہَا اللَّہُ وَلَمْ یُحَرِّمْہَا النَّاسُ فَلاَ یَحِلُّ لاِمْرِئٍ یُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ أَنْ یَسْفِکَ فِیہَا دَمًا وَلاَ یَعْضِدَ بِہَا شَجَرَۃً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُولُوا إِنَّ اللَّہَ قَدْ أَذِنَ لِرَسُولِہِ وَلَمْ یَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِی سَاعَۃً مِنْ نَہَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُہَا الْیَوْمَ کَحُرْمَتِہَا بِالأَمْسِ وَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ ۔ فَقِیلَ لأَبِی شُرَیْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو فَقَالَ قَالَ عَمْرٌو : أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِکَ مِنْکَ یَا أَبَا شُرَیْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لاَ یُعِیذُ عَاصِیًا وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَۃٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٨٣) ابو شریح عدوی نے عمرو بن سعید سے کہا جو مکہ کی جانب وفد بھیجتے تھے کہ اے امیر المؤمنین ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فتح مکہ کے دوسرے دن بات فرمائی تھی، وہ مجھے کہنے کی اجازت دیں۔ میرے دونوں کانوں نے سنا، دل نے یاد رکھا اور میری دونوں آنکھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بات کرتے ہوتے دیکھا۔ آپ نے حمد وثنا کے بعد فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے لوگوں نے نہیں۔ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے حرم میں خون بہانا جائز نہیں ہے۔ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں۔ اگر کوئی کہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتال کی اجازت ملی تھی تو تم کہہ دینا اللہ نے اپنے رسول کو اجازت دی تھی، تمہیں نہیں اور آپ کو صرف دن کی ایک گھڑی اجازت دی گئی۔ اب اس کی حرمت ویسے ہوگئی جیسے پہلے تھی اور چاہیے کہ حاضر غائب تک بات کو پہنچا دے۔ ابو شریح سے کہا گیا کہ عمرو نے آپ سے کیا کہا۔ راوی کہتے ہیں : عمرو نے ابو شریح سے کہا : میں تجھ سے اس بات کو زیادہ جانتا ہوں ، حرم کسی گناہ گار قاتل اور فساد کرنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔

18790

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18790

Zaeef

(١٨٧٨٤) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّمَا مَعْنَی ذَلِکَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ أَنَّہَا لَمْ تَحْلِلْ أَنْ یُنْصَبَ عَلَیْہَا الْحَرْبُ حَتَّی تَکُونَ کَغَیْرِہَا فَقَدْ أَمَرَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عِنْدَمَا قُتِلَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ وَخُبَیْبٌ بِقَتْلِ أَبِی سُفْیَانَ فِی دَارٍ بِمَکَّۃَ غِیلَۃً إِنْ قُدِرَ عَلَیْہِ وَہَذَا فِی الْوَقْتِ الَّذِی کَانَت فِیہِ مُحَرَّمَۃً فَدَلَّ عَلَی أَنَّہَا لاَ تَمْنَعُ أَحَدًا مِنْ شَیْئٍ وَجَبَ عَلَیْہِ وَإِنَّہَا إِنَّمَا تُمْنَعُ مِنْ أَنْ یُنْصَبَ عَلَیْہَا الْحَرْبُ کَمَا یُنْصَبُ عَلَی غَیْرِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

سابقہ حدیث کی طرح ہے

18791

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18791

Zaeef

(١٨٧٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُطَّۃَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہَمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ الْوَاقِدِیُّ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ (ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِی عَوْنٍ وَزَادَ بَعْضُہُمْ عَلَی بَعْضٍ فَذَکَرَ قِصَّۃً فِی بَعَثِ أَبِی سُفْیَانَ مَنْ یَقْتُلُ مُحَمَّدًا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - غِیلَۃً وَإِنَّ اللَّہَ تَعَالَی أَطْلَعَ عَلَیْہِ نَبِیَّہُ وَأَسْلَمَ الرَّجُلُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لِعَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ وَسَلَمَۃَ بْنِ أَسْلَمَ بْنِ حَرِیشٍ : اخْرُجَا حَتَّی تَأْتِیَا أَبَا سُفْیَانَ بْنَ حَرْبٍ فَإِنْ أَصَبْتُمَا مِنْہُ غِرَّۃً فَاقْتُلاَہُ ۔ ثُمَّ ذَکَرَ قِصَّۃً فِی رُؤْیَۃِ مُعَاوِیَۃَ عَمْرًا وَإِخْبَارِہِ أَبَاہُ بِذَلِکَ وَأَنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ وَسَلَمَۃَ بْنَ أَسْلَمَ أَسْنَدَا فِی الْجَبَلِ وَتَغَیَّبا فِی غَارٍ ثُمَّ إِنَّ عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ خَرَجَ فَقَتَلَ عُبَیْدَ اللَّہِ بْنَ مَالِکٍ ابْنَ أَخِی طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ وَجَائَ إِلَی خُبَیْبِ بْنِ عَدِیٍّ وَہُوَ مَصْلُوبٌ فَأَنْزَلَہُ وَأَہَالَ عَلَیْہِ التُّرَابَ ثُمَّ ذَکَرَ رُجُوعَہُمَا مُنْفَرِدَیْنِ إِلَی الْمَدِینَۃِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٨٥) عبد الوحد بن ابی عون فرماتے ہیں کہ بعض نے کچھ الفاظ زائد بیان کیے ہیں اور ابو سفیان کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکا سے قتل کرنے کا قصہ ذکر کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اطلاع دے دی تو قتل کے ارادے سے آنے والا شخص مسلمان ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ فری اور سلمہ بن اسلم بن حریش کو فرمایا : تم ابو سفیان بن حرب کے پاس جا ؤ، اگر تم اسے غافل پاؤ تو قتل کردینا۔ (ب) پھر انھوں نے معاویہ کے عمرو کو دیکھ لینے اور اپنے باپ کو اس کی خبر دینے کا قصہ ذکر کیا ہے کہ عمرو بن امیہ اور سلمہ بن اسلم پہاڑ پر چڑھ کر غار میں چھپ گئے تو عمرو بن امیہ نے غار سے نکل کر عبید اللہ بن مالک کو جو طلحہ بن عبید اللہ کے بھتیجے تھے قتل کردیا۔ پھر خبیب بن عدی کے پاس آئے، انھیں سولی سے اتار کر ان پر مٹی ڈال دی، پھر وہ دونوں اکیلے اکیلے مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔

18792

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18792

Sahih

(١٨٧٨٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِکِ ابْنِ بَرْصَائَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ : لاَ تُغْزَی بَعْدَہَا إِلَی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٨٦) حارث بن مالک بن برصاہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا : یہاں قیامت تک غزوہ نہ کیا جائے گا۔

18793

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18793

Sahih

(١٨٧٨٧) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : مَنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِی الْحِلِّ ثُمَّ دَخَلَ الْحَرَمَ فَإِنَّہُ لاَ یُجَالَسُ وَلاَ یُکَلَّمُ وَلاَ یُؤْوَی وَیُنَاشَدُ حَتَّی یَخْرُجَ فَإِذَا خَرَجَ أُقِیمَ عَلَیْہِ مَا أَصَابَ فَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِی الْحِلِّ ثُمَّ أُدْخِلَ الْحَرَمَ فَأَرَادُوا أَنْ یُقِیمُوا عَلَیْہِ مَا أَصَابَ أَخْرَجُوہُ مِنَ الْحَرَمِ إِلَی الْحِلِّ وَإِنْ قَتَلَ أَوْ سَرَقَ فِی الْحَرَمِ أُقِیمَ عَلَیْہِ فِی الْحَرَمِ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا رَأْیٌ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَقَدْ تَرَکْنَاہُ بِالظَّوَاہِرِ الَّتِی وَرَدَتْ فِی إِقَامَۃِ الْحُدُودِ دُونَ تَخْصِیصِ الْحَرَمِ بِتَرْکِہَا فِیہِ مِنْ صَاحِبِ الشَّرِیعَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٧٨٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے حل میں قتل یا چوری کی۔ پھر حرم میں داخل ہوگیا تو ایسے انسان کو پاس بٹھایا نہ جائے کلام نہ کی جائے، اور نہ ہی اسے پناہ دی جائے اور حرم سے نکلنے کا مطالبہ کیا جائے جب وہ حرم سے نکل آئے تو اس پر حد جاری کی جائے۔ اگر کسی نے حل میں قتل یا چوری کی پھر اسے حرم میں اس نیت سے لایا گیا کہ اس پر حد قائم کی جائے تو تم حرم سے نکال کر حل میں لے آؤ اور اگر کسی نے حرم میں قتل یا چوری کی تو پھر حرم کے اندر ہی اس پر حد جاری کی جائے گی۔ شیخ فرماتے ہیں : یہ رائے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی ہے تو ہم نے ظاہر دلائل کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے جو حد کو قائم کرنے کے بارے میں ہے جس میں حرم کی تخصیص نہیں ہے۔