Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3684

سیر کا بیان

لڑائی کرنے والے کی نیت کا بیان تاکہ اللہ کے راستے میں ہونا معلوم ہوسکے

9 hadiths in this chapter

18550

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18550

Sahih

(١٨٥٤٤) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ بْنُ الْحَجَّاجِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ الرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِلذِّکْرِ وَالرَّجُلُ یُقَاتِلُ لِیُعْرَفَ فَمَنْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ؟ فَقَالَ : مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللَّہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَأَخْرَجَہُ ہُوَ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٤٤) حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ اس نے کہا کہ ایک شخص مال غنیمت کے لیے لڑتا ہے اور دوسرا شہرت اور تیسراری شہوری کے لیے لڑتا ہے تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو اللہ کے کلمے کو سر بلند کے لیے نکلے وہ اللہ کے راستہ میں ہے۔

18551

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18551

Sahih

(١٨٥٤٥) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ الضَّرِیرُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ شَقِیقٍ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلٌ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ الرَّجُلُ یُقَاتِلُ شَجَاعَۃً وَیُقَاتِلُ حَمِیَّۃً وَیُقَاتِلُ رِیَائً فَأَیُّ ذَلِکَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ قَاتَلَ لِتَکُونَ کَلِمَۃُ اللَّہِ ہِیَ الْعُلْیَا فَہُوَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٤٥) ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو ایک شخص بہادری کے لیے، دوسرا عصبیت کے لیے اور تیسرا ریا کاری کے لیے جہاد کرتا ہے تو ان ان میں سے کون اللہ کے راستہ میں ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو صرف اس لیے لڑائی کرلے تاکہ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے یہ اللہ کے راستہ میں ہے۔

18552

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18552

Sahih

(١٨٥٤٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ کَثِیرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٤٦) ابوموسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔۔۔ باقی اسی طرح حدیث ذکر کی۔

18553

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18553

Zaeef

(١٨٥٤٧) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَہْبٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّیْرَفِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ الْحَضْرَمِیُّ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنِی بَحِیرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَبِی بَحْرِیَّۃَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ قَالَ : الْغَزْوُ غَزْوَانِ فَأَمَّا مَنِ ابْتَغَی وَجْہَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطَاعَ الإِمَامَ وَأَنْفَقَ الْکَرِیمَۃَ وَبَاشَرَ الشَّرِیکَ وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ فَإِنَّ نَوْمَہُ وَنُبْہَہُ أَجْرٌ کُلُّہُ وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِیَائً وَسُمْعَۃً وَعَصَی الإِمَامَ وَأَفْسَدَ فِی الأَرْضِ فَإِنَّہُ لَنْ یَرْجِعَ بِکَفَافٍ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْحَضْرَمِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ مُحَمَّدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ عَنْ أَبِی بَحْرِیَّۃَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قَیْسٍ وَقَالَ فِی آخِرَہُ : وَعَصَی الإِمَامَ وَلَمْ یُنْفِقِ الْکَرِیمَۃَ لَمْ یَرْجِعْ بِالْکَفَافِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٤٧) حضرت معاذ بن جبل (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ غزوہ دو قسم کا ہے وہ شخص جو اللہ کی رضا مندی کے لیے اور امیر کی اطاعت میں پسندیدہ چیز کو خرچ کرتا ہے اور اپنے ساتھی سے مل کر رہتا ہے اور فساد سے بچتا ہے اس کے سونے اور بیدار رہنے میں اجر ہے اور جس نے فخر، ریاکاری، شہرت، امام کی نافرمانی اور زمین میں فساد کرنے کی کوشش کی وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔ (ب) ابوبحریہ عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں :۔۔۔ جس کے آخر میں ہے کہ جس نے امام کی نافرمانی کی اور اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کی، وہ برابری کے ساتھ بھی نہ لوٹے گا۔

18554

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18554

Zaeef

(١٨٥٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی الْوَضَّاحِ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ حَنَانِ بْنِ خَارِجَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنِی عَنِ الْجِہَادِ وَالْغَزْوِ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو إِنْ قَاتَلْتَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا بَعَثَکَ اللَّہُ صَابِرًا مُحْتَسِبًا وَإِنْ قَاتَلْتَ مُرَائِیًا مُکَاثِرًا بَعَثَکَ اللَّہُ مُرَائِیًا مُکَاثِرًا یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو عَلَی أَیِّ حَالٍ قَاتَلْتَ أَوْ قُتِلْتَ بَعَثَکَ اللَّہُ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٤٨) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے جہاد اور غزوہ کے بارے میں بتایئے۔ آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن عمر (رض) ! اگر تو نے صبر کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے جہاد کیا تو اللہ تجھے صبر ثواب دینے کی صورت میں ہی اٹھائے گا۔ اگر تو نے ریاکاری یا مال کی زیادتی کے لیے لڑائی کی تو اللہ تجھے ریاکار اور زیادہ مال طلب کرنے والوں میں اٹھائے گا۔

18555

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18555

Sahih

(١٨٥٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الإِیَادِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ بْنِ خَلاَّدٍ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ بْنُ یُوسُفَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ لَہُ نَاتِلٌ أَخُو أَہْلِ الشَّامِ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ حَدِّثْنَا حَدِیثًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَقُولُ : أَوَّلُ النَّاسِ یُقْضَی فِیہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃَ ثَلاَثَۃٌ رَجُلٌ اسْتُشْہِدَ أُتِیَ بِہِ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَہَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِیہَا قَالَ قَاتَلْتُ فِی سَبِیلِکَ حَتَّی اسْتُشْہِدْتُ قَالَ کَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ یُقَالَ فُلاَنٌ جَرِیئٌ فَقَدْ قِیلَ فَأُمِرَ بِہِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْہِہِ حَتَّی أُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِیَ بِہِ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَہَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِیہَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَقَرَأْتُ الْقُرْآنَ وَعَلَّمْتُہُ فِیکَ قَالَ کَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ یُقَالَ فُلاَنٌ عَالِمٌ وَفُلاَنٌ قَارِئٌ فَقَدْ قِیلَ فَأُمِرَ بِہِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْہِہِ إِلَی النَّارِ وَرَجُل آتَاہُ اللَّہُ مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ فَأُتِیَ بِہِ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَہَا فَقَالَ مَا عَمِلْتَ فِیہَا فَقَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ شَیْئٍ تُحِبُّ أَنْ یُنْفَقَ فِیہِ إِلاَّ أَنْفَقْتُ فِیہِ لَکَ قَالَ کَذَبْتَ إِنَّمَا أَرَدْتَ أَنْ یُقَالَ فُلاَنٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِیلَ فَأُمِرَ بِہِ فَسُحِبَ عَلَی وَجْہِہِ حَتَّی أُلْقِیَ فِی النَّارِ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ آخَرَیْنِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٠٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٤٩) سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ مختلف لوگ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ناتل شامی نے ابوہریرہ سے کہا : آپ مجھے ایسی حدیث سنائیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھی ہو۔ انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں میں سے جس کے بارے میں سب سے پہلے فیصلہ کیا جائے گا۔ وہ تین شخص ہیں : شہید، اس کو اللہ رب العزت کے پاس لایا جائے گا۔ اس کو اپنی نعمتوں کی پہچان کر وائیں گے۔ وہ ان کو پہچان لے گا۔ اللہ پوچھیں گے : تو نے ان میں کیا عمل کیا ؟ وہ بندہ کہے گا : اے اللہ ! میں نے تیرے راستہ میں جہاد کرتے ہوئے شہادت حاصل کی۔ اللہ فرمائیں گے : تو نے جھوٹ بولا۔ تیرا تو ارادہ تھا کہ فلاں مجھے بہادر کہے۔ تجھے دنیا میں بہادر کہہ دیا گیا۔ پھر اللہ رب العزت فرشتوں کو حکم دیں گے اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا ۔ دوسرا شخص عالم دین اور قاریٔ قرآن ہوگا اس کو اللہ کے سامنے لایا جائے گا۔ اللہ اس کو نعمتوں کی پہچان کروائیں گے۔ وہ تمام نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ پوچھیں گے : تو نے ان میں کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا : میں نے علم سیکھا اور قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا۔ اللہ فرمائیں گے : تو جھوٹ بولتا ہے تیرا ارادہ یہ تھا کہ تجھے عالم دین اور قاریٔ قرآن کہا جائے، وہ تجھے دنیا کے اندر کہہ دیا گیا۔ پھر اس کے بارے میں بھی اللہ رب العزت حکم فرمائیں گے اور اسے بھی منہ کے بل گھیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور تیسرا وہ شخص جس کو اللہ رب العزت اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا۔ وہ نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ پوچھیں گے : تو نے ان میں کیا عمل کیا ؟ تو وہ کہے گا : میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی کہ جس میں تو خرچ کرنے کو پسند کرتا ہو مگر میں نے تیری رضا کے لیے خرچ نہ کیا ہو تو اللہ رب العزت فرمائیں گے : تو نے جھوٹ بولا تیرا تو صرف یہ ارادہ تھا کہ تجھے سخی کہا جائے۔ دنیا میں تجھے سخی کہہ دیا گیا۔ اللہ رب العزت اس کے بارے میں بھی حکم دیں گے۔ پھر اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

18556

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18556

Sahih

(١٨٥٥٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ سِیرِینَ عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّاسَ قَالَ وَأُخْرَی تَقُولُونَہَا لِمَنْ قُتِلَ فِی مَغَازِیکُمْ ہَذِہِ قُتِلَ فُلاَنٌ شَہِیدًا وَمَاتَ فُلاَنٌ شَہِیدًا وَلَعَلَّہُ یَکُونُ قَدْ أَوْقَرَ دَفَّتَیْ رَاحِلَتِہِ ذَہَبًا أَوْ وَرِقًا یَبْتَغِی الدُّنْیَا أَوْ قَالَ التِّجَارَۃَ فَلاَ تَقُولُوا ذَلِکُمْ وَلَکِنْ قُولُوا کَمَا قَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ قُتِلَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَوْ مَاتَ فَہُوَ فِی الْجَنَّۃِ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٥٠) ابو عجفا فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ فرماتے ہیں کہ تم اس کے بارے میں کہتے ہو جو غزوہ میں قتل کیا جائے کہ فلاں شہید کیا گیا، فلاں شہادت کی موت مرا۔ شاید کہ اس نے اپنی سواری کو سونے یا چاندی سے لدا ہوا ہو۔ وہ دنیا یا تجارت کا قصد کیے ہوئے ہو۔ تم ان کے بارے میں یہ نہ کہو بلکہ اس طرح کہو۔ جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو اللہ کے راستہ میں قتل کردیا گیا یا فوت ہوگیا تو وہ جنتی ہے۔

18557

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18557

Zaeef

(١٨٥٥١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَلِیٍّ الْغَزَّالُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَۃَ : الرَّبِیعُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَکِ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ ہُوَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الأَشَجِّ عَنِ ابْنِ مِکْرَزٍ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ شَقِیقٍ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مِکْرَزٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ رَجُلٌ یُرِیدُ الْجِہَادَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَہُوَ یَبْتَغِی عَرَضًا مِنْ عَرَضِ الدُّنْیَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -: لاَ أَجْرَ لَہُ ۔ فَسَأَلَہُ الثَّانِیَۃَ وَالثَّالِثَۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ أَجْرَ لَہُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ ابْنِ شَقِیقٍ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : وَہَذِہِ الأَخْبَارُ وَمَا أَشْبَہَہَا تَحْتَمِلُ أَنْ تَکُونَ فِیمَنْ لاَ یَنْوِی بِغَزْوِہِ إِلاَّ الدُّنْیَا وَمَا یَرْجِعُ إِلَی أَسْبَابِہَا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٥١) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : جو شخص جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے اور دنیا کا مال حاصل کرتا ہے تو آپ نے فرمایا : اس کا کوئی اجر نہیں۔ پھر دوسری اور تیسری مرتبہ اس شخص نے دوبارہ سوال کیا تو آپ نے تب بھی فرمایا : اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔ شیخ فرماتے ہیں : یہ حدیث اس بات کا احتمال رکھتی ہے کہ اس نے صرف دنیا کی نیت کی لیکن جو ثواب کی نیت کرے اور مال غنیمت کے ملنے کی امید رکھے (اس پر کوئی گناہ نہیں) ۔

18558

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18558

Sahih

(١٨٥٥٢) فَأَمَّا مَنْ یَبْتَغِی الأَجْرَ وَیَرْجُو أَنْ یُصِیبَ غَنِیمَۃً فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ أَنَّ ضَمْرَۃَ بْنَ حَبِیبٍ حَدَّثَہُ عَنِ ابْنِ زُغْبٍ الإِیَادِیِّ قَالَ : نَزَلَ بِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ حَوَالَۃَ صَاحِبُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّہُ فُرِضَ لَہُ فِی الْمِائَتَیْنِ فَأَبَی إِلاَّ مِائَۃً قَالَ قُلْتُ لَہُ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنَا أَنَّہُ فُرِضَ لَکَ فِی مِائَتَیْنِ فَأَبَیْتَ إِلاَّ مِائَۃً وَاللَّہِ مَا مَنَعَہُ وَہُوَ نَازِلٌ عَلَیَّ أَنْ یَقُولَ لاَ أُمَّ لَکَ أَوَلاَ یَکْفِی ابْنَ حَوَالَۃَ مِائَۃٌ کُلَّ عَامٍ ثُمَّ أَنْشَأَ یُحَدِّثُنَا عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَنَا عَلَی أَقْدَامِنَا حَوْلَ الْمَدِینَۃِ لِنَغْنَمَ فَقَدِمْنَا وَلَمْ نَغْنَمْ شَیْئًا فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - الَّذِی بِنَا مِنَ الْجَہْدِ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اللَّہُمَّ لاَ تَکِلْہُمْ إِلَیَّ فَأَضْعُفَ عَنْہُمْ وَلاَ تَکِلْہُمْ إِلَی النَّاسِ فَیَہُونُوا عَلَیْہِمْ أَوْیَسْتَأْثِرُوا عَلَیْہِمْ وَلاَ تَکِلْہُمْ إِلَی أَنْفُسِہِمْ فَیَعْجَزُوا عَنْہَا وَلَکِنْ تَوَحَّدْ بِأَرْزَاقِہِمْ ۔ ثُمَّ قَالَ : لَتُفْتَحَنَّ لَکُمُ الشَّامُ ثُمَّ لَتَقْتَسِمُنَّ کُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ وَلَیَکُونَنَّ لأَحَدِکُمْ مِنَ الْمَالِ کَذَا وَکَذَا حَتَّی إِنَّ أَحَدَکُمْ لِیُعْطَی مِائَۃَ دِینَارٍ فَیَسْخَطُہَا ۔ ثُمَّ وَضَعَ یَدَہُ عَلَی رَأْسِی فَقَالَ : یَا ابْنَ حَوَالَۃَ إِذَا رَأَیْتَ الْخِلاَفَۃَ قَدْ نَزَلَتِ الأَرْضَ الْمُقَدَّسَۃَ فَقَدْ أَتَتِ الزَّلاَزِلُ وَالْبَلاَبِلُ وَالأُمُورُ الْعِظَامُ وَالسَّاعَۃُ أَقْرَبُ إِلَی النَّاسِ مِنْ یَدِی ہَذِہِ مِنْ رَأْسِکَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٥٢) ابن زعب ایادی فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن حوالہ ہمارے پاس آئے اور ہمیں خبر ملی کہ اس کے لیے دو سو میں زکوۃ کو فرض کیا گیا ہے۔ اس نے سو کا انکار کیا۔ میں نے اس اس سے کہا : ہمیں جو خبر ملی ہے اس کے مطابق حق یہی ہے کہ تیرے لیے دو سو میں زکوۃ فرض ہے اور تو نے سو کا انکار کیا۔ اللہ کی قسم ! نہیں روک سکتا وہ اس کو جو آنے والا ہے۔ مجھ پر اس کا یہ کہنا کہ تیری ماں مرے کافی نہیں تھا۔ اہل حوالہ کے لیے ہر مال میں ایک سو ہیں۔ ابن حوالہ نے ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ہمیں پیدل مدینہ کے اردگرد روانہ کیا۔ تاکہ ہم غنیمت حاصل کریں لیکن ہم نے غنیمت حاصل نہ کی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری مشقت کو دیکھا تو فرمایا : اے اللہ ! تو ان کو میرے سپرد نہ کر۔ میں ان سے کمزور ہوں اور نہ ہی تو ان کو لوگوں کو سونپ دینا کہ وہ ان کی تذلیل کریں یا وہ ان کے اوپر دوسرں کو ترجیح دیں اور نہ ہی تو ان کو ان کے نفسوں کے سپرد کر دے کہ وہ اس سے عاجز آجائیں۔ بلکہ تو اکیلا ہی ان کی روزی کا بند و بست فرما۔ پھر فرمایا : ملک شام فتح کیا جائے گا اور فارس وروم کے خزانے تمہارے درمیان تقسیم کیے جائیں گے اور تم میں سے کسی کو اتنا اتنا مال ملے گا کہ سو دینار دیے جانے کے باوجود شخص ناراض ہوگا۔ پھر آپ نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : اے ابن حوالہ ! جب تو دیکھے کہ خلافت ارض مقدسہ میں قائم ہوگئی ہے تو زلزلے مصائب اور بڑے بڑے امور واقع ہوں گے اور قیامت لوگوں کے قریب ہوگی۔ میرے اس ہاتھ سے جو تیرے سر کے اوپر ہے۔