Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3676

سیر کا بیان

اللہ کے راستے میں شہادت کی فضیلت کا بیان

10 hadiths in this chapter

18523

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18523

Sahih

(١٨٥١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : مَا أَحَدٌ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ فَیَتَمَنَّی أَنْ یَخْرُجَ مِنْہَا وَإِنْ لَہُ مَا عَلَی الأَرْضِ مِنْ شَیْئٍ إِلاَّ الشَّہِیدَ فَإِنَّہُ یَتَمَنَّی أَنْ یَرْجِعَ فَیُقْتَلَ عَشْرَ مِرَارٍ لِمَا رَأَی مِنَ الْکَرَامَۃِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْعَقَدِیِّ وَفِی رِوَایَۃِ الطَّیَالِسِیِّ : مَا مِنْ عَبْدٍ لَہُ عِنْدَ اللَّہِ خَیْرٌ یُحِبُّ أَنْ یَرْجِعَ إِلَی الدُّنْیَا إِلاَّ الشَّہِیدَ فَإِنَّہُ یَوَدُّ لَوْ أَنَّہُ رَجَعَ فَقُتِلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا یَرَی مِنْ فَضْلِ الشَّہَادَۃِ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥١٧) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں داخل ہونے کے بعد کوئی بھی شخص دوبارہ دنیا میں آنا پسند نہیں کرے گا، اگرچہ اسے دنیا کی تمام چیزیں بھی دی جائیں مگر شہید آرزو کرے گا کہ وہ دنیا میں جائے اور دس بار شہید کیا جائے کیونکہ وہ عزت وشرف دیکھ چکا ہوتا ہے۔ (ب) ۔ طیالسی کی روایت میں ہے کہ کوئی بندہ ایسا نہیں کہ وہ اللہ رب العزت سے جنت حاصل کرنے کے بعد دنیا میں آنا پسند کرے سوائے شہید کے؛ کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت کو دیکھ چکا ہوگا، اس لیے وہ دس مرتبہ شہید کیے جانے کی خواہش کرے گا۔

18524

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18524

Sahih

(١٨٥١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا جَرِیرٌ وَعِیسَی بْنُ یُونُسَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ أَرْوَاحِ الشُّہَدَائِ فَقَالَ قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : أَرْوَاحُہُمْ کَطَیْرٍ خُضْرٍ لَہَا قَنَادِیلُ مُعَلَّقَۃٌ فِی الْعَرْشِ تَسْرَحُ حَیْثُ شَائَ تْ ثُمَّ تَأْوِی إِلَی قَنَادِیلِہَا فَبَیْنَمَا ہُمْ عَلَی ذَلِکَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ اطِّلاَعَۃً فَیَقُولُ مَا تَشْتَہُونَ فَیَقُولُونَ وَمَا نَشْتَہِی وَنَحْنُ فِی الْجَنَّۃِ نَسْرَحُ حَیْثُ شِئْنَا فَإِذَا رَأَوْا أَنْ لاَ بُدَّ مِنْ أَنْ یَسْأَلُوا قَالُوا تُرَدُّ أَرْوَاحُنَا فِی أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَنُقْتَلُ مَرَّۃً أُخْرَی فَإِذَا رَأَی أَنْ لاَ یَسْأَلُوہُ شَیْئًا تَرَکَہُمْ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ وَفِی رِوَایَۃِ الْمُقْرِئِ قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبُّہُمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ } [آل عمران ١٦٩-١٧٠] قَالَ : أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ ثُمَّ ذَکَرَ مَعْنَاہُ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ أَبِی مُعَاوِیَۃَ وَعَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥١٨) مسروق حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے شہداء کی روحوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : ہم نے بھی ان کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استفسار کیا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ ان شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہیں۔ ان کے لیے عرش کے نیچے فانوس معلق ہیں، وہ جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں۔ پھر ان فانوسوں میں رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے کہ تمہیں کچھ چاہیے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے جب کہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں اور جب انھوں نے محسوس کیا کہ ان سے پوچھا جاتا رہے گا۔ تب انھوں نے عرض کیا : اے پروردگار ! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری ارواح کو ہمارے جسموں میں داخل فرمائیں تاکہ ایک مرتبہ پھر تیرے راستے میں کٹ مریں۔ جب اللہ تعالیٰ نے دیکھا کہ انھیں ضرورت نہیں تو ان کو ویسے چھوڑ دیا جائے گا۔ (ب) ۔ مقری کی روایت میں ہے کہ ہم نے اس آیت کے بارے میں عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا : { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ عِنْدَ رَبُّہُمْ یُرْزَقُونَ فَرِحِینَ۔۔۔} [آل عمران ١٦٩-١٧٠] جو لوگ اللہ کے راہ میں مارے گئے ہیں، انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور انھیں رزق مل رہا ہے۔ کہتے ہیں : ہم نے اس کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی پوچھا تھا۔

18525

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18525

Sahih

(١٨٥١٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ قَالاَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُرَّۃَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدُ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ فَذَکَرَہَا وَقَالَ : أَرْوَاحُہُمْ فِی جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ ۔[صحیح۔ مسلم ١٨٨٧]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥١٩) مسروق فرماتے ہیں کہ ہم نے اس آیات کے بارے میں حضرت عبداللہ (رض) سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : شہداء کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہوتی ہیں۔

18526

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18526

Sahih

(١٨٥٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لَمَّا أُصِیبَ إِخْوَانُکُمْ بِأُحُدٍ جَعَلَ اللَّہُ أَرْوَاحَہُمْ فِی جَوْفِ طَیْرٍ خُضْرٍ تَرِدُ أَنْہَارَ الْجَنَّۃِ تَأْکُلُ مِنْ ثِمَارِہَا وَتَأْوِی إِلَی قَنَادِیلَ مِنْ ذَہَبٍ مُعَلَّقَۃٍ فِی ظِلِّ الْعَرْشِ فَلَمَّا وَجَدُوا طِیبَ مَأْکَلِہِمْ وَمَشْرَبِہِمْ وَمَقِیلِہِمْ قَالُوا مَنْ یُبَلِّغُ إِخْوَانَنَا عَنَّا أَنَّا أَحْیَائٌ فِی الْجَنَّۃِ نُرْزَقُ لِئَلاَّ یَزْہَدُوا فِی الْجِہَادِ وَلاَ یَنْکُلُوا عِنْدَ الْحَرْبِ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا أُبَلِّغُہُمْ عَنْکُمْ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَائٌ} [آل عمران ١٦٩] إِلَی آخِرِ الآیَاتِ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٢٠) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے بھائی احد کے دن شہید ہوگئے تو اللہ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں میں داخل فرما دیا۔ جو جنت کی نہروں پر اڑتے پھرتے ہیں اور اس کے پھلوں سے کھاتے ہیں، عرش کے نیچے ان کے لیے سونے کے فانوس معلق ہیں جن میں وہ رہتے ہیں۔ جب انھوں نے کھانے پینے اور اچھی آرام گاہ کو پایاتو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو ہماری بات کون پہنچائے گا کہ ہم جنت میں زندہ ہیں، رزق دیے جاتے ہیں تاکہ وہ جہاد سے بےرغبتی اور لڑائی کے وقت بزدلی نہ دکھائیں۔ اللہ رب العزت نے فرمایا : میں تمہاری بات ان تک پہنچا دیتا ہوں اللہ کا فرمان ہے : { وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآئٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ } [آل عمران ١٦٩]

18527

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18527

Zaeef

(١٨٥٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَتْنَا حَسْنَائُ بِنْتُ مُعَاوِیَۃَ قَالَتْ حَدَّثَنَا عَمِّی قَالَ قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّہِ مَنْ فِی الْجَنَّۃِ ؟ قَالَ : النَّبِیُّ فِی الْجَنَّۃِ وَالشَّہِیدُ وَالْمَوْلُودُ وَالْوَئِیدُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٢١) حناء بنت معاویہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : جنت میں کون داخل ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نبی، شھید، پیدا ہونے والا بچہ اور زندہ درگور کی گئی بچی۔

18528

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18528

Sahih

(١٨٥٢٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلِ بْنِ حُنَیْفٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا یُہَرَاقُ مِنْ دَمِ الشَّہِیدِ تُغْفَرُ لَہُ ذُنُوبُہُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٢٢) سھل بن ابی امامہ بن سھل بن حنیف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کے خون کے پہلے قطرے پر اللہ اس کے گناہ معاف کردیتے ہیں۔

18529

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18529

Zaeef

(١٨٥٢٣) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو السَّکْسَکِیُّ عَنْ أَبِی الْمُثَنَّی الْمُلَیْکِیِّ عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : الْقَتْلَی ثَلاَثَۃٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَلَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَذَلِکَ الْمُمْتَحَنُ فِی خَیْمَۃِ اللَّہِ تَحْتَ عَرْشِہِ لاَ یَفْضُلُہُ النَّبِیُّونَ إِلاَّ بِدَرَجَۃِ النُّبُوَّۃِ وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ قَرَفَ عَلَی نَفْسِہِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَایَا لَقِیَ الْعَدُوَّ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَتِلْکَ مُمَصْمِصَۃٌ مَحَتْ ذُنُوبَہُ وَخَطَایَاہُ إِنَّ السَّیْفَ مَحَّائٌ لِلْخَطَایَا وَقِیلَ لَہُ ادْخُلْ مِنْ أَیِّ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃِ شِئْتَ فَإِنَّہَا ثَمَانِیَۃُ أَبْوَابٍ وَلِجَہَنَّمَ سَبْعَۃُ أَبْوَابٍ بَعْضُہَا أَفْضَلُ مِنْ بَعْضٍ یَعْنِی أَبْوَابَ الْجَنَّۃِ وَرَجُلٌ مُنَافِقٌ خَرَجَ بِنَفْسِہِ وَمَالِہِ فَقَاتَلَ حَتَّی یُقْتَلُ فَذَاکَ فِی النَّارِ إِنَّ السَّیْفَ لاَ یَمْحُو النِّفَاقَ ۔[ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٢٣) عتبہ بن عبد سلمی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقتول تین قسم کے ہیں، ایسا شخص جو اپنی جان اور مال لیکر دشمن کے مقابلہ میں لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے تو اللہ اس شخص کو عرش کے نیچے جگہ عطا کرتے ہیں اور انبیاء نبوت کی وجہ سے ایک درجہ اس سے اوپر ہوتے ہیں اور ایسا شخص جو گناہ کرنے کے بعد میدانِ جہاد میں دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے تو یہ شہادت اس کے گناہوں اور غلطیوں کو ختم کردیتی ہے۔ کیونکہ تلوار غلطیوں کو ختم کرنے والی ہے اور ایسے شخص سے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہوجائے۔ جنت کے آٹھ اور جہنم کے سات دروازے ہیں اور جنت کے دروازے ایک دوسرے سے فضیلت رکھتے ہیں اور منافق آدمی اپنے مال وجان کے ساتھ میدان جہاد میں لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے تو یہ جہنمی ہے کیونکہ تلوار نفاق کو ختم نہیں کرتی۔

18530

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18530

Zaeef

(١٨٥٢٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِیَاثٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُرَّۃَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَیْنِ رَجُلٍ ثَارَ عَنْ وِطَائِہِ وَلِحَافِہِ مِنْ بَیْنَ حِبِّہِ وَأَہْلِہِ إِلَی صَلاَتِہِ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی وَرَجُلٍ غَزَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَانْہَزَمَ فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ فِی الاِنْہِزَامِ وَمَا لَہُ فِی الرُّجُوعِ فَرَجَعَ حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ فَیَقُولُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلاَئِکَتِہِ انْظُرُوا إِلَی عَبْدِی رَجَعَ رَغْبَۃً فِیمَا عِنْدِی وَشَفَقَۃً مِمَّا عِنْدِی حَتَّی أُہَرِیقَ دَمُہُ ۔ وَرُوِیَ فِی مَعْنَاہُ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ مَرْفُوعًا۔ [صدوق ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٢٤) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ رب العزت دو آدمیوں سے تعجب کرتے ہیں : ایک وہ جو اپنے بستر اور لحاف سے اپنے محبوبوں اور گھر والوں کے درمیان سے نماز کے لیے اٹھتا ہے۔ میری نعمتوں میں رغبت کرتے ہوئے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور ایک وہ شخص جو اللہ کے راستے میں لڑائی کرتے ہوئے شکست کھا جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ شکست کی وجہ سے اس پر ایک گناہ ہے اور واپس پلٹنے میں کیا ثواب ہے تو دوبارہ لڑائی کرتے ہوئے شہید ہوجاتا ہے۔ اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے کہتے ہیں : میرے بندے کی طرف دیکھو کہ میری نعمتوں میں رغبت کرتے اور میرے عذاب سے ڈرتے ہوئے واپس پلٹ کر جان کا نذرانہ پیش کردیا۔

18531

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18531

Sahih

(١٨٥٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابْجِرْدِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا سَعِیدٌ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : الشَّہِیدُ لاَ یَجِدُ أَلَمَ الْقَتْلِ إِلاَّ کَمَا یَجِدُ أَحَدُکُمْ أَلَمَ الْقَرْصَۃِ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٢٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید قتل کی اتنی تکلیف بھی محسوس نہیں کرتا۔ مگر جتنی تم چیونٹی کے ڈسنے کی وجہ سے محسوس کرتے ہو۔

18532

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18532

Sahih

(١٨٥٢٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَلِیٍّ الأَزْدِیِّ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ حُبْشِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سُئِلَ أَیُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِیمَانٌ لاَ شَکَّ فِیہِ وَجِہَادٌ لاَ غُلُولَ فِیہِ وَحَجَّۃٌ مَبْرُورَۃٌ ۔ قِیلَ : أَیُّ الصَّلاَۃِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : طُولُ الْقِیَامِ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : جُہْدٌ مِنْ مُقِلٍّ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الْہِجْرَۃِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : مَنْ ہَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّہُ عَلَیْہِ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الْجِہَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : مَنْ جَاہَدَ الْمُشْرِکِینَ بِمَالِہِ وَنَفْسِہِ ۔ قِیلَ : فَأَیُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ ؟ قَالَ : مَنْ أُہْرِیقَ دَمُہُ وَعُقِرَ جَوَادُہُ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٥٢٦) عبداللہ بن حبشی فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا ایمان جس میں شک نہ ہو اور جہاد جس میں خیانت نہ ہو اور مقبول حج۔ کہا گیا : کونسی نماز افضل ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لمبے قیام والی۔ کہا گیا : صدقہ کونسا افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کم مال سے خرچ کرنا۔ کہا گیا : ہجرت کونسی افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو چھوڑ دیا۔ کہا گیا : جہاد افضل کونسا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے مشرکین سے اپنے مال جان کے ساتھ جہاد کیا۔ کہا گیا : افضل قتل کونسا ہے ؟ آقا نے فرمایا : مجاہد اور اس کا گھوڑا قتل کردیا جائے۔