Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3605

سیر کا بیان

حربی کافر جو مسلمان کو قتل کرنے کے بعد اسلام قبول کرلے اس پر قصاص نہیں ہے

7 hadiths in this chapter

18194

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18194

Sahih

(١٨١٨٨) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِیعِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا حُجَیْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِیِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ إِلَی الشَّامِ فَلَمَّا قَدِمْنَا حِمْصَ قَالَ لِی عُبَیْدُ اللَّہِ : ہَلْ لَکَ فِی وَحْشِیٍّ نَسْأَلُہُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ ؟ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ فِی رِوَایَتِہِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْفَضْلِ الْہَاشِمِیُّ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ کَذَا فِی کِتَابِی قَالَ أَقْبَلْنَا مِنَ الرُّومِ فَلَمَّا قَرُبْنَا مِنْ حِمْصَ قُلْنَا لَوْ مَرَرْنَا بِوَحْشِیٍّ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ فَلَقِینَا رَجُلاً فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ ہُوَ رَجُلٌ قَدْ غَلَبَ عَلَیْہِ الْخَمْرُ فَإِنْ أَدْرَکْتُمَاہُ وَہُوَ صَاحٍ لَمْ تَسْأَلاَہُ عَنْ شَیْئٍ إِلاَّ أَخْبَرَکُمَا وَإِنْ أَدْرَکْتُمَاہُ شَارِبًا فَلاَ تَسْأَلاَہُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ قَدْ أُلْقِیَ لَہُ شَیْئٌ عَلَی بَابِہِ وَہُوَ جَالِسٌ صَاحٍ فَقَالَ : ابْنُ الْخِیَارِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ۔ قَالَ : مَا رَأَیْتُکَ مُنْذُ حَمَلْتُکَ إِلَی أُمِّکَ بِذِی طُوًی إِذْ وَضَعَتْکَ فَرَأَیْتُ قَدَمَیْکَ فَعَرَفْتُہُمَا قَالَ قُلْتُ جِئْنَاکَ نَسْأَلُکَ عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ قَالَ سَأُحَدِّثُکُمَا کَمَا حَدَّثْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذْ سَأَلَنِی کُنْتُ عَبْدًا لآلِ مُطْعِمٍ فَقَالَ لِی ابْنُ أَخِی مُطْعِمٍ : إِنْ أَنْتَ قَتَلْتَ حَمْزَۃَ بِعَمِّی فَأَنْتَ حُرٌّ فَانْطَلَقْتُ یَوْمَ أُحُدٍ مَعِی حَرْبَتِی وَأَنَا رَجُلٌ مِنَ الْحَبَشَۃِ أَلْعَبُ بِہَا لَعِبَہُمْ فَخَرَجْتُ یَوْمَئِذٍ مَا أُرِیدُ أَنْ أَقْتُلَ أَحَدًا وَلاَ أُقَاتِلَہُ إِلاَّ حَمْزَۃَ فَخَرَجْتُ فَإِذَا أَنَا بِحَمْزَۃَ کَأَنَّہُ بَعِیرٌ أَوْرَقُ مَا یُرْفَعُ لَہُ أَحَدٌ إِلاَّ قَمَعَہُ بِالسَّیْفِ فَہِبْتُہُ وَبَادَرَنِی إِلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ بَنِی وَلَدِ سِبَاعٍ فَسَمِعْتُ حَمْزَۃَ یَقُولُ : إِلَیَّ یَا ابْنَ مُقَطِّعَۃِ الْبُظُورِ فَشَدَّ عَلَیْہِ فَقَتَلَہُ وَجَعَلْتُ أَلُوذُ مِنْہُ فَلُذْتُ مِنْہُ بِشَجَرَۃٍ وَمَعِی حَرْبَتِی حَتَّی إِذَا اسْتَمْکَنْتُ مِنْہُ ہَزَزْتُ الْحَرْبَۃَ حَتَّی رَضِیتُ مِنْہَا ثُمَّ أَرْسَلْتُہَا فَوَقَعَتْ بَیْنَ ثَنْدُوَتَیْہِ وَنَہَزَ لِیَقُومَ فَلَمْ یَسْتَطِعْ فَقَتَلْتُہُ ثُمَّ أَخَذْتُ حَرْبَتِی مَا قَتَلْتُ أَحَدًا وَلاَ قَاتَلْتُہُ فَلَمَّا جِئْتُ عَتَقْتُ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَرَدْتُ الْہَرَبَ مِنْہُ أُرِیدُ الشَّامَ فَأَتَانِی رَجُلٌ فَقَالَ وَیْحَکَ یَا وَحْشِیُّ وَاللَّہِ مَا یَأْتِی مُحَمَّدًا أَحَدٌ یَشْہَدُ بِشَہَادَتِہِ إِلاَّ خَلَّی عَنْہُ فَانْطَلَقْتُ فَمَا شَعَرَ بِی إِلاَّ وَأَنَا وَاقِفٌ عَلَی رَأْسِہِ أَشْہَدُ بِشَہَادَۃِ الْحَقِّ فَقَالَ : أَوَحْشِیٌّ؟ ۔ قُلْتُ : وَحْشِیٌّ۔ قَالَ : وَیْحَکَ حَدِّثْنِی عَنْ قَتْلِ حَمْزَۃَ ۔ فَأَنْشَأْتُ أُحَدِّثُہُ کَمَا حَدَّثْتُکُمَا فَقَالَ : وَیْحَکَ یَا وَحْشِیُّ غَیِّبْ عَنِّی وَجْہَکَ فَلاَ أَرَاکَ ۔ فَکُنْتُ أَتَّقِی أَنْ یَرَانِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَبَضَ اللَّہُ نَبِیَّہُ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمَّا کَانَ مِنْ أَمْرِ مُسَیْلِمَۃَ مَا کَانَ وَابْتُعِثَ إِلَیْہِ الْبَعْثُ ابْتُعِثْتُ مَعَہُ وَأَخَذْتُ حَرْبَتِی فَالْتَقَیْنَا فَبَادَرْتُہُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَرَبُّکَ أَعْلَمُ أَیُّنَا قَتَلَہُ فَإِنْ کُنْتُ قَتَلْتُہُ فَقَدْ قَتَلْتُ خَیْرَ النَّاسِ وَشَرَّ النَّاسِ ۔ قَالَ سُلَیْمَانُ بْنُ یَسَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : کُنْتُ فِی الْجَیْشِ یَوْمَئِذٍ فَسَمِعْتُ قَائِلاً یَقُولُ فِی مُسَیْلِمَۃَ قَتَلَہُ الْعَبْدُ الأَسْوَدُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی دَاوُدَ وَحَدِیثُ حُجَیْنٍ بِمَعْنَاہُ یَزِیدُ وَیَنْقُصُ لَمْ یَذْکُرْ حَدِیثَ الشُّرْبِ وَلاَ قَوْلِہِ إِنْ کُنْتُ قَتَلْتُہُ ۔ وَقَدْ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ : مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ حُجَیْنِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ بخاری ٤٠٧٢]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٨٨) جعفر بن عمرو ضمری فرماتے ہیں : میں عبیداللہ بن عدی بن خیار کے ساتھ ہشام کی جانب گیا۔ جب ہم حمص پہنچے تو مجھے عبیداللہ نے کہا : کیا ہم وحشی سے حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں پوچھیں۔ (ب) سلیمان بن یسار عبیداللہ بن عدی خیار سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم روم سے آئے۔ جب ہم حمص کے قریب پہنچے تو ہم نے کہا : اگر ہم وحشی کے پاس سے گزرے تو حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں اس سے سوال کریں گے۔ ہماری ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ ہم نے اس کے سامنے تذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ وہ ایسا شخص ہے کہ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو دروازے کے سامنے اس کے لیے کوئی چیز بچھائی گئی تھی جس پر وہ بیٹھا چیخ رہا تھا۔ اس نے کہا : ابن خیار ؟ میں نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا : میں نے تجھے اس وقت دیکھا تھا جب تیری والدہ نے تجھے جنم دیا اور میں تجھے اٹھا کر تیری والدہ کے پاس ذی طویٰ نامی جگہ پر لے گیا تھا میں نے تیرے دونوں قدموں کو دیکھ کر پہچان لیا ہے۔ کہتے ہیں : میں نے کہا : ہم آپ کے پاس حضرت حمزہ کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لیے آئے ہیں۔ اس نے کہا : تمہیں ویسے ہی بیان کرتا ہوں جیسے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا تھا جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا۔ میں آل مطعم کا غلام تھا، میرے بھتیجے مطعم نے مجھے کہا : اگر تو نے میرے چچا حمزہ کو قتل کردیا تو تو آزاد ہے۔ احد کے دن میں اپنا نیزہ لے کر چلا۔ میں حبشی آدمی تھا ہم تیروں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ میں اس دن کسی کو قتل اور کسی سے لڑائی کی غرض سے نہ گیا تھا صرف حمزہ کو قتل کرنا مقصود تھا۔ میں نکلا کہ اچانک حمزہ گویا کہ وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے جو بھی ان کے سامنے آتا تلوار سے اس کا خاتمہ کردیتے۔ میں ڈر گیا بنی ولد سباع کے ایک شخص نے ان کی جانب جلد بازی کی۔ میں نے حمزہ کو سنا، وہ کہہ رہے تھے : اے ختنے کرنے والی عورت کے بیٹے ! اور اس کے پیچھے ہو کر اس کو قتل کردیا اور میں بھی ان سے بچاؤ حاصل کررہا تھا۔ میں ایک درخت کی اوٹ میں ہو کر بچا اور میرے پاس نیزہ بھی تھا یہاں تک کہ جب میں نے اس پر قابو پا لیا تو میں نے اپنے نیزے کو حرکت دی یہاں تک کہ میں اس سے مطمئن ہوگیا۔ پھر میں نے نیزے کو چھوڑا تو وہ چھاتی کے درمیان لگا۔ انھوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہ سکے۔ میں نے انھیں قتل کردیا۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا نہ تو میں نے کسی اور کو قتل کیا اور نہ ہی کسی سے لڑائی کی۔ جب میں واپس آیا تو میں آزاد تھا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو میں نے شام کی جانب بھاگ جانے کا ارادہ کیا تو ایک شخص نے مجھے کہا : اے وحشی ! تجھ پر افسوس اللہ کی قسم جو بھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر اسلام قبول کرلیتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ میں چلا مجھے معلوم نہیں میں صرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھڑے ہو کر حق کی گواہی دیتا رہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا وحشی ہے ؟ میں نے کہا : جی وحشی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تیرے اوپر افسوس مجھے حمزہ کے قتل کے بارے میں بیان کرو۔ میں نے ایسے ہی بیان کیا جیسے تم دونوں کو بیان کیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے وحشی ! اپنا چہرہ مجھ سے چھپالو، میں تجھے نہ دیکھوں۔ وحشی کہتے ہیں کہ میں بچا کرتا تھا کہ رسول اللہ کہیں مجھے دیکھ نہ لیں کہ اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فوت کرلیا۔ جب مسیلمہ کا معاملہ پیش آیا تو جو لشکر بھی اس کی جانب بھیجا جاتا میں بھی اس کے ساتھ شامل ہوتا اور میں نے اپنے نیزے کو پکڑ لیا۔ ہماری ملاقات ہوگئی تو میں اور ایک انصاری شخص نے اس کی طرف جلدی کی۔ تیرا رب بہتر جانتا ہے کہ ہم سے کس نے اس کو قتل کیا۔ اگر میں نے اس کو قتل کیا ہے تو میں نے لوگوں میں سے بہترین اور بدترین شخص کو قتل کیا۔ سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا، وہ کہہ رہے تھے : میں بھی اس دن لشکر میں شامل تھا کہ میں نے کسی کہنے والے سے سنا کہ وہ مسیلمہ کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ اس کو سیاہ غلام نے قتل کردیا۔

18195

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18195

Sahih

(١٨١٨٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَزَکَرِیَّا بْنُ دَاوُدَ الْخَفَّافُ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی یَعْلَی بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ أَنَّہُ سَمِعَہُ یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ نَاسًا مِنْ أَہْلِ الشِّرْکِ قَتَلُوا فَأَکْثَرُوا وَزَنُوا فَأَکْثَرُوا ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالُوا إِنَّ الَّذِی تَقُولُ وَتَدْعُو إِلَیْہِ لَحَسَنٌ لَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا کَفَّارَۃً فَنَزَلَتْ { وَ الَّذِینَ لاَ یَدْعُونَ مَعَ اللَّہِ إِلَہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللَّہُ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُونَ } [الفرقان ٦٨] وَنَزَلَتْ { یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَۃِ اللَّہِ } [الزمر ٥٣] الآیَۃَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَیْرِہِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٨٩) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ مشرک لوگوں نے قتل و زنا زیادہ کیا۔ پھر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آ کر کہنے لگے کہ آپ میرے کیے ہوئے اعمال کا کفارہ بتائیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : { وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ } [الفرقان ٦٨] ” وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو قتل نہیں کرتے مگر حق کے ساتھ اور نہ ہی وہ زنا کرتے ہیں۔ “ اور یہ آیت نازل ہوئی : { قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ } [الزمر ٥٣] ” اے لوگو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کرلیا ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ “

18196

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18196

Sahih

(١٨١٩٠) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَغَیْرُہُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنِی یَزِیدُ بْنُ أَبِی حَبِیبٍ عَنِ ابْنِ شُمَاسَۃَ الْمَہْرِیِّ قَالَ : حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَہُوَ فِی سِیَاقَۃِ الْمَوْتِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأُبَایِعَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَقُلْتُ ابْسُطْ یَمِینَکَ أُبَایِعُکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَبَسَطَ یَدَہُ فَقَبَضْتُ یَدِی فَقَالَ : مَا لَکَ یَا عَمْرُو ؟ ۔ قُلْتُ : أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ ۔ قَالَ : تَشْتَرِطُ مَاذَا ؟ ۔ قُلْتُ : أَشْتَرِطَ أَنْ یُغْفَرَ لِی۔ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ یَا عَمْرُو أَنَّ الإِسْلاَمَ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٢١]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٠) ابن شماسہ مصری فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمرو بن عاص کی موت کے وقت ان کے پاس حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسلام پر بیعت کے لیے حاضر ہوا۔ میں نے کہا : ہاتھ نکالیے اے اللہ کے رسول ! میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ پھیلایا تو میں نے ہاتھ پیچھے کرلیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عمرو ! کیا بات ہے ؟ میں نے کہا : میں شرط کرنا چاہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شرط کرو کیا ہے ؟ میں نے کہا : میری شرط یہ ہے کہ مجھے معاف کردیا جائے گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمرو ! کیا تو جانتا نہیں ہے کہ اسلام پہلے تمام گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

18197

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18197

Zaeef

(١٨١٩١) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّغُولِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْکَرِیمِ حَدَّثَنَا الْہَیْثَمُ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : رُمِیَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا بِسَہْمٍ یَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَقَضَتْ بِہِ بَعْدَ وَفَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأَرْبَعِینَ لَیْلَۃً فَمَاتَ فَذَکَرَ قِصَّۃً قَالَ فَقَدِمَ عَلَیْہِ وَفْدُ ثَقِیفَ وَلَمْ یَزَلْ ذَلِکَ السَّہْمُ عِنْدَہُ فَأُخْرِجَ إِلَیْہِمْ فَقَالَ : ہَلْ یَعْرِفُ ہَذَا السَّہْمَ مِنْکُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَخُو بَنِی الْعَجْلاَنِ : ہَذَا سَہْمٌ أَنَا بَرَیْتُہُ وَرِشْتُہُ وَعَقَّبْتُہُ وَأَنَا رَمَیْتُ بِہِ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَإِنَّ ہَذَا السَّہْمَ الَّذِی قَتَلَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی بَکْرٍ فَالْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَکْرَمَہُ بِیَدِکَ وَلَمْ یُہِنْکَ بِیَدِہِ فَإِنَّہُ وَاسِعٌ لَکُمَا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩١) قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ابوبکر کو طائف کے دن تیر لگ گیا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے چالیس دن بعد فوت ہوگئے۔ اس نے قصہ ذکر کیا کہ ان کے پاس ثقیف کا وفد آیا۔ یہ تیر ان کے پاس ہی تھا۔ وفد کے سامنے تیر کو پیش کیا اور کہنے لگے : تم میں سے کوئی اس تیر کو پہچانتا ہے ؟ تو بنو عجلان کے سعید بن عبید نے کہا : یہ تیر میں نے تراشا تھا اور میں نے ہی پھینکا تھا تو ابوبکر (رض) فرمانے لگے : اس تیر نے عبداللہ بن ابوبکر کو قتل کیا تھا۔ تمام تعریفیں اس ذات کی جس نے تیرے ہاتھ کے ذریعے اسے عزت دی اور اس کے ہاتھ کے ذریعے تجھے رسوا نہیں کیا۔ کیونکہ وہ تم دونوں کو گھیرنے والا ہے۔

18198

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18198

Zaeef

(١٨١٩٢) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَابُ بِالْمُصِیبَۃِ فَیَقُولُ أُصِبْتُ بِزَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَبَرْتُ وَأَبْصَرَ قَاتِلَ أَخِیہِ زَیْدٍ فَقَالَ لَہُ : وَیْحَکَ لَقَدْ قَتَلْتَ لِی أَخًا مَا ہَبَّتِ الصَّبَا إِلاَّ ذَکَرْتُہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٢) عمر بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کوئی پریشانی، مصیبت آتی تو فرماتے کہ زید بن خطاب کی وجہ سے پریشانی آئی ہے۔ میں نے صبر کیا۔ اس نے اپنے بھائی زید کے قاتل کو دیکھ لیا تو اس سے کہتے : افسوس تیرے اوپر تو نے میرے بھائی کو قتل کردیا۔ جب بھی صبح کی ہوا چلتی ہے تو میں بھائی کو یاد کرتا ہوں۔

18199

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18199

Sahih

(١٨١٩٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسٌ : أَنَّ الْہُرْمُزَانَ نَزَلَ عَلَی حُکْمِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا أَنَسُ أَسْتَحْیِی قَاتِلَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ وَمَجْزَأَۃَ بْنِ ثَوْرٍ فَأَسْلَمَ وَفُرِضَ لَہُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٣) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہرمزان حضرت عمر (رض) کے حکم پر اتر پڑا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے انس ! میں براء بن مالک اور مجزاۃ بن ثور کے قاتل سے حیا کرتا ہوں۔ وہ مسلمان ہوا اور اس کے لیے فرض کیا گیا۔

18200

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18200

Zaeef

(١٨١٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ سَقْرِ بْنِ نَصْرٍ السُّکَّرِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی قِصَّۃِ الْقُرَّائِ وَقَتْلِ حَرَامِ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ فِی آخِرِہِ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ إِذَا أَبُو طَلْحَۃَ یَقُولُ لِی ہَلْ لَکَ فِی قَاتِلٍ لِحَرَامٍ قُلْتُ : مَا بَالُہُ فَعَلَ اللَّہُ بِہِ وَفَعَلَ ۔ قَالَ : لاَ تَفْعَلْ فَقَدْ أَسْلَمَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٤) حضرت ثابت انس (رض) سے قراء کے قصہ اور حرام بن ملحان کے قتل کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کے آخر میں فرماتے ہیں : اس کے بعد ابو طلحہ مجھے فرمایا کرتے تھے : آپ کا حرام کے قاتل کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ میں نے کہا : اس کی کیا حالت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ جو کیا سو کیا۔ فرمانے لگے : وہ مسلمان ہوگیا ہے۔ آپ کچھ بھی نہ کریں۔