Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3606

سیر کا بیان

دشمن کے علاقہ میں کئی افراد یا اکیلے آدمی کا غزوہ کے لیے جانا اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے پہلے کسی کا چلے جانا اگرچہ قتل کا غالب امکان ہی کیوں نہ ہو

6 hadiths in this chapter

18201

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18201

Sahih

(١٨١٩٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِی عِمْرَانَ قَالَ : غَزَوْنَا الْمَدِینَۃَ یُرِیدُ الْقُسْطُنْطِینِیَّۃَ وَعَلَی الْجَمَاعَۃِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَالرُّومُ مُلْصِقُو ظُہُورِہِمْ بِحَائِطِ الْمَدِینَۃِ فَحَمَلَ رَجُلٌ عَلَی الْعَدُوِّ فَقَالَ النَّاسُ مَہْ مَہْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ یُلْقِی بِیَدِہِ إِلَی التَّہْلُکَۃِ ۔ فَقَالَ أَبُو أَیُّوبَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ فِینَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ لَمَّا نَصَرَ اللَّہُ نَبِیَّہُ وَأَظْہَرَ الإِسْلاَمَ قُلْنَا ہَلُمَّ نُقِیمُ فِی أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحُہَا فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی { وَأَنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] فَالإِلْقَائُ بِأَیْدِینَا إِلَی التَّہْلُکَۃِ أَنْ نُقِیمَ فِی أَمْوَالِنَا وَنُصْلِحَہَا وَنَدَعَ الْجِہَادَ ۔ قَالَ أَبُو عِمْرَانَ : فَلَمْ یَزَلْ أَبُو أَیُّوبَ یُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ حَتَّی دُفِنَ بِالْقُسْطَنْطِینِیَّۃِ ۔ وَقَدْ مَضَی فِی ہَذَا الْمَعْنَی أَحَادِیثُ ۔ [صحیح۔ تقدم برقم ١٧٩٢٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٥) یزید بن ابی حبیب حضرت اسلم ابی عمران سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم نے قسطنطنیہ میں غزوہ کیا اور امیر عبدالرحمن بن خالد بن ولید تھے۔ رومی ان کے پیچھے شہر کے باغ میں تھے۔ ایک شخص نے دشمن پر حملہ کردیا۔ لوگوں نے کہا : رک رک اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ وہ اپنا ہاتھ ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔ ابو ایوب فرماتے ہیں : یہ آیت انصاری لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مدد فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا کیا۔ ہم نے کہا : آؤ ہم اپنے مالوں میں رک جائیں۔ ان کی اصلاح کریں۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ } [البقرۃ ١٩٥] ” اور تم اللہ کے راستہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ “ اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے مالوں کی اصلاح کریں اور جہاد چھوڑ دیں۔ ابو عمران کہتے ہیں کہ ابو ایوب انصاری اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ قسطنطنیہ میں دفن ہوگئے۔

18202

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18202

Sahih

(١٨١٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَیْبَانَ الرَّمْلِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ أُحُدٍ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنْ قُتِلْتُ فَأَیْنَ أَنَا ؟ قَالَ : فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَأَلْقَی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِی یَدِہِ ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ وَہَذَا لَفْظُ أَحْمَدَ بْنِ شَیْبَانَ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو کِلاَہُمَا عَنْ سُفْیَانَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٦) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے احد کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگر میں شہید کردیا گیا تو میں کہاں ہوں گا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں۔ اس شخص نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں پھینک دیں۔ پھر لڑتے ہوئے شہید ہوگیا۔

18203

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18203

Sahih

(١٨١٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ : ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بُسَیْسَۃَ عَیْنًا یَنْظُرُ مَا صَنَعَتْ عِیرُ أَبِی سُفْیَانَ فَجَائَ وَمَا فِی الْبَیْتِ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ لاَ أَدْرِی مَا اسْتَثْنَی بَعْضَ نِسَائِہِ فَحَدَّثَہُ الْحَدِیثَ قَالَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَکَلَّمَ فَقَالَ : إِنَّ لَنَا طَلِبَۃً فَمَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا فَلْیَرْکَبْ مَعَنَا ۔ فَجَعَلَ رِجَالٌ یَسْتَأْذِنُونَ فِی ظُہْرَانِہِمْ فِی عُلْوِ الْمَدِینَۃِ قَالَ : لاَ إِلاَّ مَنْ کَانَ ظَہْرُہُ حَاضِرًا ۔ فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابُہُ حَتَّی سَبَقُوا الْمُشْرِکِینَ إِلَی بَدْرٍ وَجَائَ الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ یُقَدِّمَنَّ أَحَدٌ مِنْکُمْ إِلَی شَیْئٍ حَتَّی أَکُونَ أَنَا أُؤْذِنُہُ ۔ فَدَنَا الْمُشْرِکُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قُومُوا إِلَی جَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ۔ قَالَ یَقُولُ عُمَیْرُ بْنُ الْحُمَامِ الأَنْصَارِیُّ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جَنَّۃٌ عَرْضُہَا السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : بَخٍ بَخٍ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَا یَحْمِلُکَ عَلَی قَوْلِکَ بَخٍ بَخٍ ۔ قَالَ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِلاَّ رَجَاۃَ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَہْلِہَا۔ قَالَ : فَإِنَّکَ مِنْ أَہْلِہَا ۔ فَاخْتَرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِہِ فَجَعَلَ یَأْکُلُ مِنْہُنَّ ثُمَّ قَالَ : لَئِنْ أَنَا حَیِیتُ حَتَّی آکُلَ تَمَرَاتِی ہَذِہِ إِنَّہَا لَحَیَاۃٌ طَوِیلَۃٌ قَالَ فَرَمَی بِمَا کَانَ مَعَہُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَہُمْ حَتَّی قُتِلَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی النَّضْرِ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِمَا عَنْ أَبِی النَّضْرِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٩٠١]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٧) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لبیسہ کو جاسوس بنا کر روانہ کیا کہ دیکھ ابی سفیان کا لشکر کیا کررہا ہے ؟ جب وہ واپس آیا تو میرے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کوئی گھر میں نہ تھا۔ اس نے کہا : مجھے معلوم نہیں کہ اس نے بعض عورتوں کا استثناء کیا۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور فرمایا : جس کے پاس سواری ہو وہ ہمارے ساتھ نکلے۔ بعض لوگوں نے اجازت طلب کی کہ وہ مدینہ کے بالائی علاقہ سے سواری لے آتے ہیں، لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جس کے پاس سواری موجود ہو۔ رسول اللہ اور صحابہ چلے اور بدر کے مقام پر مشرکین سے پہلے پہنچ گئے۔ مشرکین بھی آگئے۔ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی آگے کی جانب پیش قدمی نہ کرے یہاں تک کہ میں اجازت دے دوں۔ مشرکین قریب آگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس جنت کی طرف چلو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ عمیر بن حمام انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جنت کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اس نے خوشی سے بخ، بخ کے الفاظ کہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کسی چیز نے ابھارا کہ تو بخ بخ کے کلمات کہے ؟ اس نے کہا : صرف اس امید پر کہ میں بھی اہل جنت سے ہو جاؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی اس کے باسیوں میں سے ہے۔ اس نے اپنے کمان سے کچھ کھجوریں نکالیں۔ ان کو کھانا شروع کیا۔ پھر کہنے لگے : اگر میں یہ کھجوریں کھانے تک زندہ رہا تو میری زندگی بہت لمبی ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے کھجوریں پھنک دیں اور لڑنے لگا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔

18204

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18204

Zaeef

(١٨١٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ قَالَ : لَمَّا الْتَقَی النَّاسُ یَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَائَ بْنُ الْحَارِثِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا یُضْحِکُ الرَّبَّ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مِنْ عَبْدِہِ ؟ قَالَ : أَنْ یَرَاہُ قَدْ غَمَسَ یَدَہُ فِی الْقِتَالِ یُقَاتِلُ حَاسِرًا ۔ فَنَزَعَ عَوْفٌ دِرْعَہُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّی قُتِلَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٨) عاصم بن عمر بن قتادہ فرماتے ہیں : لوگوں کی بدر کے دن دشمن سے جنگ ہوئی تو عوف بن عفراء بن حارث نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کس ادا پر مسکراتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب بندے کو دیکھتے ہیں کہ وہ ننگے بدن لڑائی میں کود پڑتا ہے تو عوف نے اپنی زرہ اتار دی۔ پھر آگے بڑھ کر لڑائی کی، یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔

18205

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18205

Sahih

(١٨١٩٩) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ : قَدْ بَعَثَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ وَخَبَّابًا سَرِیَّۃً وَبَعَثَ دِحْیَۃَ سَرِیَّۃً وَحْدَہُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٩٩) مجاہد فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن مسعود اور خباب کو ایک لشکر، جب کہ دحیہ کو اکیلے لشکر بنا کر روانہ کیا۔

18206

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18206

Sahih

(١٨٢٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ تَخَلَّفَ عَنْ أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَۃَ فَرَأَی الطَّیْرَ عُکُوفًا عَلَی مَقْتَلَۃِ أَصْحَابِہِ فَقَالَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ سَأَتَقَدَّمُ عَلَی ہَؤُلاَئِ الْعَدُوِّ فَیَقْتُلُونِی وَلاَ أَتَخَلَّفُ عَنْ مَشْہَدٍ قُتِلَ فِیہِ أَصْحَابُنَا فَفَعَلَ فَقُتِلَ فَرَجَعَ عَمْرُو بْنُ أُمَیَّۃَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ فِیہِ قَوْلاً حَسَنًا وَیُقَالُ قَالَ لِعَمْرٍو : فَہَلاَّ تَقَدَّمْتَ فَقَاتَلْتَ حَتَّی تُقْتَلَ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَمْرَو بْنَ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیَّ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ سَرِیَّۃً وَحْدَہُمَا وَبَعَثَ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أُنَیْسٍ سَرِیَّۃً وَحْدَہُ ۔ وَقَدْ ذَکَرْنَا إِسْنَادَہُمَا فِی ہَذَا الْکِتَابِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٢٠٠) امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص بئر مؤنہ کے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا۔ اس نے دیکھا کہ پرندے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس نے عمرہ بن امیہ سے کہا : میں بھی اپنے دشمنوں سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کردیں اور اپنے ساتھیوں کی قتل گاہ سے پیچھے نہ ہٹوں گا۔ اس نے ایسا ہی کیا، وہ شہید کردیا گیا تو عمرو بن امیہ نے واپس آ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں اچھی بات کہی۔ آپ نے عمرو سے کہا کیا تو آگے بڑھ کر قتال کیوں نہیں کرتا یہاں تک کہ تجھے قتل کردیا جائے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ ضمری اور ایک انصاری کو لشکر بنا کر روانہ فرمایا اور عبداللہ بن انیس کو اکیلے ہی سریہ بنا کر روانہ فرمایا۔