Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3603

سیر کا بیان

پناہ کیسے دی جائے ؟

4 hadiths in this chapter

18186

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18186

Sahih

(١٨١٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : جَائَ نَا کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَإِذَا حَاصَرْتُمْ قَصْرًا فَأَرَادُوکُمْ أَنْ یَنْزِلُوا عَلَی حُکْمِ اللَّہِ فَلاَ تُنْزِلُوہُمْ فَإِنَّکُمْ لاَ تَدْرُونَ مَا حُکْمُ اللَّہِ فِیہِمْ وَلَکِنْ أَنْزِلُوہُمْ عَلَی حُکْمِکُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِیہِمْ مَا أَحْبَبْتُمْ وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لاَ تَخَفْ فَقَدْ آمَنَہُ وَإِذَا قَالَ مَتَرْسْ فَقَدْ أَمَّنَہُ وَإِذَا قَالَ لَہُ أَظُنُّہُ لاَ تَدْحَلْ فَقَدْ أمَّنَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ الأَلْسِنَۃَ ۔ وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنِ الأَعْمَشِ فَقَالَ فِی آخِرِہِ : وَإِذَا قَالَ لاَ تَدْہَلْ فَقَدْ أَمَّنَہُ فَإِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ الأَلْسِنَۃَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٨٠) ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر بن خطاب کا خط آیا کہ جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور ان کا ارادہ ہو کہ تم انھیں اللہ کے حکم پر اتارو تو ایسا نہ کرنا۔ کیونکہ تم نہیں جانتے ان کے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہے بلکہ اپنے حکم پر اتارو۔ پھر اپنی مرضی کا ان کے بارے میں فیصلہ کرو اور جب کوئی شخص کسی آدمی سے کہے تو ڈر نہیں۔ اس نے تجھے امن دے دیا ہے اور جب اس نے لفظ متوسی کہا تو اس نے امن دے دیا اور جب اس نے لَا تَدْخُلْ کے الفاظ کہہ دیے تب بھی پناہ دے دی۔ اللہ تعالیٰ زبانوں کو جانتے ہیں۔ ثوری اعمش سے فرماتے ہیں، جس کے آخر میں ہے کہ لَا تَدْخُلْ کے الفاظ کے ساتھ بھی پناہ دی جاتی ہے کیونکہ اللہ رب العزت زبانوں کو جانتے ہیں۔

18187

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18187

Sahih

(١٨١٨١) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ قَالَ : جَائَ کِتَابُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَنَحْنُ مُحَاصِرُونَ قَصْرًا فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٨١) ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا جس وقت ہم ایک قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔

18188

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18188

Zaeef

(١٨١٨٢) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ لَفْظًا وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قِرَائَ ۃً عَلَیْہِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ وَزِیَادُ بْنُ جُبَیْرٍ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ حَیَّۃَ قَالَ : بَعَثَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ النَّاسَ مِنْ أَفْنَائِ الأَمْصَارِ یُقَاتِلُونَ الْمُشْرِکِینَ قَالَ فَبَیْنَمَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَذَلِکَ إِذْ أُتِیَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِکِینَ مِنْ أَہْلِ الأَہْوَازِ قَدْ أُسِرَ فَلَمَّا أُتِیَ بِہِ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِلْہُرْمُزَانِ : أَیَسُرُّکَ أَنْ لاَ تُقْتَلَ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَمَا ہُوَ ۔ قَالَ : إِذَا قَرَّبُوکَ مِنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَکَلَّمَکَ فَقُلْ إِنِّی أَفْرَقُ أَنْ أُکَلِّمَکَ فَإِنْ أَرَادَ قَتْلَکَ فَقُلْ إِنِّی فِی أَمَانٍ إِنَّکَ قُلْتَ لاَ تَفْرَقْ قَالَ فَحَفِظَہَا الرَّجُلُ فَلَمَّا أُتِیَ بِہِ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ لَہُ فِی بَعْضِ مَا یُسَائِلُہُ عَنْہُ إِنِّی أَفْرَقُ یَعْنِی فَقَالَ لاَ تَفْرَقْ قَالَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ کَلاَمِہِ سَائَ لَہُ عَمَّا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ قَالَ لَہُ إِنِّی قَاتِلُکَ قَالَ فَقَالَ قَدْ أَمَّنْتَنِی فَقَالَ : وَیْحَکَ مَا أَمَّنْتُکَ ؟ قَالَ قُلْتَ : لاَ تَفْرَقْ ۔ قَالَ : صَدَقَ إِمَّا لِی فَأَسْلِمْ قَالَ نَعَمْ فَأَسْلَمَ ثُمَّ ذَکَرَ الْحَدِیثَ بِطُولِہِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٨٢) جبیر بن حیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو مختلف شہروں میں مشرکین سے جہاد کے لیے بھیجا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس اہل اہواز میں سے کسی مشرک آدمی کو قیدی بنا کر بلایا جاتا تو بعض لوگوں نے ہرمزان سے کہا : کیا آپ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ آپ قتل نہ کریں۔ اس نے کہا : وہ کیسے ؟ کہا : جب وہ تجھے امیرالمومنین کے قریب کریں اور وہ تم سے بات کرنا چاہیں تو تم کہنا : میں تنہائی میں آپ سے بات کروں گا۔ پھر اگر وہ تجھے قتل کرنا چاہیں تو کہہ دینا : میں امان میں ہوں۔ وہ لاتفرق کہہ دیں گے۔ اس شخص نے یہ بات یاد کرلی۔ پھر جب اسے حضرت عمر (رض) کے پاس لایا گیا تو اس نے سوالات کا جواب دینے کے لیے تنہائی کا مطالبہ کردیا۔ آپ نے فرمایا : ” لاتفرق “ پھر جب اس سے گفتگو کر کے فارغ ہوئے تو انھیں گرانی محسوس ہوئی اور فرمایا : میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اس نے کہا : آپ نے مجھے امان دی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تیرا ناس ہو میں نے تجھے کب امان دی ؟ اس نے کہا : آپ نے ” لاتفرق “ کہا ہے۔ فرمایا : اس نے سچ کہا اور فرمایا : اب تو میرے لیے اسلام قبول کرے۔ اس نے قبول کیا۔۔۔ آگے طویل حدیث ہے۔

18189

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18189

Zaeef

(١٨١٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا الثَّقَفِیُّ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : حَاصَرْنَا تُسْتَرَ فَنَزَلَ الْہُرْمُزَانُ عَلَی حُکْمِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدِمْتُ بِہِ عَلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا انْتَہَیْنَا إِلَیْہِ قَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تَکَلَّمْ قَالَ کَلاَمُ حَیٍّ أَوْ کَلاَمُ مَیِّتٍ قَالَ تَکَلَّمْ لاَ بَأْسَ ۔ قَالَ : إِنَّا وَإِیَّاکُمْ مَعَاشِرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّی اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ کُنَّا نَتَعَبَّدُکُمْ وَنَقْتُلُکُمْ وَنَغْصِبُکُمْ فَلَمَّا کَانَ اللَّہُ مَعَکُمْ لَمْ یَکُنْ لَنَا یَدَانِ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا تَقُولُ ؟ فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ تَرَکْتُ بَعْدِی عَدُوًّا کَثِیرًا وَشَوْکَۃً شَدِیدَۃً فَإِنْ قَتَلْتَہُ یَأْیَسُ الْقَوْمُ مِنَ الْحَیَاۃِ وَیَکُونُ أَشَدَّ لِشَوْکَتِہِمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَسْتَحْیِی قَاتِلَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ وَمَجْزَأَۃَ بْنِ ثَوْرٍ فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَقْتُلَہُ قُلْتُ لَیْسَ إِلَی قَتْلِہِ سَبِیلٌ قَدْ قُلْتَ لَہُ تَکَلَّمْ لاَ بَأْسَ ۔ فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : ارْتَشَیْتَ وَأَصَبْتَ مِنْہُ ۔ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا ارْتَشَیْتُ وَلاَ أَصَبْتُ مِنْہُ قَالَ لَتَأْتِیَنِّی عَلَی مَا شَہِدْتَ بِہِ بِغَیْرِکَ أَوْ لأَبْدَأَنَّ بِعُقُوبَتِکَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَلَقِیتُ الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَہِدَ مَعِی وَأَمْسَکَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَأَسْلَمَ یَعْنِی الْہُرْمُزَانَ وَفُرِضَ لَہُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٨٣) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں : ہم نے تستر کا محاصرہ کیا۔ ہرمزان حضرت عمر (رض) کے پر نیچے اترا میں اسے حضرت عمر (رض) کے پاس لے کر چلا۔ جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو عمر (رض) نے فرمایا : بات کرو۔ اس نے پوچھا : زندہ والی بات کروں یا مردہ والی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بات کرو کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا : ہم اور آپ عرب کے قبائلی ہیں۔ ہمارے اور تمہارے درمیاناللہ نے کوئی علیحدگی نہیں رکھی۔ ہم تمہاری عبادت کرتے تھے اور انھیں قتل کرتے تھے اور تمہارا مال غصب کرتے تھے۔ پھر جب اللہ تمہارے ساتھ ہو لیا تو ہمارے دونوں ہاتھ نہ رہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : اے امیر المومنین میں نے اپنے بعد بہت زیادہ دشمن اور سخت شورش چھوڑی ہے۔ اگر آپ اسے قتل کردیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہوجائیں گے اور ان کی شورش میں اضافہ ہوجائے گا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے براد بن مالک اور مجزہ بن ثور کے قتل سے حیاء آتی ہے۔ جب میں نے خوف محسوس کیا کہ وہ اسے قتل ہی کریں گے تو میں نے کہا : آپ کے لیے اسے قتل کرے گا کوئی جواز نہیں ہے آپ اسے کہہ چکے ہیں : بات کرو کوئی حرج نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو نے رشوت لی ہے اور تو درستگی کو پہنچا۔ میں نے کہا : قسم بخدا ! نہ تو میں نے رشوت لی ہے اور نہ ہی کسی بھلائی پہنچا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یا تو میرے پاس اس بات پر کوئی گواہ لاؤ ورنہ میں تجھے ضرور سزا دے کر رہوں گا۔ کہتے ہیں میں نکلا اور زبیر بن عوام (رض) سے ملا۔ انھوں نے میرے ساتھ گواہی دی۔ حضرت عمر (رض) رک گئے اور ہرمزان مسلمان ہوگیا اور ان کے لیے مقرر کیا گیا۔