Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3600

سیر کا بیان

جس نے لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو جائز خیال کیا اگرچہ وہ کسی دوسرے کام میں ہی مشغول کیوں نہ ہو

7 hadiths in this chapter

18167

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18167

Sahih

(١٨١٦١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو ہُوَ ابْنُ حَمْدَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَرَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ حُنَیْنٍ بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَی جَیْشِ أَوْطَاسٍ فَلَقِیَ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَقُتِلَ دُرَیْدٌ وَہَزَمَ اللَّہُ أَصْحَابَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ عَنْ أَبِی مُوسَی فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَہُوَ فِی بَیْتٍ عَلَی سَرِیرٍ مُرَمَّلٍ وَعِنْدَہُ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِیرِ بِظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَجَنْبَیْہِ فَأَخْبَرْتُہُ بِخَبَرِی وَخَبَرِ أَبِی عَامِرٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بَرَّادٍ وَأَخْرَجَاہُ جَمِیعًا عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦١) ابو بردہ بن ابی موسیٰ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غزوہ حنین سے فارغ ہوئے تو ابو عامر کو لشکر اوطاس پر روانہ کردیا۔ وہ درید بن صمہ سے جا ملے جو قتل ہوچکا تھا۔ اللہ نے اس کے ساتھیوں کو شکست دے دی تھی۔ اس نے حدیث ذکر کی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں : جب میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں باریک بنائی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے جس کے نشانات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کمر مبارک اور پہلوؤں پر تھے تو میں نے اپنی اور ابو عامر کی خبر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی۔

18168

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18168

Zaeef

(١٨١٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ فِی قِصَّۃِ أَوْطَاسٍ قَالَ : فَأَدْرَکَ رَبِیعَۃُ بْنُ رُفَیْعٍ دُرَیْدَ بْنَ الصِّمَّۃِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ جَمَلِہِ وَہُوَ یَظُنُّ أَنَّہُ امْرَأَۃٌ وَذَلِکَ أَنَّہُ کَانَ فِی شِجَارٍ لَہُ فَإِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ فَأَنَاخَ بِہِ فَإِذَا ہُوَ شَیْخٌ کَبِیرٌ وَإِذَا ہُوَ دُرَیْدٌ وَلاَ یَعْرِفُہُ الْغُلاَمُ فَقَالَ دُرَیْدٌ : مَاذَا تُرِیدُ ؟ قَالَ : قَتْلَکَ ۔ قَالَ : وَمَنْ أَنْتْ ؟ قَالَ : أَنَا رَبِیعَۃُ بْنُ رُفَیْعٍ السُّلَمِیُّ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَہُ بِسَیْفِہِ فَلَمْ یُغْنِ شَیْئًا۔ فَقَالَ دُرَیْدٌ : بِئْسَمَا سَلَّحَتْکَ أُمُّکَ خُذْ سَیْفِی ہَذَا مِنْ مُؤَخَّرِ الشِّجَارِ ثُمَّ اضْرِبْ بِہِ وَارْفَعْ عَنِ الْعِظَامِ وَاخْفِضْ عَنِ الدِّمَاغِ فَإِنِّی کَذَلِکَ کُنْتُ أَقْتُلُ الرِّجَالَ فَقَتَلَہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦٢) محمد بن اسحاق بن یسار اوطاس کے قصہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ربیعہ بن رفیع نے درید بن صمہ کو پا لیا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ لی۔ اس نے سمجھا : یہ عورت ہے اور یہ درختوں میں تھا۔ جب اونٹ کو بٹھایا تو وہ بوڑھا درید تھا۔ غلام اس کو جانتا نہ تھا درید نے کہا : تیرا کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا : تیرے قتل کا۔ درید نے پوچھا : تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں ربیعہ بن رفیع سلمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پھر اس نے تلوار ماری۔ لیکن درید کو قتل نہ کرسکا تو درید نے کہا : تیرے والد نے تجھے اچھے اسلحہ سے لیس نہیں کیا۔ جاؤ درختوں کے پیچھے سے میری تلوار لاؤ، ہڈی سے بچا کر دماغ پر مارو۔ میں بھی اس طرح افراد کو قتل کرتا تھا تو اس طرح اس نے قتل کردیا۔

18169

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18169

Sahih

(١٨١٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ : قُتِلَ یَوْمَ حُنَیْنٍ دُرَیْدُ بْنُ الصِّمَّۃِ ابْنَ خَمْسِینَ وَمِائَۃِ سَنَۃٍ فِی شِجَارٍ لاَ یَسْتَطِیعُ الْجُلُوسَ فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَلَمْ یُنْکِرْ قَتْلَہُ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَقُتِلَ أَعْمَی مِنْ بَنِی قُرَیْظَۃَ بَعْدَ الإِسَارِ ۔ وَہَذَا یَدُلُّ عَلَی قَتْلِ مَنْ لاَ یُقَاتِلُ مِنَ الرِّجَالِ الْبَالِغِینَ إِذَا أَبَی الإِسْلاَمَ وَالْجِزْیَۃَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ : ہُوَ الزَّبِیرُ بْنُ بَاطَا الْقُرَظِیُّ قَدْ ذَکَرْنَا قِصَّتَہُ فِیمَا مَضَی۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦٣) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ درید بن صمہ ١٥٠ سال کی عمر میں اپنے باغ میں قتل کیا گیا۔ وہ بیٹھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اس کے قتل کا تذکرہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا انکار نہ کیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : بنو قریظہ کا نابینا شخص قید کے بعد قتل کردیا گیا۔ یہ دلالت ہے کہ بالغ آدمی جب اسلام و جزیہ سے بھاگ جائے تو قتل کرنا جائز ہے۔

18170

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18170

Zaeef

(١٨١٦٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : اقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ وَاسْتَبْقُوا شَرْخَہُمْ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَلَوْ جَازَ أَنْ یُعَابَ قَتْلُ مَنْ عَدَا الرُّہْبَانِ لِمَعْنَی أَنَّہُمْ لاَ یُقَاتِلُونَ لَمْ یُقْتَلِ الأَسِیرُ وَلاَ الْجَرِیحُ الْمُثْبَتُ وَقَدْ ذُفِّفَ عَلَی الْجَرْحَی بِحَضْرَۃِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْہُمْ أَبُو جَہْلِ بْنُ ہِشَامٍ ذَفَّفَ عَلَیْہِ ابْنُ مَسْعُودٍ وَغَیْرُہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦٤) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مشرکین کے بوڑھے اشخاص کو قتل کرو اور ان کے بچوں کو باقی رکھو۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر راہب کے علاوہ کسی کو قتل کرنے پر عیب لگایا جاتا تو قیدی اور زخمی کو کبھی قتل نہ کیا جاتا۔ حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے ابو جہل بن ہشام زخمی کو قتل کیا تھا۔

18171

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18171

Sahih

(١٨١٦٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ التَّیْمِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ یَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَہْلٍ ؟ ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَوَجَدَہُ قَدْ ضَرَبَہُ ابْنَا عَفْرَائَ فَنَزَلَ فَأَخَذَ بِلِحْیَتِہِ قَالَ : أَنْتَ أَبُو جَہْلٍ ؟ قَالَ : وَہَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوہُ أَوْ قَتَلَہُ قَوْمُہُ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦٥) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دیکھو ابو جہل کا کیا بنا ؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود گئے تو دیکھا کہ ابن عفراء نے اس کو قتل کردیا ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے نیچے اتر کر اس کی داڑھی پکڑ لی۔ پوچھا : تو ابو جہل ہے ؟ اس نے کہا : کیا تم نے مجھ سے کسی بڑے آدمی کو قتل کیا ہے یا اس کو اس کی قوم نے قتل کیا ہو۔

18172

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18172

Zaeef

(١٨١٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو وَکِیعٍ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ بَدْرٍ انْتَہَیْتُ إِلَی أَبِی جَہْلٍ وَہُوَ مَصْرُوعٌ فَضَرَبْتُہُ بِسَیْفِی فَمَا صَنَعَ شَیْئًا وَنَدَرَ سَیْفُہُ فَضَرَبْتُہُ ثُمَّ أَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی یَوْمٍ حَارٍّ کَأَنَّمَا أُقَلَّ مِنَ الأَرْضِ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا عَدُوُّ اللَّہِ أَبُو جَہْلٍ قَدْ قُتِلَ فَقَالَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : آللَّہِ لَقَدْ قُتِلَ ۔ قُلْتُ : آللَّہِ لَقَدْ قُتِلَ ۔ قَالَ : فَانْطَلِقْ بِنَا فَأَرِنَاہُ ۔ فَجَائَ فَنَظَرَ إِلَیْہِ فَقَالَ : ہَذَا کَانَ فِرْعَوْنَ ہَذِہِ الأُمَّۃِ ۔ کَذَا قَالَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ۔ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیہِ وَقَدْ مَضَی ذَلِکَ ۔ [ضعیف۔ تقدم برقم ١٨٠١٣-١٨٠١٤]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦٦) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ بدر کے دن میں ابو جہل تک پہنچا۔ وہ گرا ہوا تھا، میں نے اسے اپنی تلوار ماری۔ اس نے کچھ بھی نہ کیا۔ اس کی تلوار گرگئی۔ میں نے اسے مارا۔ پھر میں ایک گرم دن میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر آیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ اللہ کا دشمن ابو جہل قتل کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! قتل کردیا گیا ؟ میں نے کہا : ہاں اللہ کی قسم وہ قتل کردیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو ہمیں دکھاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آ کر دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اس امت کا فرعون تھا۔

18173

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18173

Zaeef

(١٨١٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الزُّبَیْرِ : أَنَّہُ کَانَ مَعَ أَبِیہِ یَوْمَ الْیَرْمُوکِ فَلَمَّا انْہَزَمَ الْمُشْرِکُونَ وَحُمِلَ فَجَعَلَ یُجِیزُ عَلَی جَرْحَاہُمْ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلاَ أَعْلَمُ یَثْبُتُ عَنْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ خِلاَفُ ہَذَا وَلَوْ کَانَ یَثْبُتُ لَکَانَ یُشْبِہُ أَنْ یَکُونَ أَمَرَہُمْ بِالْجَدِّ عَلَی قِتَالِ مَنْ یُقَاتِلُہُمْ وَلاَ یَتَشَاغَلُوا بِالْمَقَامِ عَلَی مَوَاضِعِ ہَؤُلاَئِ قَالَ الشَّیْخُ وَإِنَّمَا قَالَ ہَذَا لأَنَّ الرِّوَایَاتِ الَّتِی ذَکَرْنَاہَا عَنْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کُلَّہَا مَرَاسِیلُ إِلاَّ أَنَّہَا رُوِیَتْ مِنْ أَوْجُہٍ وَرَوَاہَا ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَہُوَ حَسَنُ الْمُرْسَلِ وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ فِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَغْدَادِیِّ عَنْہُ حَدِیثَ الْمُرَقِّعِ ثُمَّ ضَعَّفَہُ بِأَنَّ مُرَقِّعًا لَیْسَ بِالْمَعْرُوفِ وَذَکَرَ حَدِیثَ أَیُّوبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِیہِ ثُمَّ قَالَ وَہَذَا کَالَّذِی ذَکَرْنَا مِنْ قَبْلِہِ مِنَ الْمَجْہُولِ وَأَمَّا حَدِیثُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَبِیبَۃَ فَلَمْ یَذْکُرْہُ الشَّافِعِیُّ وَہُوَ أَضْعَفُ مِمَّا رَدَّہُ بِالْجَہَالَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦٧) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں غزوہ یرموک میں اپنے باپ کے ساتھ تھا۔ جب مشرکین کو شکست ہوئی اور قیدی بنائے گئے تو وہ اپنے زخمیوں کا فدیہ دیتے تھے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ابوبکر (رض) سے ان کے خلاف ثابت نہیں ہے۔ اگر ان سے ثابت ہو تو یہ اس کے مناسب ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے دادا کو حکم دیا کہ وہ لڑنے والوں سے لڑائی کرے اور ان جگہوں پر وہ مصروف نہ ہوجائے۔