Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3599

سیر کا بیان

جو لڑائی میں حصہ نہ لے اسے قتل نہیں کرنا چاہیے جیسے پادری یا کوئی بوڑھا وغیرہ

13 hadiths in this chapter

18154

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18154

Zaeef

(١٨١٤٨) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ جُیُوشًا إِلَی الشَّامِ فَخَرَجَ یَمْشِی مَعَ یَزِیدَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ وَکَانَ أَمِیرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْکَ الأَرْبَاعِ فَزَعَمُوا أَنْ یَزِیدَ قَالَ لأَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ ۔ فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَلاَ أَنَا بِرَاکِبٍ إِنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ قَالَ إِنَّکَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّہُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لِلَّہِ فَذَرْہُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّہُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لَہُ وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُئُ وسِہِمْ مِنَ الشَّعَرِ فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْہُ بِالسَّیْفِ وَإِنِّی مُوصِیکَ بِعَشْرٍ لاَ تَقْتَلَنَّ امْرَأَۃً وَلاَ صَبِیًّا وَلاَ کَبِیرًا ہَرِمًا وَلاَ تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا وَلاَ تَعْقِرَنَّ شَاۃً وَلاَ بَعِیرًا إِلاَّ لِمَأْکَلَۃٍ وَلاَ تُحْرِقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تُغْرِقَنَّہُ وَلاَ تَغْلُلُ وَلاَ تَجْبُنْ ۔ وَرُوِّینَاہُ فِی حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَمَا مَضَی فِی مَسْأَلَۃِ التَحْرِیقِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٨) یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی جانب لشکر روانہ کیے تو ابوبکر (رض) یزید بن ابی سفیان کے ساتھ پیدل نکلے۔ وہ چوتھائی حصے پر امیر مقرر تھے۔ انھوں نے گمان کیا کہ آپ اضافہ کریں۔ اس نے ابوبکر (رض) سے کہا : آپ سوار ہوجائیں یا میں بھی پیدل چلتا ہوں تو ابوبکر (رض) نے فرمایا : نہ تو پیدل چلے گا اور نہ ہی میں سوار ہوں گا۔ میں تو پیدل چلنے میں ثواب کی نیت کرتا ہوں کیونکہ یہ اللہ کے راستہ میں ہے۔ پھر فرمایا : عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جن کا گمان ہوگا کہ انھوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے روک رکھا ہے۔ ان کو چھوڑ دینا اور جس کا گمان ہو کہ انھوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اور ایسی قوم کو چھوڑ دینا اور جس کا گمان ہو کہ انھوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اور ایسی قوم کو آ ملیں گے جنہوں نے اپنے سروں پر بالوں کے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے تو ان بالوں کو تلوار سے کاٹ ڈالو اور میں تجھے دس نصیحتیں کرتا ہوں : تم کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، آباد زمین کو برباد و ویران نہ کرنا، کسی بکری، اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا، کسی شہد کی مکھی کو جلانا اور ڈبونا نہیں، نہ خیانت کرنا اور نہ بزدلی دکھانا۔

18155

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18155

Zaeef

(١٨١٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی مَالِکٍ الشَّامِیِّ قَالَ : جَہَّزَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ بَعَثَہُ إِلَی الشَّامِ أَمِیرًا فَمَشَی مَعَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٩) یزید بن ابی مالک شامی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یزید بن ابی سفیان کے لشکر کا امیر بنا کر شام کی جانب روانہ فرمایا اور خود اس کے ساتھ پیدل چلے۔

18156

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18156

Zaeef

(١٨١٥٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی صَالِحُ بْنُ کَیْسَانَ قَالَ : لَمَّا بَعَثَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ إِلَی الشَّامِ عَلَی رُبْعٍ مِنَ الأَرْبَاعِ خَرَجَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَعَہُ یُوصِیہِ وَیَزِیدُ رَاکِبٌ وَأَبُو بَکْرٍ یَمْشِی فَقَالَ یَزِیدُ : یَا خَلِیفَۃُ رَسُولِ اللَّہِ إِمَّا أَنْ تَرْکَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ ۔ فَقَالَ : مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَمَا أَنَا بِرَاکِبٍ إِنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ یَا یَزِیدُ إِنَّکُمْ سَتَقْدَمُونَ بِلاَدًا تُؤْتَوْنَ فِیہَا بِأَصْنَافٍ مِنَ الطَّعَامِ فَسَمُّوا اللَّہَ عَلَی أَوَّلِہَا وَاحْمَدُوہُ عَلَی آخِرِہَا وَإِنَّکُمْ سَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدْ حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ فِی ہَذِہِ الصَّوَامِعِ فَاتْرُکُوہُمْ وَمَا حَبَسُوا لَہُ أَنْفُسَہَمْ وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا قَدِ اتَّخَذَ الشَّیْطَانُ عَلَی رُئُ وسِہِمْ مَقَاعِدَ یَعْنِی الشَّمَامِسَۃَ فَاضْرِبُوا تِلْکَ الأَعْنَاقَ وَلاَ تَقْتُلُوا کَبِیرًا ہَرِمًا وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ وَلِیدًا وَلاَ تُخَرِّبُوا عُمْرَانًا وَلاَ تَقَطَّعُوا شَجَرَۃً إِلاَّ لِنَفْعٍ وَلاَ تَعْقِرَنَّ بَہِیمَۃً إِلاَّ لِنَفْعٍ وَلاَ تُحْرِقَنَّ نَحْلاً وَلاَ تُغْرِقَنَّہَ وَلاَ تَغْدِرْ وَلاَ تُمَثِّلْ وَلاَ تَجْبُنْ وَلاَ تْغَّلُلُ وَلَیَنْصُرَنَّ اللَّہُ مَنْ یَنْصُرُہُ وَرُسُلَہُ بِالْغَیْبِ إِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیزٌ أَسْتَوْدِعُکَ اللَّہَ وَأُقْرِئُکَ السَّلاَمَ ثُمَّ انْصَرَفَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٠) صالح بن کیسان فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو چار گروہ میں سے ایک کا امیر بنا کر شام کی جانب بھیجا اور حضرت ابوبکر (رض) وصیت کی غرض سے اس کے ساتھ پیدل چلے۔ جبکہ یزید بن ابی سفیان سوار تھے۔ یزید نے کہا : اے خلیفۃ الرسول ! یا تو آپ سوار ہوجائیں یا میں بھی نیچے اتر آتا ہوں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم اترو نہ میں سوار ہوتا ہوں۔ میں تو اللہ کے راستہ میں پیدل چلنے میں نیت کیے ہوئے ہوں۔ اے یزید ! تم ایسے شہروں میں آؤ گے جس میں مختلف قسم کے کھانے ہوں گے۔ ابتدا میں اللہ کا نام لو اور آخر میں اللہ کی تعریف کرو۔ حمد بیان کرو اور عنقریب تم ایسے لوگ بھی پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو معبد خانوں میں روک رکھا ہوگا، ان کو چھوڑ دو اور جنہوں نے اپنے آپ کو بھی روک رکھا ہو اور عنقریب تم ایسی قوم کو پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں پر سخت نفرت والی اشیاء بنادی ہوں گی۔ ان کی گردنیں اڑا دو ۔ کسی بوڑھے، عورت اور بچے کو قتل نہ کرنا، کسی آباد جگہ کو ویران نہ کرنا، درخت اور چوپائے کو فائدہ کے لیے کاٹنا، شہد کے چھتے کو نہ جلانا، دھوکا ، مثلہ، بزدلی اور خیانت نہ کرنا۔ اللہ اس کی ضرور مدد فرمائیں گے جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بن دیکھے مدد کرے گا کیونکہ اللہ قوی غالب ہے میں تجھے اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور میری طرف سے سلام۔ پھر وہ چلے گئے۔

18157

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18157

Zaeef

(١٨١٥١) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ وَقَالَ لِی ہَلْ تَدْرِی لِمَ فَرَّقَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : فَأَمَرَ بِقَتْلِ الشَّمَامِسَۃِ وَنَہَی عَنْ قَتْلِ الرُّہْبَانِ فَقُلْتُ لاَ أُرَاہُ إِلاَّ لِحَبْسِ ہَؤُلاَئِ أَنْفُسَہُمْ فَقَالَ أَجَلْ وَلَکِنَّ الشَّمَامِسَۃَ یَلْقَوْنَ الْقِتَالَ فَیُقَاتِلُونَ وَإِنَّ الرُّہْبَانَ رَأْیُہُمْ أَنْ لاَ یُقَاتِلُوا وَقَدْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ } [البقرۃ ١٩٠] ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥١) ابن اسحاق محمد بن جعفر بن زبیر سے نقل فرماتے ہیں کہ اس نے مجھے کہا : آپ کو معلوم ہے کہ ابوبکر (رض) نے کیوں تفریق کروائی کہ خادم کنیسہ جو کنیسہ پرور ہو کو قتل کرنے کا حکم دیا جبکہ راہب کے قتل سے منع فرمایا ؟ کہتے ہیں : میرے خیال کے مطابق صرف انھوں نے اپنے آپ کو روک رکھا ہے۔ اس نے کہا : ہاں ! لیکن شمامہ یہ لڑائی کی ابتدا کرواتے ہیں اور خود لڑائی کرتے ہیں اور راہب لوگوں کی رائے یہ ہوتی ہے کہ لڑائی نہ کی جائے اور اللہ کا فرمان ہے : { وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ } [البقرۃ ١٩٠] ” اور تم اللہ کے راستہ میں جہاد کرو ان لوگوں سے جو تم سے لڑائی کرتے ہیں۔ “

18158

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18158

Zaeef

(١٨١٥٢) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بَعَثَ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ إِلَی الشَّامِ فَمَشَی مَعَہُ یُشَیِّعُہُ قَالَ یَزِیدُ : إِنِّی أَکْرَہُ أَنْ تَکُونَ مَاشِیًا وَأَنَا رَاکِبٌ۔ قَالَ فَقَالَ : إِنَّکَ خَرَجْتَ غَازِیًا فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَإِنِّی أَحْتَسِبُ فِی مَشْیِی ہَذَا مَعَکَ ثُمَّ أَوْصَاہُ فَقَالَ لاَ تَقْتُلُوا صَبِیًّا وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ شَیْخًا کَبِیرًا وَلاَ مَرِیضًا وَلاَ رَاہِبًا وَلاَ تَقْطَعُوا مُثْمِرًا وَلاَ تُخَرِّبُوا عَامِرًا وَلاَ تَذْبَحُوا بَعِیرًا وَلاَ بَقَرَۃً إِلاَّ لِمَأْکَلٍ وَلاَ تُغْرِقُوا نَحْلاً وَلاَ تُحْرِقُوہُ ۔ وَقَدْ رُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔[ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٢) ابو عمران جونی فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان کو شام کی جانب روانہ کیا تو اس کے ساتھ پیدل چلے۔ یزید نے کہا : مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ پیادہ ہوں اور میں سوار ہوں۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : آپ اللہ کے راستہ میں غزوہ کے لیے جا رہے ہیں جبکہ میں پیادہ چلنے میں ثواب کی نیت کیے ہوئے ہوں۔ پھر اس کو وصیت فرمائی کہ بچے، عورت، بہت زیادہ بوڑھے، بیمار اور راہب کو قتل نہ کرنا، پھل دار درخت نہ کاٹنا، آباد زمین کو ویران نہ کرنا، گائے اور اونٹ صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا اور شہد کی مکھی کے چھتے کو ڈبونا اور جلانا نہیں ہے۔

18159

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18159

Zaeef

(١٨١٥٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ وَعُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفِزْرِ حَدَّثَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّہِ وَبِاللَّہِ وَعَلَی مِلَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ لاَ تَقْتُلُوا شَیْخًا فَانِیًا وَلاَ طِفْلاً وَلاَ صَغِیرًا وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَکُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٣) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے نام و نصرت کے ساتھ چلو اور رسول اللہ کے دین پر کسی بزرگ بوڑھے، بچے، چھوٹے اور عورت کو قتل نہ کرو۔ خیانت نہ کرو اور مال غنیمت اکٹھا کرو۔ اصلاح کرو اور احسان کرو۔ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

18160

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18160

Zaeef

(١٨١٥٤) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ نَظِیفٍ الْفَرَّائُ الْمِصْرِیُّ بِمَکَّۃَ رَحِمَہُ اللَّہُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْمَوْتِ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَۃُ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی حَبِیبَۃَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُصَیْنِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ إِذَا بَعَثَ جَیْشًا وَفِی رِوَایَۃِ ابْنِ أَبِی أُوَیْسٍ قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّہُ کَانَ إِذَا بَعَثَ جُیُوشَہُ قَالَ : اخْرُجُوا بِاسْمِ اللَّہِ تُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ لاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تُمَثِّلُوا وَلاَ تَغُلُّوا وَلاَ تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلاَ أَصْحَابَ الصَّوَامِعِ ۔ وَلَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الْمِصْرِیِّ قَوْلَہُ : وَلاَ تَغُلُّوا ۔ وَالْبَاقِی مِثْلُہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٤) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کوئی لشکر روانہ فرماتے۔ ابن ابی اویس کی روایت میں ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اپنے لشکر روانہ کرتے تو فرماتے : تم اللہ کے نام کے ساتھ نکلو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ تم قتال کرتے ہو۔ دھوکا ، مثلہ، خیانت نہ کرو اور نہ بچوں اور پادریوں کو قتل کرو۔ لیکن مصری کی روایت میں یہ قول نہیں ہے : وَلَا تَغُلُّوْا

18161

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18161

Zaeef

(١٨١٥٥) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ ابْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ عَنْ عُمَرَ مَوْلَی عَنْبَسَۃَ الْقُرَشِیِّ عَنْ زَیْدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کَانَ نَبِیُّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا بَعَثَ جَیْشًا مِنَ الْمُسْلِمِینَ إِلَی الْمُشْرِکِینَ قَالَ : انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّہِ ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ : وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیدًا طِفْلاً وَلاَ امْرَأَۃً وَلاَ شَیْخًا کَبِیرًا وَلاَ تُعَوِّرُنَّ عَیْنًا وَلاَ تَعْقِرُنَّ شَجَرًا إِلاَّ شَجَرًا یَمْنَعُکُمْ قِتَالاً أَوْ یَحْجُزُ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الْمُشْرِکِینَ وَلاَ تُمَثِّلُوا بِآدَمِیٍّ وَلاَ بَہِیمَۃٍ وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تَغُلُّوا ۔ فِی ہَذَا الإِسْنَادِ إِرْسَالٌ وَضَعْفٌ وَہُوَ بِشَوَاہِدِہِ مَعَ مَا فِیہِ مِنَ الآثَارِ یَقْوَی وَاللَّہُ أَعْلَمُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٥) حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کا لشکر مشرکین کی جانب روانہ کرتے تو فرماتے : اللہ کے نام کے ساتھ چلو۔ اس نے حدیث ذکر کی، جس میں ہے کہ تم بچوں، عورتوں اور زیادہ بوڑھے کو قتل نہ کرو۔ آنکھ خراب نہ کرو۔ صرف وہ درخت کاٹو جو تمہارے اور مشرکین کے درمیان لڑائی میں رکاوٹ بنتا ہو۔ کسی انسان و چوپائے کا مثلہ نہ کرو۔ دھوکا اور خیانت بھی نہ کرو۔

18162

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18162

Zaeef

(١٨١٥٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِی ابْنُ صَفْوَانَ وَعَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مُشَیِّعًا لأَہْلِ مُؤْتَۃَ حَتَّی بَلَغَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَوَقَفَ وَوَقَفُوا حَوْلَہُ فَقَالَ : اغْزُوا بِاسْمِ اللَّہِ فَقَاتِلُوا عَدُوَّ اللَّہِ وَعَدُوَّکُمْ بِالشَّامِ وَسَتَجِدُونَ فِیہِمْ رِجَالاً فِی الصَّوَامِعِ مُعْتَزِلِینَ مِنَ النَّاسِ فَلاَ تَعْرِضُوا لَہُمْ وَسَتَجِدُونَ آخَرِینَ لِلشَّیْطَانِ فِی رُئُ وسِہِمْ مَفَاحِصُ فَافْلُقُوہَا بِالسُّیُوفِ وَلاَ تَقْتُلُوا امْرَأَۃً وَلاَ صَغِیرًا ضَرَعًا وَلاَ کَبِیرًا فَانِیًا وَلاَ تَقْطَعُنَّ شَجَرَۃً وَلاَ تَعْقِرُنَّ نَخْلاً وَلاَ تَہْدِمُوا بَیْتًا ۔ وَہَذَا أَیْضًا مُنْقَطِعٌ وَضَعِیفٌ۔ [ضعیف جدًا ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٦) حضرت خالد بن زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل موتہ کو الوداع کرتے ہوئے ثنیۃ الوداع تک جا پہنچے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تو لوگ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد کھڑے ہوگئے۔ آپ نے فرمایا : اللہ کا نام لے کر غزوہ کرو۔ تم اپنے اور خدا کے دشمنوں سے ملک شام میں قتال کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو کنیسہ میں دوسرے لوگوں سے الگ تھلگ ہوں گے تو ان کے درپے نہ ہونا اور دوسری قسم کے لوگ جن کے سروں پر شیطانوں نے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے۔ ان کو تلوار سے کاٹ ڈالو اور کسی عورت، چھوٹے بچے، زیادہ بوڑھے شخص کو قتل نہ کرو اور درخت، کھجور نہ کاٹو اور گھروں کو نہ گراؤ۔

18163

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18163

Sahih

(١٨١٥٧) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ أَبُو زَکَرِیَّا حَدَّثَنِی الْمُغِیَرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِیُّ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی الْمُرَقِّعُ بْنُ صَیْفِیٍّ عَنْ جَدِّہِ رِیَاحِ بْنِ الرَّبِیعِ أَخِی حَنْظَلَۃَ الْکَاتِبِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃٍ غَزَاہَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ عَلَی مُقَدِّمَتِہِ فَمَرَّ رِیَاحٌ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی امْرَأَۃٍ مَقْتُولَۃٍ مِمَّا أَصَابَتْہُ الْمُقَدِّمَۃُ فَوَقَفُوا یَنْظُرُونَ إِلَیْہَا وَیَعْجَبُونَ مِنْ خَلْقِہَا حَتَّی لَحِقَہُمْ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی نَاقَۃٍ لَہُ قَالَ فَفَرَجُوا عَنِ الْمَرْأَۃِ فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہَا ثُمَّ قَالَ : ہَاہْ مَا کَانَتْ ہَذِہِ تُقَاتِلُ ۔ قَالَ : ثُمَّ نَظَرَ فِی وُجُوہِ الْقَوْمِ فَقَالَ لأَحَدِہِمْ : الْحَقْ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ فَلاَ یَقْتُلَنَّ ذُرِّیَّۃً وَلاَ عَسِیفًا۔ قَالَ الْبُخَارِیُّ : رَبَاحُ بْنُ الرَّبِیعِ أَصَحُّ وَمَنْ قَالَ رِیَاحٌ فَہُوَ وَہَمٌ وَکَذَا قَالَ أَبُو عِیسَی۔ [حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٤]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٧) مرقع بن صیفی اپنے دادا ریاح بن ربیع سے جو حنظلہ کاتب کے بھائی ہیں نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا اور خالد بن ولید لشکر کے مقدمہ پر مقرر تھے۔ رباح اور صحابہ ایک مقتولہ عورت کے پاس سے گزرے جس کو مقدمہ کے لشکر نے قتل کردیا تھا۔ وہ کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے اور اس کی شکل و صورت پر تعجب کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی اونٹنی پر آگئے۔ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ عورت کے قریب سے ہٹ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس کھڑے ہوگئے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ لڑائی کرتی تھی ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے چہرے دیکھے اور کسی کو حکم دیا کہ جاؤ خالد بن ولید سے کہہ کر آؤ کہ وہ کسی بچے اور غلام کو قتل نہ کریں۔

18164

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18164

Zaeef

(١٨١٥٨) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَوُہَیْبُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ أَیُّوبَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنْ قَتْلِ الْوُصَفَائِ وَالْعُسَفَائِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٨) ایوب سختیانی کسی شخص سے اور وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوکر کے قتل سے منع فرمایا ہے۔

18165

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18165

Zaeef

(١٨١٥٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : اتَّقُوا اللَّہَ فِی الْفَلاَّحِینَ فَلاَ تَقْتُلُوہُمْ إِلاَّ أَنْ یَنْصِبُوا لَکُمُ الْحَرْبَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٥٩) زید بن وہب حضرت عمر بن خطاب (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : کسانوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو صرف ان کو قتل کرو جو تمہارے خلاف لڑائی میں مدمقابل آجائیں۔ [ضعیف ]

18166

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18166

Zaeef

(١٨١٦٠) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ الرَّازِیُّ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانُوا لاَ یَقْتُلُونَ تُجَّارَ الْمُشْرِکِینَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٦٠) ابو زبیر حضرت جابر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین تاجر لوگوں کو قتل نہ کرتے تھے۔ [ضعیف ]