Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3598

سیر کا بیان

قیدی کو باندھا جائے

5 hadiths in this chapter

18149

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18149

Sahih

(١٨١٤٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : بَعَثَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - خَیْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَائَ تْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِی حَنِیفَۃَ یُقَالُ لَہُ ثُمَامَۃُ بْنُ أُثَالٍ سَیِّدُ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ فَرَبَطُوہُ بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ قَدْ أَخْرَجَاہُ فِی الصَّحِیحِ بِطُولِہِ کَمَا مَضَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر نجد کی جانب روانہ کیا۔ وہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو پکڑ کر لائے جس کو ثمامہ بن اثال کہا جاتا تھا۔ جو یمامہ کا سردار تھا۔ انھوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔

18150

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18150

Zaeef

(١٨١٤٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ الْہِلاَلِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ یَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ مَکِیثٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَبْدَ اللَّہِ بْنَ غَالِبٍ اللَّیْثِیَّ فِی سَرِیَّۃٍ فَکُنْتُ فِیہِمْ فَأَمَرَہُمْ أَنْ یَشُنُّوا الْغَارَۃَ عَلَی بَنِی الْمُلَوَّحِ فِی الْکَدِیدِ فَخَرَجْنَا حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالْکَدِیدِ لَقِینَا الْحَارِثَ ابْنَ الْبَرْصَائِ اللَّیْثِیَّ فَأَخَذْنَاہُ فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُ أُرِیدُ الإِسْلاَمَ وَإِنَّمَا خَرَجْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُلْنَا إِنْ تَکُ مُسْلِمًا لَمْ یَضُرَّکَ رِبَاطُنَا یَوْمًا وَلَیْلَۃً وَإِنْ یَکُنْ غَیْرُ ذَلِکَ نَسْتَوْثِقْ مِنْکَ فَشَدَدْنَاہُ وَثَاقًا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٤) جندب بن ابی مکیث فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن غالب لیثی کو ایک لشکر میں روانہ کیا۔ میں بھی ان میں شامل تھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ بنو ملوح پر کدید نامی جگہ پر چاروں اطراف سے حملہ کردیں۔ ہم نکلے تو ہماری ملاقات کدید میں حارث بن برصاء سے ہوگئی۔ ہم نے اسے پکڑ لیا۔ اس نے کہا : میں اسلام کے ارادہ سے آیا ہوں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ ہم نے کہا : اگر تو مسلمان ہے تو ایک دن، رات کا باندھنا تجھے نقصان نہ دے گا۔ اگر تم مسلم نہیں تو پھر ہم تجھے مضبوطی سے باندھیں گے۔ ہم نے اس کو باندھ دیا۔

18151

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18151

Zaeef

(١٨١٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ بَعْضِ أَہْلِہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا أَمْسَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ بَدْرٍ وَالأَسَارَی مَحْبُوسُونَ بِالْوَثَاقِ بَاتَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَاہِرًا أَوَّلَ اللَّیْلِ فَقَالَ لَہُ أَصْحَابُہُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا لَکَ لاَ تَنَامُ وَقَدْ أَسَرَ الْعَبَّاسَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : سَمِعْتُ أَنِینَ عَمِّی الْعَبَّاسِ فِی وَثَاقِہِ ۔ فَأَطْلَقُوہُ فَسَکَتَ فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٥) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : بدر کے دن شام کے وقت جب قیدیوں کو زنجیروں سے باندھا جا رہا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات کا پہلا حصہ بیدار رہ کر گزارا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ! آپ سو کیوں نہیں رہے اور عباس کو ایک انصاری نے قیدی بنا رکھا تھا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اپنے چچا عباس کے رونے کی آواز سنی ہے، انھوں نے اس کو کھول دیا۔ وہ خاموش ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے۔

18152

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18152

Sahih

(١٨١٤٦) وَبِإِسْنَادِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدِ بْنِ زُرَارَۃَ قَالَ : قُدِمَ بِالأُسَارَی حِینَ قُدِمَ بِہِمُ الْمَدِینَۃَ وَسَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجُ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عِنْدَ آلِ عَفْرَائَ فِی مَنَاحِہِمْ عَلَی عَوْفٍ وَمُعَوِّذٍ ابْنَیْ عَفْرَائَ وَذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یُضْرَبَ عَلَیْہِنَّ الْحِجَابُ قَالَتْ سَوْدَۃُ فَوَاللَّہِ إِنِّی لَعِنْدَہُمْ إِذْ أُتِینَا فَقِیلَ ہَؤُلاَئِ الأُسَارَی قَدْ أُتِیَ بِہِمْ فَرَجَعْتُ إِلَی بَیْتِی وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِیہِ وَإِذَا أَبُو یَزِیدَ : سُہَیْلُ بْنُ عَمْرٍو فِی نَاحِیَۃِ الْحُجْرَۃِ یَدَاہُ مَجْمُوعَتَانِ إِلَی عُنُقِہِ بِحَبْلٍ فَوَاللَّہِ مَا مَلَکْتُ حِینَ رَأَیْتُ أَبَا یَزِیدَ کَذَلِکَ أَنْ قُلْتُ أَیْ أَبَا یَزِیدَ أَعْطَیْتُمْ بِأَیْدِیکُمْ أَلاَ مُتُّمْ کِرَامًا فَمَا انْتَبَہْتُ إِلاَّ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنَ الْبَیْتِ : یَا سَوْدَۃُ أَعَلَی اللَّہِ وَعَلَی رَسُولِہِ ۔ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا مَلَکَتُ حِینَ رَأَیْتُ أَبَا یَزِیدَ مَجْمُوعَۃٌ یَدَاہُ إِلَی عُنُقِہِ بِالْحَبْلِ أَنْ قُلْتُ مَا قُلْتُ ۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٦) یحییٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن اسعد بن زرارہ فرماتے ہیں : جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ تشریف لائے تو قیدی لائے گئے اور سودہ بنت زمعہ نبی کی بیوی آل عفراء کے پاس تھی، عطیان کے اندر۔ یہ پردہ سے پہلے کی بات ہے۔ سودہ فرماتی ہیں : میں ان کے پاس تھی جب ہمیں لایا گیا۔ کہا گیا : یہ قیدی ہیں۔ ہم آپ کے سامنے لائے گئے۔ میں اپنے گھر واپس آئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں موجود تھے۔ اچانک ابو یزید سہیل بن عمرو حجرہ کے ایک کونے میں پڑے تھے کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ ایک رسی سے باندھے گئے تھے۔ اللہ کی قسم ! میں نے قابو نہ پایا جس وقت میں نے ابو یزید کو اس حالت میں دیکھا۔ میں نے کہہ دیا : اے ابو یزید ! تم نے اپنے ہاتھ پکڑوا دیے۔ خبردار ! عزت کے موت مرجاتے۔ میں سمجھ نہ سکی مگر گھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز آئی : اے سودہ ! کیا اللہ اور رسول پر ؟ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! جب میں نے ابو یزید کے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے دیکھے تو میں اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکی جو کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔

18153

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18153

Sahih

(١٨١٤٧) حَدَّثَنَا الشَّیْخُ الإِمَامُ أَبُو الطَّیِّبِ : سَہْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ رَحِمَہُ اللَّہُ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : إِسْمَاعِیلُ بْنُ نُجَیْدٍ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِیلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - دَخَلَ عَلَیْہَا بِأَسِیرٍ وَعِنْدَہَا نِسْوَۃٌ فَلَہَّیْنَہَا عَنْہُ فَذَہَبَ الأَسِیرُ فَجَائَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا عَائِشَۃُ أَیْنَ الأَسِیرُ ؟ ۔ فَقَالَتْ : نِسْوَۃٌ کُنَّ عِنْدِی فَلَہَّیْنَنِی عَنْہُ فَذَہَبَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : قَطَعَ اللَّہُ یَدَکِ ۔ وَخَرَجَ فَأَرْسَلَ فِی إِثْرِہِ فَجِیئَ بِہِ فَدَخَلَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَإِذَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَدْ أَخْرَجَتْ یَدَیْہَا فَقَالَ : مَا لَکَ ؟ ۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّکَ دَعَوْتَ عَلَیَّ بِقَطْعِ یَدِی وَإِنِّی مُعَلِّقَۃٌ یَدِی أَنْتَظِرُ مَنْ یَقْطَعُہَا۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَجُنِنْتِ ؟ ۔ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ وَقَالَ : اللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ دَعَوْتُ عَلَیْہِ فَاجْعَلْہُ لَہُ کَفَّارَۃً وَطَہُورًا ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے پاس ایک قیدی کو بھیجا اور حضرت عائشہ (رض) کے پاس عورتیں تھی تو ان عورتوں نے قیدی سے غافل کردیا۔ قیدی چلا گیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اے عائشہ ! قیدی کہاں ہے ؟ فرماتی ہیں : میرے پاس عورتیں تھیں جنہوں نے مجھے اس سے غافل کردیا، وہ چلا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تیرے ہاتھ کاٹ دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے گئے۔ اس قیدی کے پیچھے کسی کو روانہ کیا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت عائشہ اپنے ہاتھوں کو نکال کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تجھے کیا ہے ؟ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! آپ نے میرے خلاف ہاتھ کاٹنے کی بددعا فرمائی۔ میں ہاتھ لٹکا کر بیٹھی ہوں اس انتظار میں کہ کون میرے ہاتھ کاٹتا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو پاگل ہوگئی ہے ؟ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور فرمایا : اے اللہ ! جو میں نے اس کے خلاف بددعا کی تھی اس کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے۔