Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3597

سیر کا بیان

حالت قتال میں چوپائے کو ذبح کرنے کی رخصت

4 hadiths in this chapter

18145

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18145

Zaeef

(١٨١٣٩) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : قَدْ عَقَرَ حَنْظَلَۃُ بْنُ الرَّاہِبِ بِأَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبٍ یَوْمَ أُحُدٍ فَاکْتَسَعَتْ فَرَسُہُ بِہِ فَسَقَطَ عَنْہَا فَجَلَسَ عَلَی صَدْرِہِ لِیَذْبَحَہُ فَرَآَہُ ابْنُ شَعُوبٍ فَرَجَعَ إِلَیْہِ یَعْدُو کَأَنَّہُ سَبُعٌ فَقَتَلَہُ وَاسْتَنْقَذَ أَبَا سُفْیَانَ مِنْ تَحْتِہِ قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ : فَلَوْ شِئْتُ نَجَّتْنِی کُمَیْتٌ رَجِیلَۃٌ وَمَا زَالَ مُہْرِی مُزْجَرَ الْکَلْبِ أُقَاتِلُہُمْ طُرًّا وَأَدْعُو یَالَ غَالِبٍ وَلَمْ أَحْمِلِ النَّعْمَائَ لاِبْنِ شَعُوبِ مِنْہُمُ لَدَی غُدْوَۃٍ حَتَّی دَنَتْ لِغُرُوبِ وَأَدْفَعُہُمْ عَنِّی بِرُکْنٍ صَلِیبِ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٣٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن راہب نے ابو سفیان بن حرب کے جانور کی کونچیں احد کے دن کاٹ ڈالیں۔ اس کا گھوڑا بیٹھ گیا تو ابو سفیان گرپڑا تو حنظلہ اس کے سینے پر ذبح کرنے لیے چڑھ بیٹھے۔ ابن شعوب نے دیکھ لیا، وہ اس کی طرف درندے کی طرح لپکا اور اس کو قتل کردیا۔ ابو سفیان کو اس کے نیچے سے بچا لیا تو اس کے بعد ابو سفیان نے یہ اشعار کہے۔ اگر میں چاہتا تو مجھے طاقت ور سرخ و سیاہ رنگت والا گھوڑا ہی بچا لیتا اور میں ابن شعوب کا احسان نہ اٹھاتا۔ میرا بچھیرا گھوڑا صبح کے وقت سے ان کے کتے کو دھتکارتا رہا حتیٰ کہ غروب کے قریب ہوگیا۔ میں ان سے مسلسل لڑتا رہوں گا اور میں پکاروں گا : غالب کی طرف آؤ اور میں ان کو صلیب کے غلبے کے ساتھ اپنے دور کرتا رہوں گا۔

18146

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18146

Zaeef

(١٨١٤٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّہْرِیِّ وَغَیْرِہِ فِی قِصَّۃِ أُحُدٍ فَذَکَرَ قِصَّۃَ حَنْظَلَۃَ مَعَ أَبِی سُفْیَانَ وَمَا کَانَ مِنْ مَعُونَۃِ ابْنِ شَعُوبٍ أَبَا سُفْیَانَ وَقَتْلِہِ حَنْظَلَۃَ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرِ الْعَقْرَ ثُمَّ ذَکَرَ أَبْیَاتَ أَبِی سُفْیَانَ بِنَحْوٍ مِمَّا ذَکَرَہُنَّ الشَّافِعِیُّ وَزَادَ عَلَیْہِنَّ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ وَاسْمُ ابْنِ شَعُوبٍ شَدَّادُ بْنُ الأَسْوَدِ کَذَا قَالَ ۔ وَقَدْ ذَکَرَ الْوَاقِدِیُّ فِی ہَذِہِ الْقِصَّۃِ عَقْرَہُ فَرَسَہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٠) ابن اسحاق زہری اور دوسروں سے احد کے قصہ کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اس نے حنظلہ کا قصہ ابو سفیان کے ساتھ ذکر کیا اور ابن شعوب کا ابو سفیان کی مدد کرنا اور حنظلہ کے قتل کا ذکر کیا۔ لیکن کونچیں کاٹنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ پھر اس نے ابوسفیان کے اشعار کا تذکرہ کیا جیسے امام شافعی (رح) نے بیان کیا لیکن اس نے کچھ اضافہ بھی کیا ہے۔ ابن اسحاق فرماتے ہیں : ابن شعوب کا نام شداد بن اسود تھا۔ واقدی نے اس قصہ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ اس نے اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔

18147

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18147

Zaeef

(١٨١٤١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَہْمِ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ عَنْ شُیُوخِہِ فَذَکَرُوا قِصَّۃَ حَنْظَلَۃَ قَالُوا : وَأَخَذَ حَنْظَلَۃُ بْنُ أَبِی عَامِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ سِلاَحَہُ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِأُحُدٍ وَہُوَ یُسَوِّی الصُّفُوفَ فَلَمَّا انْکَشَفَ الْمُشْرِکُونَ اعْتَرَضَ حَنْظَلَۃُ لأَبِی سُفْیَانَ بْنِ حَرْبِ فَضَرَبَ عُرْقُوبَ فَرَسِہِ فَاکْتَسَعَتِ الْفَرَسُ وَیَقَعُ أَبُو سُفْیَانَ إِلَی الأَرْضِ فَجَعَلَ یَصِیحُ : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ أَنَا أَبُو سُفْیَانَ بْنُ حَرْبٍ وَحَنْظَلُۃُ یُرِیدُ ذَبْحَہُ بِالسَّیْفِ فَأَسْمَعَ الصَّوْتُ رِجَالاً لاَ یَلْتَفِتُونَ إِلَیْہِ فِی الہَزِیمَۃِ حَتَّی عَایَنَہُ الأَسْوَدُ بْنُ شَعُوبٍ فَحَمَلَ عَلَی حَنْظَلَۃَ بِالرُّمْحِ فَأَنْفَذَہُ وَہَرَبَ أَبُو سُفْیَانَ ۔ [ضعیف جدًا ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤١) محمد بن عمر واقدی اپنے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں، جنہوں نے حنظلہ کا قصہ ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حنظلہ بن عامر نے اپنا اسلحہ لیا اور احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جا ملے۔ جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفیں درست فرما رہے تھے۔ جب مشرک سامنے ہوئے تو حنظلہ نے ابو سفیان کا پیچھا کر کے اس کے گھوڑے کی رگیں کاٹ ڈالیں تو گھوڑا رک گیا اور ابو سفیان زمین پر گرپڑا۔ ابو سفیان چیخ رہا تھا : اے قریشیو ! میں ابو سفیان بن حرب ہوں، حنظلہ تلوار سے اسے ذبح کرنا چاہتے تھے۔ کئی اشخاص نے اس کی آواز سنی، لیکن شکست کی بنا پر کوئی اس کی جانب التفات بھی نہ کررہا تھا یہاں تک کہ اسود بن شعوب نے اس کی مدد کی۔ اس نے حنظلہ کو تیر مار کر ہلاک کردیا۔ اس کو چھڑوایا تو ابو سفیان بھاگ گیا۔

18148

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18148

Sahih

(١٨١٤٢) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ الْیَمَامِیُّ عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْحُدَیْبِیَۃِ وَرُجُوعِہِمْ إِلَی الْمَدِینَۃِ قَالَ : فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ظَہْرًا مَعَ رَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ وَخَرَجْتُ مَعَہُ بِفَرَسِ طَلْحَۃَ أُنَدِّیہِ مَعَ الظَّہْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ قَدْ أَغَارَ عَلَی ظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَاسْتَاقَہُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِیَہُ فَقُلْتُ یَا رَبَاحُ خُذْ ہَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْہُ طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ وَأَخْبِرَ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَّ الْمُشْرِکِینَ قَدْ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِہِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَی ثَنِیَّۃٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِینَۃَ فَنَادَیْتُ ثَلاَثَۃَ أَصْوَاتَ یَا صَباحَاہُ قَالَ ثُمَّ خَرَجْتُ فِی آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِیہِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَنَا ابْنُ الأَکْوَعْ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعْ قَالَ فَأَرْمِی رَجُلاً فَأَضَعُ السَّہْمَ حَتَّی یَقَعَ فِی کَتِفِہِ وَقُلْتُ : خُذْہَا وَأَنَا ابْنُ الأَکْوَعِ وَالْیَوْمُ یَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَوَاللَّہِ مَا زِلْتُ أَرْمِیہِمْ وَأَعْقِرُ بِہِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَیَّ فَارِسٌ أَتَیْتُ شَجَرَۃً فَجَلَسْتُ فِی أَصْلِہَا فَرَمَیْتُہُ فَعَقَرْتُ بِہِ فَإِذَا تَضَایَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِی مُتَضَایَقٍ رَقِیتُ الْجَبَلَ ثُمَّ جَعَلْتُ أُرَدِّیہِمْ بِالْحِجَارَۃِ قَالَ فَمَا زِلْتُ کَذَلِکَ أَتَّبِعُہُمْ حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّہُ بَعِیرًا مِنْ ظَہْرِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلاَّ جَعَلْتُہُ وَرَائَ ظَہْرِی وَخَلَّوْا بَیْنِی وَبَیْنَہُ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ فَمَا بَرِحْتُ مَکَانِی حَتَّی نَظَرْتُ إِلَی فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ وَإِذَا أَوَّلُہُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِیُّ وَعَلَی إِثْرِہِ أَبُو قَتَادَۃَ الأَنْصَارِیُّ وَعَلَی إِثْرِہِ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ الْکِنْدِیُّ فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ فَرَسِ الأَخْرَمِ قُلْتُ یَا أَخْرَمُ إِنَّ الْقَوْمَ قَلِیلٌ فَاحْذَرْہُمْ لاَ یَقْتَطِعُونَکَ حَتَّی یَلْحَقَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَصْحَابُہُ فَقَالَ : یَا سَلَمَۃَ إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلاَ تَحُلْ بَیْنِی وَبَیْنَ الشَّہَادَۃِ فَخَلَّیْتُہُ فَالْتَقَی ہُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُیَیْنَۃَ فَعَقَرَ الأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَہُ وَطَعَنَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَہُ وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَی فَرَسِہِ فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَۃَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَہُ فَقَتَلَہُ وَعَقَرَ بِہِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَۃَ عَلَی فَرَسِ الأَخْرَمِ وَخَرَجُوا ہَارِبِینَ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٤٢) ایاس بن سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، اس نے حدیبیہ کا قصہ ذکر کیا اور مدینہ کی طرف واپسی کا تذکرہ فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے غلام رباح کے ساتھ کچھ اونٹ بھیجے۔ راوی کہتے ہیں : میں بھی طلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر اس کے ساتھ نکلا۔ میں بھی اونٹوں کا خیال رکھ رہا تھا۔ اچانک صبح کے وقت عبدالرحمن بن عیینہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹ پر حملہ کردیا اور تمام اونٹ لے گیا اور چرواہے کو قتل کردیا۔ میں نے کہا : اے رباح ! یہ گھوڑا لو اور طلحہ بن عبیداللہ کو دے دینا اور جا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دو کہ مشرکین نے مویشیوں پر حملہ کردیا ہے۔ پھر میں نے ثنیہ پہاڑی پر چڑھ کر مدینہ کی طرف منہ کر کے تین آوازیں لگائیں۔ یا صباحاہ، یا صباحاہ، یا صباحاہ ! اے لوگو ! ہم صبح کے وقت لوٹے گئے۔ پھر میں ان لوگوں کے پیچھے ہو لیا، تیر مار رہا تھا اور اشعار پڑھ رہا تھا۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ کہتے ہیں : میں کسی کو تیر مارتا اور اپنے تیر محفوظ بھی رکھتا یہاں تک کہ جب وہ اس کے کندھے کو زخمی کرتا تو پھر میں کہتا۔ یہ لو میں اکوع کا بیٹا ہوں آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ کہتے ہیں : میں انھیں تیر مارتا اور زخمی کرتا رہا۔ جب کوئی شہسوار واپس آتا تو میں درخت کی اوٹ میں ہو کر بیٹھ جاتا اور تیر مار کر زخمی کردیتا اور جب پہاڑوں کا تنگ راستہ آجاتا تو میں پہاڑ کے اوپر چڑھ جاتا اور ان پر پتھر برساتا۔ کہتے ہیں : میں اس طرح کرتا رہا یہاں تک کہ رسول اللہ کے جتنے اونٹ تھے۔ میں نے ان کو اپنے پیچھے محفوظ کرلیا۔ میں رسول اللہ کے اونٹوں کو پیچھے چھوڑتا گیا اور وہ اپنا بوجھ ہلکا کرتے رہے۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا کہ میں اپنی جگہ پر رہا یہاں تک میں نے رسول اللہ کے شہسواروں کو دیکھا کہ وہ درختوں کے درمیان سے ظاہر ہوئے۔ سب سے پہلے آنے والے اصرم اسدی تھے، ان کے پیچھے ابو قتادہ انصاری تھے۔ ان کے بعد مقداد بن اسود کندی۔ میں نے اصرم کے گھوڑے کی لگام تھام لی۔ میں نے کہا : اے اصرم ! یہ تھوڑے لوگ ہیں، ان کو ڈراؤ، وہ تجھے ہلاک نہ کردیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ہمیں مل جائیں۔ اس نے کہا : اے سلمہ ! اگر تو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اور جنت و جہنم کو حق خیال کرتا ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بن تو میں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ عبدالرحمن بن عیینہ سے جا ملے تو اصرم نے عبدالرحمن بن عیینہ کے گھوڑے کو زخمی کردیا تو عبدالرحمن نے اصرم کو نیزہ مار کر شہید کردیا۔ پھر عبدالرحمن اپنے گھوڑے کے پاس آیا۔ اتنی دیر میں ابو قتادہ نے عبدالرحمن کو تیر مار کر قتل کردیا اور عبدالرحمن نے انھیں زخمی کیا۔ پھر ابو قتادہ نے اصرم کے گھوڑے کو اپنی تحویل میں لیا اور وہ بھاگ گئے۔