Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3595

سیر کا بیان

جس نے درخت کاٹنے اور جلانے سے ہاتھ کو روک لیا جب قوی امکان ہو کہ یہ دار اسلام یا ذمی لوگوں کے پاس رہیں گے

3 hadiths in this chapter

18131

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18131

Sahih

(١٨١٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ خَمِیرُوَیْہِ الْکَرَابِیسِیُّ الْہَرَوِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا بَعَثَ الْجُنُودَ نَحْوَ الشَّامِ یَزِیدَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَشُرَحْبِیلَ ابْنَ حَسَنَۃَ قَالَ لَمَّا رَکِبُوا مَشَی أَبُو بَکْرٍ مَعَ أُمَرَائِ جُنُودِہِ یُوَدِّعُہُمْ حَتَّی بَلَغَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ فَقَالُوا یَا خَلِیفَۃَ رَسُولِ اللَّہِ أَتَمْشِی وَنَحْنُ رُکْبَانٌ؟ فَقَالَ : إِنِّی أَحْتَسِبُ خُطَایَ ہَذِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ثُمَّ جَعَلَ یُوصِیہِمْ فَقَالَ : أُوصِیکُمْ بِتَقْوَی اللَّہِ اغْزُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللَّہِ فَإِنَّ اللَّہَ نَاصِرُ دِینِہِ وَلاَ تَغُلُّوا وَلاَ تَغْدِرُوا وَلاَ تَجْبُنُوا وَلاَ تُفْسِدُوا فِی الأَرْضِ وَلاَ تَعْصُوا مَا تُؤْمَرُونَ فَإِذَا لَقِیتُمُ الْعَدُوَّ مِنَ الْمُشْرِکِینَ إِنْ شَائَ اللَّہُ فَادْعُوہُمْ إِلَی ثَلاَثِ خِصَالٍ فَإِنْ ہُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلُوا مِنْہُمْ وَکُفُّوا عَنْہُمُ ادْعُہُمْ إِلَی الإِسْلاَمِ فَإِنْ ہُمْ أَجَابُوکَ فَاقْبَلُوا مِنْہُمْ وَکُفُّوا عَنْہُمُ ثُمَّ ادْعُوہُمْ إِلَی التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِہِمْ إِلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ فَإِنْ ہُمْ فَعَلُوا فَأَخْبِرُوہُمْ أَنَّ لَہُمْ مِثْلَ مَا لِلْمُہَاجِرِینَ وَعَلَیْہِمْ مَا عَلَی الْمُہَاجِرِینَ وَإِنْ ہُمْ دَخَلُوا فِی الإِسْلاَمِ وَاخْتَارُوا دَارَہُمْ عَلَی دَارِ الْمُہَاجِرِینَ فَأَخْبِرُوہُمْ أَنَّہُمْ کَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِینَ یَجْرِی عَلَیْہِمْ حُکْمُ اللَّہِ الَّذِی فَرَضَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ وَلَیْسَ لَہُمْ فِی الْفَیْئِ وَالْغَنَائِمِ شَیْئٌ حَتَّی یُجَاہِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِینَ فَإِنْ ہُمْ أَبَوْا أَنْ یَدْخُلُوا فِی الإِسْلاَمِ فَادْعُوہُمْ إِلَی الْجِزْیَۃِ فَإِنْ ہُمْ فَعَلُوا فَاقْبَلُوا مِنْہُمْ وَکُفُّوا عَنْہُمْ وَإِنْ ہُمْ أَبَوْا فَاسْتَعِینُوا بِاللَّہِ عَلَیْہِمْ فَقَاتِلُوہُمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ وَلاَ تُغْرِقُنَّ نَحْلاً وَلاَ تُحْرِقُنَّہَا وَلاَ تَعْقِرُوا بَہِیمَۃً وَلاَ شَجَرَۃً تُثْمِرُ وَلاَ تَہْدِمُوا بِیعَۃً وَلاَ تَقْتُلُوا الْوِلْدَانَ وَلاَ الشُّیُوخَ وَلاَ النِّسَائَ وَسَتَجِدُونَ أَقْوَامًا حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ فِی الصَّوَامِعِ فَدَعُوہُمْ وَمَا حَبَسُوا أَنْفُسَہُمْ لَہُ وَسَتَجِدُونَ آخَرِینَ اتَّخَذَ الشَّیْطَانُ فِی أَوْسَاطِ رُئُ وسِہِمْ أَفْحَاصًا فَإِذَا وَجَدْتُمْ أُولَئِکَ فَاضْرِبُوا أَعْنَاقَہُمْ إِنْ شَائَ اللَّہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٢٥) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب ابوبکر صدیق (رض) نے شام کی جانب لشکر روانہ فرمائے۔ یزید بن ابی سفیان، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) لشکر کو الوداع کہنے کے لیے ثنیۃ الوداع تک پیدل ان کے ساتھ جاتے۔ انھوں نے کہا : اے خلیفۃ المسلمین ! ہم سوار اور آپ پیدل ؟ فرمایا : میں اپنے ان قدموں کو اللہ کے راستہ میں ثواب کی نیت سے اٹھاتا ہوں۔ پھر امراء کو وصیت فرماتے : میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کے راستہ میں غزوہ کرو جو اللہ کے ساتھ کفر کرے ان سے جہاد کرو۔ اللہ اپنے دین کی مدد کرنے والا ہے۔ خیانت نہ کرو۔ دھوکا نہ دو ، بزدلی نہ دکھاؤ، زمین پر فساد نہ کرو، دیے گئے احکام کی نافرمانی نہ کرو۔ اگر اللہ چاہے تمہاری ملاقات دشمن سے ہوجائے تو ان کو تین چیزوں کی طرف دعوت دو ۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم ان سے اپنے ہاتھ روک لو۔ 1 انھیں اسلام کی دعوت دو اگر اسلام قبول کرلیں تو اپنے ہاتھ ان سے روک لو۔ پھر انھیں اپنے گھروں سے مہاجرین کے گھروں میں منتقل ہونے کا کہا جائے۔ اگر وہ یہ کام کرلیں تو انھیں بتادیں۔ ان کے لیے وہی ہے جو مہاجرین کے لیے یا ان کے ذمہ بھی وہی ہے۔ جو مہاجرین کے ذمہ ہے اگر وہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد مہاجرین کے گھروں پر اپنے گھروں کو ترجیح دیں تو ان کو بتا دینا وہ عام دیہاتی مسلمانوں کی مانند ہیں۔ جو مومنوں پر احکام جاری ہوتے ہیں وہی تمہارے اوپر ہوں گے اور مال فیٔ اور غنیمت سے اس وقت تک حصہ نہ ملے گا جب تک مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد نہ کریں گے۔ 2 اگر اسلام میں داخل ہونے سے انکار کردیں تو جزیہ کی دعوت دو ۔ اگر یہ کام کریں تو جزیہ قبول کرلو اور اپنے ہاتھ روک لو۔ 3 اگر وہ اس سے انکار کریں تو ان کے خلاف اللہ سے مدد طلب کرو اور اگر اللہ چاہے تو ان سے قتال کرو اور تم کھجور کے درخت مت کاٹو اور نہ ہی ان کو جلاؤ۔ چوپائے اور پھل دار درخت نہ کاٹو اور گرجا گھر مت گراؤ۔ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو مت قتل کرو۔ عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے آپ کو چرچوں کے اندر روک رکھا ہوگا، ان کو چھوڑ دو اور بعض نے اپنے آپ کو ان کے اندر بند نہ رکھا ہوگا اور عنقریب تم ایسے لوگ پاؤ گے کہ شیطان نے ان کے سروں کے درمیان گھونسلا بنا رکھا ہوگا۔ جب تم ایسے افراد سے ملو تو ان کی گردنیں اتار دو اگر اللہ چاہے۔

18132

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18132

Zaeef

(١٨١٢٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ یَقُولُ سَمِعْتُ أَبِی یَقُولُ ہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ مَا أَظُنُّ مِنْ ہَذَا شَیْئٌ ہَذَا کَلاَمُ أَہْلِ الشَّامِ أَنْکَرَہُ أَبِی عَلَی یُونُسَ مِنْ حَدِیثِ الزُّہْرِیِّ کَأَنَّہُ عِنْدَہُ مِنْ یُونُسَ عَنْ غَیْرِ الزُّہْرِیِّ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٢٦) خالی

18133

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18133

Sahih

(١٨١٢٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَلَعَلَّ أَمْرَ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَنْ یَکُفُّوا عَنْ أَنْ یَقْطَعُوا شَجَرًا مُثْمِرًا إِنَّمَا ہُوَ لأَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یُخْبِرُ أَنَّ بِلاَدَ الشَّامِ تُفْتَحُ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَلَمَّا کَانَ مُبَاحًا لَہُ أَنْ یَقْطَعَ وَیَتْرُکَ اخْتَارَ التَّرْکَ نَظَرًا لِلْمُسْلِمِینَ لاَ لأَنَّہُ رَآہُ مُحَرَّمًا لأَنَّہُ قَدْ حَضَرَ مَعَ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَحْرِیقَہُ بِالنَّضِیرِ وَخَیْبَرَ وَالطَّائِفِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨١٢٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پھل دار درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا، کیونکہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا کہ شام کے شہر مسلمان فتح کریں گے۔ پھل دار درخت کو کاٹنا اور چھوڑ دینا دونوں طرح جائز ہے تو انھوں نے مسلمانوں کی وجہ سے چھوڑ دینے کو اختیار کیا اس وجہ سے نہیں کہ وہ اس کو حرام خیال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس وقت موجود تھے جب بنو نضیر، خیبر اور طائف کے پھل دار درختوں کو جلایا گیا۔