Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3586

سیر کا بیان

کس پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا

10 hadiths in this chapter

18073

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18073

Sahih

(١٨٠٦٧) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : قَدْ سَبَی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہَوَازِنَ وَقَبَائِلَ مِنَ الْعَرَبِ وَأَجْرَی عَلَیْہِمُ الرِّقَّ حَتَّی مَنَّ عَلَیْہِمْ بَعْدُ فَاخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ بِالْمَغَازِی فَزَعَمَ بَعْضُہُمْ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمَّا أَطْلَقَ سَبْیَ ہَوَازِنَ قَالَ : لَوْ کَانَ تَامَّ عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ سَبْیٌ لَتَمَّ عَلَی ہَؤُلاَئِ وَلَکِنَّہُ إِسَارٌ وَفِدَائٌ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَمَنْ ثَبَّتَ ہَذَا الْحَدِیثَ زَعَمَ أَنَّ الرِّقَّ لاَ یَجْرِی عَلَی عَرَبِیٍّ بِحَالٍ وَہَذَا قَوْلُ الزُّہْرِیِّ وَسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ وَالشَّعْبِیِّ وَیُرْوَی عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٧) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق، ہوازن جو عرب کے قبیلے تھے ان کو غلام بنانے کے بعد احسان کر کے آزاد فرمایا۔ اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کا گمان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ہوازن کے قیدی چھوڑے تو فرمایا : اگر عرب کے کوئی مکمل قیدی ہوتے تو وہ قبیلہ ہوازن کے لوگ تھے لیکن قید کے بعد فدیہ ہونا تھا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : جس نے اس حدیث کو ثابت کیا ہے ان کے نزدیک عرب کے باشندے کو غلام نہیں بنایا جاسکتا ہے۔

18074

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18074

Zaeef

(١٨٠٦٨) قَالَ الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی الْغَسَّانِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ (ح) قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ رَجُلٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لاَ یُسْتَرَقُّ عَرَبِیٌّ۔ قَالَ وَأَخْبَرَنَا عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ فِی الْمَوْلَی یَنْکِحُ الأَمَۃَ : یُسْتَرَقُّ وَلَدُہُ ۔ وَفِی الْعَرَبِیِّ یَنْکِحُ الأَمَۃَ : لاَ یُسْتَرَقُّ وَلَدُہُ عَلَیْہِ قِیمَتُہُمْ ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ وَمَنْ لَمْ یُثْبِتِ الْحَدِیثَ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ذَہَبَ إِلَی أَنَّ الْعَرَبَ وَالْعَجَمَ سَوَائٌ وَإِنَّہُ یَجْرِی عَلَیْہِمُ الرِّقُّ حَیْثُ جَرَی عَلَی الْعَجَمِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَالَ الرَّبِیعُ وَبِہِ یَأْخُذُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ أَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَإِنَّمَا ذَکَرَہَا الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ عَنْ مُحَمَّدٍ ہُوَ ابْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِیُّ عَنْ مُوسَی بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ السَّلُولِیِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَوْمَ حُنَیْنٍ : لَوْ کَانَ ثَابِتًا عَلَی أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ سِبَائٌ بَعْدَ الْیَوْمِ لَثَبَتَ عَلَی ہَؤُلاَئِ وَلَکِنْ إِنَّمَا ہُوَ إِسَارٌ وَفِدَائٌ ۔ وَہَذَا إِسْنَادٌ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِمِثْلِہِ ۔ وَأَمَّا الرِّوَایَۃُ فِیہِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٨) شعبی حضرت عمر (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ عربی کو غلام نہیں بنایا جائے گا۔ (ب) زہری سعید بن مسیب سے نقل فرماتے ہیں کہ غلام لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے۔ اس کی اولاد غلام ہوگی۔ عربی بھی لونڈی سے نکاح کرسکتا ہے لیکن اس کی اولاد کو غلام نہ بنایا جائے گا اس کے ذمہ ان کی قیمت ادا کرنا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہیں ہے بلکہ عربی و عجمی دونوں برابر ہیں جہاں عجمی پر غلامی کا اطلاق کیا جائے گا وہاں عربی پر بھی ہوگا۔ شیخ فرماتے ہیں : امام شافعی (رح) نے قدیم قول کو نقل کیا ہے کہ معاذ بن جبل (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ حنین کے دن آپ نے فرمایا : اگر عرب میں سے کسی پر غلام کا اثبات آج کے بعد ہوسکتا تو یہ لوگ تھے لیکن یہ تو قید اور فدیہ دینا ہے۔

18075

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18075

Zaeef

(١٨٠٦٩) فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِالرَّحْمَن السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُوعُبَیْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ أَبِی حَصِینٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : لَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَیْسَ عَلَی عَرَبِیٍّ مِلْکٌ وَلَسْنَا بِنَازِعِی مِنْ یَدِ رَجُلٍ شَیْئًا أَسْلَمَ عَلَیْہِ وَلَکِنَّا نُقَوِّمُہُمُ الْمِلَّۃَ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ ۔ قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ یَقُولُ ہَذَا الَّذِی فِی یَدِہِ السَّبْیُ لاَ نَنْزِعُہُ مِنْ یَدِہِ بِلاَ عِوَضٍ لأَنَّہُ أَسْلَمَ عَلَیْہِ وَلاَ نَتْرُکُہُ مَمْلُوکًا وَہُوَ مِنَ الْعَرَبِ وَلَکِنَّہُ قَوَّمَ قِیمَتُہُ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ لِلَّذِی سَبَاہُ وَیَرْجِعُ إِلَی نَسَبِہِ عَرَبِیًّا کَمَا کَانَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ مُنْقَطِعَۃٌ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٩) شعبی فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب نے خطبہ ارشاد فرمایا تو فرمانے لگے : عربی انسان کسی کی ملکیت نہیں ہوتا اور ہم کسی شخص کے احسان کے بارے میں جھگڑا کرنے والے نہیں ہیں لیکن ہم اس کی پانچ اونٹ قیمت مقرر کردیں گے۔ ابو عبید کہتے ہیں : جب کوئی کسی کے ہاتھ غلام ہو تو ہم بلا قیمت نہ لیں گے کیونکہ وہ اس کا محافظ ہے اور غلام بھی رہنے نہ دیں گے کیونکہ وہ عربی ہے۔ لیکن غلام بنانے والے کو پانچ اونٹ قیمت ادا کی جائے گی اور عربی اپنے نسب کی جانب واپس لوٹ جائے گا۔

18076

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18076

Zaeef

(١٨٠٧٠) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَتَّابٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ہُوَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ عَمِّہِ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ أَخْبَرَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَرَضَ فِی کُلِّ سَبْیٍ فُدِیَ مِنَ الْعَرَبِ سِتَّۃَ فَرَائِضَ وَإِنَّہُ کَانَ یَقْضِی بِذَلِکَ فِیمَنْ تَزَوَّجَ الْوَلاَئِدَ مِنَ الْعَرَبِ ۔ وَہَذَا أَیْضًا مُرْسَلٌ إِلاَّ أَنَّہُ جَیِّدٌ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٧٠) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ہر غلام کے عوض کچھ فدیہ مقرر فرمایا۔ عربی غلام کے بدلے جانور۔ یہ فیصلہ ان کے بارے میں فرمایا جس نے عرب لونڈیوں سے شادی کر رکھی تھی۔

18077

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18077

Sahih

(١٨٠٧١) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِیعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُسَیْطٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : أَبَقَتْ أَمَۃٌ لِبَعْضِ الْعَرَبِ فَوَقَعَتْ بِوَادِی الْقُرَی فَانْتَہَتْ إِلَی الْحَیِّ الَّذِینَ أَبَقَتْ مِنْہُمْ فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی عُذْرَۃَ فَنَثَرَتْ لَہُ بَطْنَہَا ثُمَّ عَثَرَ عَلَیْہَا سَیِّدُہَا فَاسْتَاقَہَا وَوَلَدَہَا فَقَضَی عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِلْعُذْرِیِّ یَعْنِی قَضَی لَہُ بِوَلَدِہِ وَقَضَی عَلَیْہِ بِالْغُرَّۃِ لِکُلِّ وَصِیفٍ وَصِیفٌ وَلِکُلِّ وَصِیفَۃٍ وَصِیفَۃٌ وَجَعَلَ ثَمَنَ الْغُرَّۃِ إِذَا لَمْ تُوجَدْ عَلَی أَہْلِ الْقُرَی سِتِّینَ دِینَارًا أَوْ سَبْعَمِائَۃِ دِرْہَمٍ وَعَلَی أَہْلِ الْبَادِیَۃِ سِتَّ فَرَائِضَ ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَہَذَا وَرَدَ فِی وَطْئِ الشُّبْہَۃِ فَیَکُونُ الْوَلَدُ حُرًّا وَعَلَیْہِ قِیمَتُہُ لِصَاحِبِ الْجَارِیَۃِ وَکَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأَی الْقِیمَۃَ بِمَا نُقِلَ فِی ہَذَا الأَثَرِ إِنْ ثَبَتَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ وَجَرَیَانُ الرِّقِّ عَلَی سَبَایَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہَوَازِنَ صَحِیحٌ ثَابِتٌ وَالْمَنُّ عَلَیْہِمْ بِإِطْلاَقِ السَّبَایَا تَفَضُلٌ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٧١) سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ کسی عرب کی لونڈی بھاگ گئی جو وادی قریٰ سے جا کر اس قبیلہ کو مل گئی جس سے بھاگ کرگئی تھی تو بنو عذرہ کے ایک شخص نے اس سے شادی کرلی تو وہ حاملہ ہوگئی۔ پھر مالک کو اس کا پتہ چلا تو وہ لونڈی اور اس کے بچے کو لے گیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عذرہ کے شخص کے لیے بچے کا فیصلہ فرمایا اور اس پر ہر ایک کے عوض ایک غلام ڈالا اور شہر والوں پر ایک غلام کی قیمت چھ دینار یا دو سو دینار مقرر فرمائی اور دیہاتی پر چھ فرائض۔ شیخ فرماتے ہیں : یہ وطی کے شبہ کی بنا پر ہے کیونکہ بچہ آزاد ہوگا۔ اس کے ذمہ قیمت ہے لونڈی والے کے لیے اور حضرت عمر (رض) اس اثر کو زائل کرنے کے لیے قیمت مقرر فرماتے تھے۔ لیکن بنو مصطلق و ہوازن پر غلام کا اطلاق کیا گیا جو صحیح ثابت ہے لیکن بعد میں احسان کر کے شرافت کی بنا پر غلامی سے آزادی دی گئی۔

18078

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18078

Sahih

(١٨٠٧٢) وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَسَأَلْتُہُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ أَبُو سَعِیدٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَصَبْنَا سَبَایَا مِنْ سَبْیِ الْعَرَبِ فَاشْتَہَیْنَا النِّسَائَ وَاشْتَدَّتْ عَلَیْنَا الْعُزْبَۃُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَائَ فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ ثُمَّ قُلْنَا نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَیْنَ أَظْہُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : مَا عَلَیْکُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِلاَّ وَہِیَ کَائِنَۃٌ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٧٢) ابن محیریز فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ابو سعید خدری کو دیکھاـ۔ میں نے ان کے پاس بیٹھ کر عزل کے بارے میں سوال کیا تو ابو سعید فرمانے لگے : ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ بنو مصطلق کے لیے گئے تو ہم نے عربوں کی لونڈیاں حاصل کیں۔ ہمیں عورت کی خواہش بھی تھی اور عورت سے جدا رہنا مشکل ہوگیا تھا اور ہم فدیہ کو بھی محبوب چاہتے تھے تو ہم نے عزل کا ارادہ کیا۔ پھر ہم نے سوچا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں بغیر پوچھے عزل نہیں کریں گے۔ پہلے پوچھیں گے ؟ ہم نے پوچھ لیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کرلو لیکن جس جان نے کائنات میں آنا ہے وہ آکر ہی رہے گی۔

18079

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18079

Sahih

(١٨٠٧٣) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - سَبَایَا بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِی السَّہْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوْ لاِبْنِ عَمٍّ لَہُ فَکَاتَبَتْہُ عَلَی نَفْسِہَا وَکَانَتِ امْرَأَۃً حُلْوَۃً مُلاَحَۃً لاَ یَرَاہَا أَحَدٌ إِلاَّ أَخَذَتْ بِنَفْسِہِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَسْتَعِینُہُ فِی کِتَابَتِہَا۔ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَوَاللَّہِ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ رَأَیْتُہَا فَکَرِہْتُہَا وَقُلْتُ سَیَرَی مِنْہَا مِثْلَمَا رَأَیْتُ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنَا جُوَیْرِیَۃُ بِنْتُ الْحَارِثِ سَیِّدُ قَوْمِہِ وَقَدْ أَصَابَنِی مِنَ الْبَلاَئِ مَا لَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ وَقَدْ کَاتَبْتُ عَلَی نَفْسِی فَأَعِنِّی عَلَی کِتَابَتِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَوْ خَیْرٌ مِنْ ذَلِکَ أُؤَدِّی عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَأَتَزَوَّجُکِ ۔ فَقَالَتْ : نَعَمْ ۔ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَلَغَ النَّاسَ أَنَّہُ قَدْ تَزَوَّجَہَا فَقَالُوا أَصْہَارُ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہِ عَلَیْہ وَآلِہِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا کَانَ فِی أَیْدِیہِمْ مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَلَقَدْ أُعْتِقَ بِہَا مِائَۃُ أَہْلِ بَیْتٍ مِنْ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَۃً أَعْظَمَ بَرَکَۃً مِنْہَا عَلَی قَوْمِہَا مِنْہَا۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٧٣) عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق کی لونڈیاں تقسیم فرمائیں تو جویریہ بنت حارث ثابت بن قیس بن شماس یا اس کے چچا کے بیٹے کے حصہ میں آئی۔ اس نے مکاتبت کرلی۔ وہ ایک شرمیلی باحیا عورت تھی جسے کسی نے بھی نہیں دیکھا تھا تو اس عورت نے اپنے آپ کو روک لیا اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی مکاتبت کے بارے میں مدد کا سوال کردیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میں نے اس کو اچھا نہ جانا۔ میں نے کہا : آپ بھی اس طرح اس سے محسوس کریں جیسے میں نے کیا۔ جب وہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : میں جویریہ بنت حارث ہوں اپنی قوم کے سردار کی بیٹی۔ میرے اوپر پریشانی آئی ہے جو آپ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ میں نے مکاتبت کی ہے جس میں آپ میری مدد فرمائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یا اس سے بھی بہتر، میں تیری کتابت ادا کر کے تجھ سے شادی کرلوں۔ اس نے کہا : ہاں ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کرلیا۔ جب لوگوں کو پتہ چلا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے شادی کرلی ہے تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرال بنو مصطلق کے سو افراد کو آزاد کردیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : مجھے علم نہیں کہ اس عورت سے بڑھ کر کوئی عورت اپنی قوم کے لیے برکت کا باعث بنی ہو۔

18080

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18080

Sahih

(١٨٠٧٤) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا یُونُسُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِحُنَیْنٍ فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ ہَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَسَبَایَاہُمْ أَدْرَکَہُ وَفْدُ ہَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَۃِ وَقَدْ أَسْلَمُوا فَقَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ لَنَا أَصْلٌ وَعَشِیرَۃٌ وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلاَئِ مَا لَمْ یَخْفَ عَلَیْکَ فَامْنُنْ عَلَیْنَا مَنَّ اللَّہُ عَلَیْکَ وَقَامَ خَطِیبُہُمْ زُہَیْرُ بْنُ صُرَدَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّمَا فِی الْحَظَائِرِ مِنَ السَّبَایَا خَالاَتُکَ وَعَمَّاتُکَ وَحَوَاضِنُکَ اللاَّتِی کُنَّ یَکْفُلْنَکَ وَذَکَرَ کَلاَمًا وَأَبْیَاتًا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : نِسَاؤُکُمْ وَأَبْنَاؤُکُمْ أَحَبُّ إِلَیْکُمْ أَمْ أَمْوَالُکُمْ ؟ ۔ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ خَیَّرْتَنَا بَیْنَ أَحْسَابِنَا وَبَیْنَ أَمْوَالِنَا أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَیْنَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ وَإِذَا أَنَا صَلَّیْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولُوا إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللَّہِ إِلَی الْمُسْلِمِینَ وَبِالْمُسْلِمِینَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ فِی أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا سَأُعْطِیکُمْ عِنْدَ ذَلِکَ وَأَسْأَلُ لَکُمْ ۔ فَلَمَّا صَلَّی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالنَّاسِ الظُّہْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَہُمْ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ ۔ وَقَالَ الْمُہَاجِرُونَ : وَمَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ وَقَالَتِ الأَنْصَارُ وَمَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ فَقَالَ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِیمٍ فَلاَ ۔ فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ السُّلَمِیُّ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَیْمٍ فَلاَ ۔ فَقَالَتْ بَنُو سُلَیْمٍ : بَلْ مَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) -۔ وَقَالَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَۃَ فَلاَ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ أَمْسَکَ مِنْکُمْ بِحَقِّہِ فَلَہُ بِکُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّۃُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَیْئٍ نُصِیبُہُ فَرُدُّوا إِلَی النَّاسِ نِسَائَ ہُمْ وَأَبْنَائَ ہُمْ ۔ وَحَدِیثُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَۃَ فِی سَبْیِ ہَوَازِنَ قَدْ مَضَی۔ [حسن۔ بدون قول صرد ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٧٤) عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہمیں قبیلہ ہوازن سے مال اور لونڈیاں میسر آئیں۔ لیکن ہوازن کے لوگ جعرانہ نامی جگہ پر مسلمان ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ملے۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارے مال اور افراد واپس کردیں، جو پریشانی ہمیں آئی ہے آپ پر پوشیدہ بھی نہیں ہے۔ آپ ہمارے اوپر احسان کریں جیسے اللہ نے آپ پر احسان فرمایا ہے۔ ان کے خطیب زہیر بن صرد کھڑے ہوئے۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لونڈیوں میں آپ کی خالائیں، پھوپھیاں اور بچپن میں آپ کی پرورش کرنے والیاں بھی موجود ہیں۔ اس نے لمبی کلام کی اور اشعار پڑھے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں عورتیں اور اولاد پسند ہے یا مال ؟ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے ہمارے حسب و نسب اور مال میں اختیار دیا ہے۔ ہمیں عورتیں اور مال زیادہ محبوب ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہیں وہ سب تمہارا ہے۔ جس وقت میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو وہاں کھڑے ہو کر کہہ دینا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلمانوں کی جانب سفارشی بناتے ہیں یا مسلمانوں کو رسول اللہ کے پاس سفارشی پیش کرتے ہیں اپنے بیٹوں اور عورتوں کے بارے میں۔ عنقریب میں تمہیں عطا کر دوں گا اور تمہارے لیے سفارش بھی کروں گا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تھا کہہ دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہے وہ تمہارا ہے اور مہاجرین و انصار کہنے لگے : جو ہمارا ہے وہ بھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے اور اقرع بن حابس نے کہہ دیا کہ میں اور بنو تمیم نہ دیں گے۔ اس طرح عباس بن مرداس سلمی نے بھی کہہ دیا لیکن بنو سلیم کہنے لگے : ہمارا حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہی ہے اور عیینہ بن بدر نے بھی انکار کردیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنا حق روک لیا وہ بھی ان کی عورتیں اور بچے واپس کردیں ہم پہلے مال فیٔ سے اس کو ہر انسان کے عوض چھ اونٹ عطا کریں گے۔

18081

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18081

Sahih

(١٨٠٧٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِیُّ حَدَّثَنَا مَسْلَمَۃُ بْنُ عَلْقَمَۃَ الْمَازِنِیُّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : ثَلاَثٌ سَمِعْتُہُنَّ لِبَنِی تَمِیمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ أُبْغِضُ بَنِی تَمِیمٍ بَعْدَہُنَّ أَبَدًا کَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا نَذْرٌ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ فَسُبِیَ سَبْیٌ مِنْ بَلْعَنْبَرٍ فَلَمَّا جِیئَ بِذَاکَ السَّبْیِ قَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : إِنْ سَرَّکِ أَنْ تَفِی بِنَذْرِکِ فَأَعْتِقِی مُحَرَّرًا مِنْ ہَؤُلاَئِ ۔ فَجَعَلَہُمْ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ وَجِیئَ بِنَعَمٍ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا رَآہُ رَاعَہُ حُسْنُہُ قَالَ فَقَالَ : ہَذَا نَعَمُ قَوْمِی ۔ فَجَعَلَہُمْ قَوْمَہُ قَالَ وَقَالَ : ہُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالاً فِی الْمَلاَحِمِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی زُرْعَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ٢٥٢٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٧٥) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بنو تمیم کے بارے تین باتیں سنیں : 1 میں بنو تمیم سے اس کے بعد بغض نہ رکھوں گا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا نذر تھی۔ جب بلعنبر سے قیدی بنائے گئے اور ان کو لایا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عائشہ اگر تجھے اچھا لگے کہ تو اپنی نذر پوری کرے تو ان لوگوں سے غلام کو آزاد کر دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسماعیل کی اولاد سے شمار فرمایا اور جب صدقہ کے اونٹ لائے گئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی خوبصورتی کو دیکھا تو فرمایا : یہ جانور میری قوم کے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر لڑائیوں میں وہ سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔

18082

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18082

Sahih

(١٨٠٧٦) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِیُّ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ الْحَسَنِ عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ : أَنَّ سَبْیًا مِنْ خَوْلاَنَ قَدِمَ وَکَانَ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا رَقَبَۃٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِیلَ فَقَدِمَ سَبْیٌ مِنَ الْیَمَنِ فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ فَنَہَاہَا النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقِدَمَ سَبْیٌ مِنْ مُضَرَ أَحْسِبُہُ قَالَ مِنْ بَنِی الْعَنْبَرِ فَأَمَرَہَا أَنْ تُعْتِقَ ۔ (ت) تَابَعَہُ شُعْبَۃُ عَنْ عُبَیْدٍ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٧٦) ابن مغفل فرماتے ہیں کہ خولان سے لونڈیاں آئیں اور حضرت عائشہ (رض) کے ذمہ اسماعیل کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا تھا۔ یمن سے غلام آئے۔ حضرت عائشہ (رض) نے آزاد کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرما دیا۔ میرا خیال ہے کہ پھر مضر قبیلہ کے غلام آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بنو عنبر سے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کرنے کا حکم دیا۔