Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3585

سیر کا بیان

قیدی پر غلام کے احکام جاری ہوں گے اگرچہ قید کے بعد اسلام قبول کر بھی لے

1 hadith in this chapter

18072

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18072

Sahih

(١٨٠٦٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِیدِ الثَّقَفِیِّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَجُلاً مِنْ بَنِی عُقَیْلٍ فَأَوْثَقُوہُ فَطَرَحُوہُ فِی الْحَرَّۃِ فَمَرَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَنَحْنُ مَعَہُ أَوْ قَالَ أَتَی عَلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی حِمَارٍ وَتَحْتَہُ قَطِیفَۃٌ فَنَادَاہُ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ ۔ قَالَ : فِیمَ أُخِذْتُ وَفِیمَ أُخِذَتْ سَابِقَۃُ الْحَاجِّ ؟ قَالَ : أُخِذْتَ بِجَرِیرَۃِ حُلَفَائِکُمْ ثَقِیفَ ۔ وَکَانَتْ ثَقِیفُ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَیْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَرَکَہُ وَمَضَی فَنَادَاہُ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَرَحِمَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ فَقَالَ : إِنَّہُ مُسْلِمٌ۔ قَالَ : لَوْ قُلْتَہَا وَأَنْتَ تَمْلِکُ أَمْرَکَ أَفْلَحْتَ کُلَّ الفَلاَحِ ۔ قَالَ : فَتَرَکَہُ وَمَضَی فَنَادَاہُ : یَا مُحَمَّدُ یَا مُحَمَّدُ فَرَجَعَ إِلَیْہِ فَقَالَ : إِنِّی جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِی قَالَ وَأَحْسِبُہُ قَالَ : وَإِنِّی عَطْشَانُ فَاسْقِنِی۔ قَالَ : ہَذِہِ حَاجَتُکَ ۔ قَالَ فَفَدَاہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِالرَّجُلَیْنِ اللَّذَیْنِ أَسَرَتْہُمَا ثَقِیفُ وَأَخَذَ نَاقَتَہُ تِلْکَ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ ۔ [صحیح۔ مسلم ١٦٤١]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٦) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ صحابہ نے بنو عقیل کا ایک شخص قیدی بنا کر باندھ کر پتھریلی زمین میں پھینک دیا۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس سے گزرے۔ ہم بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ آپ ایک گدھے پر سوار تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیچے ایک چادر تھی تو اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پاس آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : مجھے کیونکر پکڑا گیا ہے ؟ اور حج کی طرف جانے والے کو کیوں پکڑا گیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو پکڑا گیا ہے تیرے حلیف بنو ثقیف کے جرم کی پاداش میں اور بنو ثقیف نے دو صحابہ کو قیدی بنا لیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ کر چل دیے۔ اس نے پھر آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پر رحم آگیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا : میں تو مسلمان ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو اس وقت یہ بات کہہ دیتا جب تو آزار تھا تو ہر طرح سے کامیاب ہوجاتا ۔ راوی کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو چھوڑ کر چل دیے تو اس نے آواز دی : اے محمد ! اے محمد ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آگئے۔ اس نے کہا : میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلاؤ۔ راوی کہتے ہیں : میرا گمان ہے : اس نے کہا : میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ تیری ضرورت ہے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے عوض اپنے دو آدمیوں کو رہا کروایا جس کو بنو ثقیف نے قید کرلیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی اونٹنی بھی لے لی۔