Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3584

سیر کا بیان

مشرکین کو قیدی بنانے کے بعد آگ سے جلانے کی ممانعت

4 hadiths in this chapter

18068

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18068

Sahih

(١٨٠٦٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ ہَاشِمٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ : رَأَیْتُ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ وَأَیُّوبَ وَعَمَّارَ الدُّہْنِیَّ اجْتَمَعُوا فَتَذَاکَرُوا الَّذِینَ حَرَّقَہُمْ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَحَدَّثَ أَیُّوبُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَنَّہُ بَلَغَہُ قَالَ : لَوْ کُنْتُ أَنَا مَا حَرَّقْتُہُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : لاَ تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّہِ ۔ وَلَقَتَلْتُہُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ ۔ فَقَالَ عَمَّارٌ : لَمْ یُحَرِّقْہُمْ وَلَکِنْ حَفَرَ لَہُمْ حَفَائِرَ وَخَرَقَ بَعْضُہَا إِلَی بَعْضٍ ثُمَّ دَخَّنَ عَلَیْہِمْ حَتَّی مَاتُوا فَقَالَ عَمْرٌو قَالَ الشَّاعِرُ لِتَرْمِ بِیَ الْمَنَایَا حَیْثُ شَائَ تْ إِذَا لَمْ تَرْمِ بِی فِی الْحُفْرَتَیْنِ إِذَا مَا أَجَّجُوا حَطَبًا وَنَارًا ہُنَاکَ الْمَوْتُ نَقْدًا غَیْرَ دَیْنِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ سُفْیَانَ دُونَ قَوْلِ عَمَّارٍ وَعَمْرٍو۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٢) سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار، ایوب اور عمار وہنی کو دیکھا، وہ سب اکٹھے تھے۔ انھوں نے ان لوگوں کے بارے مذاکرہ کیا جن کو حضرت علی (رض) نے جلا دیا تھا۔ (ب) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں : اگر میں ہوتا تو انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس قول کی وجہ سے نہ جلاتا کہ تم اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کی وجہ سے قتل کردیتا کہ جو مرتدہو جائے (اپنا دین بدل لے ) اسے قتل کر دو ۔ عمار کہتے ہیں : ان کو جلایا نہ گیا تھا بلکہ ان کے لیے گڑھے کھودے گئے جن کے اندر سوراخ کردیے گئے پھر ان پر دھواں چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ عمرو نے کہا : شاعر نے کہا ہے، (ترجمہ) تو مجھے جیسے چاہے موت کے آگے ڈال دے، جب کہ تو نے مجھے دو گڑھوں میں نہ ڈالا ہو جب انھوں نے لکڑیوں اور آگ کو اکٹھا کردیا ہو تو پھر موت فوراً آتی ہے دیر نہیں کرتی۔

18069

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18069

Sahih

(١٨٠٦٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الإِیَادِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ النَّصِیبِیُّ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ حَدَّثَنِی بُکَیْرٌ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْثٍ وَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا ۔ لِرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ : فَأَحْرِقُوہُمَا بِالنَّارِ ۔ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ : إِنِّی کُنْتُ أَمَرْتُکُمْ أَنْ تُحَرِّقُوا فُلاَنًا وَفُلاَنًا بِالنَّارِ وَإِنَّ النَّارَ لاَ یُعَذِّبُ بِہَا إِلاَّ اللَّہُ فَإِنْ وَجَدْتُمُوہُمَا فَاقْتُلُوہُمَا ۔ لَفْظُہُمَا سَوَائٌ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ بْنِ سَعِیدٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ٣٠١٦]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کسی لشکر میں بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم دو فلاں قریشیوں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا۔ پھر جب جانے لگے تو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہیں فلاں فلاں کو آگ سے جلانے کا حکم دیا تھا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ رب العزت ہی دے سکتے ہیں۔ اگر تم انھیں پالو تو قتل کردینا۔

18070

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18070

Sahih

(١٨٠٦٤) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ زِیَادَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ أَبَا الزِّنَادِ أَخْبَرَہُ أَنَّ حَنْظَلَۃَ بْنَ عَلِیٍّ أَخْبَرَہُ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو الأَسْلَمِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَعَثَ رَجُلاً فَقَالَ : إِنْ أَصَبْتَ فُلاَنًا أَوْ فُلاَنًا فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ ۔ فَلَمَّا وَلَّی دَعَاہُ فَقَالَ : إِنَّہُ لاَ یُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّہَا ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٤) حمزہ بن عمرو اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا کہ اگر فلاں فلاں کو پاؤ تو آگ سے جلا دینا۔ جب وہ جانے لگا تو آپ نے بلایا اور فرمایا : آگ کا عذاب آگ کا رب ہی دے سکتا ہے۔

18071

Sunan Al Kubra Bayhaqi #18071

Sahih

(١٨٠٦٥) وَرَوَاہُ مُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُغِیرَۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِیُّ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ قَالَ وَحَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَۃَ الأَسْلَمِیُّ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَمَّرَہُ عَلَی سَرِیَّۃٍ قَالَ فَخَرَجْتُ فِیہَا وَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا فَأَحْرِقُوہُ بِالنَّارِ فَوَلَّیْتُ فَنَادَانِی فَرَجَعْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ : إِنْ وَجَدْتُمْ فُلاَنًا فَاقْتُلُوہُ وَلاَ تُحَرِّقُوہُ فَإِنَّہُ لاَ یُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلاَّ رَبُّ النَّارِ ۔ وَأَمَّا حَدِیثُ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ حَیْثُ أَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنْ یُحَرِّقَ عَلَی أُبْنَی وَمَا رُوِیَ فِی نَصْبِ الْمَنْجَنِیقِ عَلَی الطَّائِفِ فَغَیْرُ مُخَالِفٍ لِمَا قُلْنَا إِنَّمَا ہُوَ فِی قِتَالِ الْمُشْرِکِینَ مَا کَانُوا مُمْتَنِعِینَ وَمَا رُوِیَ مِنَ النَّہْیِ فِی الْمُشْرِکِینَ إِذَا کَانُوا مَأْسُورِینَ وَشَبَّہَہُ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ بِرَمْیِ الصَّیْدِ مَا دَامَ عَلَی الاِمْتِنَاعِ ثُمَّ النَّہْیِ عَنْ رَمْیِ الدَّجَاجَۃِ الَّتِی لَیْسَتَ بِمُمْتَنِعَۃٍ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٨٠٦٥) محمد بن حمزہ اسلمی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا۔ کہتے ہیں : میں اس لشکر میں گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم فلاں کو پالو تو آگ سے جلا دینا۔ میں جانے لگا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آواز دی۔ میں آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم فلاں کو پالو تو قتل کردینا جلانا نہ، کیونکہ آگ کا عذاب اس کا رب ہی دے سکتا ہے۔ (ب) اسامہ بن زید کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے گھروں سمیت جلانے کا حکم دیا اور طائف پر منجنیق کا نصب کرنا ہمارے قول کے مخالف نہیں ہے۔ وہ صرف مشرکین سے قتال کے بارے میں ہے، جب وہ رکنے والے نہ ہوں اور مشرکین کو جلانے کی نفی اس وقت ہے جب وہ قیدی ہوں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ شکار کو باندھ کر نہ مارا جائے۔ پھر مرغی کو تیر مارنے کی ممانعت ہے جو باندھی نہ بھی گئی ہو۔