Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3551

سیر کا بیان

مشرکین سے مدد حاصل کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

17883

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17883

Sahih

(١٧٨٧٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الْفُضَیْلِ بْنِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نِیَارٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا کَانَ بِحَرَّۃِ الْوَبَرَۃِ أَدْرَکَہُ رَجُلٌ قَدْ کَانَ یُذْکَرُ مِنْہُ جُرْأَۃٌ وَنَجْدَۃٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حِینَ رَأَوْہُ فَلَمَّا أَدْرَکَہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ جِئْتُ لأَتَّبِعَکَ وَأُصِیبَ مَعَکَ ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ ۔ قَالَ : ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کَانَتِ الشَّجَرَۃُ أَدْرَکَہُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ قَالَ لاَ قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِینَ بِمُشْرِکٍ قَالَتْ فَرَجَعَ ثُمَّ أَدْرَکَہُ بِالْبَیْدَائِ فَقَالَ لَہُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّۃٍ : تُؤْمِنُ بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : فَانْطَلِقْ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ ۔ [صحیح۔ مسلم ] قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : لَعَلَّہُ رَدَّہُ رَجَائَ إِسْلاَمِہِ وَذَلِکَ وَاسِعٌ لِلإِمَامِ وَقَدْ غَزَا بِیَہُودَ بَنِی قَیْنُقَاعٍ بَعْدَ بَدْرٍ وَشَہِدَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا بَعْدَ الْفَتْحِ وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : أَمَّا شُہُودُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ مَعَہُ حُنَیْنًا وَصَفْوَانُ مُشْرِکٌ فَإِنَّہُ مَعْرُوفٌ فِیمَا بَیْنَ أَہْلِ الْمَغَازِی وَقَدْ مَضَی بِإِسْنَادِہِ ۔ وَأَمَّا غَزْوُہُ بِیَہُودِ بَنِی قَیْنُقَاعَ فَإِنِّی لَمْ أَجِدْہُ إِلاَّ مِنْ حَدِیثِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَۃَ وَہُوَ ضَعِیفٌ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : اسْتَعَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بِیَہُودِ قَیْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَہُمْ وَلَمْ یُسْہِمْ لَہُمْ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٧٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف نکلے تو حرہ الوبرہ کے مقام پر آدمی ملا۔ وہ جرأت اور بہادری و دلیری میں مشہور تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی اس کو دیکھ کر خوش ہوئے۔ اس نے آپ کے پاس آ کر کہا : میں آپ کے ساتھ ہونا چاہتا ہوں۔ آپ نے اس سے پوچھا : ” کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : ” واپس جا میں مشرک سے مدد نہیں لوں گا۔ “ پھر آگے چلے۔ ایک آدمی اور ملا۔ اس نے بھی پہلے آدمی کی طرح کہا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے وہی سوال کیا جو پہلے سے کیا تھا۔ اس نے کہا : نہیں تو آپ نے اس کو بھی واپس جانے کو کہا اور فرمایا : ” میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا۔ “ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : وہ چلا گیا پھر بیداء کے مقام پر ایک آدمی ملا اس نے بھی پہلے آدمیوں کی طرح کہا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کیا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ہے ؟ “ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : ” چلو۔ “ امام شافعی فرماتے ہیں : جن کو واپس بھیجا گیا شائد ان کے اسلام لانے کی امید سے تھا اور اس میں قائد کے لیے وسعت ہے۔ بنو قینقاع کے یہودیوں سے بدر کے بعد جنگ ہوئی ہے اور صفوان بن امیہ آپ کے ساتھ حنین کی جنگ میں شریک تھا اور یہ فتح مکہ کے بعد ہوئی ہے اور اس وقت صفوان بن امیہ مشرک تھا۔ شیخ فرماتے ہیں : مغازی والوں کے ہاں صفوان بن امیہ کا شرک کی حالت میں جنگ میں شریک ہونا تو مشہور ہے۔ یہ پہلے گزر گیا ہے اور اس کا غزوہ بنو قینقاع میں شریک ہونا یہ میں نے حسن بن عمارہ کی حدیث کے سوا کہیں اور نہیں پایا اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو قینقاع کے یہودیوں سے مدد لی اور ان کو کچھ مال دیا، لیکن ان کا حصہ مقرر نہیں کیا۔

17884

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17884

Zaeef

(١٧٨٧٨) وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ عَمْرٍو الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی السِّینَانِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَبِی حُمَیْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی إِذَا خَلَّفَ ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ إِذَا کَتِیبَۃٌ قَالَ : مَنْ ہَؤُلاَئِ ؟ قَالُوا : بَنِی قَیْنُقَاعَ وَہُوَ رَہْطُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ ۔ قَالَ : وَأَسْلَمُوا ؟ قَالُوا : لاَ بَلْ ہُمْ عَلَی دِینِہِمْ ۔ قَالَ : قُلْ لَہُمْ فَلْیَرْجِعُوا فَإِنَّا لاَ نَسْتَعِینُ بِالْمُشْرِکِینَ ۔ ہَذَا الإِسْنَادُ أَصَحُّ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٧٨) ابو حمید ساعدی (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ کے لیے نکلے۔ جب ثنیۃ الوداع سے آگے گئے تو ایک لشکر دیکھا تو آپ نے پوچھا : ” یہ کون ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : یہ بنو قینقاع کے لوگ ہیں اور وہ عبداللہ بن سلام کا قبیلہ ہے تو آپ نے پوچھا : ” کیا وہ اسلام لے آئے ہیں ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں بلکہ وہ اپنے دین پر ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان سے کہو واپس جائیں ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔ سعید بن منذر مجہول الحال ہے۔

17885

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17885

Zaeef

(١٧٨٧٩) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُکْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ عَنْ خُبَیْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْضِ غَزَوَاتِہِ فَأَتَیْتُہُ أَنَا وَرَجُلٌ قَبْلَ أَنْ نُسْلِمَ فَقُلْنَا : إِنَّا نَسْتَحِی أَنْ یَشْہَدَ قَوْمُنَا مَشْہَدًا فَلاَ نَشْہَدُہُ قَالَ : أَسْلَمْتُمَا ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ ۔ قَالَ : فَإِنَّا لاَ نَسْتَعِینُ بِالْمُشْرِکِینَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ ۔ فَأَسْلَمْنَا وَشَہِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَتَلْتُ رَجُلاً وَضَرَبَنِی الرَّجُلُ ضَرْبَۃً فَتَزَوَّجْتُ ابْنَتَہُ فَکَانَتْ تَقُولُ لاَ عَدِمْتَ رَجُلاً وَشَّحَکَ ہَذَا الْوِشَاحَ فَقُلْتُ لاَ عَدِمْتِ رَجُلاً عَجَّلَ أَبَاکِ إِلَی النَّارِ ۔ [ضعیف ] جَدُّہُ خُبَیْبُ بْنُ یَسَافٍ وَیُقَالُ إِسَافٍ لَہُ صُحْبَۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٧٩) خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ کے لیے نکلے۔ میں آپ کے پاس آیا۔ ابھی میں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا کہ ہم نے کہا : ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم لڑائی میں جائے اور ہم نہ جائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : ” کیا تم اسلام قبول کرچکے ہو ؟ “ ہم نے کہا : نہیں تو آپ نے فرمایا : ” ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیں گے۔ “ پھر ہم نے اسلام قبول کیا اور آپ کے ساتھ لڑائی میں گئے۔ میں نے ایک آدمی کو مارا اور ایک آدمی نے مجھے ضرب لگائی اور میں نے اس کی بیٹی سے شادی کی۔ وہ کہتی تھی : تہی دست نہ کر اس آدمی کو جس نے تجھے یہ جواہر اور موتیوں کا ہار دیا میں اس کو کہتا تو ایسے آدمی کو تہی دست نہ کر جس نے تیرے باپ کو آگ کی طرف جلدی بھیج دیا۔ خبیب بن عبدالرحمن کے دادا کا نام خبیب بن یساف یا اساف تھا کہا جاتا ہے کہ اس کو صحبت رسول حاصل ہے۔ عبدالرحمن بن خبیب بن یساف مجہول ہے۔

17886

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17886

Zaeef

(١٧٨٨٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُہَیْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ ہَاشِمٍ عَنْ وَکِیعٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الشَّیْبَانِیِّ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَزَا بِقَوْمٍ مِنَ الْیَہُودِ فَرَضَخَ لَہُمْ ۔ [ضعیف۔ رجالہ کلہم ثقات الا ان الشیبانی عن سعد بن مالک مرسل ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٨٠) شیبانی فرماتے ہیں کہ سعد بن مالک (رض) نے یہود کے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر لڑائی کی اور ان کو مال بھی دیا۔