Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3552

سیر کا بیان

جہاد کن مشرکوں سے شروع کیا جائے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا ہے : { قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ } [التوبۃ ١٢٣]” ان لوگوں سے لڑو جو کافروں میں تمہارے قریب ہیں۔ “

4 hadiths in this chapter

17887

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17887

Zaeef

(١٧٨٨١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - تَہَیَّأَ لِلْحَرْبِ فَقَامَ فِیمَا أَمَرَہُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ مِنْ جِہَادِ عَدُوِّہِ وَقِتَالِ مَنْ أَمَرَہُ بِہِ مِمَّنْ یَلِیہِ مِنْ مُشْرِکِی الْعَرَبِ ۔ [ضعیف ] قَالَ الشَّافِعِیُّ : فَإِنِ اخْتَلَفَ حَالُ الْعَدُوِّ فَکَانَ بَعْضُہُمْ أَنْکَی مِنْ بَعْضٍ أَوْ أَخْوَفَ مِنْ بَعْضٍ فَلْیَبْدَإِ الإِمَامُ بِالْعَدُوِّ الأَخْوَفِ أَوِ الأَنْکَی وَإِنْ کَانَتْ دَارُہُ أَبَعْدَ إِنْ شَائَ اللَّہُ وَتَکُونُ ہَذِہِ بِمَنْزِلَۃِ ضَرُورَۃٍ قَالَ وَقَدْ بَلَغَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِی ضِرَارٍ أَنَّہُ یَجْمَعُ لَہُ فَأَغَارَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَیْہِ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٨١) ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لڑائی کا ارادہ کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد ان دشمنوں سے شروع کیا جن سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے قریبی مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا تھا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔ فرمایا : جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کررہا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر رات کو حملہ کردیا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اردگرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔

17888

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17888

Zaeef

(١٧٨٨٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَۃَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَلَغَہُ أَنَّ بَنِی الْمُصْطَلِقِ یَجْمَعُونَ لَہُ وَقَائِدُہُمْ الْحَارِثُ بْنُ أَبِی ضِرَارٍ أَبُو جُوَیْرِیَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَسَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی نَزَلَ بِالْمُرَیْسِیعِ مَائٍ مِنْ مِیَاہِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَأَعَدُّوا لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَتَزَاحَفَ النَّاسُ فَاقْتَتَلُوا فَہَزَمَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - بَنِی الْمُصْطَلِقِ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ مِنْہُمْ وَنَفَّلَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَبْنَائَ ہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ وَنِسَائَ ہُمْ وَأَقَامَ عَلَیْہِ مِنْ نَاحِیَۃِ قُدَیْدٍ إِلَی السَّاحِلِ ۔ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ غَزَاہَا رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی شَعْبَانَ سَنَۃَ سِتٍّ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٨٢) عبداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر ملی کہ بنو مصطلق والے لشکر تیار کر رہے ہیں اور ان کی قیادت ام المؤمنین حضرت جویریہ (رض) کا باپ حارث بن ابی ضرار کررہا ہے تو آپ نکلے۔ جب مریسیع نامی کنویں پر گئے یہ بنو مصطلق کے کنوؤں میں سے ایک تھا۔ انھوں نے آپ کے ساتھ لڑائی کی تیاری کی اور لوگوں نے ایک دوسرے کے قریب ہونا شروع کیا۔ پھر لڑائی کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق کو شکست دی۔ کچھ ان میں سے قتل ہوئے اور ان کے بچے مال اور عورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زائد حاصل کیا اور قرید کے ساحل کی طرف سے ان پر حملہ کیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : یہ چھ ہجری کو ہوا تھا۔

17889

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17889

Sahih

(١٧٨٨٣) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ وَأَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ : کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُہُ عَنِ الدُّعَائِ قَبْلَ الْقِتَالِ قَالَ فَکَتَبَ إِنَّمَا کَانَ ذَاکَ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی بَنِی الْمُصْطَلِقِ وَہُمْ غَارُّونَ وَأَنْعَامُہُمْ تُسْقَی عَلَی الْمَائِ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَہُمْ وَسَبَی سَبْیَہُمْ وَأَصَابَ یَوْمَئِذٍ أَحْسِبُہُ قَالَ جُوَیْرِیَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ حَدَّثَنِی بِہَذَا الْحَدِیثِ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَکَانَ فِی ذَلِکَ الْجَیْشِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبَلَغَہُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ سُفْیَانَ بْنِ نُبَیْحٍ یَجْمَعُ لَہُ فَأَرْسَلَ ابْنَ أُنَیْسٍ فَقَتَلَہُ وَقُرْبَہُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْہُ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٨٣) ابن عون کہتے ہیں : میں نافع کو سوال لکھ کر بھیجا کہ قتال (لڑائی) سے دعا کیا ہے ؟ انھوں نے لکھا : یہ ابتداء اسلام تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو مصطلق پر شب خون مارا (رات کو حملہ کیا) اور وہ بھی شب خون مارنے والے تھے جبکہ ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا تو لڑائی کے اہل لوگوں کو قتل کردیا گیا اور بچوں کو قیدی بنایا گیا۔ اس دن جویریہ (رض) کو زخم بھی آیا تھا۔ امام شافعی فرماتے ہیں : جب یہ خبر آئی کہ خالد بن سفیان بن نبی ح لشکر تیار کررہا ہے تو اس طرف ابن انیس (رض) کو بھیجا گیا۔ انھوں نے اس کو قتل کردیا جبکہ اس سے قریب بھی دشمن موجود تھے۔

17890

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17890

Zaeef

(١٧٨٨٤) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُنَیْسٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی خَالِدِ بْنِ سُفْیَانَ الْہُذَلِیِّ وَکَانَ نَحْوَ عُرَنَۃَ وَعَرَفَاتٍ فَقَالَ : اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ ۔ قَالَ فَرَأَیْتُہُ وَحَضَرَتْ صَلاَۃُ الْعَصْرِ فَقُلْتُ إِنِّی لأَخَافُ أَنْ یَکُونَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ مَا أَنْ أُؤَخِّرَ الصَّلاَۃَ فَانْطَلَقْتُ أَمْشِی وَأَنَا أُصَلِّی أُومِئُ إِیمَائً نَحْوَہُ فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْہُ قَالَ لِی : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ بَلَغَنِی أَنَّکَ تَجْمَعُ لِہَذَا الرَّجُلِ فَجِئْتُکَ فِی ذَاکَ قَالَ إِنِّی لَفِی ذَاکَ فَمَشَیْتُ مَعَہُ سَاعَۃً حَتَّی إِذَا أَمْکَنَنِی عَلَوْتُہُ بِسَیْفِی حَتَّی بَرَدَ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٨٤) حضرت عبداللہ بن انیس (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے خالد بن سفیان کی طرف بھیجا۔ وہ عرنہ اور عرفات کی طرف تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جاؤ اسے قتل کرو۔ “ یہ کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا اس وقت عصر کی نماز کا وقت آگیا۔ میں نے سوچا میرے اور اس کے درمیان معاملہ میں نماز کے مؤخر ہونے کا خدشہ ہے تو میں نماز کے لیے نکلا۔ میں اس طرف اشارہ کیا جب میں اس کے قریب ہوگیا تو اس نے مجھے کہا : تو کون ہے ؟ میں نے کہا : عرب ہوں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تو اس شخص کے خلاف لشکر جمع کررہا ہے تو میں بھی اسی سلسلہ میں تیرے پاس آیا ہوں۔ اس نے کہا : میں یہ کام کررہا ہوں تو میں کچھ دیر اس کے ساتھ چلا جب میں نے اس پر موقع پایا تو اپنی تلوار سے اس پر حملہ کردیا حتیٰ کہ وہ مرگیا۔