Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3544

سیر کا بیان

جو مسلمان لڑائی میں اپنے باپ کے قتل سے پرہیز کرتا ہے، اگرچہ وہ اس کو قتل بھی کر دے تو کوئی حرج نہیں ہے

3 hadiths in this chapter

17840

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17840

Zaeef

(١٧٨٣٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَۃَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ حُصَیْنِ بْنِ وَحْوَحٍ : أَنَّ طَلْحَۃَ بْنَ الْبَرَائِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَمَّا لَقِیَ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ یَا نَبِیَّ اللَّہِ مُرْنِی بِمَا أَحْبَبْتَ وَلاَ أَعْصِی لَکَ أَمْرًا قَالَ فَعَجِبَ لِذَلِکَ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَہُوَ غُلاَمٌ فَقَالَ لَہُ عِنْدَ ذَلِکَ : فَاقْتَلْ أَبَاکَ ۔ قَالَ : فَخَرَجَ مُوَلِّیًا لِیَفْعَلَ فَدَعَاہُ قَالَ : إِنِّی لَمْ أُبْعَثْ لِقَطِیعَۃِ رَحِمٍ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٣٤) حضرت طلحہ بن برائ (رض) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : جو آپ پسند کریں مجھے حکم دیں۔ میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر تعجب کیا اور وہ ابھی چھوٹے تھے۔ آپ نے ان کو کہا : ” اپنے باپ کو قتل کر ! “ جب وہ واپس ہوا تاکہ اس پر عمل کرے تو آپ نے اس کو بلایا اور فرمایا : ” مجھے رشتے توڑنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ “

17841

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17841

Zaeef

(١٧٨٣٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا ضَمْرَۃُ بْنُ رَبِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ شَوْذَبٍ قَالَ : جَعَلَ أَبُو أَبِی عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ یَنْصِبُ الأَلِہَۃَ لأَبِی عُبَیْدَۃَ یَوْمَ بَدْرٍ وَجَعَلَ أَبُو عُبَیْدَۃَ یَحِیدُ عَنْہُ فَلَمَّا کَثَّرَ الْجَرَّاحُ قَصَدَہُ أَبُو عُبَیْدَۃَ فَقَتَلَہُ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِیہِ ہَذِہِ الآیَۃَ حِینَ قَتَلَ أَبَاہُ { لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ یُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَلَوْ کَانُوا آبَائَ ہُمْ أَوْ أَبْنَائَ ہُمْ } [المجادلۃ ٢٢] إِلَی آخِرِہَا۔ ہَذَا مُنْقَطِعٌ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٣٥) حضرت عبداللہ بن شوذب فرماتے ہیں کہ بدر کے دن ابو عبیدہ بن جراح کا والد اس کے لیے معبود کھڑے کرتا تھا اور ابو عبیدہ ان سے کنارہ کشی کرتے تھے۔ جب جراح نے اس عمل میں زیادتی کی تو ابو عبیدہ نے انھیں قتل کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت اتاری۔ جب ابو عبیدہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا : { لاَ تَجِدُ قَوْمًا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَوْ کَانُوْا آبَائَ ہُمْ اَوْ اَبْنَآئَ ہُمْ } [المجادلۃ ٢٢] ” تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے۔ “

17842

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17842

Zaeef

(١٧٨٣٦) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ سُمَیْعٍ الْحَنَفِیِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ عُمَیْرٍ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ الْجَاہِلِیَّۃَ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ إِنِّی لَقِیتُ الْعَدُوَّ وَلَقِیتُ أَبِی فِیہِمْ فَسَمِعَتُ لَکَ مِنْہُ مَقَالَۃً قَبِیحَۃً فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّی طَعَنْتُہُ بِالرُّمْحِ أَوْ حَتَّی قَتَلْتُہُ فَسَکَتَ عَنْہُ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ جَائَ ہُ آخَرُ فَقَالَ : إِنِّی لَقِیتُ أَبِی فَتَرَکْتُہُ وَأَحْبَبْتُ أَنْ یَلِیَہُ غَیْرِی فَسَکَتَ عَنْہُ ۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ جَیِّدٌ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٣٦) حضرت مالک بن عمیر فرماتے ہیں (اور انھوں نے جاہلیت کا دور پایا ہے) کہ ایک آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں دشمن سے ملا۔ ان میں میرا باپ بھی تھا۔ میں نے اس کے منہ سے آپ کے بارے میں ناپسندیدہ بات سنی۔ میں صبر نہیں کرسکا۔ میں نے نیزہ سے اس پر وار کیا۔ نتیجتاً وہ قتل ہوگیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر خاموش رہے۔ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا : میں اپنے باپ کو ملا اور اس کو چھوڑ دیا اور میں نے چاہا کہ اس کو اور میرے علاوہ کوئی پہنچ جائے گا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر بھی خاموش رہے۔