Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3540

سیر کا بیان

جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و

9 hadiths in this chapter

17819

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17819

Sahih

(١٧٨١٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ بْنِ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُکَیْرٍ حَدَّثَنِی اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْہَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : جِہَادُ الْکَبِیرِ وَالضَّعِیفِ وَالْمَرْأَۃِ الْحَجُّ وَالْعُمْرَۃُ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بوڑھے، کمزور اور عورتوں کا جہاد حج مبرور ہے۔ “

17820

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17820

Sahih

(١٧٨١٤) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ أَبُو عُمَرَ الضَّرِیرُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ } [النساء ٩٥] الآیَۃَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - زَیْدًا فَکَتَبَہَا فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَشَکَا ضَرَارَتَہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ { غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } [النساء ٩٥] ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ : ١٧٨١٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٤) حضرت برائ (رض) فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [النساء ٩٥] ” اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والے مومن اور بغیر عذر کے بیٹھے رہنے والے مومن برابر نہیں ہوسکتے “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید کو حکم دیا تو انھوں نے اس کو لکھا۔ پھر ابن ام مکتوم آئے اور انھوں نے اپنی بیماری وغیرہ کا عذر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے { غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } والا حصہ نازل کیا۔ صرف سند ذکر کی ہے۔

17821

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17821

Zaeef

(١٧٨١٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی الْحُلْوَانِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ ۔ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٥) ایضاً ۔

17822

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17822

Sahih

(١٧٨١٦) حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْحَکَمِ الْقِطْرِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ جَالِسٌ فَجَلَسْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ حَدَّثَنِی زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَنَزَلَتْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ } [النساء ٩٥] قَالَ : فَجَائَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَأَنَا أَکْتُبَہَا فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ تَرَی مَا بِعَیْنَیَّ مِنَ الضَّرَرِ وَلَوْ أَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ لَجَاہَدْتُ ۔ قَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَثَقُلَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی فَخِذِی حَتَّی ہَمَّتْ أَنْ تَرُضَّہَا ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ لِی : اکْتُبْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجَاہِدُونَ } [النساء ٩٥] ۔ لَفْظُ حَدِیثِ الْقِطْرِیِّ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَغَیْرِہِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ١٧٨١٧]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٦) حضرت زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا تو یہ آیت نازل ہوئی { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ } [النساء ٩٥] تو کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم آئے اور میں لکھ رہا تھا۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ جانتے ہیں کہ میں آنکھوں سے نابینا ہوں اور اگر میں جہاد کرنے کی طاقت رکھتا تو میں ضرور جہاد کرتا تو زید بن ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ آپ کے ران میری ران پر بڑے بھاری اور گراں ہوگئے۔ حتیٰ کے قریب تھا کہ وہ ٹوٹ جاتا پھر آپ کی حالت اچھی ہوگئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : لکھو ! { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ } [النساء ٩٥]

17823

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17823

Sahih

(١٧٨١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْحَکَمِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ خَارِجَۃَ بْنَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ السَّکِینَۃَ غَشِیَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ زَیْدٌ وَأَنَا إِلَی جَنْبِہِ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی فَخِذِی فَمَا وَجَدْتُ شَیْئًا أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ : اکْتُبْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ } [النساء ٩٥] ۔ الآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ زَیْدٌ فَکَتَبْتُ ذَلِکَ فِی کَتِفٍ فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلاً أَعْمَی حِینَ سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ بِمَنْ لاَ یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ ؟ قَالَ فَمَا قَضَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ کَلاَمَہُ أَوْ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ فَصَلَ کَلاَمَہُ فَغَشِیَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - السَّکِینَۃُ فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلَی فَخِذِی فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا الْمَرَّۃَ مِثْلَمَا وَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا فِی الْمَرَّۃِ الأُولَی ثُمَّ سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : اقْرَأْ ۔ فَقَرَأْتُ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ } [النساء ٩٥] فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - { غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } [النساء ٩٥] قَالَ زَیْدٌ : فَأَلْحَقْتُہَا وَکَانَ مَلْحَقَتُہَا عِنْدَ صَدْعٍ فِی الْکَتِفِ ۔ [صحیح لغیرہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٧) حضرت خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکینت نے ڈھانپ لیا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران میری ران پر گری تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی۔ پھر آپ کی یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لکھو ! { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ۔۔۔} [النساء ٩٥] پوری آیت۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت میں نے کندھے (کی ہڈی) پر لکھی تو ابن ام مکتوم جو نابینا آدمی تھے، کھڑے ہوئے۔ جب انھوں نے مجاہدین کی فضیلت بیٹھنے والوں پر سنی تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس آدمی کا کیا حال ہے جو مومنین کے ساتھ جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ ابھی ابن ام مکتوم کی کلام ختم نہیں ہوئی تھی کہ پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکونت نے ڈھانپ لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران میری ران پر آگئی تو میں نے اس دفعہ بھی ویسے ہی بوجھ محسوس کیا جیسا کہ پہلی دفعہ محسوس کیا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ والی حالت جاتی رہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھیے تو میں نے پڑھی : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اس ٹکڑے کو اس آیت میں ملا دیا اور یہ ٹکڑا کندھے کی مضبوط ہڈی پر لکھا ہوا تھا۔

17824

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17824

Sahih

(١٧٨١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ عَنْ أَبِی عَقِیلٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرِ أُولِی الضَّرَرِ } [النسائ : ٩٥] قَالَ : ہُمْ أُولُو الضَّرَرِ قَوْمٌ کَانُوا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ یَغْزُونَ مَعَہُ کَانَتْ تَحْبِسُہُمْ أَوْجَاعٌ وَأَمَرَاضٌ وَآخَرُونَ أَصْحَائُ فَکَانَ الْمَرْضَی أَعْذَرَ مِنَ الأَصْحَائِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٨) ابو نضرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق سوال کیا { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } انھوں نے کہا : اس سے مراد اہل ضرر ہیں، یعنی لوگ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد نہیں کرسکتے تھے۔ تکالیف اور بیماری نے ان کو جانے سے روک لیا تھا اور دوسرے لوگ صحیح ہونے کے باوجود نہیں جاتے تھے۔ لہٰذا بیمار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں معذور قرار دیا۔

17825

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17825

Sahih

(١٧٨١٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ : إِنَّ بِالْمَدِینَۃِ لَرِجَالاً مَا سِرْنَا مَسِیرًا وَلاَ قَطْعَنَا وَادِیًا إِلاَّ کَانُوا مَعَنَا فِیہِ حَبَسَہُمُ الْمَرَضُ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَحْمَدَ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٩) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کسی سفر کے دوران فرمایا کہ مدینہ میں کچھ مرد ہیں، ہم نے کوئی سفر نہیں کیا اور نہ کوئی وادی طے کی ہے مگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ اب ان کو بیماری نے روک لیا ہے۔

17826

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17826

Sahih

(١٧٨٢٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : لَقَدْ تَرَکْتُمْ بِالْمَدِینَۃِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِیرًا وَلاَ أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَۃٍ وَلاَقَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلاَّ وَہُمْ مَعَکُمْ فِیہِ ۔ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَکَیْفَ یَکُونُونَ مَعَنَا وَہُمْ بِالْمَدِینَۃِ ؟ قَالَ : حَبَسَہُمُ الْعُذْرُ ۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زُہَیْرٍ وَحَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ ثُمَّ قَالَ وَقَالَ مُوسَی عَنْ حَمَّادٍ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - نَحْوَہُ ۔ [صحیح۔ بخاری ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٢٠) حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم مدینہ میں کچھ لوگ چھوڑ آئے ہو تم نے کوئی سفر طے نہیں کیا اور نہ تم نے کوئی خرچ کیا اور نہ تم نے کوئی وادی طے کی مگر وہ اس میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! وہ ہمارے ساتھ کیسے ہیں جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کو عذر نے روک رکھا ہے۔

17827

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17827

Zaeef

(١٧٨٢١) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی وَالِدِی إِسْحَاقُ بْنُ یَسَارٍ عَنْ أَشْیَاخٍ مِنْ بَنِی سَلَمَۃَ قَالُوا : کَانَ عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ أَعْرَجَ شَدِیدَ الْعَرَجِ وَکَانَ لَہُ أَرْبَعَۃُ بَنُونَ شَبَابٌ یَغْزُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِذَا غَزَا فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَتَوَجَّہُ إِلَی أُحُدٍ قَالَ لَہُ بَنُوہُ إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَکَ رُخْصَۃً فَلَو قَعَدْتَ فَنَحْنُ نَکْفِیکَ فَقَدْ وَضَعَ اللَّہُ عَنْکَ الْجِہَادَ فَأَتَی عَمْرُو بْنُ الْجَمُوحِ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ بَنِیَّ ہَؤُلاَئِ یَمْنَعُونِی أَنْ أَخْرُجَ مَعَکَ وَاللَّہِ إِنِّی لأَرْجُو أَنْ أُسَتَشْہَدَ فَأَطَأَ بِعُرْجَتِی ہَذِہِ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : أَمَّا أَنْتَ فَقَدْ وَضَعَ اللَّہُ عَنْکَ الْجِہَادَ ۔ وَقَالَ لِبَنِیہِ : وَمَا عَلَیْکُمْ أَنْ تَدْعُوہُ لَعَلَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَرْزُقُہُ الشَّہَادَۃَ ؟ ۔ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ شَہِیدًا۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٢١) بنی سلمہ کے چند شیوخ فرماتے ہیں کہ عمرو بن جموح بہت زیادہ لنگڑے تھے۔ ان کے چار جوان بیٹے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس غزوے میں بھی جاتے وہ آپ کے ساتھ ہوتے اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو عمرو بن جموح نے بھی جانا چاہا، لیکن ان کے بیٹوں نے ان کو کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رخصت دی ہے اور آپ کا یہاں بیٹھنا زیادہ بہتر ہے اور آپ کی جگہ ہم آپ کی کفایت کر جائیں گے۔ اللہ نے آپ پر جہاد فرض نہیں کیا تو عمرو بن جموح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے بیٹے مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جانے سے روکتے ہیں اور میں شہادت چاہتا ہوں اور میرے لنگڑے پن نے مجھے جنت میں جانے سے پیچھے چھوڑ دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے آپ سے جہاد کو معاف کردیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیٹوں سے کہا کہ تم اسے کیوں نہیں جانے دیتے ! ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے شہادت نصیب فرمائے۔ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نکلا اور احد کے دن شہید ہوگیا۔