Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3539

سیر کا بیان

کن پر جہاد کرنا واجب نہیں

11 hadiths in this chapter

17808

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17808

Sahih

(١٧٨٠٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : اسْتَأْذَنْتُ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فِی الْجِہَادِ فَقَالَ : جِہَادُکُنَّ أَوْ حَسْبُکُنَّ الْحَجُّ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَثِیرٍ ۔ [صحیح۔ بخاری ٢٨٧٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٢) ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جہاد کرنے کی اجازت مانگی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا جہاد تمہاری حج ہے یا حج کرنا ہی تمہیں کافی ہے۔

17809

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17809

Zaeef

(١٧٨٠٣) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ النَّجَّارُ الْمُقْرِئُ بِالْکُوفَۃِ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا عَنِ النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَتْ : اسْتَأْذَنْتُہُ فِی الْجِہَادِ فَقَالَ : حَسْبُکُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِہَادُکُنَّ الْحَجُّ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٣) یہ روایت بھی پہلی روایت کی طرح ہے۔ یہاں پر ( (حَسْبُکُنَّ الْحَجُّ أَوْ جِہَادُکُنَّ الْحَجُّ ) ) کے الفاظ ہیں۔ (سابقہ حوالہ)

17810

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17810

Zaeef

(١٧٨٠٤) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ وَأَبُو الْقَاسِمِ بْنُ النَّجَّارِ الْمُقْرِئُ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِنَحْوٍ مِنْ ہَذَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قَبِیصَۃَ بِالإِسْنَادَیْنِ جَمِیعًا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٤) یہ روایت بھی سابقہ روایات کی طرح ہے اور اس کی دونوں سندیں قبیصہ سے منقول ہیں۔ (سابقہ حوالہ)

17811

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17811

Sahih

(١٧٨٠٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی مَحْمُودٌ الْوَاسِطِیُّ لَفْظُہُ وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا وَہْبٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ نَرَی الْجِہَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلاَ نُجَاہِدُ مَعَکَ ؟ قَالَ : لاَ وَلَکُنَّ أَفْضَلُ الْجِہَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ ۔ وَکَانَتْ عَائِشَۃُ خَالَتَہَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُبَارَکِ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم جہاد کو افضل عمل جانتی ہیں، کیا ہم بھی آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں لیکن (عورتوں کے لیے) افضل عمل حج مبرور ہے۔ امام بخاری نے بہت سی جگہوں پر بیان کی ہے۔

17812

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17812

Sahih

(١٧٨٠٦) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا قَبِیصَۃُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیَغْزُو الرِّجَالُ وَلاَ نَغْزُو وَلاَنُقَاتِلُ فَنُسْتَشْہَدَ وَإِنَّمَا لَنَا نِصْفُ الْمِیرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَعَالَی { وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ } [النساء ٣٢] ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٦) حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مرد غزوات میں شریک ہوتے ہیں اور ہم شرکت نہیں کرتیں اور نہ ہم قتال کرتی ہیں کہ ہمیں شہادت مل جائے اور اسی طرح مردوں کے مقابلے میں ہمیں وراثت میں آدھا حصہ ملتا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ } [النساء ٣٢] ” جس چیز کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ “

17813

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17813

Sahih

(١٧٨٠٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ قُرَیْشٍ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : عَرَضَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَوْمَ أُحُدٍ فِی الْقِتَالِ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ فَلَمْ یُجِزْنِی وَعَرَضَنِی یَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَأَجَازَنِی۔ قَالَ نَافِعٌ فَقَدِمْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ خَلِیفَۃٌ فَحَدَّثْتُہُ بِہَذَا الْحَدِیثَ فَقَالَ إِنَّ ہَذَا لَحَدٌّ بَیْنَ الصَّغِیرِ وَالْکَبِیرِ وَکَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ أَنْ یَفْرِضُوا لِمَنْ کَانَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً وَمَا کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَاجْعَلُوہُ فِی الْعِیَالِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ ۔ [صحیح۔ متفق علیہ ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٧) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے احد کی لڑائی میں احد کے دن اپنے آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اجازت نہ دی اور اس وقت میری عمر ١٤ سال تھی۔ پھر خندق کے دن میں نے پیش کیا تو میری عمر ١٥ سال تھی تو آپ نے مجھے (اس میں حصہ لینے کی) اجازت دے دی۔ نافع کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت میں ان کے پاس گیا اور انھیں یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے کہا کہ یہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان میں حد ہے۔ پھر انھوں نے اپنے عاملوں کی طرف لکھا کہ جس کی عمر ١٥ سال ہو تو وہ اس کو قتال میں شریک کریں اور جو اس سے کم عمر کا ہو تو اس کو اہل و عیال میں بھیج دو ۔

17814

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17814

Sahih

(١٧٨٠٨) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَائِ قَالَ اسْتُصْغِرْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ یَوْمَ بَدْرٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ شُعْبَۃَ ۔ أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : عُرِضْتُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ أَنَا وَرَافِعُ بْنُ خَدِیجٍ عَلَی النَّبِیِّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - أَنَا وَہُوَ ابْنَا خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً فَقَبِلَنَا۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور رافع بن خدیج خندق کے دن (جنگ کے لیے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پیش کیے گئے اور اس وقت ہم دونوں پندرہ پندرہ سال کے تھے تو آپ نے ہم دونوں کو قبول کرلیا۔

17815

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17815

Zaeef

(١٧٨٠٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْقَبَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی عَتَّابٍ الأَعْیَنُ حَدَّثَنَا مَنصُورُ بْنُ سَلَمَۃَ أَبُو سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ جَارِیَۃَ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا عَمِّی عَمْرُو بْنُ زَیْدِ بْنِ جَارِیَۃَ حَدَّثَنِی أَبِی زَیْدُ بْنُ جَارِیَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - اسْتَصْغَرَ نَاسًا یَوْمَ أُحُدٍ مِنْہُمْ زَیْدُ بْنُ جَارِیَۃَ یَعْنِی نَفْسَہُ وَالْبَرَائُ بْنُ عَازِبٍ وَزَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَسَعْدٌ أَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَذَکَرَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ کَذَا فِی کِتَابِی عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ وَرَأَیْتُہُ فِی مَوْضِعٍ آخَرَ ابْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٩) حضرت زید بن جاریہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن چند بچوں کو چھوٹا جانتے ہوئے (جہاد کے لیے) قبول نہ کیا۔ ان میں سے ایک تو میں تھا اور براء بن عازب، زید بن ارقم، سعد، ابو سعید خدری اور ابن عمر (رض) تھے اور اسی طرح جابر بن عبداللہ اور ایک کتاب میں عثمان بن عبداللہ اور ایک دوسری جگہ ابن عبید اللہ (رض) کے نام تھے۔

17816

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17816

Sahih

(١٧٨١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَتْ بِی أُمِّی فَقَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ فَخَطَبَہَا النَّاسُ فَقَالَتْ : لاَ أَتَزَوَّجُ إِلاَّ بِرَجُلٍ یَکْفُلُ لِی ہَذَا الْیَتِیمَ فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْرِضُ غِلْمَانَ الأَنْصَارِ فِی کُلِّ عَامٍ فَیُلْحِقُ مَنْ أَدْرَکَ مِنْہُمْ قَالَ وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلاَمًا وَرَدَّنِی فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَلْحَقْتَہُ وَرَدَدْتَنِی وَلَوْ صَارَعْتُہُ لَصَرَعْتُہُ قَالَ : فَصَارِعْہُ ۔ فَصَارَعْتُہُ فَصَرَعْتُہُ فَأَلْحَقَنِی۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٠) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے مدینہ میں لے کر آئی تو لوگوں نے ان کی طرف نکاح کے پیغام بھیجے تو انھوں نے کہا کہ میں نکاح اس آدمی سے کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کرے گا تو انھوں نے انصار میں سے ایک آدمی سے نکاح کرلیا تو آپ ہر سال انصار کے بچوں کو جب ان کو پیش کیا جاتا ان میں سے جس کے اندر صلاحیت معلوم کرتے اس کو لشکر میں بھیج دیتے۔ حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک سال مجھے اور میرے ساتھ ایک اور لڑکے کو پیش کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو قبول کرلیا اور مجھے رد کردیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کو قبول کرلیا ہے اور مجھے واپس کردیا ہے۔ اگر میں اسے گرا لوں تو کیا پھر میں بھی جاسکتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو تم دونوں کشتی کرلو تو کہتے ہیں : میں نے اسے پچھاڑ دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھی اجازت دے دی۔

17817

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17817

Sahih

(١٧٨١١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا حَاتِمٌ یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ خِلاَلٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یُکَاتِبُ الْحَرُورِیَّۃَ وَلَوْلاَ أَنِّی أَخَافُ أَنْ أَکْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَکْتُبْ إِلَیْہِ فَکَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَیْہِ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ ؟ وَہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ ؟ وَہَلْ کَانَ یَقْتُلُ الصِّبْیَانَ وَمَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ ہُوَ ؟ فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ یَغْزُو بِہِنَّ یُدَاوِینَ الْمَرْضَی وَیُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ وَأَمَّا السَّہْمُ فَلَمْ یَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلاَ تَقْتُلْہُمْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْہُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِیِّ الَّذِی قَتَلَ فَتُمَیِّزَ بَیْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْکَافِرِ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَکَتَبْتَ مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَلَعَمْرِی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْیَتُہُ وَإِنَّہُ لَضَعِیفُ الأَخْذِ ضَعِیفُ الإِعْطَائِ فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَہَبَ عَنْہُ الْیُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِی عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ ہُوَ لَنَا فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَیْہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ ۔ (ت) وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَأَمَّا النِّسَائُ وَالْعَبِیدُ فَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شَیْئٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَلَکِنْ یُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١١) یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا اور وہ آپ سے خلال کے متعلق پوچھ رہے تھے تو حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) حروریوں سے خط و کتابت کرتے ہیں اور اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا : اما بعد ! مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے ؟ اور کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمیت کب پوری ہوتی ہے اور خمس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس کے لیے ہے ؟ پھر ابن عباس (رض) نے ان کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا : ہاں عورتیں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں لیکن وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمار داری کرتی تھیں اور انھیں غنیمت میں سے دیا جاتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ پس تم بھی ان کو قتل نہ کرنا ما سوائے اس کے کہ تم ان بچوں میں وہ کچھ جان لو جو کچھ خضر (علیہ السلام) نے جانا تھا اور اسی طرح مومن اور کافر کے درمیان تمیز کرنا پس کافر کو قتل کردینا اور مومن کو چھوڑ دینا اور اسی طرح تو نے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمیت کب پوری اور مکمل ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا : میری عمر کی قسم ! بعض دفعہ آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے اور اس کو لین دین کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ وہ اس معاملے میں بالکل کمزور ہوتا ہے اور جس کو وہ سمجھ بوجھ حاصل ہوجائے جو باقی لوگوں کو ہوتی ہے تو اس کی یتیمیت ختم ہوجاتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے متعلق سوال کیا ہے تو ہم کہا کرتے تھے : یہ ہمارے لیے ہے لیکن قوم نے ہم پر انکار کردیا (کہ یہ تمہارا نہیں) تو ہم نے صبر کیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔

17818

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17818

Zaeef

(١٧٨١٢) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَی الأَنْطَاکِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِیُّ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی أُمَیَّۃَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - کَانَ فِی بَعْضِ مَغَازِیہِ فَمَرَّ بِأُنَاسٍ مِنْ مُزَیْنَۃَ فَاتَّبَعَہُ عَبْدٌ لاِمْرَأَۃٍ مِنْہُمْ فَلَمَّا کَانَ فِی بَعْضِ الطَّرِیقِ سَلَّمَ عَلَیْہِ قَالَ : فُلاَنٌ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَ : مَا شَأْنُکَ ؟ ۔ قَالَ : أُجَاہِدُ مَعَکَ ۔ قَالَ : أَذِنَتْ لَکَ سَیِّدَتُکَ ؟ ۔ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : ارْجِعْ إِلَیْہَا فَإِنَّ مِثْلَکَ مِثْلُ عَبْدٍ لاَ یُصَلِّی إِنْ مُتَّ قَبْلَ أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْہَا وَاقْرَأْ عَلَیْہَا السَّلاَمَ ۔ فَرَجَعَ إِلَیْہَا فَأَخْبَرَہَا الْخَبَرَ فَقَالَتْ : آللَّہِ ہُوَ أَمَرَ أَنْ تَقْرَأَ عَلَیَّ السَّلاَمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ۔ قَالَتْ : ارْجِعْ فَجَاہِدْ مَعَہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨١٢) حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض مغازی میں تھے اور آپ مزینہ کے لوگوں کے قریب سے گزرے تو اس قبیلہ کی عورت کے ایک غلام نے آپ کا پیچھا کیا۔ جب آپ سے راستے میں اس کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ کو سلام بلایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو فلاں ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بتاؤ کیا مسئلہ ہے ؟ اس نے کہا : میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہاری سیدہ نے تمہیں اجازت دی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی طرف لوٹ جاؤ اور تمہاری مثال اس غلام یا بندے کی طرح ہے جو نماز نہیں پڑھتا۔ اگر تو اس کے پاس پہنچنے سے پہلے مرگیا اور اسے میرا سلام کہنا، غلام اپنی سیدہ کے پاس آیا اور اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سلام عرض کیا اور پورا واقعہ بیان کیا تو اس نے کہا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتی ہوں کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ کو سلام کہنے کا حکم دیا تھا ؟ غلام نے کہا : ہاں ! تو اس سیدہ نے کہا : پھر تم جاؤ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔