Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 61 · Chapter 3538

سیر کا بیان

جہاد کی فرضیت کی دلیل کا بیان اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَ ھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ } [البقرۃ ٢١٦] ” اے ایمان والو !

8 hadiths in this chapter

17800

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17800

Sahih

(١٧٧٩٤) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِیِّ أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ ذَاتَ یَوْمٍ فِی خُطْبَتِہِ : أَلاَ إِنَّ رَبِّی أَوْ إِنَّ رَبِّی أَمَرَنِی أَنْ أُعَلِّمَکُمْ مَا جَہِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِی یَوْمِی ہَذَا ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا بَعَثْتُکَ لأَبْتَلِیَکَ وَأَبْتَلِیَ بِکَ وَأَنْزَلْتُ عَلَیْکَ کِتَابًا لاَ یَغْسِلُہُ الْمَائُ تَقْرَأُہُ نَائِمًا وَیَقْظَانًا وَإِنَّ اللَّہَ أَمَرَنِی أَنْ أُحْرِقَ قُرَیْشًا فَقُلْتُ رَبِّ إِذًا یَثْلَغُوا رَأْسِی فَیَدَعُوہُ خُبْزَۃً فَقَالَ اسْتَخْرِجْہُمْ کَمَا أَخْرَجُوکَ وَاغْزُہُمْ نَغْزُ بِکَ وَأَنْفِقْ فَسَنُنْفِقَ عَلَیْکَ وَابْعَثْ جَیْشًا نَبْعَثْ خَمْسَۃَ أَمْثَالِہِ وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مَنْ عَصَاکَ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ قَتَادَۃَ ۔ [صحیح۔ مسلم ٢٨٦٥]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٩٤) حضرت عیاض بن حمار مجاشعی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں کہا : ” سنو ! میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں وہ کچھ سکھاؤں جس سے تم ناواقف ہو، اس علم میں سے جو آج کے دن اس نے مجھے سکھایا ہے۔ پھر حدیث بیان کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اے محمد ! میں نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں تیری آزمائش کروں اور تیرے ذریعے سے (دوسروں) کی آزمائش کروں اور میں نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی بھی نہیں دھو سکتا یا مٹا سکتا تم اسے سوتے اور جاگتے ہوئے پڑھو گے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا دوں۔ میں نے کہا : اے میرے رب ! تب تو وہ میرا سر کچل دیں گے اور اسے روٹی کی مانند کردیں گے اور اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ان کو نکالو جیسے انھوں نے آپ کو نکالا ہے۔ آپ ان سے جہاد کیجیے ہم بھی آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ خرچ کریں ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خرچ کریں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو آپ کے مطیع و فرمان بردار ہیں ان کے ساتھ مل کر اپنے نافرمانوں سے قتال کریں۔ “

17801

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17801

Zaeef

(١٧٧٩٥) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا أَبُو زِیَادٍ یَحْیَی بْنِ عُبَیْدٍ الْغَسَّانِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ قُطَیْبٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِلَی الْیَمَنِ فَقَالَ : لَعَلَّکَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِی وَمَسْجِدِی قَدْ بَعَثْتُکَ إِلَی قَوْمٍ رَقِیقَۃٌ قُلُوبُہُمْ یُقَاتِلُونَکَ عَلَی الْحَقِّ مَرَّتَیْنِ فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَکَ مِنْہُمْ مَنْ عَصَاکَ ثُمَّ یَغْدُونَ إِلَی الإِسْلاَمِ حَتَّی تُبَادِرَ الْمَرْأَۃُ زَوْجَہَا وَالْوَلَدُ وَالِدَہُ وَالأَخُ أَخَاہُ فَانْزِلْ بَیْنَ الْحَیَّیْنِ السَّکُونِ وَالسَّکَاسِکِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٩٥) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا کہ شاید کہ تم میری قبر اور میری مسجد سے گزرو اور یقیناً میں نے تجھے ایسی قوم کی طرف بھیجا ہے جن کے دل بہت نرم ہیں اور وہ حق پر آپ کے ساتھ مل کر دو دفعہ قتال کریں گے۔ آپ اپنے فرمان بردار لوگوں سے مل کر نافرمانوں سے قتال کرنا۔ پھر وہ اسلام کی طرف چلیں گے حتیٰ کہ عورت اپنے شوہر سے جلدی کرے گی اور بیٹا اپنے باپ سے اور بھائی اپنے بھائی سے اور تم دو قبیلوں کے درمیان سکون و محبت پیدا کرنا۔

17802

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17802

Zaeef

(١٧٧٩٦) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ إِمْلاَئً بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِی أُنَیْسَۃَ عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی الْعَبْدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الْخَصَاصِیَۃِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : أَتَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لأُبَایِعَہُ عَلَی الإِسْلاَمِ فَاشْتَرَطَ عَلَیَّ : تَشْہَدُ أَنْ لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ وَتُصَلِّی الْخَمْسَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتُؤَدِّی الزَّکَاۃَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ وَتُجَاہِدُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَمَّا اثْنَتَانِ فَلاَ أُطِیقُہُمَا أَمَّا الزَّکَاۃُ فَمَا لِی إِلاَّ عَشْرُ ذَوْدٍ ہُنَّ رِسْلُ أَہْلِی وَحَمُولَتُہُمْ وَأَمَّا الْجِہَادُ فَیَزْعُمُونَ أَنَّہُ مَنْ وَلَّی فَقَدْ بَائَ بِغَضَبٍ مِنْ اللَّہِ فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِی قِتَالٌ کَرِہْتُ الْمَوْتَ وَجَشِعَتْ نَفْسِی قَالَ فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَدَہُ ثُمَّ حَرَّکَہَا ثُمَّ قَالَ : لاَ صَدَقَۃَ وَلاَ جِہَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ؟ ۔ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أُبَایِعُکَ فَبَایَعَنِی عَلَیْہِنَّ کُلِّہِنَّ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٩٦) حضرت ابن خصاصیہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسلام پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ پر مندرجہ ذیل باتوں کی شرط لگائی : اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور پانچ وقت کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ “ ابن خصاصیہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ان میں سے دو چیزوں کے کرنے کی میں طاقت نہیں رکھتا، یعنی (زکوۃ اور جہاد کی) ۔ رہی زکوۃ تو میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کا سرکل چلاتے ہیں، یعنی ہم ان کا دودھ استعمال کرتے ہیں اور سواری کرتے ہیں اور رہا جہاد کا معاملہ تو اس کے بارے میں لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو میدان جنگ سے بھاگے گا۔ وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے گا تو میں ڈرتا ہوں کہ میں میدان قتال میں حاضر ہوں تو اس وقت میں موت کو ناپسند کروں اور اپنی جان کو پسند کرلوں اور اس پر حریص بن جاؤں۔ کہتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ کو بند کرلیا اور پھر اسے ہلا کر کہا کہ نہ صدقہ اور نہ جہاد تو تم جنت میں کیسے جاسکتے ہو۔ ابن خصاصیہ کہتے ہیں : پھر میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ نے مجھ سے ان تمام چیزوں پر بیعت لی۔

17803

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17803

Sahih

(١٧٧٩٧) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی طَاہِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْبَلَدِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ حَدَّثَنَا مَنصُورٌ عَنِ الْحَکَمِ بْنِ عُتَیْبَۃَ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ أَبِی شَبِیبٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تُحَدِّثُنِی بِعَمَلٍ أَدْخُلُ بِہِ الْجَنَّۃَ ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُکَ بِرَأْسِ الأَمْرِ وَعَمُودِہِ وَذُرْوَۃِ سَنَامِہِ أَمَّا رَأْسُ الأَمْرِ فَالإِسْلاَمُ مَنْ أَسْلَمَ سَلِمَ وَأَمَّا عَمُودُہُ فَالصَّلاَۃُ وَأَمَّا ذُرْوَۃُ سَنَامِہِ فَالْجِہَادُ ۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٩٧) حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ ان میں سے سر کون ہے اور ستون کون ہے اور کوہان کی بلندی کون سی چیز ہے۔ پھر فرمایا کہ ان چیزوں کا سر اسلام ہے۔ جس نے اسلام قبول کیا وہ سلامت رہا اور ان چیزوں کا ستون نماز ہے اور کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔ “ پھر حدیث بیان کی۔

17804

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17804

Sahih

(١٧٧٩٨) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَیْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ : جَاہِدُوا۔ یَعْنِی الْمُشْرِکِینَ : بِأَمْوَالِکُمْ وَأَنْفُسِکُمْ وَأَلْسِنَتِکُمْ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٩٨) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاد کرو یعنی مشرکین سے اپنے مالوں، جانوں اور زبانوں کے ساتھ۔

17805

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17805

Zaeef

(١٧٧٩٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی عَنْ مَکْحُولٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - : عَلَیْکُمْ بِالْجِہَادِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَإِنَّہُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّۃِ یُذْہِبُ اللَّہُ بِہِ الْغَمَّ وَالْہَمَّ ۔ وَزَادَ فِیہِ غَیْرُہُ أَنَّہُ قَالَ : وَجَاہِدُوا فِی اللَّہِ الْقَرِیبَ وَالْبَعِیدَ وَأَقِیمُوا حُدُودَ اللَّہِ فِی الْقَرِیبِ وَالْبَعِیدِ وَلاَ یَأْخُذُکُمْ فِی اللَّہِ لَوْمَۃُ لاَئِمٍ ۔ قَالَ الشَّیْخُ وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ الْکِنْدِیِّ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ۔ [ضعیف ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٧٩٩) حضرت عبادہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اپنے اوپر لازم کرلو اس لیے کہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے رنج و غم دور کردیتا ہے اور ان کے علاوہ دوسروں نے یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں اور اللہ کے راستے میں قریب و بعید سے جہاد کرو اور اللہ کی حدود کو قریب و بعید قائم کرو اور اللہ کے دین میں تمہیں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرنا چاہیے۔

17806

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17806

Sahih

(١٧٨٠٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو أَخْبَرَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَیْرِ بْنِ نُفَیْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : جَلَسْنَا إِلَی الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِدِمَشْقَ وَہُوَ عَلَی تَابُوتٍ مَا بِہِ عَنْہُ فَضْلٌ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : لَوْ قَعَدْتَ الْعَامَ عَنِ الْغَزْوِ ۔ قَالَ : أَبَتْ عَلَیْنَا الْبَحُوثُ یَعْنِی سُورَۃَ التَّوْبَۃِ قَالَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] فَلاَ أَجِدُنِی إِلاَّ خَفِیفًا۔ [حسن ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠٠) عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم دمشق میں حضرت مقداد بن اسود (رض) کے پاس بیٹھے میں اور وہ ایک صندوق پر تھے اور ان کے پاس اس سے زائد چیز یا فضل نہ تھا تو ان سے ایک آدمی نے کہا : اگر آپ اس سال غزوے پر نہ جاتے تو یہ بہتر ہوتا تو انھوں نے کہا کہ ہمیں اس ( (بحوث) ) یعنی سورة التوبہ نے روک لیا ہے، یعنی سورة التوبہ ہمیں نہیں بیٹھنے دیتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] کہ ” اللہ کے راستے میں ہلکے اور بوجھل جس حال میں بھی ہو نکلو۔ “ تو میں اپنے آپ کو ہلکا پاتا ہوں۔

17807

Sunan Al Kubra Bayhaqi #17807

Sahih

(١٧٨٠١) أَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنِی حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ { انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً } [التوبۃ ٤١] قَالَ : أُرَی رَبَّنَا یَسْتَنْفِرُنَا شُیُوخًا وَشُبَّانًا جَہِّزُونِی أَیْ بَنِیَّ جَہِّزُونِی فَقَالَ بَنُوہُ : قَدْ شَہِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَنَحْنُ نَغْزُو فَقَالَ جَہِّزُونِی فَرَکِبَ الْبَحْرَ فَمَاتَ فَلَمْ یَجِدُوا لَہُ جَزِیرَۃً إِلاَّ بَعْدَ سَبْعَۃِ أَیَّامٍ فَدَفَنُوہُ فِیہَا وَلَمْ یَتَغَیَّرْ ۔ [صحیح ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٧٨٠١) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو طلحہ (رض) نے اس آیت کی تلاوت کی : { اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا } [التوبۃ ٤١] تو انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے رب نے اس میں بوڑھے اور جوانوں کو نکلنے کا کہا ہے تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے کہا : اے بیٹو ! میرے لیے تیاری کرو، میرے لیے تیاری کرو تو بیٹوں نے کہا کہ یقیناً اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور عمر (رض) کے ساتھ مل کر غزوے کے لیے ہیں۔ (اب آپ بیٹھیں) اور ہم لڑتے ہیں۔ انھوں نے کہا : میری تیاری کرو حتیٰ کہ سمندر کا سفر کیا اور فوت ہوگئے۔ (حضرت انس (رض) کہتے ہیں) کہ انھیں سات دنوں کے بعد ایک جزیرہ ملا تو اس میں انھیں دفن کیا اور ان کی نعش بالکل صحیح رہی۔