Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 56 · Chapter 3353

باغیوں سے قتال کا بیان

اگر امام اپنے بعد کسی کو خلافت کا اہل سمجھے تو اس کے بارے میں تنبیہ کر دے

15 hadiths in this chapter

16587

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16587

Sahih

(۱۶۵۸۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنِی أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ وَکَتَبَہُ لِی بِخَطِّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِی عَائِشَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ لَہَا : أَلاَ تُحَدِّثِینِی عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَتْ : بَلَی ثَقُلَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ فَقُلْتُ : لاَ وَہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : ضَعُوا مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ قَالَتْ : فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ۔ قَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ فَأَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ قُلْتُ : لاَ ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ فَقَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ ۔ قُلْنَا : لاَ ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یا رَسُولَ اللَّہِ وَالنَّاسُ عُکُوفٌ فِی الْمَسْجِدِ لِصَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِأَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ قَالَتْ فَأَتَاہُ الرَّسُولُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَأْمُرُکَ بِأَنْ تُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ رَجُلاً رَقِیقًا یَا عُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنْتَ أَحَقُّ بِذَلِکَ فَصَلَّی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ تِلْکَ الأَیَّامَ ثُمَّ إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- وَجَدَ مِنْ نَفْسِہِ خِفَّۃً فَخَرَجَ بَیْنَ رَجُلَیْنِ أَحَدُہُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلاَۃِ الظُّہْرِ وَأَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَلِّی بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَآہُ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ذَہَبَ لِیَتَأَخَّرَ فَأَوْمَأَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- بِأَنْ لاَ یَتَأَخَّرَ قَالَ : أَجْلِسَانِی إِلَی جَنْبِہِ ۔ فَأَجْلَسَاہُ إِلَی جَنْبِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَجَعَلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُصَلِّی وَہُوَ قَائِمٌ بِصَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَالنَّاسُ بِصَلاَۃِ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَالنَّبِیُّ -ﷺ- قَاعِدٌ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ فَدَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَہُ أَلاَ أَعْرِضُ عَلَیْکَ مَا حَدَّثَتْنِی بِہِ عَائِشَۃُ عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ہَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَیْہِ حَدِیثَہَا فَمَا أَنْکَرَ مِنْہُ شَیْئًا غَیْرَ أَنَّہُ قَالَ : أَسَمَّتْ لَکَ الرَّجُلَ الَّذِی کَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ؟ قُلْتُ : لاَ۔ قَالَ : ہُوَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلَمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨١) عبیداللہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آیا۔ میں نے کہا : آپ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کے بارے میں بتائیے، فرمانے لگیں : کیوں نہیں۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوگئے تو پوچھا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ میں نے کہا : نہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں یا رسول اللہ ! فرمایا برتن میں پانی رکھو۔ فرماتی ہیں : پانی رکھا گیا، آپ نے غسل فرمایا کہ کچھ افاقہ ہوجائے لیکن آپ پر غشی طاری ہوگئی ۔ پھر افاقہ ہوا تو پوچھا : لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ بتایا : آپ کا انتظار ہے ہیں، پھر برتن میں پانی رکھنے کا فرمایا : پھر غسل فرمایا لیکن پھر غشی طاری ہوگئی، پھر ہوش آیا تو پوچھا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ عرض کیا گیا : آپ کا انتظار ہے اور لوگ مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے بیٹھے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر کے پاس پیغام بھیجا کہ نماز پڑھا دیں۔ جب ابوبکر کو پیغام ملا تو انھوں نے حضرت عمر (رض) کو کہا کہ آپ پڑھائیں؛ کیونکہ ابوبکر بڑے رقیق القلب تھے تو حضرت عمر (رض) نے جواب دیا کہ آپ زیادہ حق دار ہیں تو اس کے بعد حضرت ابوبکر نمازیں پڑھاتے رہے۔ ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طبیعت میں بہتری محسوس کی تو دو آدمیوں کے سہارے جن میں ایک حضرت عباس تھے ظہر کے وقت مسجد میں آئے، ابوبکر نماز پڑھا رہے تھے۔ جب ابوبکر نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ نے اشارہ فرمایا کہ پیچھے نہ ہٹو اور آپ نے فرمایا : مجھے ان کے پہلو میں بٹھا دو تو آپ کو حضرت ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دیا تو ابوبکر آپ کی اور لوگ حضرت ابوبکر کی اقتدا کر رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے کہ حضرت عائشہ نے آپ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کے بارے میں جو بیان کیا ہے وہ بتاؤ تو میں نے انھیں بتایا تو انھوں نے سب باتوں تصدیق کی اور فرمایا کہ کیا اس دوسرے شخص کا نام نہیں بتایا جو حضرت عباس کے ساتھ تھے میں نے کہا : نہیں تو فرمایا : وہ علی تھے۔

16588

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16588

Sahih

(۱۶۵۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبِسْطَامِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی أَبُو سَعِیدٍ : یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْجُعْفِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : لَمَّا اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَجَعُہُ قَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ۔ فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَکَ لَمْ یُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُکَائِ ۔ فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ۔ فَعَاوَدَتْہُ مِثْلَ مَقَالَتِہَا فَقَالَ : أَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ یُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ۔ قَالَ ابْنُ شِہَابٍ وَأَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ : لَقَدْ عَاوَدْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- ذَلِکَ وَمَا حَمَلَنِی عَلَی مُعَاوَدَتِہِ إِلاَّ أَنِّی خَشِیتُ أَنْ یَتَشَائَ مَ النَّاسُ بِأَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَإِلاَّ أَنِّی عَلِمْتُ أَنَّہُ لَنْ یَقُومَ مَقَامَہُ أَحَدٌ إِلاَّ تَشَائَ مَ النَّاسُ بِہِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ یَعْدِلَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ سُلَیْمَانَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حَمْزَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٢) حمزہ بن عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ والد صاحب نے فرمایا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکلیف بڑھ گئی تو فرمایا : ” ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں “ تو حضرت عائشہ (رض) کہنے لگیں : یا رسول اللہ ! ابوبکر (رض) رقیق القلب ہیں، جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگ ان کی آواز نہیں سن سکیں گے۔ آپ نے پھر فرمایا : ابوبکر کو کہو نماز پڑھائیں۔ عائشہ (رض) نے پھر اپنی بات دہرائی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم یوسف کی صواحبجیسیہو، ابوبکر کو کہو نماز پڑھائیں۔ ابن شہاب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے یہ بات اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہی تھی کہ مجھے ڈر تھا کہ لوگ حضرت ابوبکر سے بدشگونی نہ لیں؛ کیونکہ مجھے پتہ تھا کہ جو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ کھڑا ہوگا لوگ اسے برا سمجھیں گے تو میں نے چاہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر کے علاوہ کسی اور کو حکم دے دیں۔

16589

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16589

Zaeef

(۱۶۵۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ رَجَائٍ أَخْبَرَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ أَبِی مُوسَی عَنْ أَبِیہِ قَالَ : مَرِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ فَقَالَ أُخْرَی : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ ۔ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : إِنَّ أَبَا بَکْرٍ رَجُلٌ رَقِیقٌ فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَکْرٍ فَلْیُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّکُنَّ صَوَاحِبُ یُوسُفَ ۔ قَالَ فَأَمَّ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی حَیَاۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلَمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ۔ [متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٣) ابو موسیٰ اشعری (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو آپ نے فرمایا : ابوبکر کو حکم دو کہ وہ نماز پڑھائیں تو حضرت عائشہ فرمانے لگیں : یا رسول اللہ ابوبکر رقیق القلب ہیں، فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔ حضرت عائشہ نے پھر وہی بات کی تو آپ نے فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ نماز پڑھائیں، تم تو صواحب یوسف سے ہو تو ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ہی امامت کروائی۔

16590

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16590

Sahih

(۱۶۵۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو الصَّیْرَفِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی الْجَکَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ وَکَانَ تَبِعَ النَّبِیَّ -ﷺ- وَخَدَمَہُ وَصَحِبَہُ : أَنَّ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یُصَلِّی لَہُمْ فِی وَجَعِ النَّبِیِّ -ﷺ- الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ الاِثْنَیْنِ وَہُمْ صُفُوفٌ فِی الصَّلاَۃِ کَشَفَ النَّبِیُّ -ﷺ- سِتْرَ الْحُجْرَۃِ یَنْظُرُ إِلَیْنَا وَہُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْہَہُ وَرَقَۃُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ قَالَ فَہَمَمْنَا أَنْ نَفْتَتِنَ بِرُؤْیَتِہِ وَنَحْنُ فِی الصَّلاَۃِ مِنْ فَرَحٍ بِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَلَی عَقِبَیْہِ لِیَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَارِجٌ إِلَی الصَّلاَۃِ قَالَ فَأَشَارَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ أَتِمُّوا صَلاَتَکُمْ ثُمَّ دَخَلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَأَرْخَی السِّتْرَ فَتُوُفِّیَ مِنْ یَوْمِہِ ذَلِکَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٤) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض الموت کے دوران امامت کروائی یہاں تک کہ پیر کا دن ہوا تو لوگ نماز کی صف میں تھے، آپ نے حجرے کا پردہ ہٹا کر دیکھا، آپ کھڑے ہوئے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ آپ کا چہرہ مصحف کا ورق ہو، پھر آپ مسکرا دیے۔ ہمیں پتہ چل گیا قریب تھا کہ ہم نمازیں توڑ دیتے ابوبکر نے محسوس کیا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے تاکہ صف میں کھڑے ہوجائیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے آجائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اشارہ فرمایا کہ نماز مکمل کرلو پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجرے میں داخل ہوگئے اور پردہ گرا دیا اور اسی دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے۔

16591

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16591

Zaeef

(۱۶۵۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ : اشْتَکَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ثَلاَثَۃَ عَشَرَ یَوْمًا فَکَانَ إِذَا وَجَدَ خِفَّۃً صَلَّی وَإِذَا ثَقُلَ صَلَّی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٥) محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ١٣ دن بیمار رہے جس دن طبیعت ٹھیک ہوتی، خود نماز پڑھاتے اور جس دن طبیعت زیادہ خراب ہوتی تو ابوبکر نماز پڑھاتے۔

16592

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16592

Sahih

(۱۶۵۸۶) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الْبَخْتَرِیِّ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْجُعْفِیُّ عَنْ زَائِدَۃَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَتِ الأَنْصَارُ مِنَّا أَمِیرٌ وَمِنْکُمْ أَمِیرٌ قَالَ فَأَتَاہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : یَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ أَبَا بَکْرٍ یَؤُمُّ النَّاسَ فَأَیُّکُمْ تَطِیبُ نَفْسُہُ أَنْ یَتَقَدَّمَ أَبَا بَکْرٍ فَقَالَتِ الأَنْصَارُ نَعُوذُ بِاللَّہِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَکْرٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٦) ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کی گئی تو انصار کہنے لگے : ایک امیر ہم میں سے اور ایک تم میں سے ہوگا تو حضرت عمر آئے اور کہنے لگے : اے انصاریو ! کیا تمہیں نہیں پتہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امامت کے لیے ابوبکر کو آگے کیا تھا تو تم میں سے کون خوشی سے ابوبکر سے آگے ہونا چاہتا ہے تو انصار کہنے لگے : ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں کہ ہم ابوبکر سے آگے بڑھیں۔

16593

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16593

Zaeef

(۱۶۵۸۷) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَیْحٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ کَانَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَۃَ کَسَرَ سَیْفَ الزُّبَیْرِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا ثُمَّ قَامَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَاعْتَذَرَ إِلَیْہِمْ وَقَالَ وَاللَّہِ مَا کُنْتُ حَرِیصًا عَلَی الإِمَارَۃِ یَوْمًا وَلاَ لَیْلَۃٍ قَطُّ وَلاَ کُنْتُ فِیہَا رَاغِبًا وَلاَ سَأَلْتُہَا اللَّہَ فِی سِرٍّ وَلاَ عَلاَنِیَۃٍ وَلَکِنِّی أَشْفَقْتُ مِنَ الْفِتْنَۃِ وَمَا لِی فِی الإِمَارَۃِ مِنْ رَاحَۃٍ وَلَکِنْ قُلِّدْتُ أَمْرًا عَظِیمًا مَا لِی بِہِ طَاقَۃٌ وَلاَ یَدَانِ إِلاَّ بِتَقْوِیَۃِ اللَّہِ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ أَقْوَی النَّاسِ عَلَیْہَا مَکَانِی عَلَیْہَا الْیَوْمَ فَقَبِلَ الْمُہَاجِرُونَ مِنْہُ مَا قَالَ وَمَا اعْتَذَرَ بِہِ وَقَالَ عَلِیٌّ وَالزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : مَا غَضِبْنَا إِلاَّ لأَنَّا أُخِّرْنَا عَنِ الْمُشَاوَرَۃِ وَإِنَّا نَرَی أَبَا بَکْرٍ أَحَقَّ النَّاسِ بِہَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّہُ لِصَاحِبُ الْغَارِ وَثَانِی اثْنَیْنِ وَإِنَّا لَنَعْرِفُ شَرَفَہُ وَکِبَرَہُ وَلَقَدْ أَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِالصَّلاَۃِ بِالنَّاسِ وَہُوَ حَیٌّ۔ [ضعیف]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٧) ابر ہیم بن عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف حضرت عمر (رض) کے ساتھ تھے اور محمد بن مسلمہ نے زبیر کی تلوار کو توڑ دیا تھا۔ پھر ابوبکر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور ان کے سامنے اپنا عذر پیش کیا اور فرمایا : واللہ مجھے کسی امارت کی نہ تو لالچ ہے اور نہ میں اس کی رغبت رکھتا ہوں اوز نہ ظاہری اور نہ پوشیدہ میں اللہ سے اس کا سوال کرتا ہوں بلکہ مجھے تو ایسے کام کا ذمہ دار بنادیا گیا ہے کہ جس کو میں اٹھا نہیں سکتا مگر صرف اللہ کی مدد کے ساتھ۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ مجھ سے بھی زیادہ اہل لوگ موجود ہیں تو مہاجرین نے ان کی بات اور عذر کو قبول کیا اور علی اور زبیر نے کہا کہ ہم تو اس لیے پیچھے تھے کہ ہم سے مشورہ نہیں لیا تھا ورنہ ابوبکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے زیادہ حق دار ہیں۔ آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔

16594

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16594

Sahih

(۱۶۵۸۸) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ السَّعْدِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی الْیَوْمِ الَّذِی بُدِئَ فِیہِ فَقُلْتُ : وَارَأْسَاہُ۔ قَالَ : لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِکَ کَانَ وَأَنَا حَیٌّ فَأُصَلِّی عَلَیْکِ وَأَدْفِنُکِ ۔ قَالَتْ فَقُلْتُ غَیْرَی : کَأَنِّی بِکَ فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ مُعَرِّسًا بِبَعْضِ نِسَائِکَ۔ قَالَ : أَنَا وَارَأْسَاہُ ادْعِی لِی أَبَاکِ وَأَخَاکِ حَتَّی أَکْتُبَ لأَبِی بَکْرٍ کِتَابًا فَإِنِّی أَخَافُ أَنْ یَتَمَنَّی مُتَمَنٍّ وَیَقُولَ قَائِلٌ وَیَأْبَی اللَّہُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلاَّ أَبَا بَکْرٍ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٨) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب آپ کی بیماری کی ابتداء ہوئی تو اس دن آپ میرے گھر میں تشریف لائے، میں نے کہا : ” ہائے میرا سر “ تو آپ نے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ اگر تو میری زندگی میں فوت ہوگئی تو میں تجھ پر نماز پڑھوں گا اور تجھے دفن کروں گا۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا آپ تو اس دن اپنی بعض بیویوں کے ساتھ خوش ہوں گے فرمایا : ” ہائے میرا سر “ اپنے والد اور بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے لیے کچھ لکھ دوں؛ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ بعد میں کوئی تمنا کرے اور کوئی بات کہے ابوبکر کے علاوہ جبکہ مؤمنین اور اللہ اس کا انکار کریں۔

16595

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16595

Sahih

(۱۶۵۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- امْرَأَۃٌ فَکَلَّمَتْہُ فِی شَیْئٍ فَأَمَرَہَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَیْہِ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ إِنْ رَجَعْتُ فَلَمْ أَجِدْکَ کَأَنَّہَا تَعْنِی الْمَوْتَ قَالَ : إِنْ لَمْ تَجِدِینِی فَأْتِی أبَا بَکْرٍ ۔ لَفْظُ حَدِیثِہِ عَنِ الشَّعْرَانِیِّ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی ثَابِتٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مُوسَی عَنْ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٩) جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کچھ بات کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوبارہ آنا، کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! اگر میں دوبارہ آؤں اور آپ نہ ملیں تو ؟ یعنی آپ فوت ہوجائیں تو فرمایا : اگر میں نہ ہوں تو ابوبکر کے پاس آجانا۔

16596

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16596

Sahih

(۱۶۵۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ مَوْلًی لِرِبْعِیٍّ عَنْ رِبْعِیٍّ عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اقْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَاہْتَدُوا بِہَدْیِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّکُوا بِعَہْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٩٠) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بعد ابوبکر و عمر (رض) کی پیروی کرو اور عمار (رض) کی سیرت اپنانا اور ابن ام عبد (رض) کے عہد کو لازم پکڑنا۔

16597

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16597

Zaeef

(۱۶۵۹۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ ہِلاَلٍ مَوْلَی رِبْعِیٍّ عَنْ رِبْعِیٍّ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اقْتَدُوا بِاللَّذَیْنِ مِنْ بَعْدِی ۔ یَعْنِی أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٩١) سابقہ روایت

16598

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16598

Sahih

(۱۶۵۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ حَدَّثَنِی ثَابِتٌ الْبُنَانِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ حِینَ تَخَلَّفَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ أَصْحَابِہِ فِی مَسِیرِہِ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا؟ ۔ ثُمَّ قَالَ : أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِیَّہُمْ ۔ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ : رَسُولُ اللَّہِ بَعْدَکُمْ لَمْ یَکُنْ لِیُخَلِّفَکُمْ وَقَالَ النَّاسُ إِن رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ أَیْدِیکُمْ وَإِنْ تُطِیعُوا أَبَا بَکْرٍ وَعُمَرَ تَرْشُدُوا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ سُلَیْمَانَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٩٢) ابو قتادہ کہتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سفر میں نائب بناتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے کہ کیا تم خیال کرتے ہو لوگوں کے بارے میں کہ وہ کریں ؟ پھر فرمایا : لوگوں نے اپنے نبی کو غیر موجود پایا تو ابوبکر و عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ تمہارے بعد خلیفہ نہیں بناتے تھے۔ لوگوں نے کہا : بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے درمیان تھے کہ ابوبکر و عمر (رض) کی اطاعت کرلو ہدایت پالو گے۔

16599

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16599

Sahih

(۱۶۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَالْقَاضِی أَبُو الْہَیْثَمِ : عُتْبَۃُ بْنُ خَیْثَمَۃَ وَأَبُو زَکَرِیِّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی یُونُسُ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ سَعِیدًا أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُنِی عَلَی قَلِیبٍ عَلَیْہَا دَلْوٌ فَنَزَعْتُہُ فَنَزَعْتُ مِنہَا مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ أَخَذَہَا ابْنُ أَبِی قُحَافَۃَ فَنَزَعَ مِنہَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَیْنِ وَفِی نَزْعِہِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَہُ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَخَذَہَا ابْنُ الْخَطَّابِ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حَتَّی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یُونُسَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَۃَ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٩٣) ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ میں نے خواب میں ایک کنواں دیکھا جس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس سے اللہ کی مشیت کے مطابق پانی نکالا۔ پھر ابن ابی قحافہ (رض) نے ایک یا دو ڈول نکالے، لیکن ان کے نکالنے میں ضعف تھا۔ اللہ انھیں معاف فرمائے۔ پھر وہ ڈول حضرت عمر (رض) نے پکڑا تو میں نے ایسا با کمال آدمی نہیں دیکھا۔ حضرت عمر (رض) پانی نکالتے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہوگئے۔

16600

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16600

Sahih

(۱۶۵۹۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رُؤْیَا رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : رَأَیْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا فَقَامَ أَبُو بَکْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَیْنِ وَفِی نَزْعِہِ ضَعْفٌ وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَہُ ثُمَّ قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَا رَأَیْتُ عَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَفْرِی فَرِیَّہُ حَتَّی ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔ [صحیح۔ متفق علیہ]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٩٤) عبداللہ بن عمر سے سابقہ روایت

16601

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16601

Sahih

(۱۶۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی : رُؤْیَا الأَنْبِیَائِ وَحْیٌ وَقَوْلُہُ : وَفِی نَزْعِہِ ضَعْفٌ ۔ قِصَرُ مُدَّتِہِ وَعَجَلَۃُ مَوْتِہِ وَشُغُلُہُ بِالْحَرْبِ لأَہْلِ الرِّدَّۃِ عَنِ الاِفْتِتَاحِ وَالتَّزَیُّدِ الَّذِی بَلَغَہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی طُولِ مُدَّتِہِ۔ [صحیح۔ للشافعی]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٩٥) امام شافعی فرماتے ہیں کہ انبیاء کا خواب بھی وحی ہوتا ہے اور حضرت ابوبکر کے ڈول نکالنے میں کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مدت خلافت کم ہوگی، جلدی وفات پاجائیں گے۔ مرتدین سے جنگ میں مشغول رہیں گے اور حضرت عمر کی مدت خلافت لمبی ہوگی۔