Muslim99Muslim99

Sunan Al Kubra Bayhaqi · Book 56 · Chapter 3352

باغیوں سے قتال کا بیان

صلاحیت والوں کے درمیان مجلسِ شوری مقرر کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

16584

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16584

Sahih

(۱۶۵۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ الْیَعْمَرِیِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ ذَکَرَ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- وأبا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ : یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّی رَأَیْتُ کَأَن دِیکًا نَقَرَنِی نَقْرَۃً أَوْ نَقْرَتَیْنِ وَإِنِّی لاَ أَرَی ذَلِکَ إِلاَّ لِحُضُورِ أَجَلِی وَإِنَّ أُنَاسًا یَأْمُرُونِّی بِأَنْ أَسْتَخْلِفَ وَإِنَّ اللَّہَ لَمْ یَکُنْ لِیُضَیِّعَ دِینَہُ وَخِلاَفَتَہُ وَمَا بَعَثَ بِہِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَإِنْ عُجِّلَ بِی فَالشُّورَی فِی ہَؤُلاَئِ السِّتَّۃِ الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ فَمَنْ بَایَعْتُمْ فَاسْمَعُوا لَہُ وَأَطِیعُوا وَإِنَّ نَاسًا سَیَطْعَنُونَ فِی ذَلِکَ فَإِنْ فَعَلُوا فَأُولَئِکَ أَعْدَاء ُ اللَّہِ الْکَفَرَۃُ الضُّلاَّلُ أَنَا جَاہَدْتُہُمْ بِیَدِی ہَذِہِ عَلَی الإِسْلاَمِ وَإِنِّی لاَ أَدَعُ شَیْئًا أَہَمَّ عِنْدِی مِنْ أَمْرِ الْکَلاَلَۃِ وَمَا أَغْلَظَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی شَیْئٍ مَا أَغْلَظَ لِی فِیہِ فَطَعَنَ بِإِصْبَعِہِ فِی صَدْرِی أَوْ فِی جَنْبِی ثُمَّ قَالَ : یَا عُمَرُ یَکْفِیکَ آیَۃُ الصَّیْفِ الَّتِی فِی آخِرِ سُورَۃِ النِّسَائِ ۔ وَإِنِّی إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِیہَا بِقَضَائٍ لاَ یَخْتَلِفُ فِیہِ أَحَدٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَمْ یَقْرَإِ الْقُرْآنَ وَإِنِّی أُشْہِدُ اللَّہَ عَلَی أُمَرَائِ الأَمْصَارِ فَإِنِّی إِنَّمَا بَعَثْتُہُمْ لِیُعَلِّمُوا النَّاسَ دِینَہُمْ وَسُنَّۃَ نَبِیِّہِمْ وَیَرْفَعُوا إِلَیْنَا مَا أَشْکَلَ عَلَیْہِمْ وَإِنَّکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ تَأْکُلُونَ مِنْ شَجَرَتَیْنِ لاَ أُرَاہُمَا إِلاَّ خَبِیثَتَیْنِ قَدْ کُنْتُ أَرَی الرَّجُلَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یُوجَدُ رِیحُہُمَا مِنْہُ فَیُؤْخَذُ بِیَدِہِ فَیُخْرَجُ إِلَی الْبَقِیعِ فَمَنْ أَکَلَہُمَا فَلْیُمِتْہُمَا طَبْخًا الثُّومُ وَالْبَصَلُ۔ قَالَ خَطَبَ لَہُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَمَاتَ یَوْمَ الأَرْبِعَائِ لأَرْبَعٍ بَقِینَ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٧٨) معدان بن ابی طلحہ عمری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حمد وثناء بیان کی پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر کا ذکر فرمایا، پھر فرمایا : اے لوگو ! کاش میں مرغا ہوتا، ایک دو چونچ بھر دانہ کھاتا۔ لگتا ہے میرا وقت قریب آگیا ہے۔ لوگوں نے مجھے خلیفہ بنایا اور اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی خلافت اور جو اپنے پیغمبر کو دے کر بھیجا ہے اسے ضائع نہیں کریں گے۔ میرے بارے میں جلدی نہ کرو بلکہ آپس میں ان چھ اشخاص کے بارے میں مشورہ کرلو کہ جن سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رضا مندی کی حالت میں فوت ہوئے۔ جس کی بھی بیعت کرو گے اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا اور بہت سارے لوگ اس میں طعنہ زنی بھی کریں گے۔ اگر وہ ایسا کریں تو وہ اللہ کے دشمن ہیں جو گمراہ ہیں۔ میں ان سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرتا ہوں اور میں اپنے بعد کوئی اہم چیز میرے نزدیک کلالہ سے بڑھ کر نہیں چھوڑ رہا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کے بارے میں بڑی سختی سے وصیت کی تھی، میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا تھا : اے عمر ! تجھے آیۃ الصیف جو سورة النساء کی آخری آیت ہے کافی ہے “ اور اگر میں زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ قرآن پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے میں کوئی اختلاف نہیں رہے گا اور میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ ہم نے مختلف علاقوں کے امیر اس لیے مقرر فرمائے تھے کہ وہ لوگوں کو دین اور سنت رسول سکھائیں اور جو مشکل ہو ہمیں بتائیں اور اے لوگو ! تم دو درختوں سے کھاتے ہو اور میں انھیں خبیث سمجھتاہوں۔ میں نے عہد رسالت میں دیکھا کہ اگر کوئی شخص انھیں کھا لیتا تو اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع میں چھوڑ دیا جاتا جو ان کو کھانا چاہے انھیں پکا کر کھائے اور وہ لہسن اور پیاز ہے۔ معدان کہتے ہیں : یہ خطبہ آپ نے جمعہ کے دن دیا تھا اور بدھ کے دن آپ فوت ہوگئے تھے اور ذوالحجہ کی ٢٦ تاریخ تھی۔

16585

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16585

Sahih

(۱۶۵۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ فِی قِصَّۃِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ فَقَالُوا : أَوْصِ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ اسْتَخْلِفْ۔ فَقَالَ : مَا أَحَدٌ أَحَقَّ بِہَذَا الأَمْرِ مِنْ ہَؤُلاَئِ النَّفَرِ أَوِ الرَّہْطِ الَّذِینَ تُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ عَنْہُمْ رَاضٍ فَسَمَّی عَلِیًّا وَعُثْمَانَ وَالزُّبَیْرَ وَطَلْحَۃَ وَسَعْدًا وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَقَالَ : لِیَشْہَدْکُمْ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَلَیْسَ لَہُ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ کَالتَّعْزِیَۃِ لَہُ وَقَالَ : فَإِنْ أَصَابَتِ الإِمْرَۃُ سَعْدًا فَہُوَ ذَاکَ وَإِلاَّ فَلْیَسْتَعِنْ بِہِ أَیُّکُمْ مَا أُمِّرَ فَإِنِّی لَمْ أَعْزِلْہُ مِنْ عَجْزٍ وَلاَ خِیَانَۃٍ۔ وَقَالَ : أُوصِی الْخَلِیفَۃَ مِنْ بَعْدِی بِالْمُہَاجِرِینَ الأَوَّلِینَ أَنْ یَعْلَمَ لَہُمْ حَقَّہُمْ وَیَحْفَظَ لَہُمْ حُرْمَتَہُمْ وَأُوصِیہِ بِالأَنْصَارِ الَّذِینَ تَبَوَّء ُوا الدَّارَ وَالإِیمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ أَنْ یُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِہِمْ وَأَنْ یُعْفَی عَنْ مُسِیئِہِمْ وَأُوصِیہِ بِأَہْلِ الأَمْصَارِ خَیْرًا فَإِنَّہُمْ رِدْء ُ الإِسْلاَمِ وَجُبَاۃُ الأَمْوَالِ وَغَیْظُ الْعَدُوِّ أَنْ لاَ یُؤْخَذَ مِنْہُمْ إِلاَّ فَضْلُہُمْ عَنْ رِضَاہُمْ وَأُوصِیہِمْ بِالأَعْرَابِ خَیْرًا فَإِنَّہُمْ أَصْلُ الْعَرَبِ وَمَادَّۃُ الإِسْلاَمِ أَنْ یُؤْخَذَ مِنْ حَوَاشِی أَمْوَالِہِمْ فَیُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ وَأُوصِیہِ بِذِمَّۃِ اللَّہِ وَذِمَّۃِ رَسُولِہِ أَنْ یُوفَی لَہُمْ بِعَہْدِہِمْ وَأَنْ یُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِہِمْ وَلاَ یُکَلَّفُوا إِلاَّ طَاقَتَہُمْ۔ فَلَمَّا قُبِضَ خَرَجْنَا بِہِ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِی وَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی دَفْنِہِ قَالَ فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ دَفْنِہِ وَرَجَعُوا اجْتَمَعَ ہَؤُلاَئِ الرَّہْطِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : اجْعَلُوا أَمْرَکُمْ إِلَی ثَلاَثَۃٍ مِنْکُمْ۔ قَالَ الزُّبَیْرُ : قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِی إِلَی عَلِیٍّ۔ وَقَالَ طَلْحَۃُ : قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِی إِلَی عُثْمَانَ وَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ جَعَلْتُ أَمْرِی إِلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَیُّکُمَا یَبْرَأُ مِنْ ہَذَا الأَمْرِ فَیَجْعَلُہُ إِلَیَّ وَاللَّہُ عَلَیَّ وَالإِسْلاَمُ لَیَنْظُرَنَّ أَفْضَلَہُمْ فِی نَفْسِہُ وَلَیَحْرِصَنَّ عَلَی صَلاَحِ الأُمَّۃِ ؟ قَالَ : فَأُسْکِتَ الشَّیْخَانِ۔ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : أَفَتَجْعَلُونَہُ إِلَیَّ وَاللَّہُ عَلَیَّ أَنْ لاَ آلُو عَنْ أَفْضَلِکُمْ؟ فَقَالاَ : نَعَمْ۔ قَالَ : فَأَخَذَ بِیَدِ أَحَدِہِمَا فَقَالَ لَکَ مِنْ قَرَابَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَالْقِدَمِ فِی الإِسْلاَمِ مَا قَدْ عَلِمْتَ وَاللَّہُ عَلَیْکَ لَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُکَ لَتَعْدِلَنَّ وَلَئِنْ أَنَا أَمَّرْتُ عُثْمَانَ لَتَسْمَعَنَّ وَلَتُطِیعَنَّ۔ ثُمَّ خَلاَ بِالآخَرِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذَلِکَ فَلَمَّا أَخَذَ الْمِیثَاقَ قَالَ : ارْفَعْ یَدَکَ یَا عُثْمَانُ فَبَایَعَہُ وَبَایَعَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَوَلَجَ أَہْلُ الدَّارِ فَبَایَعُوہُ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٧٩) عمرو بن میمون حضرت عمر کے قتل کے قصے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت عمر (رض) سے کہا کہ خلیفہ نامزد کردیں تو فرمایا : ان صحابہ سے بڑھ کر اس فیصلے کا حق دار کوئی نہیں اور علی، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن بن عوف (رض) کے نام لیے۔ عبداللہ بن عمر بھی اگر حاضر ہیں تو ان کے لیے معاملے سے کچھ نہیں، اگر سعد امیر بن جائیں تو بہتر ہے اگر نہیں تو اپنے مشورے سے مقرر کرلو۔ میں کسی عجز یا خیانت سے اسے معزول نہیں کروں گا اور کہا : جو بھی میرے بعد خلیفہ بنے میں اسے وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین کے حق کو پہچانے، ان کی عزت اور مقام ومرتبے کا خیال رکھے اور انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ گھر اور ایمان والے ہیں ان کے محسن سے قبول کرے اور مسیء سے درگزر کرے اور تمام علاقے والوں کے لیے خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اسلام کے مدد گار، مال کو جمع کرنے والے اور دشمن کا غضب ہیں اور ان سے ان کا زائد مال ہی ان کی رضا مندی سے لیا جائے اور دیہاتیوں کے بارے میں خیر کی وصیت کرتا ہوں؛ کیونکہ وہ اصل عرب ہیں۔ اسلام کا مادہ ہیں۔ ان کے زائد مالوں کو لے کر انہی کے فقراء پر لوٹا دیا جائے اور میں اسے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں کہ ان کے عہد کو پورا کرے۔ کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہ دیں۔ جب فوت ہوگئے تو ہم نکلے اور چلے اور پھر آگے ان کے دفن تک مکمل روایت بیان فرمائی۔ پھر فرماتے ہیں کہ ان کو دفن کرنے کے بعد واپس آئے تو یہ گروہ جمع ہوگیا تو عبدالرحمن (رض) کہنے لگے : اپنے معاملات کسی بھی تین کو سونپ دو ، زبیر (رض) نے حضرت علی (رض) طلحہ (رض) نے عثمان (رض) اور سعد (رض) نے عبدالرحمن (رض) کو چنا تو عبدالرحمن (رض) کہنے لگے : اب آپ میں سے کوئی اور اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تاکہ وہ زیادہ حریص ہو اصلح امت پر ؟ تو دونوں شیخان خاموش رہے تو عبدالرحمن (رض) نے کہا : میں پیچھے ہٹتا ہوں لیکن کیا میں فیصلہ کروں ؟ کہا : ہاں۔ تو آپ نے ان میں سے ایک کا ہاتھ پکڑا اور کہا : آپ کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرابت اور تقدیم اسلام ہے اگر میں آپ کو امیر بنا دوں آپ ضرور انصاف کریں گے، لیکن میں عثمان (رض) کو امیر بناتا ہوں تو حضرت عثمان (رض) کو کہا : اپنا ہاتھ اٹھاؤ، خود بیعت کی اور حضرت علی (رض) نے بھی بیعت کرلی اور اہل الدار بھی آئے، انھوں نے بھی بیعت کرلی۔

16586

Sunan Al Kubra Bayhaqi #16586

Sahih

(۱۶۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ : دَخَلَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حِینَ نَزَلَ بِہِ الْمَوْتُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَالزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَکَانَ طَلْحَۃُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَائِبًا بِأَرْضِہِ بِالسَّرَاۃِ فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ عُمَرُ سَاعَۃً ثُمَّ قَالَ إِنِّی قَدْ نَظَرْتُ لَکُمْ فِی أَمْرِ النَّاسِ فَلَمْ أَجِدْ عِنْدَ النَّاسِ شِقَاقًا إِلاَّ أَنْ یَکُونَ فِیکُمْ شَیْئٌ فَإِنْ کَانَ شِقَاقٌ فَہُوَ مِنْکُمْ وَإِنَّ الأَمْرَ إِلَی سِتَّۃٍ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَطَلْحَۃَ وَسَعْدٍ ثُمَّ إِنَّ قَوْمَکُمْ إِنَّمَا یُؤَمِّرُونَ أَحَدَکُمْ أَیُّہَا الثَّلاَثَۃُ فَإِنْ کُنْتَ عَلَی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ یَا عُثْمَانُ فَلاَ تَحْمِلَنَّ بَنِی أَبِی مُعَیْطٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ وَإِنْ کُنْتَ عَلَی شَیْئٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ یَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَلاَ تَحْمِلَنَّ أَقَارِبَکَ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ وَإِنْ کُنْتَ عَلَی شَیْئٍ یَا عَلِیُّ فَلاَ تَحْمِلَنَّ بَنِی ہَاشِمٍ عَلَی رِقَابِ النَّاسِ قُومُوا فَتَشَاوَرُوا وَأَمِّرُوا أَحَدَکُمْ فَقَامُوا یَتَشَاوَرُونَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ فَدَعَانِی عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مَرَّۃً أَوْ مَرَّتَیْنِ لِیُدْخِلَنِی فِی الأَمْرِ وَلَمْ یُسَمِّنِی عُمَرُ وَلاَ وَاللَّہِ مَا أُحِبُّ أَنِّی کُنْتُ مَعَہُمْ عِلْمًا مِنْہُ بِأَنَّہُ سَیَکُونُ مِنْ أَمْرِہِمْ مَا قَالَ أَبِی وَاللَّہِ لَقَلَّمَا سَمِعْتُہُ حَرَّکَ شَفَتَیْہِ بِشَیْئٍ قَطُّ إِلاَّ کَانَ حَقًّا فَلَمَّا أَکْثَرَ عُثْمَانُ دُعَائِی قُلْتُ أَلاَ تَعْقِلُونَ تُؤَمِّرُونَ وَأَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ حَیٌّ فَوَاللَّہِ لَکَأَنَّمَا أَیْقَظْتُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ مَرْقَدٍ فَقَالَ عُمَرُ أَمْہِلُوا فَإِنْ حَدَثَ بِی حَدَثٌ فَلْیُصَلِّ لِلنَّاسِ صُہَیْبٌ مَوْلَی بَنِی جُدْعَانَ ثَلاَثَ لَیَالٍ ثُمَّ اجْمَعُوا فِی الْیَوْمِ الثَّالِثِ أَشْرَافَ النَّاسِ وَأُمَرَائَ الأَجْنَادِ فَأَمِّرُوا أَحَدَکُمْ فَمَنْ تَأَمَّرَ عَنْ غَیْرِ مَشُورَۃٍ فَاضْرِبُوا عُنُقَہُ۔ [حسن]

اردو ترجمہ · Urdu

(١٦٥٨٠) سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ والد محترم کی موت کے وقتحضرت عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف، زبیر اور سعد بن ابی وقاص (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے۔ طلحہ بن عبید اللہ وہاں حاضر نہ تھے۔ حضرت عمر نے چند گھڑیاں انھیں دیکھا پھر فرمایا : میں تم سے ایک معاملے میں مشورہ کرتا ہوں، لوگوں میں اس میں کوئی مخالفت نہیں۔ اگر مخالفت ہوئی تو تمہاری طرف سے ہوگی اور امارت کا معاملہ ان چھ صحابہ کے سامنے پیش کردیا۔ تمہاری قومیں تم تین میں سے کسی کو خلیفہ بنائیں گی۔ اگر عثمان تمہیں امارت ملے تو ابو معیط کو لوگوں پر امیر نہ بنانا، اگر عبدالرحمن آپ امیر بنیں تو اپنے اقرباء کو امیر مت بنانا، اگر علی آپ امیر بنیں تو بنو ہاشم میں کسی کو عادل نہ بنانا لوگوں سے مشورہ کرنا، پھر ان پر امام مقرر کرنا۔ حضرت عثمان نے ٢ یا ٣ مرتبہ مجھے بلایا کہ مجھے بھی مشورہ میں شریک کرلیں، لیکن حضرت عمر نے میرا نام نہیں لیا اور واللہ میں ان کے ساتھ ملنا بھی نہیں چاہتا تھا اور نہ میرے والد نے کہا۔ واللہ میں نے بہت ہی کم ان سے سنا کہ انھوں نے لبوں کو حرکت دی ہو اور حق کے علاوہ کوئی اور بات ان کے منہ سے نکلی ہو، جب حضرت عثمان نے بار بار مجھے بلایا تو میں نے کہا : کیا تمہیں سمجھ نہیں کہ تم امارت طلب کر رہے ہو اور امیر المؤمنین زندہ ہیں۔ واللہ ! گویا میں نے حضرت عمر کو ان کی موت سے اٹھا دیا تو عمر فرمانے لگے : ٹھہرو، جب میں فوت ہو جاؤں تو صہیب جو بنو جدعان کے مولیٰ ہیں تین راتوں تک لوگوں کو نماز پڑھائیں، تین دن کے بعدلوگوں کے سربراہان اور قبیلوں کے امراء کو جمع کرنا اور امارت کے لیے مشورہ کرنا اور جو بغیر مشورہ کے امیر بنے اس کی گردن اڑا دینا۔